اَلۡاَخِلَّاۤءُ يَوۡمَئِذٍۢ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ۞- سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 67
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلۡاَخِلَّاۤءُ يَوۡمَئِذٍۢ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ۞
ترجمہ:
اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے ماسوا متقین کے ؏
تفسیر:
خلیل کے معانی
الزخرف : ٦٧ میں فرمایا :” اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے ماسوا متقین کے “
اس آیت میں ” الاخلاء “ کا لفظ ہے، یہ خلیل کی جمع ہے، خلیل کا معنی ہے : وہ دوست جس کی محبت دل کی گہرائی میں جاگزین ہو، یہ خلۃ سے بنا ہے اور خلۃ خلال سے مشتق ہے، اس کا عنی اندرون اور درمیان ہوتا ہے اور خلۃ اس محبت کو کہتے ہیں جو نفس کے اندر پیوست ہو یا یہ لفظ خلل سے مشتق ہے کیونکہ جب دو شخص ایک دوسرے کے گہرے دوست ہوگئے تو ہر ایک دوسرے کے خلل کو روکتا ہے، یا یہ لفظ ” خل “ سے مشتق ہے، اس کا معنی ریگستانی راستہ ہے کیونکہ جو دو شخص ایک دوسرے کے گہرے دوست ہوں وہ راستہ میں ایک دوسرے کے رفیق ہوتے ہیں یا یہ لفظ خلۃ سے بنا ہے جس کا معنی خصلت اور عادت ہے اور جو دو شخص ایک دوسرے کے گہرے دوست ہوں ان کی خصلتیں اور عادتیں ایک دوسرے سے بہت ملتی جلتی ہیں، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل اس لیے فرمایا کہ انہوں نے اپنی تمام حاجات اللہ تعالیٰ کے سپرد کردی تھیں اور تمام مخلوق سے منقطع ہو کر اللہ تعالیٰ کے ہوچکے تھے اور جب خلیل کے لفظ کا اللہ تعالیٰ پر اطلاق ہو تو اس کا معنی ہے : احسان کرنے والا یا اکرام اور افضال کرنے والا۔ (المفردات ج ١ ص ٢٠٥۔ ٢٠٤، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)
دنیاوی تعلق کا ناپائیدار ہونا
جن لوگوں کے درمیان دنیاوی رشتوں اور تعلق کی وجہ سے محبت تھی، قیامت کے دن وہ رشتے اور تعلقات منقطع ہوجائیں گے اور وہ ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے، قرآن مجید میں ہے :
یوم یفرالمرء میں اخیہ وامہ وابیہ وصاحبتہ وبنیہ لکل امریء منھم یومئذ شان یغنیہ (العبس :34-37)
جس دن ہر مرد اپنے بھائی سے بھاگے گا اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی اور اولاد سے (بھاگے گا) اور اس دن ہر شخص کو صرف ایسی فکر ہوگی جو اس کو عذاب سے دور کرسکے
اس کے برعکس جو متقین ہیں ان کی جس کے ساتھ گہری دوستی ہوتی ہے وہ صرف اللہ کے لیے ہوتی ہے، اس لیے ان کی وہ گہری دوستی آخرت میں بھی قائم رہے گی اور وہ ایک دوسرے کو نفع پہنچاتے رہیں گے، جو مسلمان اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں ان کے فضائل میں حسب ذیل احادیث ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سات آدمی اللہ کے سائے میں ہوں گے جس دن اللہ کے سائے کے سوا اور کسی کا سایہ نہ ہوگا (١) امام عادل (٢) اور وہ شخص جو اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے پروان چڑھا (٣) اور وہ شخص جس کا دل مسجد میں معلق رہتا ہو (٤) اور وہ دو شخص جو اللہ کی محبت میں ملتے ہیں اور اللہ کی محبت میں الگ ہوتے ہوں (٥) اور وہ شخص جس کو کسی مقتدر اور حسین عورت نے گناہ کی دعوت دی اور اس نے کہا : میں اللہ سے ڈرتا ہوں (٦) اور وہ شخص جس نے اس طرح صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتا نہیں چلا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا (٧) اور وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٦٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٣١، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٣٩١، موطا امام مالک رقم الحدیث : ٢٠٠٥، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٣٣٨، سنن بیہقی ج ١٠ ص ٨٧)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا، وہ مسلمان کہاں ہیں جو محض میری ذات کی وجہ سے آپس میں محبت کرتے تھے ؟ آج میں ان کو اپنے سائے میں رکھوں گا جس دن میرے سائے کے سوا اور کسی کا سایا نہیں ہوگا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٦٦ )
حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل فرمائے گا : جو مسلمان میری ذات کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اس کے لیے نور کے منبر ہوں گے، ان کی انبیاء اور شہداء تحسین کریں گے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٣٩٠، مسند احمد ج ٥ ص ٢٣٦، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٧٧، المعجم الکبیر ج ٢٠، رقم الحدیث : ١٦٨۔ ١٦٧، حلیۃ الاولیاء ج ٥ ص ١٢١ )
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 67