قسط دوم!

قسط اول

ظہیر امن پوری صاحب کی خیانتوں کا تحقیقی جائزہ!
ازقلم:اسدالطحاوی الحنفی

(ظہیرامن پوری صاحب)
دلیل نمبر 5 :

امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ایک ’’ضعیف‘‘اور باطل روایت یوں ہے :

إِنِّي لَـأَتَبَرَّکُ بِأَبِي حَنِیفَۃَ، وَأَجِیْیُٔ إِلٰی قَبْرِہٖ فِي کُلِّ یَوْمٍ، یَعْنِي زَائِرًا، فَإِذَا عَرَضَتْ لِي حَاجَۃٌ؛ صَلَّیْتُ رَکْعَتَیْنِ، وَجِئْتُ إِلٰی قَبْرِہٖ، وَسَاَلْتُ اللّٰہَ تَعَالَی الْحَاجَۃَ عِنْدَہٗ، فَمَا تَبْعُدُ عَنِّي؛ حَتّٰی تُقْضٰی ۔

’’میں امام ابو حنیفہ سے تبرک حاصل کرتا ہوں اور ان کی قبر پر ہر دن زیارت کے لیے آتا ہوں۔جب مجھے کوئی ضرورت پیش آتی ہے، تو میں دو رکعتیں ادا کرتا ہوں اور ان کی قبر کی طرف جاتا ہوں اور وہاں اللہ تعالیٰ سے اپنی ضرورت کا سوال کرتا ہوں، جلد ہی وہ ضرورت پوری کر دی جاتی ہے۔‘‘

(تاریخ بغداد للخطیب البغدادي : 135/1)

تبصرہ :

یہ جھوٹی اور باطل روایت ہے،کیونکہ اس کے راوی عمر بن اسحاق بن ابراہیم کا کتب ِ رجال میں کوئی نام و نشان نہیں ملتا۔ نیز علی بن میمون راوی کی بھی تعیین نہیں ہو سکی۔
اس کے باوجود محمد زاہد الکوثری جہمی حنفی نے اس کی سند کو’’ صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔

(مقالات الکوثري : 380)

جس روایت کے راوی کا حال یہ ہو کہ اس کا کتب ِ رجال میں ذکر ہی نہ ہو،اس کی سند صحیح کیسے ہوئی؟کیا یہ سب کچھ قبر پرستی کو تقویت دینے کے لیے تو نہیںکیا جا رہا ؟

جناب سرفراز خان صفدر دیوبندی حیاتی صاحب (م :2009ئ)لکھتے ہیں:
’’یہ واقعہ ہی جھوٹا اور گھڑا ہوا ہے۔‘‘

(بابِ جنت، ص : 66)

(الجواب :اسد الطحاوی)
موصوف ایک طرف کہتے ہیں یہ روایت ضعیف ہے اور دوسری طرف اسکو باطل بھی قرار دے رہے ہیں کہ ضیعف الاسناد روایت باطل ہوجاتی ہے ؟ خیر متن کے اعتبار سے انہوں نے کہانی چلائی ابن تیمیہ سے کاپی پیسٹ مار کر خیر اسکا تحقیقی جواب پیش خدمت ہے !

امام صیمری اور امام خطیب باسند روایت بیان کرتے ہیں :

خبرنا عمر بن إبراهيم قال ثنا مكرم قال ثنا عمر بن إسحاق بن إبراهيم قال ثنا علي بن ميمون قال سمعت الشافعي يقول إني لأتبرك بأبي حنيفة وأجيء الى قبره في كل يوم يعني زائرا فإذا عرضت لي حاجة صليت ركعتين وجئت إلى قبره وسألت الله الحاجة فما تبعد عني حتى تقضى

علی بن میمون کہتےہیں میں نے امام شافعی سے سنا :

کہ جب تک میں بغداد میں موجود رہا تو فرماتے ہیں میں امام ابو حنیفہ سے برکت لیتا ہوں اور انکی قبر مبارک کی زیارت کرتا ہوں جب کوئی مشکل حاجت پیش آتی تو دو رکعت نماز پڑھ کر انکی قر کے پاس جاتا ہوں
[اخبار ابی حنیفہ للصیمری ، و تاریخ بغداد]

البانی صاحب سلسلہ ضعیفہ میں امام کوثری پر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

وأما قول الكوثري في مقالاته (ص 381) : وتوسل الإمام الشافعي بأبي حنيفة مذكور في أو ائل ” تاريخ الخطيب ” بسند صحيح فمن مبالغاته بل مغالطاته فإنه يشير بذلك إلى ما أخرجه الخطيب (1 / 123) من
طريق عمر بن إسحاق بن إبراهيم قال: نبأنا علي بن ميمون قال: سمعت الشافعي يقول: إنى لأتبرك بأبي حنيفة وأجيء إلى قبره في كل يوم – يعني زائرا – فإذا عرضت لي حاجة صليت ركعتين وجئت إلى قبره، وسألت الله تعالى الحاجة عنده، فما تبعد عني حتى تقضى.

فهذه رواية ضعيفة بل باطلة فإن عمر بن إسحاق بن إبراهيم غير معروف وليس له ذكر في شيء من كتب الرجال، ويحتمل أن يكون هو عمرو – بفتح العين – بن إسحاق بن إبراهيم بن حميد بن السكن أبو محمد التونسى وقد ترجمه الخطيب (12 / 226) وذكر أنه بخاري قدم بغداد حاجا سنة (341) ولم يذكر فيه جرحا ولا تعديلا فهو مجهول الحال، ويبعد أن يكون هو هذا إذ أن وفاة شيخه علي بن ميمون سنة (247) على أكثر الأقوال، فبين وفاتيهما نحومائة سنة فيبعد أن يكون قد أدركه.
وعلى كل حال فهي رواية ضعيفة لا يقوم على صحتها دليل

البانی صاحب نے امام شافعی کے امام ابوحنیفہ سے قبر سے توسل کے حوالے روایت کی امام کوثری کے حوالے سے تصحیح پر کہتے ہیں کہ اس کو صحیح سند قرار دیکر علامہ کوثری نے مبالغہ کیا ہے اور انکو مغالطہ ہوا ہے یہ تاریخ بغداد میں بھی ہے
لیکن یہ روایت ضعیف بلکہ موضوع ہے عمر بن اسحاق بن ابراہیم یہ غیر معروف ہے اور کتب رجال میں اسکے بارے کچھ نہیں ملتا ۔
اور احتمال یہ ہے کہ یہ عمرو ہے یعنی عمروبن اسحاق بن ابراہیم بن حمید بن السکن اور امام خطیب نے انکا ترجمہ بیان کیا ہے تاریخ میں اور ذکر کیا کہ یہ یہ بخاری میں ۳۴۱ھ میں آیا اور نہ ہی جرح بیان کی ہے اور نہ ہی تعدیل جو کہ یہ ظاہر کرتا ہے یہ مجہول الھال ہے ۔ اور یہ بعید ہے کہ
علی بن میمون جو کہ اسکا شیخ ہے اسکی وفات ۲۴۷ھ ہے جیسا کہ اکثر اقوال میں آیا ہے تو اس روایت کا سارا حال یہ ہے کہ یہ ضعیف ہے اور صحیح کی ہونے کی دلیل نہیں
[سلسلہ الضعیفہ البانی ]

اہم نکتہ!!!

یعنی البانی صاحب نے امام کوثری کی تصحیح کو غلط ثابت کیا اور یہ کہا کہ سند میں عمر بن اسحاق ابن ابراہیم غیر معروف ہے اور احتمال ہے (کیونکہ تاریخ بغداد کے نسخاجات میں بہت غلطیاں تھیں اور مناقب صیمری کے نسخے بھی اغلاط کافی زیادہ تھیں ) کہ یہ راوی عمرو بن اسحاق بن ابراہیم السکنی ہے جو کہ بغداد میں آیا تھا
اور امام خطیب لکھتے ہیں یہ 341ھ میں آیا تھا
امام خطیب کی اس بات کو دلیل بنا کر البانی صاحب کہتے ہیں کہ لیکن اسکا شیخ علی بن میمون جو کہ 247ھ میں ہوئی ہے تو بیچ میں وقفہ ہے کافی زیادہ تو بقول البانی صاحب عمرو بن اسحاق اور علی بن میمون کی وفات کے بیچ کم از کم 100 سال کا وقفہ بنتا ہے اور عمرو بن اسحاق ہے بھی مجہول الحال ۔۔۔
چونکہ البانی صاحب اسکی تاریخ وفات اور توثیق پر مطلع نہیں تو انکا یہاں اشکال وارد تھا معلوم نہیں کہ انکے بیچ وقفہ ۱۰۰سال سے کہیں زیادہ ہو وفات کا

البانی صاحب نے عمرو بن اسحاق کو مجہول الحال قرار دیا ہے انکی خطاء ہے کیونکہ وہ صدوق راوی ہے

عمرو بن اسحاق بن ابراہیم کی توثیق :

جیسا کہ امام سمعانیؒ انکے بارے فرماتے ہیں :

وهو أبو الحسن عمرو بن إسحاق بن إبراهيم بن أحمد بن السكن الأسدي السكنى البخاري، محدث عصره وشيخ العرب ببلده ومن أكثر الناس تفقدا لأهل العلم، سمع ببخارى أبا على صالح بن محمد البغدادي جزرة وأبا هارون سهل بن شاذويه الحافظ، وبمرو أبا يزيد محمد بن يحيى بن خالد الميرماهانى وأبا عبد الرحمن عبد الله بن محمود السعدي، وببغداد أبا بكر عبد الله بن أبى داود السجستاني وأبا القاسم عبد الله بن محمد البغوي، وبالكوفة عبد الله ابن زيدان البجلي وأقرانهم،
سمع منه الحاكم أبو عبد الله الحافظ وذكره في تاريخ نيسابور وقال: ورد نيسابور سنة إحدى وأربعين وثلاثمائة وحججت أنا في تلك السنة فرأيت له في الطريق مروءة ظاهرة وقبولا تاما في العلم والأخذ عنه، وتوفى سنة أربع وأربعين وثلاثمائة

یہ او حسن عمر بن اسحاق بن ابراہیم السکن الاسدی السکنی البخاری ہیں یہ محدث العصر تھے اور شیخ العرب تھے اور بہت سے لوگوں نے ان سے علم لیا ، اور بخاری کے مقام پر انہوں نے علی بن صالح ، اور جزرہ میں ابو ھارون اور یزید بن یحیییٰ اور عبد الرحمن سے سنا اور بغداد میں ابو بکر عبداللہ بن داود سجستانی اور کوفہ کے مقام پر عبداللہ بن زیدان الجبلی وغیرہ سے سنا ہے

اور ان سے سننے والوں میں امام ابو عبداللہ الحاکم وغیرہ ہیں انہوں نے اپنی تاریخ نیشاپور میں 341ھ کے حالات میں وارد کرتے ہوئے کہا:
کہ میں اسی سال حج پر گیا تو راستے میں انکو پایا اور میں یہ بات قبول کرتا ہوں انکو علم میں مکمل تامہ حاصل تھا (یعنی علم میں پختہ تھے ) اور یہ 344ھ میں فوت ہوئے

[الانساب للسمعانی جلد ۷، ص ۱۶۴]

تو جنکے بارے امام حاکم یہ کہیں کہ

اور امام حاکم نے انکو اپنی مستدرک میں بھی لائے ہیں اور ان سے مروی روایات کی تصحیح کی ہے اور امام ذھبی نے بھی موافقت کی ہے

– حدثنا عمرو بن إسحاق بن إبراهيم السكني البخاري، بنيسابور، ثنا أبو علي صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، الخ۔۔۔
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه “
[التعليق – من تلخيص الذهبي] 3172 – على شرط البخاري ومسلم
[المستدرک للحاکم وتعلیق الذھبی]

تو اتنی تفصیل کے بعد تو یہ راوی صدوق درجے سے ہرگز نیچے نہیں گرتا جتنی مداح و علم میں پختگی کا ذکر امام سمعانی اور امام حاکم نے کیا ہے
نوٹ : امام حاکم راویان کی توثیق میں متساہل نہیں البتہ روایات کی تصحیح میں متساہل ہیں اور انکا یہ تساہل فقط مستدرک تک محدود ہے

اب چونکہ امام حاکم انکے تلامذہ میں سے تھے اور انہوں نے تصریح یہ بھی کر دی کہ انکی وفات 344ھ میں ہوئی

اور انکے شیخ علی بن میمون جنکی وفات پر امام ابن حجر نے اکثر کا قول 247ھ بیان کیا ہے
– “س ق علي بن ميمون
قال أبو حاتم ثقة وقال النسائي لا بأس به وذكره بن حبان في الثقات وقال مات سنة 45 وقال أبو علي الحراني مات سنة ست وأربعين ومائتين وقال غيره مات سنة “47”
[تہذیب التہذیب ابن حجر ]

یعنی علی بن میمون 247ھ میں فوت ہوا اور اسکا شاگرد عمرو بن ابراہیم کی عمر اس وقت 5سال اگر رکھیں (نوٹ: محدثین کے نزدیک سماع کی عمر کم سے کم ۵ سال ہوتی ہے) تو عمرو بن اسحاق اور علی بن میمون کی وفات کے درمیان 97 سال کا فرق رہتا ہے یعنی عمرو کی عمر اگر 5 سال رکھیں تو عمرو کی عمر 102 سال بنتی ہے تو کیا 102 سال عمر رجال کی نہیں ہوتی کیا ؟ امام طبرانی 100 سال تک رہے ہیں اور دیگر بھی کئیوں کی مثالیں دی جا سکتی ہیں سماع تو پھر بھی ثابت ہوتا ہے

اور پھر علی بن میمون کے اور تلامذہ بھی موجود ہیں جنکی وفات 320ہجری اور اسکے اکے آس پاس ہوتی رہی ہے ۔
تو عمرو بن اسحاق جنکی وفات 344ھ میں ہوئی تو ان سے سماع کیسے ناممکنات میں آ سکتا ہے

جیسا کہ

علی بن میمون کا ایک شاگرد

الحسين بن محمد بن مودود، أبو عروبة بن أبي معشر الحراني السلمي الحافظ. [المتوفى: 318 هـ]

اور دوسرا شاگرد جسکی وفات درج ذیل ہے
الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن فيل الأسدي، أبو طاهر البالسي [الوفاة: 320 هـ]

تو جو علت البانی صاحب نے راوی کا تعین کر کے کی (جیسا کہ انکے پاس نسخاجات تھے اور کلمی نسخوں میں راوی کے نام کی تصحیح کرنا آسان ہوتا ہے) اور اسی طبقے میں عمرو بن اسحاق ہی یہ راوی ہے جسکا تعین البانی صاحب نے کیا تھا

لیکن ہم نے انکے راوی کو مجہول ہونے کی علت کو رفع کر دیا ہے
اور
انکاسماع پر جو اعتراض کیا تھا اسکو بھی رفع کر دیا ہے کہ عمرو بن اسحاق کی عمر 102 سال رکھیں تو اصول حدیث کے مطابق سماع ثابت ہوتا ہے اور 102 سال عمر ہونا کوئی مشکل بات نہیں کافی رجال ایسے ہیں

اور اگر عمرو بن اسحاق کو 10 سال میں سماع مانیں 107 سال عمر بنتی ہے تو بھی مسلہ نہیں لیکن کم سے کم 102 سال میں سماع ثابت ہوتا ہے جب انہوں نے خود تصریح کر رکھی ہے ثنا علی بن میمون ۔۔۔۔۔

تو پس امام کوثری کا اس روایت کی تصحیح کرنا کوئی ایسی غلطی نہیں تھی جس پر البانی صاحب نے اس روایت کو ضعیف سے باطل بنادیاتھا نیز امام ابن حجر ہیثمی نے بھی اس روایت کو قبول کیا ہے

نیز امام خطیب کے نزدیک بھی یہ روایت احتجاج بہ ہے کیونکہ وہ یہ روایت اپنی تاریخ بغداد کے مقدمہ میں لائے ہیں اور فضائل بغداد و عراق میں بطور حجت بیان کی ہے اس وجہ سے امام کوثری علیہ رحمہ نے اس روایت کو خطیب بغداد کے حوالے سے بطور تصحیح بھی نقل کیا ہوا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دلیل نمبر 6 :

قَالَ الْحَافِظُ ابْنُ بَشْکَوَالَ : أَخْبَرَنَا الْقَاضِي الشَّہِیدُ أَبُو عَبْدِ اللّٰہِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ رَحِمَہُ اللّٰہُ قِرَاء َۃً عَلَیْہِ، وَأَنَا أَسْمَعُ، قَالَ : قَرَاْتُ عَلٰی أَبِي عَلِيٍّ حُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْغَسَّانِيِّ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ طَاہِرُ بْنُ مُفَوِّزٍ الْمُعَافِرِيُّ، قَالَ : أَنَا أَبُو الْفَتْحِ وَأَبُو اللَّیْثِ نَصْرُ بْنُ الْحَسَنِ التَّنْکَتِيُّ، الْمُقِیمُ بِسَمَرْقَنْدَ، قَدِمَ عَلَیْہِمْ بِلَنْسِیَۃَ، عَامَ أَرْبَعَۃٍ وَّسِتِّینَ وَأَرْبَعِ مِائَۃٍ، قَالَ : قُحِطَ الْمَطَرُ عِنْدَنَا بِسَمَرْقَنْدَ فِي بَعْضِ الْـأَعْوَامِ، قَالَ : فَاسْتَسْقَی النَّاسُ مِرَارًا، فَلَمْ یُسْقَوْا، قَالَ : فَأَتٰی رَجُلٌ مِّنَ الصَّالِحِینَ مَعْرُوفٌ بِالصَّلَاحِ، مَشْہُورٌ بِہٖ، إِلٰی قَاضِي سَمَرْقَنْدَ، فَقَالَ لَہٗ : إِنِّي قَدْ رَأَیْتُ رُأْیًا أَعْرِضُہٗ عَلَیْکَ، قَالَ : وَمَا ہُوَ؟ قَالَ : أَرٰی أَنْ تَخْرُجَ وَیَخْرُجَ النَّاسُ مَعَکَ إِلٰی قَبْرِ الْإِمَامِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِيِّ رَحِمَہُ اللّٰہُ، وَقَبْرُہٗ بِخَرَتْنَکَ، وَتَسْتَسْقُوا عِنْدَہٗ، فَعَسَی اللّٰہُ أَنْ یَّسْقِیَنَا، قَالَ : فَقَالَ الْقَاضِي : نِعْمَ مَا رَاَیْتَ، فَخَرَجَ الْقَاضِي، وَخَرَجَ النَّاسُ مَعَہٗ، وَاسْتَسْقَی الْقَاضِي بِالنَّاسِ، وَبَکَی النَّاسُ عِنْدَ الْقَبْرِ، وَتَشَفَّعُوا بِصَاحِبِہٖ، فَأَرْسَلَ اللّٰہُ السَّمَائَ بِمَائٍ عَظِیمٍ غَزِیرٍ، أَقَامَ النَّاسُ مِنْ أَجْلِہٖ بِخَرَتْنَکَ سَبْعَۃَ أَیَّامٍ أَوْ نَحْوَہَا، لَا یَسْتَطِیعُ أَحَدٌ الْوَصُولَ إِلٰی سَمَرْقَنْدَ مِنْ کَثْرَۃِ الْمَطَرِ وَغَزَارَتِہٖ، وَبَیْنَ خَرَتْنَکَ وَسَمَرْقَنْدَ ثَلَاثَۃُ أَمْیَالٍ أَوْ نَحْوُہَا ۔

’’سمرقند میں ایک سال قحط پڑا۔ لوگوں نے بہت دفعہ بارش طلبی کے لیے دُعائیں کیں،لیکن بارش نہ ہوئی۔ایک نیک آدمی جس کا ورع و تقویٰ مشہور تھا،قاضی سمرقند کے پاس آیا اور کہنے لگا:میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی ہے،میں وہ آپ کے سامنے پیش کروں گا۔قاضی نے کہا:وہ ترکیب کیا ہے؟اس نے کہا:میرا خیال ہے کہ آپ اور تمام لوگ امام محمدبن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ کی قبر کے پاس جا کر بارش کی دُعا کریں۔ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بارش عطا فرما دے۔امام صاحب کی قبر خرتنک نامی جگہ میں ہے۔قاضی اور تمام لوگ باہر نکلے اور امام صاحب کی قبر کے پاس جا کر بارش کی دُعا کی،اللہ کے ہاں گڑگڑائے اور امام صاحب کا وسیلہ پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ بارش نازل کی۔اس بارش کی وجہ سے لوگوں کو خرتنک میں تقریباً سات دن ٹھہرنا پڑا۔ زیادہ بارش کی بنا پر کوئی بھی سمرقند نہ جا سکتا تھا۔ خرتنک اور سمرقند کے درمیان تقریباً تین میل کا فاصلہ تھا۔‘‘

(الصلۃ في تاریخ أئمّۃ الأندلس لابن بشکوال، ص : 603، وسندہٗ صحیحٌ)

تبصرہ :
پانچویںصدی کے اواخر کے بعض نامعلوم لوگوں کا یہ عمل دین کیسے بن گیا؟ایک شخص کے کہنے پر نامعلوم قاضی اور اس کی نامعلوم رعایا کا یہ عمل قرآن و سنت اور سلف صالحین کے تعامل کے خلاف تھا۔

رہا بارش کا ہوجانا،تو وہ ایک اتفاقی امر ہے۔آج بھی کتنے ہی مشرکین قبر والوں سے اولادیں مانگتے ہیں،اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں اولاد ملتی ہے، تو وہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ صاحب ِ قبر نے ان پر یہ عنایت کی ہے۔کیا بتوں کے پجاریوں اور ان سے مانگنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی چیز نہیں ملتی؟اور کیا ان کی کوئی مراد پوری ہو جانا بت پرستی کے جواز کی دلیل ہے؟قرآن و حدیث میں بزرگوں کی قبروں پر دُعا اور ان سے تبرک حاصل کرنے کا کوئی جواز نہیں۔
اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو صحابہ و تابعین ضرور ایسا کرتے۔ خیرالقرون کے بعد دین میں منکر کام داخل ہو گئے تھے، یہ بھی انہی کاموں میں سے ہے۔اس دور میں کسی کے عمل کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔

(الجواب : اسد الطحاوی)

اگر یہ واقعہ مجہول لوگوں پر مبنی ہے اور یہ ایک اتفاقی عمل ہے تو امام ذھبی علیہ رحمہ نے سیر اعلام میں اس روایت کو امام بخاری کے فضائل میں کیوں درج کیا کیا انکو معلوم نہیں تھا کہ یہ واقعہ سنت کے خلاف ہے اور اتفاقی ہے تو وہ مفت میں اسکو امام بخاری کی فضیلت میں لکھتے رہے اور انکے دوسرے مورخین بھی اس چیز سے لا علم رہے ؟ اصل میں یہ کہانی شریف اور غلط بیانی ہے جو موصوف کو لکھنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی ہے ۔ اسکی سند نہ ہوتی تو سند کا رونا رویا جاتا اب چونکہ سند ثابت ہے اور روایت کا تجربہ بھی ثابت ہے تو لوگوں کو مجہول بنا دیا اور بارش برس چکی جس سے امام بخاری کے توسل کے کامل ہونے کا ثبوت ہے تو اسکو تکہ اور اتفاقی امر بنا دیا الغرض ان ذہنی بیماروں کو کوئی دوا بھی اثر نہیں کر سکتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ظہیر امن پوری صاحب)

دلیل نمبر 8 :
معروف کرخی رحمہ اللہ کی قبر کے بارے میں امام ابراہیم حربی رحمہ اللہ سے منسوب ہے کہ :
قَبْرٌ مُّعْرُوْفٍ التَّرْیَاقُ الْمُجَرَّبُ ۔
’’معروف کرخی کی قبر تریاقِ مجرب ہے۔‘‘

(تاریخ بغداد للخطیب : 122/1)

تبصرہ :

یہ جھوٹا قول ہے، کیونکہ اس کا راوی احمد بن حسین بن یعقوب ابو الحسن عطار غیر ثقہ اور مجروح ہے۔اس کے بارے میں :

ابو القاسم ازہری رحمہ اللہ کہتے ہیں:

کَانَ کَذَّابًا ۔

’’یہ انتہائی جھوٹا تھا۔‘‘

(تاریخ بغداد للخطیب : 429/4)

خود حافظ خطیب بغدادی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

وَلَمْ یَکُنْ فِي الْحَدِیْثِ ثِقَۃً ۔

’’یہ روایت ِ حدیث میں ثقہ نہیں تھا۔‘‘

(تاریخ بغداد : 429/4)

محمد بن ابی الفوارس رحمہ اللہ کہتے ہیں:

کَانَ سَيِّئَ الْحَالِ فِي الْحَدِیْثِ، مَذْمُوْمًا، ذَاہِباً، لَمْ یَکُنْ بِشَيْئٍ اَلْبَتَّۃَ ۔

’’یہ روایت ِحدیث میں بری حالت کا مالک تھا،نیز مذموم اور ردی تھا،یہ بالکل بے کار شخص تھا۔‘‘

(تاریخ بغداد للخطیب : 429/4)

حافظ ابو نعیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

لَیِّنُ الْحَدِیْثِ ۔

’’اس کی بیان کردہ حدیث کمزور ہوتی ہے۔‘‘

(تاریخ بغداد للخطیب : 429/4)

حافظ سہمی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

حَدَّثَ عَنْ مَّنْ لَّمْ یَرَہٗ وَمَنْ مَّاتَ قَبْلَ أَنْ یُّوْلَدَ ۔

’’یہ ان لوگوں سے روایت بیان کردیتا تھا،جنہیں اس نے دیکھا تک نہیں ہوتا تھا اور ان سے بھی،جو اس کی پیدائش سے بھی پہلے مر چکے ہوتے تھے۔‘‘

(سؤالات السہمي للدارقطني : 157)

حافظ حمزہ سہمی رحمہ اللہ مزید کہتے ہیں:

وَسَمِعْتُ الدَّارَقُطَنِيَّ وَجَمَاعَۃً مِّنَ الْمَشَایِخِ، تَکَلَّمُوْا فِي ابْنِ مِقْسَمٍ ۔

’’میں نے امام دارقطنی رحمہ اللہ اورمحدثین کرام کی ایک جماعت سے سنا ہے کہ وہ ابن مقسم پر جرح کرتے تھے۔‘‘

(سؤالات السہمي للدارقطني : 157)

(الجواب : اسد الطحاوی)

اب اس تحریر کا جواب موصوف نے یہ دیا ہے کہ چونکہ سند میں ایک متروک راوی ہے آگیا ہے تو روایت کا رد اس وجہ سے کر دیا کہ امام حربی سے منسوب کردہ تھا لیکن امام حربی کے بارے کوئی کلا نہیں کیا اس نکتہ کی نشاندہی کرنا مقصود اس لیے ہے کہ اگلی روایات میں موصوف کی منافقت اور دو رخی ثابت کرنی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ظہیر امن پوری صاحب )
دلیل نمبر 9 :

عبدالرحمن بن محمد بن زہری کہتے ہیں :

قَبْرُ مَعْرُوْفٍ الْکَرْخِيِّ مُجَرَّبٌ لِّقَضَائِ الْحَوَائِجِ، وَیُقَالُ : إِنَّہٗ مَنْ قَرَأَ عِنْدَہٗ مِائَۃَ مَرَّۃٍ : قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ، وَسَأَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی مَا یُرِیْدُ؛ قَضَی اللّٰہُ لَہٗ حَاجَتَہٗ ۔

’’معروف کرخی کی قبر قضائے حاجات کے لیے مشہور ہے۔کہا جاتا ہے کہ جو اس قبر کے پاس سو مرتبہ سورت اخلاص پڑھے،تو اللہ تعالیٰ اس کی مراد کو پورا کر دیتا ہے۔‘‘

(تاریخ بغداد للخطیب : 122/1، وسندہٗ صحیحٌ)

دلیل نمبر 10 :

ثقہ محدث،ابو عبداللہ ابن محاملی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

أَعْرِفُ قَبْرَ مَعْرُوْفَ الْکَرْخِيِّ مُنْذُ سَبْعِیْنَ سَنَۃً، مَا قَصَدَہٗ مَہْمُوْمٌ؛ إِلَّا فَرَّجَ اللّٰہُ ہَمَّہٗ ۔

’’میں ستر سال سے معروف کرخی کی قبر کو جانتا ہوں۔ جو بھی پریشان حال ان کی قبر کا قصد کرے،اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی کو دور کر دیتا ہے۔‘‘

(تاریخ بغداد للخطیب : 123/1، وسندہٗ صحیحٌ)

تبصرہ :

متاخرین کا بے دلیل عمل دین کیسے بن سکتا ہے؟یہ عمل قرآن و سنت اور خیر القرون کے سلف صالحین کے خلاف ہے۔
رہا حاجت پوری ہو جانا تو یہ اتفاقی امر ہے۔آج بھی قبروں کے پجاری قبر والوں سے اولادیں مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں اولاد مل جاتی ہے،لیکن وہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ صاحب ِقبر نے ان پر یہ عنایت کی ہے۔کیا بتوں کے پجاریوں اور ان سے مدد مانگنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی چیز نہیں ملتی؟کیا ان کی کوئی دلی مراد پوری ہو جانا بت پرستی کے جواز پر دلیل ہے؟
قرآن و سنت میں بزرگوں کی قبروں پر دُعا اور ان کے توسل اور تبرک کا کوئی جواز نہیں،اگر ایسا کرنا جائز ہوتا،توصحابہ کرام اور تابعین عظام ضرور ایسا کرتے۔خیر القرون کے بعد دین اسلام میں جو منکر کام داخل ہو گئے تھے، یہ بھی انہی میں سے ہے۔

(الجواب : اسد الطحاوی)

اب امام معروف کرخی کی قبر پر جا کر دعا کرنے اور انکی قبر کو زائرین کے کے لیے حاجت روا ہونے کی تصریحات صحیح سند سے چونکہ ثابت ہو چکی ہیں تو موصوف نے یہاں کیا خیانت کی ہے موصوف کا جملہ ہے ” متاخرین کا بے دلیل عمل دین کیسے بن سکتا ہے؟یہ عمل قرآن و سنت اور خیر القرون کے سلف صالحین کے خلاف ہے۔”

لا علمی کی یہ انتہاء سمجھی جائے یا موصوف کی خیانت اور ہڈ دھرمی سمجھی جائے کہ اوپر امام امام حربی کے قول پر یہ اعتراض نہیں کیا لیکن جن دو محدثین سے قول ثابت ہوا اسکو جہالت دکھاتے ہوئے متاخر قرار دیدیا اور پھر انکے قول کو خیر القرون کے سلف کے خلاف کہہ دیا جبکہ یہ دو محدثین جنکا یہ قول ہے وہ خود خیر القرون کے سلف میں سے ہیں اور متقدمین سے ہیں ۔ امام خطیب جنکا شمار متقدمین میں ہوتا ہے وہ اپنی کتاب میں اپنی سند سے جن محدثین کا کلام نقل کر رہے ہیں اسکے بارے موصوف یہ اندھی گھما رہا ہے کہ یہ عمل متاخرین کا ہے بھھھھ اس پر ہنسا جا سکتا ہے اور یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ موصوف کو محقق اور شیخ الحدیث کہنے والے اسکے کتنے غالی مقلد ہیں

اب جیسا کہ یہ اقوال دو اماموں سے مروی تھے صحیح سند سے
۱۔ امام عبدالرحمن بن محمد بن زہری
۲۔ ثقہ محدث،ابو عبداللہ ابن محاملی

امام عبد الرحمن بن محمد بن عبيد الله

اور یہ صحابی رسول حضرت عبد الرحمن بن عوف القرشی کی نسل سے تھے
صرف پانچ واسطوں سے انکا سلسلہ نسب صحابی رسول ﷺ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ سے ملتا ہے
امام خطیب نے انکی توثیق کی ہے :
عبد الرحمن بن محمد بن عبيد الله بن سعد بن إبراهيم بن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف(صحابی رسولﷺٌ)
وكان ثقة.

انکے شیوخ درج ذیل ہیں:
سمع أبا الأحوص محمد بن الهيثم القاضي، وعباس بن محمد الدوري، وجعفر بن محمد الصائغ، ومحمد بن غالب التمتام، ونحوهم.
یعنی کہ اما م مشہور ثقہ محدث امام ابو الاحوص قاضی ، امام محدث عباس بن محمد دوری جو کہ امام ابن معین کے مقدم شاگرد ہیں اور امام جعفر بن صائع جیسے مشہور کبیر محدثین انکے شیوخ میں ہیں ان سب کی وفات 280ھ کے دور سے پہلے ہوئی ہے

اور انکے شیوخ درج ذیل ہیں :
روى عنه أبو عمر بن حيويه، وأبو حفص بن شاهين، وعبد الله بن عثمان الصفار في آخرين.
انکے تلامذہ میں مشہور محدث و مصنف کتب کثیرہ امام ابو عمر بن حیویہ ہیں اور انکے ساتھ محدث ناقد رجال امام ابن شاھین صاحب ثقات موجود ہیں اورانکے ساتھ امام عبدا للہ بن عثمان جیسے مشہور معروف محدثین ہیں اور ان سب کا انتقال 380ھ سے پہلے تک ہوا جبکہ یہ بھی متقدمیں سے ہیں

اور امام خطیبب انکی ولادت و وفات کے بارے لکھتے ہیں :
أن أبا محمد عبد الرحمن بن محمد الزهري مات في سنة ست وثلاثين وثلاث مائة، قال غيره: في ربيع الآخر وكان مولده في سنة سبع وخمسين ومائتين.
امام ابو محمد عبد الرحمن بن محمد الزھری کی وفات 235ھ میں ہوئی اور انکی ولادت 257ھ میں ہوئی ہے
اور انکے بارے امام خطیب اپنی سند صحیح سے امام ابو بکر بن مجاہد کا قول لاتے ہیں :
أخبرني علي بن أبي علي المعدل، قال: حدثنا منصور بن محمد بن منصور الحربي القزاز، قال: سمعت أبا بكر بن مجاهد، يقول: وقد دخل إليه أبو محمد الزهري وخلفه أولاده أنا أشبه أبا محمد ببعض الصحابة وخلفه أتباعه.
امام ابو بکر بن مجاہد کہتے ہیں اور امام ابو محمد داخل ہوئے انکے ساتھ انکے اولاد خلفاء تھے اور میں انکوبعض صحابہ کے ساتھ مشابہت دیتا ہوں انکے ساتھ اور انکے اتباع کرنے والے خلفاء تھے
[تاریخ بغداد برقم : 5373]

اب ایک بندہ شیخ الحدیث کہلانے والا اور محقق کہلانے والا خیر القرون کے ایک اعظیم شخصیت جنکی نسل پانچ واسطوں سے صحابی رسولﷺ ابن عوفؓ سے ملتی ہے اور انکے تلامذہ میں بڑے بڑے حفاظ الحدیث ہیں جو کہ خود بھی متقدمین میں سےہیں اورچونکہ انہوں نےامام معروف کرخی کی قبرکو حاجات کے لیے ازمودہ قرار دیا اور تلقین کی اس امر کی تو موصوف کے نزدیک یہ متاخر اور خیر القرون سے باہر ہو گئے یہ ہے انکی تحقیق کی حیثیت!!!

دوسرے امام ابو عبداللہ بن محالی انکا تعارف پیش خدمت ہے !
امام ابو عبداللہ الحسین بن اسماعیل الماحلی جنکا یہ قول ہے انکے بارے امام ذھبی فرماتے ہیں :

المحاملي الحسين بن إسماعيل بن محمد
القاضي الإمام العلامة المحدث الثقة مسند الوقت أبو عبد الله الحسين بن إسماعيل بن محمد بن إسماعيل بن سعيد بن أبان الضبي البغدادي المحاملي مصنف السنن

قاضی امام علامہ محدث ثقہ اپنے وقت کے مسند ابو عبداللہ المحاملی جو کہ کتاب السنن کے مصنف ہیں
انکے شیوخ میں جو امام ہیں ان میں سے مختصر کے نام یہ ہیں :
فسمع من أبي حذافة أحمد بن إسماعيل السهمي صاحب مالك،
من أبي الأشعث أحمد بن المقدام العجلي صاحب حماد بن زيد،
عمرو بن علي الفلاس،
محمد بن إسماعيل البخاري،
یعنی ایک واسطے سے یہ امام مالک اور امام حماد بن زید کے شاگرد بنتے ہیں اور امام الفلاس اور امام بخاری کے یہ تلامذہ میں سے ہیں

اور انکے تلامذہ میں درج ذیل محدثین ہیں:
حدث عنه: دعلج بن أحمد، والطبراني، والدارقطني، وأبو عبد الله بن جميع، وابن شاهين،
وإبراهيم بن عبد الله بن خرشيذ قوله، وابن الصلت الأهوازي، وأبو محمد بن البيع، وأبو عمر بن مهدي، وخلق.
[سیر اعلام النبلاء برقم ۱۱۰]

یعنی امام دارقطنی ، امام طبرانی ، امام ابن شاھین جیسے حفاظ جنکے شاگرد ہوں انکے بارے موصوف نے یہ کہہ کر جان چھڑائی ” متاخرین کا بے دلیل عمل دین کیسے بن سکتا ہے؟یہ عمل قرآن و سنت اور خیر القرون کے سلف صالحین کے خلاف ہے۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحقیق: اسد الطحای
Www.asadaltahawi.com