حافظ ابن حجر عسقلانی جس باب میں مزید شرح کا ذکر کرتے ہیں اس باب میں ان کا شرح کو بھول جانا
حافظ ابن حجر عسقلانی جس باب میں مزید شرح کا ذکر کرتے ہیں اس باب میں ان کا شرح کو بھول جانا
حافظ ابن حجر عسقلانی کا طریقہ یہ ہے کہ جو حدیث صحیح بخاری میں متعدد بار آتی ہے وہ اس حدیث کی مختصر شرح کرنے کے بعد لکھ دیتے ہیں کہ ہم اس حدیث کی مفصل شرح فلاں باب میں کریں گے لیکن بعض اوقات وہ بھول جاتے ہیں اور جس باب کا وہ حوالہ دیتے ہیں اس باب میں اس کی شرح بالکل نہیں کرتے یا بالکل سرسری کرتے ہیں۔ اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:
(1) حافظ ابن حجر عسقلانی نے صحیح البخاری: 114 حدیث قرطاس کی شرح میں لکھا: ان شاء الله اس کی تفصیلی بحث کتاب الاعتصام میں آئے گی ۔ فتح الباری باری ج 1 ص ۶۵۸ دور المعرفہ بیروت ) یہ حدیث ” کتاب الاعتصام میں حدیث نمبر7366 پر درج ہے لیکن حافظ ابن حجر نے وہاں پر ایک تفصیلی بحث نہیں کی۔ دیکھئے :فتح الباری ج 8 ص 484 دارالمعرفہ: بیروت۔
(۲) حافظ ابن حجر عسقلانی نے صحیح البخاری: 221 مسجد میں اعرابی کے پیشاب کرنے کی حدیث کی شرح میں لکھا: ان شاء اللہ اس حدیث کے باقی فوائد کتاب الادب“ میں لکھے جائیں گے۔ کتاب الادب میں اس حدیث کا نمبر 6045 ہے وہاں حافظ ابن حجر نے لکھ دیا ہے کہ اس کی شرح كتاب الطهارة“ میں گزر چکی ہے اور اس کے بقیہ فوائد نہیں لکھے البتہ” کتاب الادب میں اس حدیث میں ” لا تز موه‘‘ کا لفظ ہے جو کتاب الطہارت میں نہیں تھا اس کا معنی انہوں نے لاتقطعوا‘‘ لکھا ہے۔ دیکھئے : فتح الباری ج ۷ ص 163 دار المعرفہ بیروت۔
(۳) صحیح البخاری:۳۰۵ کی شرح میں حافظ ابن حجر نے اس مسئلہ پر بحث کی ہے کہ حائض اور جنبی قرآن مجید کی تلاوت کر سکتے ہیں یا نہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ھرقل کو جو کتب بھجوایا تھا اس میں آل عمران: 64مذکور تھی جس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ ھرقل کافر تھا اور کافر جنابت سے پاک نہیں ہوتا؟ پس ھرقل بھی جنبی تھا اور اس نے آل عمران: 64 کو پڑھااس سے معلوم ہوا کہ جنبی کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کرنا جائز ہے حافظ ابن حجر نے اس کے جواب میں کہا: نبی کے لیے قرآن مجید پڑھنا اس وقت منع ہے جب اس کو معلوم ہو کہ یہ قرآن مجید ہے اور وہ اس کی قصدأ تلاوت کرے اور اس کے مزید جوابات ان شاء الله ”کتاب الجهاد میں آئیں گے۔ (فتح الباریج 1 ص 822 دار المعرفہ بیروت 1426ھ) کتاب الجہاد میں ھرقل کی حدیث: ۳۱۷۴ ہے ،وہاں حافظ ابن حجر نے اس حدیث کی شرح میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا۔
(4) حافظ ابن حجر عسقلانی نے صحیح البخاری: ۳۱۳، حیض کی بدبو کے ازالے کے لیے خوشبو لگانے کی حدیث کی شرح میں لکھا ہے:اس کی مزید شرح ان شاء الله كتاب الجنائز میں اپنے مقام پر آئے گی ۔ (فتح الباری ج 1 ص ۸۲۷ دار المعرفہ بیروت ) یه حدیث “کتاب الجنائز ‘ میں نمبر ۱۲۷۹ پر ہے وہاں حافظ ابن حجر نے اس حدیث کی شرح میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا۔ دیکھئے: فتح الباری ج۲ص729-728۔
(۵) حافظ ابن حجر عسقلانی نے صحیح بخاری:340 چہرے اور ہتھیلیوں پر تیمم کی حدیث کی شرح میں لکھا ہے: ہم اس پر مزید بحث باب التيمم ضربة “میں کریں گے۔ (فتح الباری ج۲ ص 15، دارالمعرفہ بیروت) اور” التيمم ضربة‘‘ کے باب میں حافظ ابن حجر نے اس موضوع پر ایک لفظ بھی نہیں لکھا۔ دیکھئے : فتح الباری ج2 ص 25′ دارالمعرف دارالمعرفہ بیروت ۔