۱۹.باب إذا لم يكن الإسلام على الحقيقة وكان على الإستسلام أو الخوف من القتل

جب اسلام سے اس کا حقیقی معنی مراد نہ ہو،اور ظاہری اطاعت مراد ہو، یاقتل کیےجانے کا خوف مراد ہو

لقوله تعالى قالت الأعراب امنا قل لم تومنوا ولكن قولوا أسلمنا . (الحجرات: ١٤)

کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’ دیہاتیوں نے کہا: ہم ایمان لے آۓ آپ کہیے: تم ایمان نہیں لاۓ لیکن کہو : ہم نے ( ظاہری ) اطاعت کی ہے‘‘ ( الحجرات : ۱۴)۔

فسماهم المؤمنين فإذا كان على الحقيقة فهو على قوله جل ذكره (إن الدين عند اللہ الإسلام» (آل عمران:۱۹) «ومن يبتغ غير الإسلام دينا فلن يقبل منه ( آل عمران:۸۵)

پس اللہ تعالی نے انہیں مؤمنین کا نام دیا اور جب اسلام کا حقیقی معنی مراد ہو تو وہ اللہ عزوجل کا یہ ارشاد ہے : اللہ کے نزدیک دین اسلام ہے (آل عمران :۱۹ )

اور یہ آیت: ” جس نے اسلام کے سوا کوئی اور دین پسند کیا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جاۓ گا‘‘ ( آل عمران: ۸۵ ) ۔

امام بخاری کی پیش کردہ آیات کی تفسیر

امام بخاری نے جو باب کا عنوان قائم کیا ہے، یہ آیات اس پر دلالت کرتی ہیں، امام بخاری اور جمہور علماء اسلام کے نزدیک ایمان اور اسلام مترادف ہیں، ہم نے اس پر مفصل بحث حدیث : 8 کی شرح میں کر دی ہے، لہذا اسلام کا حقیقی معنی دل سے ماننا اور قبول کرنا ہے اور اس کا مجازی معنی ظاہری اطاعت کرنا ہے الحجرات : ۱۴ کا سبب نزول یہ ہے کہ بنو اسد بن خزیمہ کے دیہاتی قحط کے سال مدینہ میں آئے اور انہوں نے اللہ اور رسول کی شہادت دی، حالانکہ وہ دل سے مومن نہیں تھے انہوں نے کہا: ہم مصیبت زدہ ہیں، آپ ہمیں صدقات میں سے مال دیجئے، تب اللہ تعالی نے ان کے رد میں یہ آیت نازل فرمائی کہ آپ کہیے: تم ایمان نہیں لاۓ البتہ یوں کہو: ہم نے ظاہری اطاعت کی ہے ۔ ( الوسیط ج ۴ ص ۱۵۹ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۵ھ )

پھر امام بخاری نے اسلام کے حقیقی معنی کے ثبوت میں یہ آیت پیش کی : ” اللہ کے نزدیک دین اسلام ہے ( آل عمران:۱۹) یعنی اسلام حقیقی دین ہے کیونکہ اللہ تعالی نے خبر دی ہے کہ دین اسلام ہی ہے ۔

پھر امام بخاری نے آل عمران : ۸۵ سے استدلال کیا کہ چونکہ اسلام کے سوا کوئی اور دین قبول نہیں کیا جاۓ گا اس سے معلوم ہوا کہ اسلام ہی حقیقت میں دین ہے۔

۲۷- حدثنا أبو اليـمـان قال أخبرنا شعيب ، عن لزهري قال أخبرني عامر بن سعد بن ابی وقاص عن سعد رضي الله عنه أن رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم أعطى رهطا وسعد جالس، فترك رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا هو أعجبهم إلى فقلت يارسول الله مالك عن فلان؟ فوالله انی لاراة مـؤمـنـا فـقال او مسلما. فسكت قليلا ثم غلبني ما أعلم منه فعدت لمقالتي فقلت ما لك عن فلان؟ فوالله إني لاراه مؤمنا، فقال او مسلما۔ثم غلبنى ما أعلم منه، فعدتُ لمقالتي، وعاد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ثم قال يا سعد، انی لأعطى الرجل وغيره أحب إلي منه خشية أن يكتلبہ اللہ فی النار۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے از زہری خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے ازحضرت سعد رضی للہ عنہ خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو عطا فرمایا اور حضرت سعد بیٹھے ہوئے تھے اور ایک ایسے شخص کو چھوڑ دیا، جو میرے نزدیک بہت پسندیدہ تھا، میں نے کہا: یارسول اللہ ! آپ نے فلاں شخص کو کیوں نہیں دیا ؟ پس اللہ کی قسم! میں اس کو ضرور مومن گمان کرتا ہوں آپ نے فرمایا: یا مسلمان ! میں کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس کے متعلق جو مجھے علم تھا وہ مجھ پر غالب آیا اور میں نے پھر اپنی بات کو دہرایا ۔ پس میں نے کہا: آپ نے فلاں شخص کو کیوں نہیں دیا ؟ پس اللہ کی قسم! میں اس کو ضرور مومن گمان کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: یا مسلمان پھر اس کے متعلق جو مجھے علم تھا وہ مجھ پر غالب آیا اور میں نے اپنی بات کو دہرایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد کو دہرایا۔ پھر آپ نے فرمایا : اے سعد ! میں کسی شخص کو عطا کرتا ہوں اور اس کا غیر مجھے زیادہ محبوب ہوتا ہے اس خوف سے کہ اس کو اللہ دوزخ میں اوندھے اوندھے منہ گرادے گا۔

ورواه يونس، وصالح و معمر، وابن أخي الزهري، عن الزهري [ طرف الحديث : ۸ ۷ ۱۴ ]

امام بخاری نے کہا: اور اس حدیث کو یونس اور صالح اور معمر اور زہری کے بھتیجے نے زہری سے روایت کیا ہے ۔

( صحیح مسلم :۱۵۰ سنن ابوداؤد :۴۶۸۵ – ۴۶۸۳ ، سنن نسائی: ۵۰۰۸۔ ۵۰۰۷ )

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف اور خصوصاً حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا تذکرہ

 

 

(۱) ابوالیمان الحکم بن نافع الحمصی۔

(۲) شعیب بن ابی حمزہ الاموی۔

( ۳) محمد بن مسلم الز ہری، ان کا تعارف ہو چکا ہے۔

( ۴ ) عامربن سعد بن ابی وقاص القرشی انہوں نے اپنے والد، حضرت عثمان، حضرت جابر بن سمرہ اور متعدد صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے احادیث کا سماع کیا ہے اور ان سے سعید بن مسیب، سعد بن ابراہیم، زہری اور دیگر نے سماع کیا ہے، یہ ثقہ اور کثیر الحدیث تھے یہ ۱۰۴ھ یا ۱۰۳ھ میں مدینہ میں فوت ہوگئے، ائمہ ستہ ان سے روایت کرتے ہیں۔

( ۵ ) ابواسحاق سعد بن ابی وقاص، ان کا نام مالک بن وہیب القرشی ہے، یہ ان دس صحابہ میں سے ہیں، جن کو جنت کی بشارت دی گئی اور ان چھ صحابہ میں سے ہیں جن کو حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خلافت کے مشورہ کے لیے مقرر کیا تھا،ان کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پانچویں پشت کلاب میں مل جاتا ہے یہ چار شخصوں کے بعد اسلام میں داخل ہوۓ، اس وقت ان کی عمر ۱۴ سال تھی، غزوہ بدر اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں شریک ہوئے، یہ مستجاب الدعوات تھے انہوں نے اللہ کی راہ میں سب سے پہلے تیر چلایا تھا اور وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کی راہ میں خون بہایا تھا، انہیں اسلام کا شہسوار کہا جاتا تھا، یہ مہاجرین اولین میں سے تھے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کرنے سے پہلے مدینہ میں ہجرت کی تھی انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے 270 احادیث روایت کی ہیں, ۱۵ احادیث پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں, ۵ احادیث کے ساتھ امام بخاری منفرد ہیں اور ۱۸ احادیث کے ساتھ امام مسلم منفرد ہیں ان سے ائمہ ستہ نے احادیث روایت کی ہیں انہوں نے ہی حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانہ میں ایران کو فتح کیا تھا اور حضرت عمر نے ان کو عراق کا گورنر بنادیا تھا انہوں نے ہی شہر کوفہ کی بنیاد رکھی جب حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کوشہید کر دیا گیا تو یہ فتنہ سے الگ ہو گئے تھے اور مدینہ سے دس میل کی مسافت پر اپنے مکان میں فوت ہو گئے تھے ان کی وفات ۵۷ ھ میں ہوئی اس وقت ان کی عمر ۷۰ سال سے زائد تھی اس وقت مروان بن الحکم مدینہ کا حاکم تھا، اس نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، عشرہ مبشرہ میں سے فوت ہونے والی آخری صحابی تھے صحابہ میں جن کا نام سعد تھا ان کی تعداد سو سے زیادہ ہے ۔( عمدة القاری ج۱ ص۲۰۷ – ۲۰۵)

سفارش کرنے کی تفصیل اور حضرت سعد کی سفارش قبول نہ کرنے کی توجیہ

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جائز معاملہ میں حکام سے سفارش کرنا صحیح ہے اور اگر ایک بار سفارش مسترد کردی جائے تو کئی بارسفارش کرنی چاہیے اور اگر حاکم کسی وجہ سے سفارش قبول نہ کرے تو اس کو اپنا عذر بیان کردینا چاہیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو عطا فرمارہے تھے جو نئے نئے اسلام لائے تھے، تاکہ ان کی دل جوئی اور تالیف قلب ہو اور قدیم الاسلام اصحاب کو عطا نہیں فرمارہے تھے کیونکہ وہ اپنے اسلام میں راسخ تھے اور ان کے پھسلنے کا امکان نہ تھا اور اس وقت اتنی گنجائش نہ تھی کہ سب کو دیا جاسکتا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے قدیم الاسلام اصحاب کو ترک کر کے نئے اسلام لانے والوں کو عطا فرمایا، کیونکہ اگر آپ قدیم الاسلام اصحاب کو عطا فرماتے اور نئے اسلام لانے والوں کو ترک کر دیتے تو ہوسکتا تھا کہ وہ آپ کے متعلق بدگمانی کرتے اور اگر وہ آپ کے متعلق بدگمانی کرتے تو دوزخ میں اوندھے منہ جاگرتے اور قدیم الاسلام اصحاب سے یہ خطرہ نہ تھا، حضرت سعد بن ابی وقاص جس کی سفارش کر رہے تھے وہ بھی قدیم الاسلام تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کو عطا فرمایا ان پر تو آپ کا کرم ظاہر ہے اور جن کو آپ نے عطانہیں فرمایا ان پر بھی آپ کا کرم ہے کیونکہ آپ نے ان کو اپنا سمجھا کہ وہ آپ کے متعلق بدگمانی نہیں کر سکتے، غرض آپ کا دینا بھی کرم ہے اور نہ دینا بھی کرم ہے ۔

حضرت سعد نے کہا: آپ اس کو کیوں نہیں دیتے، اللہ کی قسم! میں اس کو ضرور مؤمن گمان کرتا ہوں آپ نے فرمایا: یا وہ مسلمان ہو اس میں یہ تنبیہ ہے کہ ایمان تو دل کی تصدیق کا نام ہے تو تم کسی کے دل کی تصدیق کی کیسے شہادت دے سکتے ہو البتہ اس کے ظاہر حال کے اعتبار سے اس کو مسلمان کہہ سکتے ہو، اگرچہ مؤمن اور مسلم مترادف ہیں لیکن یہاں پر مسلم کا اطلاق ظاہر حال کے اعتبار سے مجازا فرمایا ہے ۔

زہری کے بھتیجے سے روایت کی وجہ سے امام بخاری پر تنقید

امام بخاری نے اس حدیث کو شعیب سے روایت کیا تھا، اب اس حدیث کے آخر میں امام بخاری شعیب کے متابعین کا ذکر رہے ہیں اور وہ چار متابع ہیں: یونس، صالح، معمر اور زہری کا بھتیجا اور جس طرح شعیب نے اس حدیث کو زہری سے روایت کیا ہے، ان چار نے بھی اس حدیث کو زہری سے روایت کیا ہے اول الذکر تین کا تعارف پہلے ہو چکا ہے اور آخر الذکر کا تعارف حسب ذیل ہے:

(۴) زہری کے بھتیجے کا نام محمد بن عبد اللہ بن مسلم بن عبید اللہ بن شہاب ہے، یہ امام ابوبکر زہری کے بھتیجے ہیں جو اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں اور ان سے یعقوب بن ابراہیم روایت کرتے ہیں، امام بخاری اور امام مسلم نے ان سے احادیث روایت کی ہیں

امام حاکم نے اپنی کتاب’’ مدخل‘‘ میں کہا ہے کہ زہری کے بھتیجے سے روایت کی بناء پر امام بخاری اور امام مسلم پر عیب لگایا گیا ہے امام ابن ابی حاتم نے کہا: یہ قوی نہیں تھے ابن معن نے کہا: یہ ضعیف تھے ابن عدی نے کہا: ان کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے، ان کی کوئی حدیث منکر نہیں ہے مرہ نے کہا: یہ قوی نہیں ہے، ان کو ان کے غلاموں نے ان کے باپ کے حکم کی وجہ سے قتل کر دیا تھا۔ یہ ۱۵۲ھ میں قتل کیے گئے تھے ۔ (عمدۃ القاری ج۱ ص ۳۱۲۔۳۱۱)

شرح صحیح مسلم :286۔ ج۱ ص۲۳۱ پر یہ حدیث مذکور ہے وہاں پر اختصار کے ساتھ نفس حدیث کی شرح کی گئی ہے ۔