ظہیر امن پوری صاحب کی خیانتوں کا تحقیقی جائزہ
قسط سوم!
ظہیر امن پوری صاحب کی خیانتوں کا تحقیقی جائزہ!
ازقلم:اسدالطحاوی الحنفی
(ظہیر امن پوری صاحب)
دلیل نمبر 12 :
امام مالک رحمہ اللہ سے منقول ہے :
بَلَغَنِي عَنْ قَبْرِ أَبِي أَیُّوْبَ أَنَّ الرُّوْمَ یَسْتَصْحُوْنَ بِہٖ، وَیَسْتَسْقَوْنَ ۔
’’مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رومی سیدنا ابو ایوب انصاریt کی قبر کے وسیلے صحت اور بارش طلب کرتے ہیں۔‘‘
(الاستیعاب في معرفۃ الأصحاب لابن عبد البرّ : 1606/4)
تبصرہ :
امام مالک رحمہ اللہ نے صرف ایک خبر بیان کی ہے،اس کی تصدیق نہیں کی۔ان تک یہ بات پہنچانے والا شخص نا معلوم ہے،لہٰذا یہ قول ناقابلِ التفات ہے۔
■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■
(الجواب: اسد الطحاوی)
یعنی یہاں اب امام مالک ایک تیسرے درجہ کے محدث بن گئے ہیں جو ہر ایرے غیرے سے ہر قسم کی روایات سن کر ہر قسم کی باتیں بالجزم منسوب کرکے اپنے تلامذہ کو سنا دیتے تھے
اب یہاں موصوف منکر بن گئے کہ امام مالک روایات کو قبول کرنے کے حوالے کتنی تشدید برتتے تھے اور اپنے شیوخ کے حوالے سے کتنے متشدد اور احتیاط پسند تھے اور وہ روایات کو بیان کرنے میں بھی کتنی احتیاط کرتے تھے
دوسری اہم بات! امام مالک نے اس بات کو بیان کرکے اسکا رد نہیں کیا بلکہ وہ تو مجتہد مطلق تھے وہ تو اس بات کو اپنے تلامذہ کو ناصرف بیان کرتے بلکہ اسکا شدو مد سے رد کرتے جیسا کہ موصوف یہاں امام مالک سے مروی روایت کو رد کرنے بیٹھے ہوئے ہیں کیا بات ہے کہ امام مالک نے شرک کی تائید میں باتیں روایت کر دیتے تھے بلا نکیر!!!!
اور پھر یہ اندھی گھمانا کہ امام مالک نے خبر کی تصدیق نہیں کی جب انہوں نے رد نہیں کیا اور روایت بیان کی ہے تو یہ امر خود اس بات کا متقاضی ہے کہ امام مالک نے اس بات کو قبول کیا تبھی اسکو بلا نکیر روایت کیا ہے اور امام ابن عبدالبر نے امام مالک کے اس قول سے امام مالک کا موقف ہی یہی ثٖابت کیا تبھی تو اسکو اپنی تصنیف میں نقل کیا ہے انکے شاگرد امام ابن قاسم سے !!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ظہیر امن پوری صاحب)
دلیل نمبر 13:
امام ابن عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
وَقَبْرُ أَبِي أَیُّوْبَ قُرْبَ سُوْرِہَا، مَعْلُوْمٌ إِلَی الْیَوْمِ، مُعَظَّمٌ یَّسْتَسْقُوْنَ بِہٖ، فَیُسْقَوْنَ ۔
’’سیدنا ابو ایوب کی قبر(قسطنطنیہ)شہر کی فصیل کے قریب ہے۔آج تک وہیں موجود ہے۔ اس کی تعظیم کی جاتی ہے اور اس کے وسیلہ سے بارش طلب کی جائے، تو بارش برستی ہے۔‘‘
(الاستیعاب في معرفۃ الأصحاب : 426/2)
تبصرہ :
اس پر کوئی دلیل نہیں کہ بارش کی دُعا اس قبر کی برکت سے قبول ہوتی ہے۔اتفاقاً ایسے ہو جاتا ہے،اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ قبر کی وجہ سے یا صاحب قبر کے سبب دُعا قبول ہوتی ہے۔اگر ایسا ہوتا تو صحابہ کرام،تابعین اور تبع تابعین کو ضرور معلوم ہوتا اور وہ ضرور اس کے قائل و فاعل ہوتے۔
تنبیہ :
حافظ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
وَالدُّعَائُ مُسْتَجَابٌ عِنْد قُبُوْرِ الْـأَنْبِیَائِ وَالْـأَوْلِیَائِ، وَفِي سَائِرِ الْبِقَاعِ، لٰکِنْ سَبَبُ الْإِجَابَۃِ حُضُورُ الدَّاعِي، وَخُشُوعُہٗ، وَابْتِہَالُہٗ، وَبِلاَ رَیْبٍ فِي الْبُقْعَۃِ الْمُبَارَکَۃِ، وَفِي الْمَسْجَدِ، وَفِي السَّحَرِ، وَنَحْوِ ذٰلِکَ، یَتَحَصَّلُ ذٰلِکَ لِلدَّاعِي کَثِیْراً، وَکُلُّ مُضْطَرٍّ؛ فَدُعَاؤُہٗ مُجَابٌ ۔
’’انبیا، اولیا کی قبروں اور باقی تمام مقدس مقامات پر دُعا قبول ہو جاتی ہے،لیکن قبولیت ِدُعا کا سبب(قبور کا متبرک ہونا نہیں،بلکہ)دعا کرنے والے کا خشوع اور گریہ و زاری ہوتا ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مبارک مقامات، مسجد، سحری اور دیگر اوقات میں دعا کرنے والے کو بہت کچھ حاصل ہو جاتا ہے اور ہر پریشان حال کی دُعا قبول ہوجاتی ہے۔‘‘
(سیر أعلام النبلاء : 77/17)
یہ بے دلیل بات ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا،تو صحابہ کرام ضرور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر حاضر ہو کر دعائیں کرتے،تابعین، تبع تابعین اور خیر القرون کے مسلمان ایسا کرتے۔اگر وہ قبر نبی پر دُعا نہیں مانگتے تھے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قبورِ انبیا و اولیا پر دعا کے قبول ہونے پر کوئی دلیل شرعی نہیں،لہٰذا یہ ایک عالم کی اجتہادی خطا ہے جو ناقابل قبول ہے۔
عقائد و اعمال میں سلف صالحین پر اکتفا کرناچاہیے۔باقی جن اہل علم نے یہ لکھا ہے کہ فلاں کی قبر سے تبرک و توسل حاصل کیا جاتا ہے،تو یہ عام گمراہ یا جاہل عوام کی عادت کا ذکر ہے،جس پر کوئی دلیل نہیں،اگر بعض متاخرین اہل علم کا ایسا نظریہ ہو بھی، تو یہ حجت نہیں،کیونکہ یہ خیر القرون کے سلف صالحین کے مخالف ہے۔
■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■
(الجواب : اسد الطحاوی)
اب اس جواب پر سر پیٹا جا سکتا ہے کہ موصوف اتنا مجبور اور لاچار ہو چکا ہے کہ ایک بات کاپی پیسٹ مار رہا ہے کہ یہ اتفاقی طور سے ہو رہا ہے خدا کے بندے امام ابن عبدالبر متقدمین سے متواتر عمل کا ثبوت پیش کر رہے ہیں کہ یہ عمل ہو رہا ہے اور لوگوں کی دعائیں قبول ہو رہی ہے موصوف اندھی گھماتا ہے کہ یہ اتفاقی امر ہو سکتا ہے اور پھر انکے مقابل اپنا دو کوڑی کا قیاس کرنا سمجھ سے باہر ہے!
اور پھر امام ذھبی کےکلام میں تحریف کر دی اور بریکٹ میں اپنا زہر ملا دیا جبکہ امام ذھبی پر تفصیلی کلام پچھلی قسط میں ہم نے تفصیلی بیان کیا جس میں انہوں نے ابن تیمیہ کا شد و مد سے رد کیا ہے اس مسلے پر بلکہ ابن تیمیہ کی رائے کو بدعت اور خارجیت کی رائے قرار دیا ہے ۔۔۔۔۔
اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ امام ابن عبدالبر بھی اس موقف کے قائل تھے اور وہ بھی متقدمین میں شمار ہوتے ہیں جیساکہ امام خطیب ، امام بیھقی اور امام ابن عبد البر کا شمار متقدمین کے آخری ادوار کے محدثین میں ہوتا ہے ۔۔۔۔
مزے کی بات یہ ہے کہ موصوف خیر القررون اور متقدمین کے اقوال و اعمال کو یہ کہہ کر رد کر رہا ہے کہ انکا عمل متقدمین کے خلاف تھے اور خیر القرون کے سلف کے خلاف ہے بھھھھھ معلوم نہیں موصوف کے خیر القرون کے سلف کونسی غار میں چھپے ہوئے ہیں !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ظہیر امن پوری صاحب)
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
کُنَّا نَتَبَرَّکُ بِأَبِي الْفَتْحِ الْقوَّاسِ، وَہُوَ صَبِيٌّ ۔
’’ہم ابو فتح قواس سے برکت حاصل کیا کرتے تھے،حالانکہ ابھی وہ بچے تھے۔‘‘
(تاریخ بغداد للخطیب : 325/14، وسندہٗ صحیحٌ)
تبصرہ :
اس سے مراد ان سے دعا کی برکت حاصل کرنا ہے اور زندہ نیک شخص سے دعا کروائی جا سکتی ہے،اس سے کسی کوئی اختلاف نہیں۔
■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■
(الجواب : اسد الطحاوی)
یہاں ایک نکتہ پر موصوف نے غور نہیں کیا امام دارقطنی جیسا محدث فرما رہے ہیں کہ وہ ابھی بچہ تھا یعنی نا سمجھ پھر بھی ہم اس سے دعا کے زریعہ تبرک حاصل کرتے تھے اسکی کیا وجہ ہے ؟ ایک چھوٹے سا بچے سے کبیر محدثین دعا کروا رہے ہیں تو اسکی کیا وجہ ہے ؟
اسکی تفصیل اس قول سے سابقہ قول میں موجود تھی
جیسا کہ یہ روایت کچھ یوں ہے :
سمعت البرقاني والأزهري ذكرا أبا الفتح القواس.فقالا: كان من الأبدال وقال لنا الأزهري: كان أبو الفتح مجاب الدعوة.
كتب إلي أبو ذر عبد بن أحمد الهروي من مكة يذكر أنه سمع أبا الحسن الدارقطني يقول: كنا نتبرك بأبي الفتح القواس وهو صبي.
امام خطیب کہتے ہیں میں نے امام برقانی کو سنا جب امام الازھری نے ابو فتح القوا س کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا یہ ابدال میں سے ایک تھے اور امام الازھری نے کہ امام ابو فتح کے زریعہ دعائیں قبول ہوتی ہیں
اسکے بعد امام دارقطنی کی روایت آتی ہے یعنی اس سے یہ پتہ چلا کہ متقدمین اولیاء اللہ پر ابدال کا اطلاق کرتے تھے اور آج کل ان ابن تیمیہ مقلدین کے نزدیک ابدال و قطب لیس بشئ بدعات ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ظہیر امن پوری صاحب)
دلیل نمبر 17 :
امام ابن ابی عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَقَدْ رَأَیْتُ جَمَاعَۃً مِّنْ أَہْلِ الْعِلْمِ وَأَہْلِ الْفَضْلِ، إِذَا ہَمَّ أَحَدَہُمْ أَمْرٌ؛ قَصَدَ إِلٰی قَبْرِہٖ، فَسَلَّمَ عَلَیْہِ، وَدَعَا بِحَضْرَتِہٖ، وَکَانَ یَعْرِفُ الْإِجَابَۃَ، وَأَخْبَرَنَا مَشَایِخُنَا قَدِیمًا أَنَّہُمْ رَأَوْا مَنْ کَانَ قَبْلَہُمْ یَفْعَلُہٗ ۔
’’میں نے اہل علم و فضل کی ایک جماعت کو دیکھا کہ جب انہیں کسی پریشانی کا سامنا ہوتا، تو وہ ان(سیدنا طلحہ بن عبیداللہ)کی قبر پر جاکر سلام کرتے،اس جگہ دُعا مانگتے۔ وہ قبولیت ِدعا کو محسوس کرتے تھے۔ہمارے مشایخ نے یہ خبر دی کہ انہوں نے بھی اپنے سے پہلے لوگوں کو ایسے کرتے دیکھا ہے۔‘‘
(الآحاد والمثاني : 163/1)
تبصرہ :
یہ نا معلوم لوگوں کا عمل ہے،جسے دین نہیں بنایا جا سکتا۔جب صحابہ کرام اور تابعین عظام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر ایسا نہیں کرتے تھے،تو کسی اور کی قبر پر کیسے روا ہو گیا؟
الحاصل :
اولیا و صالحین کی قبروں سے تبرک حاصل کرنا ممنوع اور بدعت ہے،خیرالقرون میں قبروں سے تبرک حاصل کرنے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔یہ بعد والوں کی ایجاد ہے اور بعد والوں کی ایجاد دین نہیں بن سکتی۔
■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■
(الجواب : اسد الطحاوی )
حد ہے امام ابی عاصم جیسا امام تصریح کر رہاہے ” وَقَدْ رَأَیْتُ جَمَاعَۃً مِّنْ أَہْلِ الْعِلْمِ وَأَہْلِ الْفَضْلِ کہ میں نے اہل علم اور اہل فضل لوگوں کی جماعت کو دیکھا ہے ”
اس پر موصوف میاں کہانی شریف کروا رہا ہے کہ یہ نا معلوم لوگوں کا عمل ہے اصل میں وہابیہ کی قلت معرفت اور کم عقلی یہ ہے کہ یہ ہر بات کو حدیث کی شرط پر پرکھتے ہیں جبکہ ایک بندہ اپنا مشاہدہ بتا رہا ہے اسکے موقف کو کپڑے جھاڑتے ہوئے اڑا دیا
اس سے بڑی جہالت تو آگے موصوف نے یہ گھمائی کہتے ہوئے کہ ” اولیا و صالحین کی قبروں سے تبرک حاصل کرنا ممنوع اور بدعت ہے،خیرالقرون میں قبروں سے تبرک حاصل کرنے کی کوئی مثال نہیں ملتی”
جبکہ امام ابن ابی عاصم امام ابن ابی حاتم کے شیوخ میں سے ہیں اور یہ خود متقدمین میں کثیر الحدیث محدث الکبیر تھے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
اب آتے ہیں اسکے اس دعوے کی طرف کہ متقدمین میں سلف و صالحین سے اس مسلہ پر کچھ وارد نہیں ہے!
تابعی امام امحمد بن منکدرؓ سے کا نبی اکرمﷺ کی قبر مبارک سے رخسار مس کرکے شفاء حاصل کرنا او ران سے فریاد کرنا
محمد بن منکدر تابعی اور قبر نبی سے وسیلہ
“محمد بن منکدر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیٹھتے تو ان کو بہرے پن کا مرض لاحق ہو جاتا۔وہ وہاں سے اٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر اپنے رخسار رکھتے ، پھر واپس پلٹ آتے۔ اس فعل پر ملامت کی گئی ، تو انہوں نے کہا: جب مجھے مرض کا خطرہ محسوس ہوتا ہے، تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر جا کر فریاد کرتا ہوں۔ (تو مجھے شفاء ملتی ہے )
“
التاریخ الکبیر لابن ابی خیثمہ:258/2-259،ت؛2778، تاریخ دمشق لابن عساکر:50/56،
سیر اعلام النبلاء للذھبی358/5-359
یہ اثر ضعیف اور منکر ہے، کیونکہ اس کا راوی اسماعیل بن یعقوب تیمی مجروح راوی ہے۔
امام ابو حاتم رازیرحمہ اللہ اس راوی کے بارے میں فرماتے ہیں:
یہ ضعیف الحدیث راوی ہے۔
الجرح و التعدیل لا بن ابی حاتم: 204/2
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلی بات یہ ہے کہ مجہول نے اپنی طرف سے اس اثر پر منکر کا اطلاق کیا ہے جو کہ اسکی جہالت اور بد دیانتی ہے اور جس راوی پر اعتراض کیا ہے اس میں بھی بد دیانتی کی ہے
جہاں تک ہمارا خیال ہے اس پیج کے ایڈمن نے یہ کاپی پیسٹ محدث فورم سے ماری ہے تو محدث فورم پر اس اثر پر جو اعتراض ہے ہم اسکا بھی مکمل رد پیش کر دیتے ہیں
محدث فورم پر سنابلی یزیدی ھندی نے اس روایت پر فضول اعتراض کیا ہے جو کہ درج ذیل ہے :
امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
وقال مصعب بن عبد الله: حدثنا إسماعيل بن يعقوب التيمي، قال: كان محمد بن المنكدر يجلس مع أصحابه، وكان يصيبه صمات فكان يقوم كما هو حتى يضع خده على قبر النبي – صلى الله عليه وسلم -، ثم يرجع، فعوتب في ذلك فقال: إنه تصيبني خطرة فإذا وجدت ذلك استغثت بقبر النبي – صلى الله عليه وسلم -. وكان يأتي موضعا من المسجد يتمرغ فيه ويضطجع، فقيل له في ذلك، فقال: إني رأيت النبي – صلى الله عليه وسلم – في هذا الموضع.
إسماعيل: فيه لين.
[تاريخ الإسلام ت بشار 3/ 524]
امام ذہبی رحمہ اللہ اس روایت ذکر کرنے کے بعد خود ہی اسماعیل کو لین کہا ہے۔اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے جیساکہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اشارہ کیا کیونکہ اس کی سند میں موجود اسماعیل بن یعقوب یہ ضعیف ہے۔
امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
ضعيف الحديث
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 2/ 204]
ابن حبان کے علاوہ کسی نے بھی اس کی توثیق نہیں کی ہے۔ لہذا یہ راوی ضعیف ہی ہے ۔ اور اس کے سبب یہ روایت ضعیف ہے۔
یادرہے کہ یہ کوئی مرفوع حدیث یا صحابی کا اثر نہیں ہے بلکہ محمدبن المنکدر تابعی کی طرف یہ بات منسوب ہے اگر یہ ثابت بھی ہوجائے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
: اب ہم اسکا تحقیقی جائزہ پیش کرتے ہیں :
جیسا کہ اسکو امام خیثمہ نے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے درج ذیل سند کے ساتھ :
حَدَّثَنا مُصْعَب، قَالَ: حدثني إسماعيل بن يعقوب التَّيْمِيّ، قَالَ: كان مُحَمَّد بن الْمُنْكَدِر يجلس مع أصحابه فكان يصيبه الصمات فكان يقوم كما هو يضع خده على قبر النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثم يرجع فعوتب في ذلك فقال: إنه تصيبني خطره فإذ وجدتُ ذلك استغثت بقبر النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وكان يأتي موضعا في المسجد في الصحن فيتمرَّغ ويضطجع فقيل له في ذلك فقال: إني رأيت النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الموضع؛ قَالَ: أراه في النوم.
اور اس مذکورہ اثر میں جو اعتراض جڑا گیا ہے کہ اسمائیل بن یعقوب التمیمی ضعیف ہے
تو عرض ہے سنابلی یزیدی ھندی نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس پر ابو حاتم کی جرح ضعیف الحدیث کے علاوہ
امام ابن حبان نے اسکو ثقات میں درج کرتے ہوئے ثقہ قرار دیا ہے
جیسا کہ ابن حبان الثقات میں اسکے بارے لکھتے ہیں :
إِسْمَاعِيل بن يَعْقُوب التَّيْمِيّ يرْوى عَن بن أبي الزِّنَاد روى عَنهُ يَعْقُوب بن مُحَمَّد الزُّهْرِي
[الثقات برقم : ۱۲۳۹۵]
اب امام ابو حاتم بھی متشد د ہیں اور امام ابن حبان بھی تو جب تو متشدد ناقدین میں سے ایک امام توثیق کر رہا ہے تو اسکے مقابل ابو حاتم کا ضعیف الحدیث کی جرح کرنا مبھم ہے تو راوی ضعیف کیسے بن جائے گا ؟
اور ابن حبان پر یہاں یہ اعتراض بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ متساہل ہیں کیونکہ انکا تساہل مجہولین میں ہے نہ کہ معروف راویان میں بلکہ معروف راویان پر انکا فیصلہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ وہ معروف راویان پر تشدید سے کام لیتے تھے
تو یہاں سنابلی نے چکر بازی کرتے ہوئے امام ابن حبان کی طرف سے توثیق پر منفرد والا بہانہ لگا کر توثیق گو ل کر لیا ، جبکہ تفرد والا معاملہ مجہول رواتہ کا ثقات میں شامل کرنے پر ہوتا ہے نہ کہ معروف
اسکے بعد سنابلی نے امام ذھبی کے حوالے سے یہ پیش کیا کہ امام ذھبی نے اس اثر کو بیان کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اسماعیل لین یعنی کمزور ہے
اسکو نقل کرنے کے بعد ایک پھکی تیار کرتے ہوئے لکھتا ہے :
” امام ذہبی رحمہ اللہ اس روایت ذکر کرنے کے بعد خود ہی اسماعیل کو لین کہا ہے۔اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔”
عرض ہے کہ یا تو سنابلی یزیدی ھندی اصول جرح و تعدیل سے جاہل ہے یا اس روایت کو ضعیف ثابت کرنے کے لیے امام ذھبی پر یہ الزام لگایا کہ انہوں نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے
جبکہ امام ذھبی نے اس روایت کی تضعیف کا فیصلہ بالکل نہیں دیا بلکہ انہوں نے اسماعیل کے بارے فقط فیہ لین کہا یعنی اس میں کمزوری ہے نہ کہ مطلق اسکو ضعیف کہا ہے اور لین کا اطلاق امام ذھبی صدوق درجے کے راوی پر کرتے ہیں
کیونکہ صدوق راوی بھی تو حفظ کے اعتبار سے لین ہوتا ہے تبھی تو ثقہ درجے کا نہیں ہوتا ہے
امام ذھبی سے اس پر چند مثالیں درج ذیل ہیں:
ایک راوی : حجاج بن أرطاة
انکا ذکر میزان الاعتدال میں کرتے ہوئے امام ذھبی فرماتے ہیں :
حجاج بن أرطاة الفقيه، أبو أرطاة النخعي، أحد الأعلام على لين في حديثه.
حجاج بن ارطاء جو کہ فقیہ ہیں اعلام میں سے ایک ہیں لیکن حدیث میں لین (کمزور ) ہیں
پھر ان پر جرح اور توثیق نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
وهو صدوق يدلس.
کہ یہ صدوق ہے اور مدلس ہے
[میزان الاعتدال برقم : ۱۷۲۶]
اسی طرح امام ذھبی سیر اعلام میں اس راوی کے بارے کہتے ہیں :
وَكَانَ جَائِزَ الحَدِيْثِ، إِلاَّ أَنَّهُ صَاحِبُ إِرسَالٍ
کہ یہ جائز الحدیث ہے سوائے یہ کہ یہ ارسال کرتے تھے
وَكَانَ مِنْ بُحُوْرِ العِلْمِ، تُكُلِّمَ فِيْهِ لِبَأْوٍ فِيْهِ، وَلِتَدْلِيسِه، وَلِنَقصٍ قَلِيْلٍ فِي حِفْظِه، وَلَمْ يُتْرَكْ.
یہ علم کا سمندر تھے ان پر کلام کیا گیا ہے تدلیس کے سبب اور انکے حافظہ میں بہت کم نقص تھا لیکن (احتجاج میں ) ترک کرنے کے لائق نہیں
[سیر اعلام النبلاء برقم : ۲۷]
ایک جگہ لکھتے ہیں:
هذا حديث حسن اللفظ، لولا لين في محمد بن كثير المصيصي لصحح.
کہ یہ حدیث حسن ہے ان الفاظ سے اگر محمد بن کسیر میں کمزوری (لین ) نہ ہوتی تو یہ صحیح کے درجہ کی ہوتی
[سیر اعلام النبلاء جلد ۷ ، ص۱۳۴]
ایک اور راوی کے بارے فرماتے ہیں:
بهز بن حَكِيم بن مُعَاوِيَة الْقشيرِي صَدُوق فِيهِ لين وَحَدِيثه حسن
بھز بن حکیم یہ صدوق درجہ کا ہے اور اس میں کمزوری ہے اور اسکی حدیث حسن درجہ کی ہے
[المغنی فی ضعفاء برقم : 1007 ]
تو معلوم ہوا مام ذھبی کے نزدیک اسماعیل میں کمزوری تو ہے لیکن ضعیف اور لائق ترک نہیں بلکہ اس سے احتجاج کیا جائے گا اور ہ صدوق راوی ہے
یہی وجہ ہے کہ امام ذھبی نے اس واقعہ کو بغیر نکیر کے سیر اعلام میں درج کیا ہے جیسا کہ سیر اعلام میں اسکو نقل کرتے ہیں :
قال مصعب بن عبد الله: حدثني إسماعيل بن يعقوب التيمي، قال:
كان ابن المنكدر يجلس مع أصحابه، فكان يصيبه صمات، فكان يقوم كما هو حتى يضع خده على قبر النبي -صلى الله عليه وسلم- ثم يرجع.
فعوتب في ذلك، فقال: إنه يصيبني خطر، فإذا وجدت ذلك، استعنت بقبر النبي -صلى الله عليه وسلم-
[سیر اعلام النبلاء برقم : ۱۶۳]
اور حاشیہ میں علامہ شعیب نے اس قصہ کو ضعیف ابو حاتم کی جرح سے قرار دیا ہے جبکہ انہوں نے بھی ابن حبان سے توثیق کا ذکر نہیں کیا ہو سکتا ہے علامہ شعیب کے علم میں ابن حبان کی توثیق نہ ہو ورنہ وہ امام ابن حبان سے توثیق کو نظر انداز نہ کرتے جیسا کہ انکا خود کا موقف امام ابن حبان کے بارے درج ذیل ہے جو انہوں نےصحیح ابن حبان کے مقدمہ میں درج کیا ہے
وقد اشار الائمة الی تشدده و نعنته فی الجرح
کہ ائمہ نے (ابن حبان ) کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ جرح کرنے مین متشدد و متعنت تھے
[الاحسان فی تقریب صحیح ابن حبان ، ص ۴]
نیز امام محدث قاسم بن قطلوبغہ نے بھی اس راوی کو ثقات میں درج کیا ہے کیونکہ ابو حاتم کی جرح مبھم ہے انکے متعنت ہونے کے ساتھ
إسماعيل بن يعقوب التيمي
[الثقات ممن لم يقع في الكتب الستة، برقم: 1673]
تو انکے منہج پر بھی اسماعیل صدوق راوی ثابت ہوتا ہے
یہی وجہ ہے کہ سنابلی ہندی کو معلوم تھا کہ اس اثر کی سند میں کوئی ایسا ضعف نہیں جیسا کہ اس روایت کا مطلق رد کیا جا سکے تو آخر میں یہ لکھتا ہے :
”یادرہے کہ یہ کوئی مرفوع حدیث یا صحابی کا اثر نہیں ہے بلکہ محمدبن المنکدر تابعی کی طرف یہ بات منسوب ہے اگر یہ ثابت بھی ہوجائے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے”
میسنی بلی بن کر وابی لوگوں کا آخری حربہ یہی ہوتا ہے کہ جسی مجتہد ، امام ، تابعی کے درجے کے بندے سے بھی ایسا عمل مل جائے جو وابیوں کے نزدیک شرک ہو تو کہتے ہیں چونکہ صحیح حدیث نہیں یا اثر صحابی نہیں (بقول انکے ) تو اسکی کوئی حیثیت نہین
جب ایک مسلے کے رد میں حدیث یا اثر صحابی نہیں تو ایک تابعی کا عمل آگیا تو وہ عمل بدعت ، یا شرک کیسے ہو گیا پھر ؟ پھر اپنے آپ کو سلفی کہلوانے کی بجائے کلفی کہلوایا کریں یہی وابی رفع الیدین ثابت کرنے کے لیے تابعین کو دکھا دکھا کر ایک ٹانگ پر ناچتے ہین
جب کسی تابعی سے ایسا عمل ثابت ہو جائے جو انکے نزدیک گمراہی اور بدعت ہے تو کپڑے جھاڑ دیتے ہیں اس کی کوئی حیثیت نہیں یہ یہود کے پکے چیلے ہیں
خیر یہ اثر ثابت ہے اور اسکی سند حسن ہے
■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■
امام بخاری علیہ رحمہ کی قبر سے کستوری کی خوشبو آنا مذکورہ روایت کی سند پر جناب عامر بن عبدالقيوم الأثري کی طرف سے وارد اعتراضات کا تحقیقی جائزہ
تمہید:
ہم کو معلوم نہیں کہ سلفیہ حضرات کیوں ائمہ کے بارے ایسے مشہور واقعات جنکو محدثین و مورخین اور ائمہ سلف نے قبول کیا ہے اور ایسے واقعات کو بطور فضائل اپنی کتب میں جگہ دی اور ان پر کوئی اعتراض وارد نہیں کیے اور سلف سلف کی رٹ لگانے والے کیوں اپنی نفس پرستی میں پھر سلف کے منہج کے باغی ہو جاتے ہیں اور فضائل پر مبنی روایات پر حدیث کے رجال جیسی کڑی شرائط لگا کر اسکا رد کرنے بیٹھ جاتے ہیں جبکہ ائمہ سلف کا منہج یہ ہے کہ جب تک اسناد میں کوئی کذاب یا متروک درجہ کا راوی نہ ہو تو اسکو فضائل میں ائمہ قبول کرتے ہیں اور یہ حسن ظن کی بات ہے اسکو رد کوئی کرتا ہے تووہ ذاتی طور پر کر سکتا ہے لیکن پھر اس کو منہج بنا کر سلف کی طرف منسوب کرنا یہ غلط با ت ہے ۔ اور سلفیہ کی عمومی یہ کوشش رہتی ہے کہ لوگوں کو سلف کی کرامات اور فضائل سے دور رکھا جائے تاکہ یہ اسلام کی روحانیت کی طرف نہ جائیں اور علم باطن اور مرتبہ اولیاء اللہ کی کرامات سے لوگوں کو متنفر کیا جائے کہ ایسی کوئی باتوں کا اسلام میں تصور نہیں بس اسلام فقط فروع اور عقائد کی تشریحات تک محدود ہے باقی کوئی علم ایسا نہیں وغیرہ وغیرہ !!
خیرایک موصوف کی تحریر پر ہم مطلع ہوئے ہیں جس میں انہوں نے زور لگا کر یہ ثابت کیا ہے کہ ایک واقعہ جسکو امام ذھبی ، امام ابن حجر عسقلانی و امام سبکی نے نقل کیا ہےلیکن یہ مشہور ہونے کے باوجود ثابت نہیں اور انکی تحریر جب پڑھی تو اتنی سطحی قسم کی تھی کہ مجھ جیسا ناچیز جس نے مدرسہ کا منہ نہیں دیکھا اور علم رجال کا بنیادی ٹوٹا پھوٹا علم رکھنے والا ہےذاتی مطالعہ کے سبب ، میں انکی انکی تحریر کے واضح نقائص پر مطلع ہو گیا ایک بار پڑھتےاور مجھے حیرانگی یہ ہےکہ موصوف نے اپنی تحریر پر نظرثانی کے حوالے سے اپنے کسی شیخ بنام ” حافظ ندیم ظہیر”کا حوالہ بھی دیااور موصوف کے شیخ نے بھی ان صاحب کی ایک سطحی تحریر کو جامع و صحیح قرار دے دیا جس سےمعلوم ہوتا ہے کہ جماعت غیر مقلدین کےنزدیک علم جرح و تعدیل اب یتیم ہونے کے در پر آپہنچا ہے ۔ اگر یہ اس طرح نفس پرستی میں روایات کو غیر ضروری اعتراضات کرکر کے رد کرتے رہینگے تو اہل علم ان سے ضرور متنفر ہونگے اور اس میں انکا اپنا ہی نقصان ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خیر اب موصوف کی تحریر کی طرف آتے ہیں ہم من و عن موصوف کی مکمل تحریر نقل کرکے پھر اسکا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں
چناچہ موصوف لکھتے ہیں :
کیا امام المحدثین والفقہاء محمد بن اسماعیل البخاري رحمه اللّٰه کی قبر کی مٹی سے کستوری کی خوشبو آتی تھی؟
تحقیق : عامر بن عبدالقيوم الأثري
تصحیح ونظرثانی: حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ
بسم اللّٰه الرحمن الرحيم
امام بخاری رحمہ اللّٰه کی قبر کی مٹی سے کستوری کی خوشبو آنے کا واقعہ مشہور اور زبان زدِ عام ہے۔
آج ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا واقعی یہ قصّہ ثابت اور درست ہے۔
امام ذہبی رحمہ اللّٰه اس قصے کو کچھ اس طرح نقل کرتے ہیں:
وقال محمد بن أبي حاتم، سمعت أبا منصور غالب بن جبريل، وهو الذي نزل عليه أبو عبد اللّٰه يقول: “۔۔۔۔۔۔۔ فلما دفناه فاح من تراب قبره رائحة غالية أطيب من المسك، فدام ذلك أياما، ثم علت سواري بيض في السماء مستطيلة بحذاء قبره، فجعل الناس يختلفون ويتعجبون، وأما التراب فإنهم كانوا يرفعون عن القبر حتى ظهر القبر، ولم نكن نقدر على حفظ القبر بالحراس، وغلبنا على أنفسنا، فنصبنا على القبر خشبا مشبكا، لم يكن أحد يقدر على الوصول إلى القبر، فكانوا يرفعون ما حول القبر من التراب، ولم يكونوا يخلصون إلى القبر، وأما ريح الطيب فإنه تداوم أياما كثيرة حتى تحدث أهل البلدة، وتعجبوا من ذلك، وظهر عند مخالفيه أمره بعد وفاته، وخرج بعض مخالفيه إلى قبره، وأظهروا التوبة والندامة۔۔۔۔۔۔ “
محمد بن أبی حاتم وراق کہتے ہیں کہ میں نے أبو منصور غالب بن جبریل کو کہتے ہوئے سنا: جب ہم نے امام بخاری رحمہ اللّٰه کو دفن کیا تو ان کی قبر کی مٹی سے ایسی تیز خوشبو جو مسک سے بھی بہتر تھی آنے لگی اور کئی دنوں تک یہ خوشبو آتی رہی۔ دور دراز کے علاقوں سے لوگ قبر پر آتے اور مٹی بطورِ تبرک لے جاتے۔ حالت یہاں تک آپہنچی کہ قبر ظاہر ہونے لگی۔ آخرکار امام بخاری رحمہ اللّٰه کی قبر کو لکڑی کے جال سے گھیرا گیا تاکہ کوئی قبر تک نہ پہنچ سکے اور قبر کی مٹی محفوظ رہے۔ (خلاصہ)
[سير أعلامالنبلاء: 12/467، ط: مؤسسة الرسالة]
یہ قصہ درج ذیل کتابوں میں بھی موجود ہے:
[تغليق التعليق:(5/141)، طبقات السبكي: (2/233)، مقدمة فتح الباري: (493)، الوافي بالوفيات: (2/208) وغيرها]
یہ قصہ اگرچہ مشہور ہے لیکن قابلِ اعتماد سند سے ثابت نہیں۔
وجہ ضعف:
1. اس قصے کا راوی محمد بن أبی حاتم الوراق کی توثیق کسی سے ثابت نہیں۔
2. اسی طرح غالب بن جبریل کی توثیق بھی کسی معتبر محدث سے ثابت نہیں۔
محدِّث العصر زبير علي زئي رحمہ اللّٰه کے بقول امام ذہبی رحمہ اللّٰه سے لیکر محمد بن أبی حاتم تک سند بھی نا معلوم ہے۔ [مقالات: 3/580 ]
تنبیہ: واضح رہے کہ امام بخاری رحمه اللّٰه کی عظمت و جلالت خود ساختہ قصوں کی محتاج نہیں، ان کی شان و مقام کسی صاحب علم سے مخفی نہیں، اور یہ بھی یاد رہے کہ اہل حدیث اصولوں کے پابند ہیں اگر اپنے حق میں موجود روایت بھی اصول کے مطابق غیر ثابت ہو گی تو اسے رد کر دیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب (اسد الطحاوی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موصوف کی تنبیہ پر ہم آخر میں آئیں گے پہلے انکے بنیادی اعتراضات کا جواب پیش خدمت ہے
کیا محمد بن ابی حاتم وراق مجہول راوی ہے ؟
موصوف کے اس اعتراض کا اندازہ ا س بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ موصوف نے اسکو مجہول قرار دے دیا ایک سطر میں جبکہ یہ امام بخاری کے مشہور کتابین میں سے ایک تھا اور یہ امام بخاری کے ساتھ مدت تک رہے ہیں ائمہ نے انکی مروایات کو قبول کیا ہے حدیث کی علل کے باب میں ، مناقب امام بخاری کا ۸۰فیصد حصہ انہی سے روایت ہے ۔
محدث امام ابن حجر عسقلانی علیہ رحمہ کا محمد بن ابی حاتم وراق کے بارے موقف اور انکی مروایات سے احتجاج کا ثبوت:
چناچہ آپ فتح الباری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں :
قال الفربري سمعت أبا جعفر محمد بن أبي حاتم وراق أبي عبد الله يقول قال أبو عبد الله عن إبراهيم مرسل وعن الضحاك المشرقي مسند ثبت هذا عند أبي ذر عن شيوخه والمراد أن رواية إبراهيم النخعي عن أبي سعيد منقطعة ورواية الضحاك عنه متصلة وأبو عبد الله المذكور هو البخاري المصنف
۔ امام فربری کہتے ہیں میں نے امام ابو جعفر محمد بن ابی حاتم وراق ابو عبداللہ کو کہتے سنا ۔ کہ امام ابو عبداللہ بخاری کہتے ہیں امام ابراہیم کی روایت مرسل ہے (ابی سعید خدری)سے اور ضحاک مشرقی کی متصل اور ثبت ہے ابی زر کے نزدیک ، انکی مراد ہے کہ کہ ابراہیم نخعی جو روایت ابی سعید سے بیان کرتے ہیں وہ منقطع ہے اور جو ضحاک ان (ابی سعید) سے روایت کرتا ہے وہ متصل ہے اور ابو عبداللہ نام جو مذکورہ ہے اس سے مراد مصنف بخاری یعنی محمد بن اسماعیل ہیں
اسکو نقل کرنے کے بعد امام ابن حجرفرماتے ہیں :
وكأن الفربري ما سمع هذا الكلام منه فحمله عن أبي جعفر عنه وأبو جعفر كان يورق للبخاري أي ينسخ له وكان من الملازمين له والعارفين به والمكثرين عنه
امام فربری نے یہ کلام (امام بخاری) سے سماع نہیں تھا بلکہ وہ امام ابو جعفر کے طریق سے لائے ہیں اور ابو جعفر یہ وراق ہے جو یہ امام بخاری کے لیے اوراق لکھتا تھا یعنی انکے لیے نقل کرتا تھا ، یہ امام بخاری کی صحبت میں رہے انکے (منہج واسلوب)کو جاننے والوں میں سے تھے ، اور ان سے بہت زیادہ روایت کرنے والوں میں سے تھے ۔
[فتح الباری شرح صحیح بخاری ، ج۹،ص ۶۰]
اور یہی وجہ ہے کہ امام بخاری اپنی صحیح میں حضرت ابو سعید سے حضرت ابراہیم النخعی کے طریق کو منفرد نہیں لیا بلکہ انکے ساتھ امام ضحاک کو متابع کے طور پر لائے
جیسا کہ صحیح بخاری میں انکی سند یوں ہے :
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا أبي، حدثنا الأعمش، حدثنا إبراهيم، والضحاك المشرقي، عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم لأصحابه۔۔۔الخ
[صحیح البخاری ، برقم:۵۰۱۵]
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابو جعفر و ابو عبداللہ محمد بن ابی حاتم امام بخاری سے علل کے اقوال نقل کیے ہیں اور امام ابن حجر نے انکے اقوال کو ناصر ف قبول کیا ہے بلکہ ان سے احتجاج بھی کیا ہے اور امام ابو جعفر سے امام بخاری کے کثیر مناقب بھی نقل کیے ہیں جن میں سے ایک مذکورہ واقعہ بھی ہے اور امام بخاری سے متعدد مقامات پر علل کے باب میں امام ابن حجر نے امام فربری کے طریق سے امام محمد بن ابی حاتم کے بیان کردہ اقوال کو قبول کیا ہے ہم نے بطور مثال ایک اوپر پیش کردی۔
نیز امام ابن حجر عسقلانی کی امام محمد بن ابی حاتم وراق تک سند متصل موجود تھی جسکو انہوں نے ایک بار بیان کرکے تصریح دے دی تھی اسکے بعد وہ ڈریکٹ امام محمد بن ابی حاتم سے روایت کرتے تھے
جیسا کہ امام ابن حجر تغلیق میں امام محمد بن ابی حاتم تک اپنی متصل سند کی تصریح کرتے ہیں :
قال وراق البخاري فيما أنبأنا عبد الله بن محمد المكي إذنا مشافهة عن كتاب سليمان بن حمزة عن عبد العزيز بن باقا عن طاهر بن محمد بن طاهر عن أحمد ابن علي بن خلف أنا أبو طاهر أحمد بن عبد الله بن مهرويه أنا أحمد بن عبد الله ابن محمد بن يوسف أنا جدي أبو عبد الله محمد بن يوسف الفربري أنا أبو جعفر محمد بن أبي حاتم وراق البخاري قلت وكل ما أسوقه عن وراق البخاري فبهذا الإسناد
۔امام وراق بخاری کہتے ہیں جسکی مجھے خبر نے عبداللہ بن محمد مکی نے وہ کتاب سے سلیمان بن حمزہ سے وہ عبد العزیز سے ،وہ طاھر بن محمد سے وہ احمد بن علی سے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ابو طاہر نے ، وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی احمد بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی میرے دادا امام فربری نے وہ کہتے ہیں مجھے بیان کیا ابو جعفروراق نے ۔
میں (ابن حجر ) کہتا ہوں کہ سب کچھ جو میں نے امام وراق سے روایت کیا اسکی سند یہی (ایک )طریق سے مروی ہے
[تغليق التعليق ج۵،ص۳۶۵]
اس سے یہ ثابت ہوا کہ امام ابن حجر عسقلانی نے جو یہ واقعہ بیان کیا تغلیق میں وہ متصل الاسناد ہے اور امام ابن حجر عسقلانی کی سند کی تحقیق کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ انکے پاس امام محمد بن ابی حاتم کی کتاب تھی جو انہوں نے مناقب امام بخاری پر لکھی تھی
جیسا کہ امام سمعانی اپنے شیخ کے ترجمہ میں کہتے ہیں :
كتبت عنه بنيسابور، ومن جملة ما كتبت عنه كتاب البيتوتة الصغيرة لأبي العباس السراج، بروايته عن ابن المحب، عن الخفاف، عنه.
وكتاب مناقب محمد بن إسماعيل البخاري من جمع محمد بن أبي حاتم البخاري، بروايته عن ابن خلف الشيرازي، عن أبي طاهر ابن مهرويه، عن أبي محمد أحمد بن عبد الله بن محمد بن يوسف الفربري، عن جده، عنه، وغير ذلك.
۔میں نے ان سے نیسابور میں لکھا ہے ، وہ کتب جو میں نے ان سے نقل کی ہیں ایک کتاب بیتویہ صغیر جو ابو عباس سراج کی ہے جسکو یہ ابن محلب سے خفاف سے روایت کرتا ہے ۔
اور دوسری کتاب مناقب محمد بن اسماعیل ہے جسکو جمع کیا امام محمد بن ابی حاتم بخاری نے ۔ جو یہ روایت کرتے ہیں ابن خلف کے طریق سے ان تک۔۔۔
[المنتخب من معجم شيوخ السمعاني،ص۱۲۶۹]
اور امام ابو جعفر کے بارے امام ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں:
ووراقة الإمام الجليل أبو عبد الله محمد بن أبي حاتم الوراق وهو الناسخ وكان ملازمه سفرا وحضرا فكتب كتبه
اور وراق یہ جلیل القدر امام ابو عبداللہ محمد بن ابی حاتم وراق ہیں وہ ناسخ تھے جنہوں نے امام بخاری کی صحبت انکے ساتھ سفر میں موجود رہے اور ان(امام بخاری) سے کتب لکھ لیں ۔
[تغلیق التعلیق ، ج۵،ص۴۳۷]
یہان تک یہ ثابت ہو گیا کہ امام ابو جعفر وراق کوئی مجہول شخصیت نہیں بلکہ امام فربری جو امام بخاری کےصحیح کے راوی ہیں انہوں نے بھی بعض علل کی ابحاث امام بخاری سے خود نہیں سنی تھیں بلکہ انہوں نے امام ابو جعفر وراق پر اعتماد کیا اور چونکہ امام ابو جعفر وراق امام بخاری کی صحبت میں مستقل رہے اور سفر میں انکے ساتھ رہے نیز چونکہ وہ کاتب اور لکھنےوالے تھے تو انہوں نے امام بخاری کی تمام کتب کو لکھ لیا جس سے انکے حفظ و ضبط کی دلیل ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ یہ تمام چیزیں لکھتے تھے امام بخاری سے نیز ایسے راوی کی فقط عدالت کا ثبوت چاہیے ہوتا ہے اور عدالت کا ثبوت ہم اوپر پیش کرچکے امام ابن حجر انکو جلیل القدر امام کہتے ہیں
یہاں تک امام ابو جعفر وراق کو مجہول کہنے کا جواب مکمل ہوا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چونکہ امام ذھبی نے بھی یہ روایت سیر اعلام میں نقل کی ہے جس پر موصوف نے اپنے شیخ زبیر زئی کی ناقص تحقیق کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
محدِّث العصر زبير علي زئي رحمہ اللّٰه کے بقول امام ذہبی رحمہ اللّٰه سے لیکر محمد بن أبی حاتم تک سند بھی نا معلوم ہے۔ [مقالات: 3/580 ]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب :
موصوف نے اپنے محدث العصر کی بات لکھ کر اسکی جامد تقلید کر لی اور خود تحقیق کرنے کی زحمت نہیں کی یہ بات موصوف کے شیخ کی بالکل باطل اور کم علمی کی بنیاد پر مبنی ہے
کیونکہ ہم نے اوپر ثابت کیا ہے کہ امام سمعانی نے تصریح کی ہے کہ انہوں نے اپنی متصل سند سے مذکورہ کتاب کو بیان کیا ہے جو امام ابو جعفر محمد بن ابی حاتم نے لکھی تھی مناقب امام بخاری کے باب میں
اسکی تصریح امام ذھبی نے بھی اپنی سند سے ذکر کی ہے چناچہ وہ لکھتےہیں :
قاله أبو جعفر محمد بن أبي حاتم البخاري، وراق أبي عبد الله في كتاب (شمائل البخاري) ، جمعه، وهو جزء ضخم.
۔ امام ابو جعفر محمد بن ابی حاتم بخاری وراق نے اپنی کتاب شمائل بخاری میں اسکو بیان کیا ہے جسکو جمع کیا ہے جو کہ ضخیم حصہ پر مشتمل ہے
اسکے بعد امام ذھبی اسکی متصل سند بھی بیان کرتے ہیں اس کتاب جو کہ انہوں نے سماع کی تھی
أنبأني به أحمد بن أبي الخير، عن محمد بن إسماعيل الطرسوسي، أن محمد بن طاهر الحافظ أجاز له، قال: أخبرنا أحمد بن علي بن خلف، أخبرنا أبو طاهر أحمد بن عبد الله بن مهرويه الفارسي المؤدب، قدم علينا من مرو لزيارة أبي عبد الله السلمي، أخبرنا أبو محمد أحمد بن عبد الله بن محمد بن يوسف بن مطر الفربري، حدثنا جدي، قال: سمعت محمد بن أبي حاتم
اسکی متصل سند کو بیان کرنے کےبعد امام ذھبی کہتے ہیں :
، فذكر الكتاب فما أنقله عنه، فبهذا السند.
اس کتاب میں ذکر کیا ہے جو کچھ میں نے ان (ابو جعفر وراق)سے نقل کیا ہے وہ سب اسی سند سے مروی ہے
[سیر اعلام النبلاء ، ج۱۲،ص۳۹۲]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موصوف کا دوسرا اعتراض تھا : غالب بن جبریل کی توثیق بھی کسی معتبر محدث سے ثابت نہیں
تو عرض ہے :
غالب بن جبریل امام ابو جعفر وراق کے شیوخ میں سے ہیں اور یہ امام بخاری کے ہم عصر اہل علم شخصیات میں سے تھے اور امام بخاری سے قبر سے خوشبو آنے کے واقعہ کے یہ عینی شاہد گواہ تھے اور اس واقعہ کے بعد انہوں نے یہ وصیحت کی تھی کہ انکی قبر بھی امام بخاری کی قبر کے ساتھ ہو اور انکو وہی دفن کیا جائے چناچہ انکو بھی امام بخاری کے ساتھ دفن کیا گیا جس سے پتہ چلتا ہے یہ دین دار اور معروف شخصیت تھے
جیسا کہ امام خطیب بغدادی اپنے شیخ ناقد سے نقل کرتے ہیں :
والآخر غالب بن جبريل
وأخبرني الأزهري قال قال لنا أبو سعيد الإدريسي غالب بن جبريل الخرتنكي السمرقندي شيخ آخر كنيته أبو منصور نزل عليه محمد بن إسماعيل البخاري ومات عنده وتولى أسباب دفنه حكى ذلك عنه أبو جعفر محمد بن أبي حاتم وراق محمد بن إسماعيل قال الإدريسي لا أعلم له حديثا مسندا يقال إنه كان من أهل العلم تحكى عنه حكايات وفضائل لمحمد بن إسماعيل ذكر لي أن غالب بن جبريل هذا مات بعد البخاري بقليل وأوصى أن يدفن إلى جنبه.
امام خطیب کہتے ہیں مجھے میرے شیخ امام ازھری نے خبر دی وہ کہتے ہیں مجھے ابو سعید الادریسی نے کہا : غالب بن جبریل خرتنکی سمرقندی شیخ ہیں جنکی کنیت ابو منصور ہیں جب امام بخاری وہاں پہنچے اور انکی وفات وہیں (خرتنک) میں ہوئی تو انہوں نے انکو دفنانے کا سدباب کیا ، اور ان سے امام ابو جعفر ابن ابی حاتم وراق یہ واقعہ بیان کرتے ہیں ۔ اور کہا کہ ادریسی کے بارے حدیث و مسند کے بارے میں نہیں جانتا اور کہا کہ یہ (غالب بن جبریل) اہل علم لوگوں میں سے ایک تھے ، اور یہ امام بخاری کے فضائل میں حکایت (قبر سے خوشبوں والی)بیان کرتے ہیں ۔ اور مجھ سے غالب بن جبریل نے یہ بات بیان کی ۔ اور یہ امام بخاری کی وفات کے تھوڑے عرصے بعد فوت ہوگئے اور اپنے بارے وصیحت کی کہ انکو امام بخاری کے جانب دفنایا جائے۔
[المتفق والمفترق، برقم:۱۱۴۶]
اس سے معلوم ہوا کہ امام بخاری کی قبر سے کستوری کی خوشبو والی روایت کے جنکے سامنے یہ کرامت واقع ہوئی ا نکی عدالت بھی ثابت ہے یہ اپنے زمانے کے معروف اہل علم لوگوں میں سے ایک تھے اور یہ آگے کسی سے روایت نہیں بیان کر رہے جو انکے ضبط کی دلیل ہونی چاہیے بلکہ یہ خود عینی شاہد ہیں اسکے لیے انکی عدالت ثابت ہونا لازم ہے جو کہ ہم نے اوپر ثابت کر دی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خلاصہ تحقیق:
امام بخاری سے یہ واقعہ بااعتبار رجال سے مروی ہے
اور امام ابو جعفر محمد بن ابی حاتم امام بخاری کے خاص تلامذہ میں سے تھے اور انکی مرویات کو سب سے زیادہ جاننے والے اور لکھنے والے تھے یہاں تک کہ امام فربری نے بھی بہت سی مرویات انکے طریق سے امام بخاری نے بیان کی ہیں
اور امام ابن حجر کے پاس امام محمد بن ابی حاتم کی کتاب تھی اور ایسے ہی امام ذھبی کے پاس یہ کتاب تھی جسکا نام شمائل بخاری تھا جسکو بقول امام سمعانی کے امام ابو جعفر نے جمع کیا انکی حکایات کو ۔
اور وہ چونکہ ناسخ و کاتب تھے تو انکی عدالت کی ضرورت ہے ضبط کی نہیں لیکن اسکے باوجود امام ابن حجر و دیگر حفاظ نے انکی مروایات کو قبول کیا ہے اور احتجاج کیا ہے
نیز اس روایت کے مرکزی راوی خود اہل علم لوگوں میں سے تھے اور عینی شاہد ہیں اس کرامت کے اور اس واقعہ کے بعد انہوں نے خود کو بھی وہیں دفن کرنے کی وصیحت کی تھی ۔
حد ہے جنکا شیخ امام بخاری کی جز رفع الیدین کو امام بخاری کے ایک مجہول شاگرد محمود بن اسحاق سے قبول کرتا ہے جسکی تفصیل اتنی بھی ہیں جتنی اس راوی کی ہے اور نہ ہی اسکی کوئی صریح اور نہ ہی ضمنی توثیق مروی ہے جسکا دعویٰ ہو کہ انکے شیخ زبیر زئی نے معتبر اصول پر محمود بن اسحاق کی توثیق ضمنی ثابت کی ہے تو جب کوئی یہ دلیل دیگا تو اسکا پوسٹ مارٹم بھی پیش کر دونگا کہ انکے شیخ نے کس طرح اپنے اندھے بھکتوں کو بیوقوف بنایا
ایک مجہولیے سے پوری کتاب تسلیم کر لیتے ہیں اور دوسری طرف اس سے بہتر راوی سے ایک کرامت مروی ہو جائے تو رد
جاری ہے۔۔۔۔
اسدالطحاوی ✍
http://www.asadaltahawi.com