فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ فَارِقُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ وَّاَشۡهِدُوۡا ذَوَىۡ عَدۡلٍ مِّنۡكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ ؕ ذٰ لِكُمۡ يُوۡعَظُ بِهٖ مَنۡ كَانَ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ۙ وَمَنۡ يَّـتَّـقِ اللّٰهَ يَجۡعَلْ لَّهٗ مَخۡرَجًا سورۃ نمبر 65 الطلاق آیت نمبر 2
sulemansubhani نے Monday، 1 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ فَارِقُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ وَّاَشۡهِدُوۡا ذَوَىۡ عَدۡلٍ مِّنۡكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ ؕ ذٰ لِكُمۡ يُوۡعَظُ بِهٖ مَنۡ كَانَ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ۙ وَمَنۡ يَّـتَّـقِ اللّٰهَ يَجۡعَلْ لَّهٗ مَخۡرَجًا ۞
ترجمہ:
پھر جب وہ تکمیل عدت کو پہنچنے لگیں تو ان کو اچھائی کے ساتھ روک لو یا ان کو دستور کے مطابق جداکر دو اور اپنے دو نیک آدمیوں کو گواہ بنا لو، اور اللہ کے لیے گواہی دو ، یہ ان لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان لاتے ہیں، اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ پیدا کردیتا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر جب وہ تکمیل عدت کو پہنچنے لگیں تو ان کو اچھائی کے ساتھ روک لویا ان کو دستور کے مطابق جدا کردو، اور اپنے دو نیک آدمیوں کو گواہ بنا لو، اور اللہ کے لیے گواہی دو ، یہ ان لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان لاتے ہیں، اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ کے لیے نجات کی راہ پیدا کردیتا ہے اور اس کو وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا، اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے تو وہ اسے کافی ہے، بیشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے، بیشک اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھا ہے (الطلاق : ٣، ٢) ۔
مطلقہ سے رجوع کرنے اور اس کو دستور کے مطابق رخصت کرنے کا معنی :۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے فرمایا تھا :
(وَاِذَ اطَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ) (البقرہ : ٢٣١) ( اور جب تم عورتوں کو ( رجعی) طلاق دو پھر وہ اپنی عدت (کی تکمیل) کو پہنچیں تو انہیں دستور کے مطابق ( اپنے نکاح میں) روک لو یا ان کو دستور کے مطابق چھوڑ دو ۔
دستور کے مطابق عورتوں کو اپنے نکاح میں رکھنے کا معنی یہ ہے کہ شوہر طلاق سے رجوع کرے اور نکاح کے تمام تقاضے پورے کرے اور بیوی کے تمام حقوق ادا کرے اور دستور کے مطابق چھوڑنے کا معنی یہ ہے کہ اگر اس نے ایک طلاق دینے کے بعد رجوع نہیں کیا حتیٰ کہ تین حیض گزر گئے تو اب عورت بائنہ ہوگئی اور اس کے نکاح سے نکل گئی تو اب وہ دستور کے مطابق اس کا مہر اور اس کے جہیز کا وہ سامان جو شوہر کو ہبہ نہیں کیا تھا اور اس عورت کی ملکیت تھا، وہ سامان اس کو دے کر رخصت کر دے، اسی طرح یہاں اس آیت میں فرمایا ہے : پھر جب وہ تکمیل عدت کو پہنچنے لگیں تو ان کو اچھائی کے ساتھ روک لو یا ان کو دستور کے مطابق جدا کردو۔
علامہ ابوبکر احمد بن علی رازق جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
یعنی طلاق رجعی دینے کے بعد اگر حالات بدل جائیں یا اس کا دل بدل جائے تو پھر عدت کے اندر اس سے رجوع کرلے اور اگر وہ اس سے علیحدگی کے عزم پر قائم رہے حتیٰ کہ عدت پوری ہوجائے تو دستور کے مطابق اس کی رخصت کر دے۔ اس کے بعد فرمایا : اور اپنے دو نیک آدمیوں کو گواہ بنا لو اور اللہ کے لیے گواہی دو ۔
طلاق اور اس سے رجوع پر گواہ بنانے کے حکم میں مذاہب اور اس کی حکمتیں :۔
علامہ جصاص حنفی فرماتے ہیں :
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رجوع کرنے اور فراق پر گواہ بنانے کا حکم دیا، شوہر ان میں سے جس پر بھی گواہ بنانے کو اختیار کرے، اور عمران بن حصین، طائوس، ابراہیم اور ابی قلابہ سے مروی ہے : جب اس نے رجوع کیا اور گواہ نہیں بنایا تو اس کا رجوع صحیح ہے۔
علامہ ابوبکر رازی فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے پہلے بیوی کو نکاح میں روکنے یا اس کو الگ کرنے کا ذکر فرمایا، اس کے بعد گواہ بنانے کا ذکر فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ شوہر نے پہلے طلاق سے رجوع کیا بعد میں اس پر گواہ بنا لیا تب بھی صحیح ہے۔
فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں جو فراق اور رخصت کرنے کا ذکر ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ایک طلاق دینے کے بعد بیوی کو اسی حال پر چھوڑ دے حتیٰ کہ عدت گزر جائے اور اب اس کو رخصت کرنا صحیح ہے، خواہ اس وقت گواہ نہ بنائے بعد میں بنا لے، اللہ تعالیٰ نے رجوع کرنے اور رخصت کرنے پر گواہ بنانے کا حکم دیا ہے یہ احتیاطاً ہے تاکہ کوئی یہ تہمت نہ لگائے کہ اس نے طلاق سے رجوع نہیں کیا یا بیوی کو دستور کے مطابق رخصت نہیں کیا۔ ( احکام القرآن ج ٣ ص ٤٥٦، سہیل اکیڈمی، لاہور) ۔
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ طلاق دیتے وقت اور طلاق سے رجوع کے وقت اپنے دو نیک آدمیوں کو گواہ بنا لو، امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ گواہ بنانا مستحب ہے اور امام شافعی کے نزدیک طلاق کے وقت گواہ بنانا مستحب ہے اور طلاق سے رجوع کے وقت گواہ بنانا واجب ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ گواہ بنانے کا فائدہ یہ ہے کہ بعد میں فریقین میں سے کوئی طلاق یا رجوع کا انکار نہ کرسکے اور اس کے نکاح میں بیوی کو روکنے پر تہمت نہ لگائے، اور جب فریقین میں سے کوئی دوران عدت مرجائے تو اس کے وارث ہونے کا ثبوت ہو، ایک قول یہ ہے کہ گواہ بنانے کی حکمت یہ ہے کہ بیوی رجوع کا انکار کر کے عدت کے بعد کسی اور سے شادی نہ کرسکے۔
اس کے بعد فرمایا : اور اللہ کے لیے گواہی دو ۔ اس میں احکام کے سامنے گواہی دینے کا حکم ہے اور یہ کہ گواہی دینا حقوق اللہ میں سے ہے، لوگ مقدمات کے چکر سے بچنے کے لیے گواہ نہیں بنتے، اگر سب لوگ اس طرح کرنے لگیں تو لوگوں کے حقوق ضائع ہوجائیں، سو جس شخص کو گواہ بنایا جائے اس پر واجب ہے کہ وہ گواہی دے۔ الطلاق : ٣۔ میں فرمایا : اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ پیدا کردیتا ہے۔
متقین کے لیے راہ نجات کے حصول کے سلسلہ میں احادیث اور آثار :۔
شعبی نے کہا : اس کا معنی ہے : جس شخص نے عدت کے وقت سے پہلے طلاق دی یعنی اس طہر میں جس میں جماع نہیں کیا، تاکہ وہ عدت میں رجوع کرسکے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے عدت میں رجوع کرنے کی سبیل بنا دیتا ہے اور دوسروں نے کہا : اللہ تعالیٰ اس کو ہر مشکل کا کوئی حل نکال دیتا ہے۔
کلبی نے کہا : جو شخص مصیبت میں صبر کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دوزخ سے جنت کی طرف نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کو پڑھ کر فرمایا : جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا کے شبہات سے اور موت کی سختیوں سے اور قیامت کی شدتوں سے نجات کی راہ پیدا کردیتا ہے۔ (حلیۃ الاولیاء، ج ٢ ص ٣٤١، ٣٤٠ )
حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ایک ایسی آیت کو جانتا ہوں کہ اگر تمام لوگ اس پر عمل کریں تو وہ آیت انہیں کافی ہوگی، صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ کون سی آیت ہے ؟ تو آپ نے فرمایا :
(وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا) (الطلاق : ٢) (اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ پیدا کردیتا ہے ) ۔
(سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٢٠، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٦٦٩، مجمع الزوائد ج ٥ ص ٢٢٢٣ )
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کے بیٹے سالم کو مشرکین نے قید کرلیا، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور اپنے فاقہ کی شکایت کی، تو آپ نے فرمایا : شام کے وقت سے آل محمد کے پاس صرف ایک کلو طعام ہے، تم اللہ سے ڈرو اور صبر کرو اور لا حول ولا قوۃ الا باللہ کثرت سے پڑھو، سو انہوں نے اس پر عمل کیا، ابھی وہ اپنے گھر میں تھے کہ ان کے بیٹے نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ان کے ساتھ سو اونٹ تھے، ان کا دشمن ان سے غافل ہوگیا تھا سو وہ اس کے سو اونٹ ہنکا کرلے آئے۔
(دلائل النبوۃ ج ٦ ص ١٠٦، المستدرک ج ٢ ص ١٩٢، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٨٩١١)
حضرت عمران بن الحصین (رض) نے بیان کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص سب سے منقطع ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہو، اللہ اس کی ہر مہم میں کافی ہوگا اور اس کو وہاں سے رزق سے دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوگا اور جو شخص سب سے منقطع ہو کر دنیا کی طرف متوجہ ہوگا، اللہ اس کو دنیا کی طرف سپرد کر دے گا۔
(تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٨٩١٣، کنز العمال رقم الحدیث ٦٢٨٣، الترغیب و الترہیب ج ٢ ص ٥٣٨، ٥٣٧)
حضرت عائشہ (رض) نے اس کی تفسیر میں فرمایا : جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کو دنیا کے غم اور فکر سے کافی ہوگا۔
(تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ١٠ ص ٣٣٦، رقم الحدیث : ١٨٩١٢، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)
حضرت عائشہ (رض) نے اس کی تفسیر میں فرمایا : جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کو دنیا کے غم اور فکر سے کافی ہوگا۔
(تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ١٠ ص ٣٣٦، رقم الحدیث : ١٨٩١٢، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے استغفار کرنے کو لازم کرلیا، اللہ اس کے لیے ہر فکر سے کشادگی پیدا کر دے گا اور ہر تنگی سے نکلنے کی راہ پیدا کر دے گا اور اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوگا۔ (مسند احمد ج ١ ص ٢٢٨، المسند رک رقم الحدیث : ٧٦٨٨)
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ اس کو دنیا اور آخرت کی مشکل سے نجات دے گا۔
(تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٤١٧، دارالفکر، بیروت، ١٤١٩ ھ)
حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بندہ گناہ کرنے کی وجہ سے رزق سے محروم ہوجاتا ہے تقدیر کو صرف دعا ٹال سکتی ہے اور عمر میں اضافہ صرف نیکی سے ہوتا ہے۔
(مسند احمد ج ٥ ص ٢٨٢ طبع قدیم الحدیث، ٢١٩٣٢، داراحیاء التراث، بیروت، الدار المنثورج ٨ ص ١٨٦)
حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : میں تم کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ظاہر اور باطن میں اللہ سے ڈرو، اور جب کوئی برائی کرو تو اس کے فوراً بعد نیکی کرو، اور کسی سے کسی چیز کا سوال نہ کرو اور کسی امانت پر قبضہ نہ کرو اور دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرو۔
(مسند احمد ج ٥ ص ٨١ طبع قدیم، رقم الحدیث : ٢١٠٦٣، داراحیاء التراث العربی، بیروت، الدر المنثورج ٨ ص ١٨٦)
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ ہر چیز کی اصل ہے، اور تم جہاد کو لازم رکھو کیونکہ وہ اسلام کی رہبانیت ہے اور تم اللہ کے ذکر اور تلاوت قرآن کو لازم رکھو کیونکہ وہ آسمان میں تمہاری خوشی ہے اور زمین میں تمہارا ذکر ہے۔
(مسند احمد ج ٣ ص ٨٢ طبع قدیم، رقم الحدیث : ١١٣٦٥، داراحیاء التراث العربی، بیروت الدالمنثور ج ٨ ص ١٨٧)
ضر غام بن علیبۃ بن حرملہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے وصیت کیجئے، آپ نے فرمایا : اللہ سے ڈرتے رہو، اور جب تم کسی مجلس میں ہو، پھر وہاں سے اٹھو تو ان کی جو سنی ہوئی بات تمہیں اچھے لگے اس پر عمل کرو اور ان سے جو سنی ہوئی بات تمہیں ناپسند ہو اس کو چھوڑ دو ۔ ( مسند احمد ج ٤ ص ٣٠٥، رقم الحدیث : ١٨٢٤٥، دارا احیاء التراث العربی، بیروت، الدرا المنثورج ٨ ص ١٨٧)
تبیان القرآن سورۃ نمبر 65 الطلاق آیت نمبر 2