۲۷- باب تطوع قيام رمضان من الإيمان

رمضان میں نفلی قیام امور ایمان سے ہے

 

رمضان میں نفلی قیام سے مراد ہے، رمضان کی راتوں میں نفلی عبادت کے لیے کھڑا ہونا اور تہجد اور تراویح پڑھنا، رمضان کا لفظ رمضاء سے بنا ہے اس کا معنی سخت گرمی میں جلنا ہے پھر یہ اس معروف مہینہ کا نام ہوگیا۔ باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ جہاد میں بھی مشقت ہوتی ہے اور رمضان کی راتوں کے قیام میں بھی مشقت ہوتی ہے ۔

۳۷- حدثنا إسماعيل قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفرله ما تقدم من ذنبہ۔

اطراف الحدیث:۳۸-۱۹۰۱۔ ۲۰۰۸ ۲۰۰۹۔ ۲۰۱۴

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں اسماعیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے امام مالک نے حدیث بیان کی، از ابن شہاب از حمید بن عبد الرحمان از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان کے ساتھ اور طلب ثواب کے لیے رمضان میں قیام کیا اس کے پچھلے گناہوں کو معاف کر دیا جاۓ گا ۔

( صحیح مسلم :،۷۵۹ سنن ابوداؤد :۱۳۷۱، سنن ترمذی: ٬۸۰۸ سنن نسائی:۱۶۰۱ مصنف عبد الرزاق:۷۷۱۹ سنن بیہقی ج ۲ ص ۴۹۲ مسند احمد ج۲ ص۲۸۱ طبع قدیم، مسند احمد : ۷ ۷۸ ۷ ۔ ج ۱۳ ص ۱۹۸ مؤسسة الرسالة بیروت )

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) اسماعیل بن اویس اصحبی امام مالک کے بھانجے.

( ۲ ) امام مالک بن انس.

( ۳) محمد بن مسلم بن شہاب زہری، ان سب کا تعارف ہوچکا ہے.

(۴) حمید بن عبد الرحمان بن عوف الزہری المدنی، انہوں نے کہا صحابہ سے سماع کیا ہے ان میں ان کے والد حضرت ابن عباس اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہم اور ان سے متعدد تابعین نے سماع کیا ہے، ان میں ابن شہاب زہری بھی ہیں، امام ابوزرعہ نے ان کی توثیق کی ہے یہ کثیر الحدیث تھے، یہ ۷۳ سال کی عمر میں ۹۵ ھ میں مدینہ منورہ میں فوت ہوۓ.

( ۵ ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ (عمدۃ القاری ج۱ ص366-365)

عبادات سے صرف صغائر کا معاف ہونا

اس سے پہلے حدیث : ۳۵ میں گزر چکا ہے کہ لیلۃ القدر کے قیام سے بھی پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور ان میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ دونوں سے گناہ معاف ہوتے ہیں اس حدیث کا ظاہر معنی یہ ہے کہ اس سے صغیرہ اور کبیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اللہ کا فضل بہت وسیع ہے لیکن علماء کے درمیان مشہور یہ ہے کہ وضو کرنے اور پانچ وقت کی نمازوں سے، یوم عرفہ اور یوم عاشوراء کے روزے سے صرف صغائر معاف ہوتے ہیں اور اس پر اجماع ہے کہ کبائر صرف توبہ سے یا حج سے یا شفاعت سے یا اللہ تعالی کے فضل محض سے معاف ہوتے ہیں اور تمام صفائر معاف ہوچکے ہوں تو پھر کبائر میں تخفیف ہوجاتی ہے اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کی نمازیں، ان کے درمیان کے گناہوں کے لیے کفارہ ہیں، جب تک کہ کبائر کو نہ ڈھانپ لیا جاۓ ۔

( صحیح مسلم : ۲۳۳۔ ۱۴ سنن ابن ماجه :1086، سنن ترمذی: ۲۱۴ صحیح ابن خزیمہ: 314،مسند ابوعوانه ج2 ص ۲۰ صحیح ابن حبان : ۱۷۳۳، سنن بیہقی ج ۲ ص 467 شرح السنۃ: ۳۴۵ مسند احمد ج ۲ ص 484 طبع قدیم، مسند احمد : 10285 – ج۱۶ص۱۹۶ بیروت )

شرح صحیح مسلم میں حدیث مذکور کی شرح

یہ حدیث شرح صحیح مسلم :1676 ۔ ج ۲ ص ۵۰۲۔ ۹۳ ۴ پر مذکور ہے اور اس میں حسب ذیل عنوانات ہیں:

قیام رمضان

(2) کرم رسالت

(۳) عبادت سے گناہوں کی بخشش

(۴) رکعات تراویح میں مذاہب

(۵) بیس رکعات تراویح پر دلائل

(6) تراویح میں ختم قرآن

(۷) رمضان میں ختم قرآن کا نذرانہ

(۸) غیر مقلدین سے گزارش

(9) تنہا عشا پڑھنے والا باجماعت وتر پڑھ سکتا ہے۔