ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَۙ سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 13
sulemansubhani نے Friday، 8 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَۙ ۞
ترجمہ:
بڑا گروہ پہلے لوگوں سے ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بڑا گروہ پہلے لوگوں سے ہی۔ اور تھوڑے پچھلے لوگوں سے ہیں۔ وہ (زروجواہر) سے مرصع تختوں پر ہوں گی۔ ان پر تکیے لگائے ہوئے ایک دوسرے کے سامنے (الواقعہ 13-16)
” ثلثہ “ کا معنی اور مصداق
الواقعہ :13 میں ثلثہ ” کا لفظ ہے، علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی 502 ھ میں لکھتے ہیں
” ثلثہ “ کا معنی ہے : انبوہ کثیر، بہت بڑی جماعت اصل میں ” ثلثہ “ اون کے گھٹے کو کہتے ہیں اور کثرت اجتماع کی مناسبت سے بہت بڑی جماعت کے لئے ” ثلثہ “ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ (المفردات ج 1 ص 105 مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ 1418 ھ )
مقاتل بن سلیمان بلخی متوفی 150 ھ لکھتے ہیں۔
(الواقعہ 39:) گزشتہ امتوں کے سابقین کی بہت بڑی جماعت
(الواقعہ 40) سے مراد ہے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے سابقین
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی ان میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کی اسی 80 صفیں ہوں گی اور باقی امتوں کی چالیس صفیں ہوں گی اور گزشتہ امتوں کے سابقین اور مقربین اس امت کے سابقن اور مقربین کی بہ نسبت بہت زیادہ ہوں گے، اس لئے فرمایا (الواقعہ 39) اور اس امت کے سابقین ان کی بہ نسبت بہت کم ہوں گے (تفسیر مقاتل بن سلمان ج 2 ص 314 دارالکتب العلمیہ بیروت 1424 ھ)
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا چوتھائی ہوں گے ہم نے کہا : اللہ اکبر : آپ نے پھر فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا تہائی ہوگی، ہم نے کہا : اللہ اکبر، پھر آپ نے فرمایا : مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف ہوگی ہم نے کہا : اللہ اکبر : پھر آپ نے فرمایا : تم لوگوں کے مقابلے میں ایسے ہو گے جیسے سفید بیل میں کالے بال ہوتے ہیں یا کالے بیل میں سفید بال ہوتے ہیں۔
حسن بصری نے کہا : (الواقعہ 13) اس سے مراد ہے : گزشتہ امتوں کے سابقین کی جماعت اور (الواقعہ 14) اس سے مراد ہے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے والے سابقین، ان کو قتلیل اس لئے فرمایا ہے کہ انبیاء سابقین بہت زیادہ تھے اور ان کی امتوں میں ایمان کی طرف سبقت کرنے والے بھی بہت زیادہ تھے، اس لئے ان کا عدد ہماری امت کے سابقین سے زیادہ ہو گیا
” قلیل من الاخرین اور ثلثہ میں الاخرین “ میں تعارض کا جواب
اس کے بعد فرمایا : (الواقعہ 39) اور (الواقعہ 40) اور بہ ظاہر یہ تعارض ہے کہ کیونکہ الواقعہ 14 میں فرمایا تھا کہ آپ کی امت کے سابقین قلیل ہیں اور الواقعہ 40 میں فرمایا ہے کہ آپ کی امت کے سابقین کثیر ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ الواقعہ 13-14 کا تعلق سابقین سے ہے اور الواقعہ 39-40 کا تعلق اصحاب الیمین سے ہے، یعنی آپ کی امت کے سابقین تو گزشتہ امتوں سے کم ہوں گے لیکن آپ کی امت کے اصحاب الیمیین یعنی عام مومنین کی تعداد بہت زیادہ ہوگی اور گزشتہ امتوں کے مومنین اور ہماری امت کے مومنین دونوں بڑے گروہ ہوں گے لیکن ہماری امت کا گروہ گزشتہ امتوں کے گروہ سے بہت بڑا اور بہت زیادہ ہوگا جیسا کہ مذکورہ الصدر حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 13
[…] تفسیر […]