قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلْ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَلٰـكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ ۚ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡئًــا ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞- سورۃ نمبر 49 الحجرات آیت نمبر 14
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلْ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَلٰـكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ ۚ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡئًــا ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞
ترجمہ:
دیہاتیوں نے کہا : ہم ایمان لائے، آپ کہیے کہ تم ایمان نہیں لائے، ہاں ! یہ کہو کہ ہم نے اطاعت کی اور ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا، اور اگر تم اللہ کی اطاعت کرو، اور اس کے رسول کی تو اللہ تمہارے (نیک) اعمال سے کوئی کمی نہیں کرے گا، بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بےحد رحم فرمانے والا ہے
الحجرات :14 کاشانِ نزول اور ایمان اور اسلام کا لغوی اور اصطلاحی معنی
الحجرات :14 میں فرمایا : دیہاتیوں نے کہا : ہم ایمان لائے، آپ کہیے کہ تم ایمان نہیں لائے، ہاں ! یہ کہو کہ ہم نے اطاعت کی۔ الایۃ
علامہ ابو عبداللہ قرطبی مالکی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :
اس آیت کے شان نزول میں حسب ذیل اقوال ہیں :
(١) سدی نے کہا : ان دیہاتیوں سے مراد وہ دیہاتی ہیں جن کا ذکر سورة الفتح میں آچکا ہے، یہ مدینہ کے گرد رہنے والے قبائل تھے : مزینہ، جہینہ، اسلم، غفار، الدیل اور اشجع، انہوں نے اس لیے ایمان کا اظہار کیا تھا تاکہ اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کرسکیں اور انہوں نے دل سے تصدیق نہیں کی تھی، لیکن اس آیت سے مرادض اعراب ہیں، تمام اعراب مراد نہیں ہیں کیونکہ بعض اعراب ایمان لے آئے تھے۔
(٢) حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ آیت ان اعراب کے متعلق نازل ہوئی ہے جنہوں نے ہجرت نہیں کی تھی اور وہ چاہتے تھے کہ ان کو مہاجر کہا جائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ ان کا لقب اعراب ہے اور ان کا لقب مہاجرین نہیں ہے۔
(٣) ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد بنو اسد بن خزیمہ کے اعراب ہیں، انہوں نے مدینہ کے راستوں میں سے دیجئے، کیونکہ دوسرے لوگوں کو مسلمان کرنے کے لیے تو آپ کو ان سے جنگ کرنا پڑی اور ہم بغیر کسی جنگ کے از خود آپ پر ایمان لائے ہیں، اس لیے ہم مالی امداد اور صدقات کے زیادہ مستحق ہیں، یہ اپنے ایمان لانے کا آپ پر احسان جتاتے تھے۔(الجامع لاحکام القرآن جز 16 ص 315، دارالفکر، بیروت، 1415 ھ)
نفس ایمان دل سے اس کی تصدیق کرتا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے جو پغیام اور جو دین لے کر آئے وہ برحق ہیں، اس کو ماننا اور قبول کرنا ہے اور ایمان کامل، اس کی تصدیق اور کلمہء شہادت کا اقرار اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنا ہے اور ایمان اور اسلام دونوں مترادف ہیں اور اس آیت سے بہ ظاہر دونوں میں تغایر معلوم ہوتا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں اسلام کا لغوی معنی مراد ہے یعنی ظاہراً اطاعت کرنا، یعنی تم نے اپنی جان اور مال کے تحفظ کے لیے ظاہراً اطاعت کی ہے اور تم درحقیقت مومن نہیں ہو۔
القرآن – سورۃ نمبر 49 الحجرات آیت نمبر 14
[…] قبول کرنا ہے اور اس کا مجازی معنی ظاہری اطاعت کرنا ہے الحجرات : ۱۴ کا سبب نزول یہ ہے کہ بنو اسد بن خزیمہ کے دیہاتی قحط کے […]