کتاب الایمان باب 30 حدیث نمبر 40
۳۰- باب الصلوة من الإيمان
نماز امور ایمان سے ہے
اس باب کی باب سابق سے مناسبت اس طرح ہے کہ سابق باب میں صبح اور شام یعنی دن کے وقت میں اور رات کے کچھ وقت میں عبادت کرنے کا حکم دیا تھا اور پانچ نمازیں فرض ہیں، ان میں چار نمازیں یعنی فجر ظہر عصر اور مغرب دن کے وقت میں پڑھی جاتی ہیں اور عشا کی نماز رات کے وقت میں پڑھی جاتی ہے نیز اس سے پہلے ابواب میں روزے کا ذکر تھا اور اس باب میں نماز کا ذکر ہے اور نماز اور روزہ دونوں دین کے عظیم ارکان میں سے ہیں ۔
وقول الله تعالى ومـا كـان الله ليضيع إيمانكم﴾ (البقره:143 ) يعنى صـلوتكم عند البيت۔
اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے : اللہ تمہارے ایمان کو ضائع نہیں فرماۓ گا (البقرہ: ۱۴۳ ) یعنی بیت اللہ کے پاس جوتم نے نماز پڑھی.
امام بخاری کا مقصود یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالی نے نماز پر ایمان کا اطلاق کیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ نماز ایمان کا جز ہے امام واحدی المتوفی 468ھ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ قبلہ تبدیل ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب فوت ہوگئے تھے، ان میں حضرت سعد بن زرارہ، حضرت ابوامامہ بنو النجار سے اور حضرت البراء بن معرور بنوسلمہ سے تھے، تو ان کے قبیلہ کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: یا رسول اللہ ! ہمارے بھائی قبلہ اولی ( بیت المقدس ) کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے اور اب اللہ نے آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قبلہ کی طرف پھیر دیا ہے، پس ہمارے ان بھائیوں کی پڑھی ہوئی نمازوں کا اب کیا حکم ہو گا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تمہارے ایمان (یعنی نماز کو ضائع نہیں فرماۓ گا۔( الوسیط ج اص ۷ ۲۴ دار الکتب العلمیہ بیروت 1415ھ)
٤٠- حدثنا عمرو بن خالد قال حدثنا زهير قال حدثنا أبو إسحاق، عن البراء أن النبي صلى اللہ عليه وسلم كان أول ما قدم المدينة نزل على اجداده، أو قال أخواله من الانصار، وانه صلى قبل بيـت الـمـقـدس ستة عشر شهرا، أو سبعة عشر شهراً، وكان يعجبه أن تكون قبلتہ قبل البيت، وانـه صـلى اول صلوة صـلاهـا صـلوة العصر، وصلى معه قوم، فخرج رجل ممن صلى معه ، فمر على أهل مسجد وهم راكعون، فقال أشهد باللہ لقد صليت مع رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قبل مكة قداروا كما هم قبل السبت، وكانت اليهود قد اعـجـبـهـم إذ كان يصلى قبل بیت المقدس، وأهل الكتاب ، فلما ولّى وجهة قبل البیت انکروا ذالک۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں عمرو بن خالد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں زہیر نے حدیث بیان کی،انہوں نے کہا: ہمیں ابواسحاق نے حدیث بیان کی، از حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء مدینہ میں آۓ تو آپ انصار میں سے اپنے نانا یا ماموں کے ہاں ٹھہرے اور آپ نے سولہ (۱۶)مہینے یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور آپ کو یہ پسند تھا کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ ہو، اور آپ نے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے جو پہلی نماز پڑھی وہ عصر کی نماز تھی اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی نماز پڑھی، پھر ایک شخص جس نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی وہ باہر نکا اور ایک مسجد والوں کے پاس سے گزرا اس وقت وہ لوگ رکوع میں تھے پس اس نے کہا: میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں، میں نے (ابھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے، تب لوگ نماز میں ہی گھوم کر بیت اللہ کی طرف پھر گئے اور یہود اور اہل کتاب کو یہ پسند تھا کہ جب آپ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے اور جب آپ نے اپنا منہ بیت اللہ کی طرف کر لیا تو یہ ان کو ناگوار ہوا۔
قال زهير حدثنا أبو إسحاق ، عن البراء في حـديثــه هـذا أنـه مات على القبلة قبل أن تحول رجـال وقتلوا، فلم نذر ما تقول فيهم ، فأنزل اللہ تعالى «وما كان الله ليضيع إيمانكم ﴾ (البقرہ:143). اطراف الحدیث : 18564- ۱۸۷۳۲)
زہیر نے کہا: ہمیں ابواسحاق نے حدیث بیان کی از البراء، ان کی اس حدیث میں یہ ہے کہ تحویل قبلہ سے پہلے کچھ لوگ فوت ہو گئے اور کچھ لوگ شہید ہو گئے پس ہم نے از خود نہیں جانا کہ ہم ان کے متعلق کیا کہیں تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’اللہ تمہارے ایمان کو ضائع نہیں فرماۓ گا‘‘ ۔(البقرہ: ۱۴۳ )
( صحیح مسلم :۵۲۵ ترمذی:2962۔340 صحیح ابن خزیمہ: ۴۳۳، صحیح ابن حبان :۱۷۱۶، سنن بیہقی ج ۲ ص ۲‘ ابن الجارود :۱۶۵ معرفتہ االسنن والآثار : 2876، الطبقات الکبری ج۱ ص ۲۴۳ مسند احمد ج ۴ ص ۲۸۳ طبع قدیم، مسند احمد :18496 – ج۳۰ ص ۴۵۴۔ ۴۵۳ مؤسسة الرسالة بیروت)
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف اور حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
(۱) ابوالحسن عمرو بن خالد الجزری الحرانی، یہ لیث اور ابولہیعہ وغیرہ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے امام بخاری، ابوزرعہ اور امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں، ابوحاتم نے کہا: یہ صدوق ہیں یہ ۲۲۹ھ میں فوت ہو گئے تھے۔
(۲) زہیر بن معاویہ االجعفی الکوفی، انہوں نے حمید اور البیعی اور دیگر تابعین سے سماع کیا ہے اور ان سے یحی القطان اور کئی ائمہ نے سماع کیا ہے، ابوزرعہ نے کہا: یہ ثقہ ہیں، مگر ابواسحاق سے انہوں نے اس کے اختلاط کے بعد سماع کیا ہے یہ ۱۷۳ھ یا ۱۷۲ھ میں فوت ہو گئے تھے۔
(۳) ابواسحاق عمرو بن عبداللہ بن علی کوفی، جلیل القدر تابعی ہیں ان کی توثیق پر سب متفق ہیں، انہوں نے حضرت علی، حضرت اسامہ اور حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالی عنہم کی زیارت کی ہے، ان سے سماع نہیں کیا، اور حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت ابن الزبیر، حضرت معاویہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے سماع کیا ہے اور ان سے تیمی، قتادہ اور اعمش نے سماع کیا ہے ان سے ائمہ ستہ نے روایت کی ہے، یہ ۱۲۹ھ میں فوت ہو گئے تھے۔
(۴) حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ الانصاری الاوسی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے 305 احادیث روایت کی ہیں، جن میں سے ۲۲ پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں ۱۵ احادیث کے ساتھ امام بخاری منفرد ہیں اور ۶ احادیث کے ساتھ امام مسلم منفرد ہیں، جنگ احد میں یہ حضرت ابن عمر کے ساتھ گئے تھے مگر ان کو کم سن قرار دیا گیا، پھر غزوہ خندق اور باقی تمام مغازی میں حاضر ر ہے ۲۴ھ میں انہوں نے رے ( طہران ) کو فتح کیا، اور حضرت ابوموسی کے ساتھ غزوہ تستر میں تھے، حضرت علی کے ساتھ ان کے تمام مشاہد میں رہے مصعب بن زبیر کے ایام میں کوفہ میں فوت ہو گئے ان سے ائمہ ستہ نے روایت کی ہے ۔(عمدۃ القاری ج۱ص۳۷۹۔۳۷۸)
احکام شرعیہ کے منسوخ ہونے کا جواز
(۱) اس حدیث کے فوائد میں سے نسخ کا ثبوت ہے اور یہودیوں کے سوا سب کا اس پر اجماع ہے کہ احکام شرعیہ کا منسوخ ہونا ثابت ہے، حضرت آدم علیہ السلام کی شریعت میں بہنوں کا بھائیوں کے ساتھ نکاح جائز تھا۔ اسی سے نسل انسان پھیلی اور کسی نے اس کا انکار نہیں کیا، اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام کی شریعت میں آزاد کو غلام بنانا جائز تھا۔ بعد میں یہ احکام منسوخ ہو گئے ۔
(۲) اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ سنت کا قرآن سے نسخ جائز ہے کیونکہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا سنت سے ثابت تھا، جس کو قرآن نے منسوخ کر دیا امام شافعی اور ایک روایت میں امام احمد اور اہل ظاہر اس کے قائل نہیں ہیں اور امام ابوحنیفہ اور جمہور اس کے قائل ہیں ۔
(۳) اس حدیث میں دلیل ہے کہ خبر واحد کو قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا جائز ہے کیونکہ جس شخص نے نبی ﷺ کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی تھی، اس کے خبر دینے سے مدینہ کی دوسری مسجد کے نمازیوں نے اپنا قبلہ تبدیل کر لیا ۔
(۴) اس میں یہ دلیل ہے کہ ایک نماز کو دو طرف منہ کر کے پڑھنا جائز ہے، اگر کسی شخص کو نماز میں پتا چل جائے کہ قبلہ دوسری طرف ہے تو وہ اس طرف مڑ جائے ۔
(۵) اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہوۓ اجتہاد کر نے کا جواز ہے کیونکہ اس مسجد کے نمازی یہ بھی کر سکتے تھے کہ نماز توڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتے کہ قبلہ تبدیل ہوا ہے یا نہیں ۔
(۶) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت بڑا مرتبہ ہے کیونکہ اللہ تعالی نے آپ کے سوال کے بغیر بیت اللہ کو آپ کے لیے قبلہ بنادیا اور فرمایا: ’ ہم آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس پر آپ راضی ہیں‘‘(البقرہ: ۱۴۴) ۔