کتاب الغسل باب 17 حدیث 275
۱۷ – بَابُ إِذَا ذَكَرَ فِي الْمَسْجِدِ انَّهُ جُنبٌ يَخْرُجُ كَمَا هُوَ وَلَا يَتَيَمَّمُ
جب کسی شخص کو مسجد میں یاد آئے کہ وہ جنبی ہے تو وہ اسی حالت میں مسجد سے نکل جائے اور تیمم نہ کرے
اس حدیث کی باب سابق کے ساتھ یہ مناسبت ہے کہ یہ دونوں باب جنبی کے احکام سے متعلق ہیں۔
٢٧٥- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَقِيِّمَتِ الصَّلوةُ وَعْدِلَتِ الصُّفُوفَ قِيَامًا ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ جُنبٌ ، فَقَالَ لَنَا مَكَانَكُمْ ، ثُمَّ رَجَعَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا وَرَاسُهُ يَقْطُرُ ، فَصَلَّيْنَا مَعَهُ تَابَعَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِي . وَرَوَاهُ الْاَوْزَاعِيُّ، عن الزهری۔ ( اطراف الحدیث: 639- 640)
صحیح مسلم : 605، الرقم المسلسل : ۱۳۴۲ سنن ابودار :541،345 ، سنن نسائی : ۷۹۲
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبد اللہ بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عثمان بن عمر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یونس نے خبر دی از الزہری از ابوسلمہ از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ نماز قائم کی گئی اور لوگ کھڑے ہوئے صفیں برابر کی گئیں، پس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکل کر آئے، پس جب آپ اپنے مصلی پر کھڑے ہوئے تو آپ کو یاد آیا کہ آپ جنبی ہیں، آپ نے فرمایا: تم لوگ اسی طرح کھڑے رہو پھر آپ گئے، پس آپ نے غسل کیا، پھر ہماری طرف نکل کر آئے، اس حال میں کہ آپ کے سرسے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے پس ہم نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔ عثمان بن علی کی عبد الاعلیٰ نے متابعت کی ہے از معمر بن راشد از محمد بن مسلم ازہری اور اس حدیث کو عبد الرحمان الاوزاعی نے محمد بن مسلم الزہری سے روایت کیا ہے۔
اس حدیث کے چھ ر جال ہیں اور ان کا تعارف ہو چکا ہے۔
اقامت کے بعد تکبیر تحریمہ پڑھنے اور نمازیوں کے کھڑے ہونے میں مذاہب اور جنبی کے مسجد میں داخل ہونے میں مذاہب اور علامہ ابن بطال کا امام ابوحنیفہ پر اعتراض
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
اس حدیث میں صفوں کو برابر رکھنے کا حکم ہے اور وہ بالا جماع مستحب ہے۔
اس حدیث میں مذکور ہے کہ نمازیوں نے کھڑے ہوکر صفیں برابر کرلیں، پھر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر آئے، اس پر یہ اعتراض ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : تم اس وقت تک نہ کھڑے ہو جب تک کہ تم مجھے نہ دیکھو تو اس موقع پر صحابہ آپ کو دیکھنے سے پہلے کس طرح کھڑے ہوگئے تھے ! اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا ایک مرتبہ یا دو مرتبہ بیان جواز کے لیے ہوا تھا یا کسی عذر کی وجہ سے یا آپ نے یہ ارشاد اس کے بعد فرمایا تھا کہ مجھے دیکھنے سے پہلے کھڑے نہ ہو۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ آپ کے اس ارشاد کی کیا حکمت تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض اوقات آپ کو آنے میں دیر ہوجاتی تھی اگر صحابہ پہلے سے آپ کے آنے کے انتظار میں کھڑے ہوتے تو ان کا قیام بہت طویل ہوجاتا اور وہ تھک جاتے ۔
اس مسئلہ میں متقدمین اور متاخرین علماء کا اختلاف ہے کہ نمازی نماز کے لیے کس وقت کھڑے ہوں اور امام کب تکبیر کہے۔
امام شافعی اور ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ مستحب یہ ہے کہ جب تک مؤذن پوری اقامت سے فارغ نہ ہوجائے اس وقت تک کوئی نہ کھڑا ہو اور حضرت انس رضی اللہ عنہ اس وقت کھڑے ہوتے تھے جب مؤذن” قد قامت الصلوۃ ” کہتا تھا امام احمد بن حنبل کا بھی یہی مذہب ہے اور امام ابوحنیفہ کا یہ مذہب ہے کہ نمازی صف میں اس وقت کھڑے ہوں جب مؤذن “حی علی الصلوۃ “ کہے اور جب وہ قد قامت الصلوة کہے تو امام تکبیر پڑھے اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے سوید بن غفلہ، قیس بن ابی سلمہ اور حماد سے روایت کیا ہے اور جمہور متقدمین اور متاخرین علماء نے یہ کہا ہے کہ جب تک مؤذن پوری اقامت سے فارغ نہ ہوجائے اس وقت تک امام اللہ اکبر نہ کہے اور امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ سنت یہ ہے کہ امام اس وقت نماز شروع کرے جب صفیں برابر ہوجائیں اور مؤذن اقامت سے فارغ ہوجائے اور ہمارے نزدیک امام نماز اس وقت شروع کرے جب مؤذن “قد قامت الصلوۃ “ کہے اور امام ابو یوسف نے کہا ہے : جب مؤذن پوری اقامت سے فارغ ہوجائے تب امام اللہ اکبر کہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک پوری اقامت کے بعد امام نماز شروع کرے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس وقت نماز شروع کرے جب مؤذن ” قد قامت الصلوة ” کہے۔
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم السلام سے عبادات میں نسیان ہوجاتا تھا۔
اس حدیث سے امام بخاری نے یہ استدلال کیا ہے کہ جب جنبی بھول کرمسجد میں داخل ہو جائے، پھر اس کو یاد آئے کہ وہ جنبی ہے تو وہ اسی حالت میں مسجد سے نکل جائے اور تیمم نہ کرے۔
علامہ ابن بطال نے کہا ہے کہ بعض تابعین یہ کہتے ہیں کہ جب جنبی بھول کر مسجد میں داخل ہوجائے تو وہ تیمم کرکے مسجد سے نکلے اور یہ حدیث ان کا رد کرتی ہے، ثوری اور اسحاق کا یہی قول ہے اسی طرح امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ جو مسافر جنبی ہو وہ ایسی مسجد کے پاس سے گزرے جس میں پانی کا چشمہ ہو، وہ تیمم کرکے مسجد میں داخل ہو اور مسجد سے پانی نکالے اور ابن زید کی” نوادر” میں ہے : جو آدمی مسجد میں سو جائے، پھر اس کو احتلام ہوجائے تو اس کو چاہیے کہ وہ تیمم کرکے مسجد سے نکلے امام شافعی نے یہ کہا ہے کہ وہ مسجد میں ٹھہرے بغیر نکل جائے اور داؤد اور مزنی نے یہ کہا ہے کہ وہ مطلقا مسجد میں ٹھہر سکتا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلم نجس نہیں ہوتا، امام سعید بن منصور نے سند جید کے ساتھ یہ حدیث روایت کی ہے کہ عطاء بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا ہے : صحابہ مسجد میں بیٹھے ہوتے تھے اور وہ جنبی ہوتے تھے اور حدیث میں ثقیف کے وفد کو مسجد میں ٹھہرانے کا ذکر ہے اور اہل الصفہ اور ان کے علاوہ لوگ مسجد میں رات کو رہتے تھے اور امام احمد بن حنبل یہ کہتے تھے کہ جنبی مسجد میں بیٹھ سکتا ہے اور وضوء کے لیے جاسکتا ہے اور جن علماء نے کہا ہے کہ جنبی مسجد سے گزر سکتا ہے انہوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے:
وَلَا جُنَّبًا إِلَّا عَابِرِى سَبِيلِ. (النساء:43)
اور جنسی مسجد کے قریب نہ جائے مگر راستہ عبور کرنے کے لیے۔
یہاں تک علامہ عینی نے علامہ ابن بطال کی عبارت ” شرح ابن بطال‘ ج ۱ ص ۳۹۷ ۳۹۶ سے نقل کی ہے۔
(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۳۳۵ 334، دارالکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ )
امام ابوحنیفہ پر علامہ ابن بطال کے اعتراض کا مصنف کی طرف سے جواب اور امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا جنبی کو بغیر تیمم کے مسجد میں داخل ہونے سے منع کرنا اور امام شافعی اور امام احمد کا اس کی اجازت دینا
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:
امام ابو حنیفہ نے کہا ہے : جو مسافر جنبی ہو، وہ پانی لینے کے لیے تیمم کرکے مسجد میں داخل ہو سکتا ہے، اسی طرح کوئی اور ضرورت مند جنبی بھی تیمم کرکے مسجد میں داخل ہوسکتا ہے۔ یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔
میں کہتا ہوں : اس میں مسجد میں بھول کر حالت جنابت میں بغیر تیمم کے مسجد میں داخل ہونے کا ثبوت ہے، نہ کہ عمد اجنبی کے لیے بغیر تیمم کے مسجد میں داخل ہونے کا ثبوت ہے دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر بالفرض نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی حالت جنابت میں مسجد میں داخل ہوئے تو یہ آپ کی خصوصیت ہے، دوسروں کو اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا، حدیث میں ہے:
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی(بن ابو طالب ) کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس مسجد میں جنبی ہو، سوا میرے اور سوا تمہارے۔ علی بن المنذر نے کہا: اس حدیث کا کیا معنی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ضرار بن صرو سے اس حدیث کا معنی پوچھا تو انہوں نے کہا: کسی کے لیے حالت جنابت میں مسجد سے گزرنا جائز نہیں ہے سوا میرے اور تمہارے۔ (سنن ترندی : ۳۷۲۷)
دوسری حدیث میں جنبی کے لیے مسجد میں داخل ہونے کی صریح ممانعت ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ کے اصحاب نے اپنے گھروں کے دروازے مسجد میں نکالے ہوئے تھے آپ نے فرمایا: ان گھروں کے دروازوں کا مسجد سے رخ پھیر دو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ آئے اور لوگوں نے اس سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کی تھی اس امید پر کہ اس معاملہ میں کوئی رخصت نازل ہوجائے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے اور فرمایا: ان گھروں کے دروازوں کا مسجد سے رخ پھیردو، کیونکہ میں حائضہ اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال نہیں کرتا ۔ (سنن ابوداؤد: ۲۳۲)
پس معلوم ہوا کہ کوئی جنبی مسجد میں داخل نہیں ہو سکتا البتہ مجبوری کی صورت میں تیمم کرکے مسجد میں داخل ہو سکتا ہے اور قرآن مجید میں جو جنبی کے لیے مسجد میں راستہ عبور کرنے کی اجازت ہے وہ بھی مجبوری کی حالت میں تیمم کرکے راستہ عبور کرنے پر محمول ہے تاکہ قرآن مجید اور احادیث میں تطبیق ہو اور یہ احادیث امام شافعی امام احمد بن حنبل اور داؤد ظاہری کے خلاف ہیں، جو تیمم کے بغیر مسجد میں داخل ہونے، مسجد سے گزرنے اور مسجد میں بیٹھنے کی اجازت دیتے ہیں اور یہ احادیث امام اعظم ابوحنیفہ کی مؤید ہیں، جو مجبوری کی صورت میں بھی بغیر تیمم کے مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔
نیز علامہ ابن بطال لکھتے ہیں: امام مالک اور فقہاء احناف نے کہا ہے کہ مسجد میں جنبی داخل نہ ہو اور نہ راستہ عبور کرنے والا ۔ اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کو مکروہ ( تحریمی ) قرار دیا ہے۔
جو فقہا، جنبی کو مسجد میں داخل ہونے سے منع کرتے ہیں وہ النساء: ۴۳ کا معنی بہ طور عموم مجاز کے اس طرح کرتے ہیں:
تم حالت جنابت میں نماز اور نماز کی جگہ (مسجد) کے کسی حال میں قریب نہ جاؤ مگر یہ کہ تم مسافر ہو تو تم تیمم کرکے مسجد کے قریب جاؤ اور نماز پڑھو اور یہ معنی بہت عمدہ ہے اور پاکیزہ ہے کیونکہ اس میں مسجد کا احترام ہے۔
( شرح ابن بطال ج ا ص ۳۹۷- 396 دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۲۴ھ )
میں کہتا ہوں کہ امام ابوحنیفہ نے جو مسافر کو حالت جنابت میں تیمم کرکے مسجد سے پانی لینے کے لیے اجازت دی ہے، اس کاستدلال بھی اسی طریقہ سے اس آیت سے ہے مجھے حیرت ہے کہ علامہ بدر الدین عینی نے حنفیت میں بہت راسخ اور متصلب ہونے کے باوجود امام ابوحنیفہ پر علامہ ابن بطال کے اعتراض کا جواب نہیں لکھا، میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے اس اعتراض کا جواب دینے کی مجھے توفیق بخشی۔
بہرحال خلاصہ یہ ہے کہ امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک جنبی بغیر تیمم کے مسجد میں آ اور جاسکتا ہے اور ٹھہر سکتا ہے، داؤد ظاہری ابن حزم اور غیر مقلدین کا بھی یہی موقف ہے اور امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک مجبوری کی صورت میں بھی کوئی شخص بغیر تیمم کے مسجد میں داخل نہیں ہو سکتا۔
ہم نے تبیان القرآن ج ۱ ص 699 – ۶۹۷ الواقعہ: ۷۹ میں اس مسئلہ پر زیادہ تفصیل سے لکھا ہے اور ابن حزم اور غیر مقلدین کے تمام دلائل ذکر کرکے ان کے جوابات لکھے ہیں۔
یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۲۶۸ – ج ۲ ص ۲۱۶ پر مذکور ہے وہاں اس کی مختصر شرح کی گئی مختصر کی گئی ہے ۔