کتاب الحیض باب 3 حدیث نمبر 297
۳- بَابُ قِرَاءَةِ الرَّجُلِ فِي حِجْرِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ
مرد کا اپنی حائض بیوی کی گود میں قرآن پڑھنا
باب سابق میں حائض کا اپنے خاوند کا سر دھونے کا ذکر تھا، اس میں حائض کے جسم کے ساتھ مکس کرنے کا ذکر تھا اور اس باب میں حائض کی گود میں قرآن مجید پڑھنے کا ذکر ہے، اس میں بھی حائض کے جسم کے ساتھ مس کا ذکر ہے۔ اس کے بعد اس تعلیق کا ذکر ہے:
وكانَ أَبُو وَائِلٍ يُرْسِلُ خَادِمَهُ وَهِيَ حَائِض إِلَى أَبِي رَزِينٍ، فَتَأْتِيهِ بِالْمُصْحَفِ، فَتُمْسِكُهُ بعلاقته۔
اور ابوائل اپنی خادمہ کو ابورزین کی طرف بھیجتے تھے اور وہ حائض ہوتی تھی، پھر وہ ان کے پاس مصحف کو لے کر آتی تھی اور اس کو مصحف کے غلاف کی ڈوری سے پکڑتی تھی۔
اس تعلیق کی اصل حسب ذیل حدیث میں ہے:
مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ ابو وائل اپنی حائض خادمہ کو ابورزین کے پاس بھیجتے، وہ ان سے ان کے پاس مصحف لے کر آتی اور اس کو مصحف کے خلاف کی ڈوری سے پکڑتی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ :۷۴۲۱)
اس تعلیق سے معلوم ہوا کہ جنبی اور حائض مصحف کو اس کے غلاف کی ڈوری سے پکڑ کر اٹھاسکتے ہیں، حضرت
عبداللہ بن عمر بن الخطاب، عطاء، حسن بصری، مجاہد، طاؤس، ابووائل رزین، امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد نے اس کی اجازت دی ہے۔
(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۳۸۶)
حائض اور جنبی کو قرآن مجید کے چھونے اور پڑھنے کی ممانعت، اسی طرح بے وضوء کو بھی
معمر، عبداللہ بن ابی بکر سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم کو جو مکتوب لکھا تھا، اس میں مذکور تھا کہ بغیر طہر کے قرآن کو نہ چھوا جائے ۔ (مصنف عبدالرزاق :۱۳۳۰)
یعنی جو شخص حدث سے پاک ہو، وہی قرآن مجید کو چھوسکتا ہے خواہ حدث اصغر ہو یعنی بے وضو ، یا حدث اکبر ہو یعنی جنبی اور حائض اور نفسا ، ان میں سے کوئی بھی قرآن مجید کو نہیں چھوسکتا۔
عطاء نے کہا: کوئی شخص بغیر وضوء کے مصحف کو نہ چھوئے ۔ (مصنف عبدالرزاق: ۱۳۳۵)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیر طاہر قرآن کو نہ چھوئے ۔ (سنن نسائی: ۴۸۵۳)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنابت کے سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید کی تلاوت سے کوئی چیز مانع نہیں تھی ۔ (سنن ابو داؤد :۲۲۹ سنن ترمذی: 146، سنن نسائی: 165، سنن ابن ماجہ : ۵۹۴ مسند احمد ج ا ص ۸۴)
حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حائض اور جنبی بالکل قرآن نہ پڑھیں۔
( سنن ترمذی:131 سنن ابن ماجہ : ۵۹۵ السنن الکبری ج اص ۸۹)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید کو طاہر کے سوا اور کوئی نہ چھوئے۔
(سنن دار قطنی : 430 – 431 سنن بیہقی ج ا ص ۸۸ المعجم الکبیر: 13217)
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کی طرف مکتوب بھیجا، اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ قرآن مجید کو طاہر کے سوا اور کوئی نہ چھوئے ۔ (سنن دارقطنی : ۴۳۲)
حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم بغیر طہر کے قرآن مجید کو نہ چھونا۔
(سنن دار قطنی : 433، المستدرک ج ۳ ص ۴۵۸)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر تلوار لٹکائے ہوئے نکلے، ان سے کہا گیا کہ تمہارے بہنوئی اور بہن نے دین بدل لیا ہے، حضرت عمران کے پاس گئے اس وقت ان کے پاس مہاجرین میں سے ایک شخص تھے جن کا نام خباب تھا وہ ان سے سورہ طہ پڑھ رہے تھے، حضرت عمر نے کہا: مجھے وہ کتاب دو، جو تم پڑھ رہے تھے، میں بھی اس کو پڑھوں گا، حضرت عمر کتاب پڑھ سکتے تھے ان کی بہن نے کہا: تم ناپاک ہو اور قرآن مجید کو صرف پاک لوگ ہی چھوسکتے ہیں، تم اٹھ کر غسل کرو یا وضوء کرو حضرت عمر نے وضوء کیا، پھر کتاب کو پڑھا:طہ ۔ (سنن دار قطنی : ۴۳۴ سنن بیہقی ج ۱ ص ۸۸ دلائل النبوۃ ج ۲ ص ۲۱۹ المعجم الاوسط : ۳۶۵۴)
علقمہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سلمان فارسی کے ساتھ ایک سفر میں تھے، انہوں نے قضاء حاجت کی ہم نے کہا: آپ وضوء کریں تاکہ ہم آپ سے قرآن کی ایک آیت کے متعلق سوال کریں انہوں نے کہا: تم مجھ سے سوال کرو میں قرآن مجید کو چھوؤں گا نہیں۔
( سنن دار قطنی : ۴۳۵ مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۱۰۰ المستدرک ج اص ۱۸۳)
شیخ ابن حزم اور غیر مقلدین کے نزدیک حائض اور جنبی قرآن مجید کو چھوسکتے ہیں، ہم نے تبیان القرآن میں ” لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ “ (الواقعہ :79) میں ان کا بہت مفصل اور مدلل رد کیا ہے۔ دیکھئے بیان القرآن ج 11 ص ۷۰۰ – ۶۸۷ ۔
۲۹۷ – حَدَّثَنَا أَبُو نعَيْمِ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنِ سَمِعَ زهَيْرًا، عَنْ مَنْصُورٍ ابْن صَفِيَّةَ أَنَّ أُمَّهُ حَدثتُهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتكِي فِي حِجْرِى وَأَنَا حَائِضٌ ، ثُمَّ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ.
طرف الحدیث: 7549
صحیح مسلم : 301، الرقم المسلسل : ۶۷۹ ، سنن نسائی: ۳۷۹-۲۷۳ سنن ابن ماجہ : ۶۳۴ مسند احمد ج 6 ص ۷۲ طبع قدیم، مسند احمد :۲۴۴۳۵- ج ۴۰ ص 494، مؤسسة الرسالة بیروت، جامع المسانيد لابن الجوزی: ۷۶۹۵ مکتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابونعیم الفضل بن دکین نے حدیث بیان کی انہوں نے زہیر سے سنا از منصور بن صفیہ کہ ان کی والدہ نے ان کو حدیث بیان کی کہ بے شک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو حدیث بیان کی کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں ٹیک لگائے ہوئے تھے اور میں حائض تھی، پھر آپ قرآن پڑھتے تھے۔
اس حدیث سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ حائض کو چھونا اور اس کو مس کرنا جائز ہے۔
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : 601 – ج ا ص ۹۹۹ پر ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی۔