جو نوجوان تحقیقات میں آرہے ہیں ایک بات کو زین نشین کر لیں

تحقیق میں کسی بھی باب میں کوئی بھی ایک شخصیت حجت ہوتی ہی نہیں ہے…

بلکہ ہر ہر امام کا اپنا فن ہے تو جو باب سے مسلہ ہوگا اس فن کے اماموں کی طرف رجوع ہوگا.

جب بات علم حدیث کی آئے گی تو

متقدمین محدثین سے لیکر متاخرین محدثین کی طرف پلٹے گیں

جیسا کہ

امام ابن معین

امام احمد

امام بخاری

امام نسائی

امام طحاوی

وغیرہم

پھر درمیانے زمانے کے

امام دارقطنی

امام حاکم

امام خطیب

امام بیھقی

امام ابن عبد البر

پھر متاخرین کی طرف

امام زیلعی

امام ابن ملقن

امام بوصیری

امام ہیثمی

امام عینی

امام سیوطی

امام سخاوی

پھر دو محدثین کو تمام متاخرین پر ترجیح ہوگی

امام ابن حجر عسقلانی کو متاخرین پر ترجیح ہوگی

اور

ابن حجر سمیت تمام متاخرین پر امام ذھبی کو ترجیح ہوگی….

انکے بعد امام ملا علی قاری کو لے سکتے ہیں

اسکے بعد تحقیق میں کسی محدث کی تصحیح پر اعتبار نہ ہوگا

جیسا کہ امام شاہ ولی اللہ

امام شا عبدالعزیز محدث

امام عبدالحق محدث دہلوی

انکے ساتھ وہ متاخرین جو متساہلین ہیں جیسا کہ

امام سیوطی

امام ابن حجر مکی

امام سخاوی

امام نووی

ان جیسے بزرگان کو حدیث میں اپنی تحقیق میں موافقت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے لیکن انکی تصحیح و تحسین تحقیق کے میدان میں کوئی دلیل نہیں…

اور جب تحقیق پر آپکو مکمل یقین اور تسلی ہو جائے تو دلائل سے

امام بخاری

امام ابن معین

امام احمد

امام ابن حجر

و

امام ذھبی سے بھی اختلاف کیا جا سکتا ہے

لیکن ان لوگوں سے اختلاف کرنے کے لیے بہت واضح دلائل ہوں

یہ ہے تحقیق کرنے کا طریقہ

جو جو نوجوان تحقیق میں آنا چاہتے ہیں تو اپنا زہن یوں بنائیں…