أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنۡ قَبۡلِهٖ كِتٰبُ مُوۡسٰٓى اِمَامًا وَّرَحۡمَةً  ؕ وَهٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا لِّيُنۡذِرَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ‌ۖ وَبُشۡرٰى لِلۡمُحۡسِنِيۡنَ‌ۚ‏ ۞

ترجمہ:

حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی (آسمانی) کتاب پیشوا اور رحمت بن کر آچکی ہے، اور یہ کتاب عربی زبان میں (اس کی) تصدیق کرنے والی ہے تاکہ ظالموں کو (عذاب سے) ڈرائے اور نیکوکاروں کو بشارت دے

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی (آسمانی) کتاب پیشوا اور رحمت بن کر آچکی ہے۔

اس کتاب سے مراد ” تورات “ ہے، امام کا معنی ہے : مقتدیٰ ، یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی شریعت میں ” تورات “ کے احکام کی پیروی کی جائے گی، جس طرح نماز میں امام کی پیروی کی جاتی ہے اور اس کتاب کو رحمت فرمایا یعنی جو شخص اس پر ایمان لائے گا اور ” تورات “ میں مذکور احکام پر عمل کرے گا تو وہ اس کے لئے رحمت ہے۔

اس آیت کا پہلی آیت سے ربط اس طرح ہے کہ اس سے پہلی آیت میں کفار مکہ کے اس طعن کا ذکر کیا تھا کہ اگر اس قرآن میں کوئی خیر ہوتی تو یہ فقراء اس قرآن پر ایمان لانے میں ہم پر سبقت نہ کرتے، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کا رد فرمایا کہ قرآن مجید کے برحق ہونے پر دلیل یہ ہے کہ تم کو بھی یہ تسلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ” تورات “ نازل کی تھی اور ” تورات “ کو امام اور مقتداء بنایا تھا اور ” تورات “ میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول ہو کر مبعوث ہونے کی بشارت ہے، پس جب تم نے ” تورات “ کو امام اور مقتداء مان لیا تو ” تورات “ کے اس حکم کو بھی مانو کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رسول اللہ ہونا برحق ہے۔

اس کے بعد فرمایا : اور یہ کتاب عربی زبان میں (اس کی) تصدیق کرنے والی ہے تاکہ ظالموں کو (عذاب سے) ڈرائے اور نیکوکاروں کو بشارت دے

یعنی یہ قرآن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کی اس چیز میں تصدیق کرتا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ قرآن مجید کو نازل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ جو کفار قرآن مجید سے اعراض کرتے ہیں ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا جائے اور مؤـمنین جو قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں اور اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں ان کو ان کے نیک اعمال پر آخرت کے اجر وثواب کی بشارت دی جائے۔

القرآن – سورۃ نمبر 46 الأحقاف آیت نمبر 12