کتاب الایمان باب 20 حدیث نمبر 28
۲۰ – باب إفشاء السلام من الإسلام
به کثرت سلام کرنا اسلام کی علامات سے ہے
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ باب سابق میں یہ بیان تھا کہ دین اسلام ہے، اور اسلام اس کے احکام پر عمل کرنے سے کامل ہوتا ہے اور اسلام کا ایک حکم بہ کثرت سلام کرنا ہے۔
وقال عـمـارثـلاث من جمعهن فقد جمع الإيـمـان الإنصـاف مـن نفسك، وبذل السّلام للعالم والإنفاق من الإقتار۔
اور عمار نے کہا: جس شخص نے تین خصلتوں کو جمع کر لیا۔ اس نے ایمان کو جمع کر لیا:(۱)اپنے نفس کے ساتھ انصاف کرنا.(۲) تمام جماعت والوں پر سلام کو خرچ کرنا ( ماسوا ان کے جن کوسلام کرنامنع ہے ) ( ۳) اور تنگی کی حالت میں خرچ کرنا۔
۲۸- حدثنا قتيبة قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن أبي الخير، عن عبدالله بن عمرو أن رجلا سال رسول الله صلى الله عليه وسلم أی الإســلام خيــر ؟ قال تطعم الطعام ، وتقرأ السّلام على من عرفت ومن لم تعرف۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے حدیث بیان کی از یزید بن ابی حبیب از ابی الخیر از حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اسلام کا کون سا حکم سب سے اچھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم کھانا کھلاؤ اور ہر شخص کو سلام کرو خواہ اس کو پہچانتے ہو یا نہیں ۔
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا تعارف
عمار بن یاسر بن عامر بن مالک، ان کی والدہ سمیہ بنت خیاط ہیں، وہ اور یاسرعمار کے ساتھ بہت پہلے اسلام لائے تھے۔ رضی اللہ تعالٰی عنہم ۔ابوجہل نے حضرت سمیہ کوقتل کر دیا تھا، وہ اسلام کی راہ میں پہلی شہیدہ تھیں، ان کو اللہ کی توحید پر ایمان کی وجہ سے مکہ میں ایذاء دی جاتی تھی ۔اس ایذاء رسانی کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرتے ہوئے فرماتے : اے آل یاسر! صبر کرو، تم سے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، یہ وہ لوگ تھے جن کی مکہ میں نہ کوئی رشتہ داری تھی نہ ان کی کوئی مدافعت کر نے والا تھا اور نہ ان کو کوئی قوت حاصل تھی، قریش ان کو سخت دھوپ میں ایذاء دیتے تھے، اسی طرح عمار، صہیب، فکیہ اور عامر بن فہیرہ کو عذاب دیا جا تا تھا عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ مشرکین نے حضرت عمار کے اوپر آگ لگا دی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو ان کے ہاتھ اور ان کے سر کے اوپر آگ تھی آپ نے فرمایا: اے آگ! عمار کے اوپر اس طرح ٹھنڈی ہو جا، جس طرح تو حضرت ابراہیم پر ٹھنڈی ہوگئی تھی حضرت عمار بدر میں اور تمام غزوات میں حاضر رہے ہیں، یہ مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے، پھر انہوں نے حبشہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی، تیس (۳۰) اور کچھ لوگوں کے مسلمان ہونے کے بعد یہ مسلمان ہوۓ تھے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر صحابہ سے احادیث روایت کی ہیں، انہوں نے 62 احادیث بیان کی ہیں، جن میں سے دو حدیثوں پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں اور تین احادیث کے ساتھ امام بخاری منفرد ہیں اور ایک حدیث کے ساتھ امام مسلم منفرد ہیں یہ جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے لڑتے ہوۓ شہید ہو گئے تھے ۔ (عمدۃ القاری ج۱ ص۳۱۶- ۳۱۵)
اس حدیث کی تخریج اور شرح حدیث : ۱۲ میں گزر چکی ہے ۔ یہاں اس حدیث کو امام بخاری نے قتیبہ سے روایت کیا ہے اور وہاں عمر و بن خالد سے روایت کیا تھا۔