تُدَمِّرُ كُلَّ شَىۡءٍ ۭ بِاَمۡرِ رَبِّهَا فَاَصۡبَحُوۡا لَا يُرٰٓى اِلَّا مَسٰكِنُهُمۡؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡقَوۡمَ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 46 الأحقاف آیت نمبر 25
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تُدَمِّرُ كُلَّ شَىۡءٍ ۭ بِاَمۡرِ رَبِّهَا فَاَصۡبَحُوۡا لَا يُرٰٓى اِلَّا مَسٰكِنُهُمۡؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡقَوۡمَ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ۞
ترجمہ:
یہ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو برباد کر دے گی، پھر وہ اس طرح ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا، ہم مجرموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو برباد کر دے گی، پھر وہ اس طرح ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا، ہم مجرموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں اور بیشک ہم نے ان کو ان چیزوں پر اقتدار عطا کیا تھا جن چیزوں پر تمہیں قدرت دی ہے اور ہم نے ان کے کان، آنکھیں اور دل بنائے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے دل ان کے کسی کام نہ آسکے کیونکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور اس عذاب نے ان کا احاطہ کرلی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے (الاحقاف : ٢٦۔ ٢٥ )
قوم عاد پر عذاب کی تفصیل
یعنی قوم عاد کے ہر فرد کو اور ان کی تمام سواریوں، مویشیوں اور ان کے تمام مال و متاع کو اس آندھی نے تباہ و برباد کردیا، حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آسمان پر کسی بادل کو دیکھتے تو آپ گھبرا کر کبھی باہر جاتے اور کبھی اندر آتے اور جب وہ بادل برس جاتا تو آپ سے گھبراہٹ دور ہوجاتی اور فرماتے : مجھے از خود پتا نہیں ہے، شاید کہ یہ بادل وہی ہو جیسا کہ قوم عاد کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
” فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِھِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَاط “ (الاحقاف : ٢٤ )
پھر جب انہوں نے اس عذاب کو بادل کی طرح اپنی وادیوں میں آتے دیکھا تو انہوں نے کہا : یہ ہم پر برسنے والا بادل ہے۔
امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٥٨، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٢٠٦، مسند احمد ج ٦ ص ٢٤٠ )
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری باد صبا (مشرق سے چلنے والی ہوا) سے مدد کی گئی ہے اور قوم عاد کو باددبور (مغرب سے چلنے والی ہوا) نے ہلاک کردیا تھا۔(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٠٠، جامع المسانید و السنن مسند ابن عباس رقم الحدیث : ٣١٧٥)
امام ابن اسحاق نے کہا : حضرت ہود (علیہ السلام) اور مؤمنین میں سے جو ان کے اصحاب تھے وہ آندھی کے اس عذاب سے محفوظ رہے اور آندھی اپنے غیظ و غضب سے قوم عاد کو اٹھا اٹھا کر پٹک رہی تھی اور پتھروں سے ان کو کچل رہی تھی اور وہ ریت کے نیچے اس طرح دفن ہوگئے تھے کہ ان کے اجسام نہیں دکھائی دے رہے تھے صرف ان کے گھر دکھائی دے رہے تھے۔
آندھیوں کے متعلق احادیث
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آندھی اللہ تعالیٰ کی خوشی کے آثار سے ہے، آندھی رحمت کو بھی لاتی ہے اور عذاب کو بھی لاتی ہے، تم آندھی کو برا نہ کہو اور اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کرو اور اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥٠٩٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٧٢٧، مسند احمد ج ٢ ص ٢٥٠ )
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آندھی پر لعنت کی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آندھی پر لعنت نہ کرو، کیونکہ یہ حکم الٰہی کے تابع ہے اور جو شخص کسی ایسی چیز پر لعنت کرے جو لعنت کی اہل نہ ہو تو لعنت اس شخص کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٩٠٨، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٧٨)
حضرت ابی بن عب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آندھی کو برا نہ کہو، جب تم کوئی ناگوار چیز دیکھو تو کہو : اے اللہ ! ہم تجھ سے اس آندھی کی خیر کا سوال کرتے ہیں اور جو اس میں خیر ہے اس کا سوال کرتے ہیں اور جس چیز کا اس کو حکم دیا گیا ہے اس کی خیر کا سوال کرتے ہیں اور ہم اس آندھی کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں اور جو شر اس میں ہے اور جس شر کا اس کو حکم دیا گیا ہے اس سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٥٢، مسند احمد ج ٥ ص ١٢٣ )
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب بھی آندھی چلتی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے اور یہ دعا کرتے کہ : اے اللہ ! اس آندھی کو رحمت بنا دے اور اس کو عذاب نہ بنا، اے اللہ ! اس کو ریاح (خوشگوار ہوا) بنا دے اور اس کو ریح (ناگوار آندھی) نہ بنا، حضرت ابن عباس نے فرمایا : قرآن مجید میں آندھی کے متعلق یہ آیتیں ہیں :
” اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ “ (القمر : ١٩)
بے شک ہم نے ان پر (ان کے حق میں) منحوس دن میں تیز لگاتار چلنے والی آندھی بھیجی
بدھ کی شام کو سخت سرد آدھی چلنی شروع ہوئی پھر لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی، یہ آندھی گھروں میں بند انسانوں کو ان کے گھر کے دروازے توڑ کر اٹھاتی اور انہیں زمین پر اس طرح پٹختی کہ ان کے سر دھڑ سے الگ ہوجاتے۔
” وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ “ (الذاریت : ٤١ )
اور قوم عاد میں عبرت ہے، جب ہم نے ان پر خیر و برکت سے خالی آندھی بھیجی
” وَاَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَسْقَیْنٰـکُمُوْہُج “ (الحجر : ٢٢ )
اور ہم پانی سے بوجھل ہوائیں بھیجتے ہیں، پھر آسمان سے پانی برسا کر تمہیں وہ پانی پلاتے ہیں۔
” وَمِنْ اٰیٰـتِہٖٓ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیٰحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِیُذِیْقَکُمْ مِّنْ رَّحْمَتِہٖ “ (الروم : ٤٦ )
اور اللہ کی بعض نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ خوش خبری دینے والی ہوائوں کو بھیجتا ہے تاکہ تمہیں اپنی رحمت سے چکھائے۔
حضرت ابن عباس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید میں اکثر طور پر ” ریح “ کا لفظ ضرور پہنچانے والی آندھی کے لئے آیا ہے اور ” ریاح “ کا لفظ نفع پہنچانے والی اور برسانے والی ہوائوں کے لئے آیا ہے، اس لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کرتے تھے کہ : اے اللہ ! تو اس آندھی کو ریاح بنا دے اور ریح نہ بنا۔(مسند شافعی ص ١٧٥۔ رقم الحدیث : ٥٠٢، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٢٤٥٦، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١١٥٣٣)
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آسمان سے ہمیں بادل دکھاتے، تو اپنے کام کو چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوجاتے اور یہ دعا کرتے : اے اللہ ! میں اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اگر وہ بادل چھٹ جاتا تو اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے اور اگر وہ بادل برستا تو آپ دعا کرتے : اے اللہ ! اس کو نفع پہنچانے والا پانی بنا دے۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥٠٩٩، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٥٢٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨٨٩، مسند احمد ج ٢ ص ١٠٠، جامع المسانید و السنن مسند عائشہ رقم الحدیث : ٢٧٤٦ )
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بادل گرجنے اور بجلی کڑکنے کی آواز سنتے تو یہ دعا کرتے : اے اللہ ! ہمیں اپنے غضب سے ہلاک نہ کر اور ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک نہ کر اور اس سے پہلے ہمیں عافیت میں رکھ۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٤٥٠، مسند احمد ج ٢ ص ١٠٠)
اس مقام پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ آندھی آنے سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس قدر گھبرا جاتے اور خوف زدہ ہوجاتے کہ کہیں آپ کی قوم پر بھی ایسا عذاب نہ آجائے جیسا عذاب قوم عاد پر آیا تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ آپ کو یہ اطمینان دلا چکا ہے کہ آپ کے ہوتے ہوئے ان پر عذاب نہیں آئے گا، قرآن مجید میں ہے :
” وَمَا کَانَ اللہ ُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنْتَ فِیْہِمْ ط “ ‘ (الانفال : ٣٣)
اور اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ ان پر عذاب نازل فرمائے جب کہ آپ ان میں موجود ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کے گھبرانے اور دعا کرنے کے واقعات اس آیت کے نزول سے پہلے کے ہیں۔
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 46 الأحقاف آیت نمبر 25