کتاب العلم باب 7 حدیث نمبر 65
65- حدثنا محمد بن مقاتل أبو الحسن أخبرنا عبدالله قال أخبرنا شعبة، عن قتادة، عن أنس بن مالك قال كتب النبي صلى الله عليه وسلم كتابا أو أراد أن يكتب فقيل له إنهم لا يقرؤون كتابا إلا مختوما، فاتخذ خاتما من فضة نقشه محمد رسول الله، کانی انظر إلى بياضه في يده، فقلت لقتادة من قال نقشه محمد رسول الله؟ قال أنس۔
اطراف الحدیث : ۲۹۳۸۔ 5870۔ ۵۸۷۲۔ ۵۸۷۵ – 7162
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں محمد بن مقاتل ابوالحسن نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے خبر دی، از قتادہ از حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مکتوب لکھا یا آپ نے لکھنے کا ارادہ کیا آپ سے عرض کیا گیا کہ وہ لوگ صرف اسی مکتوب کو پڑھتے ہیں، جو مہر شدہ ہو، تب آپ نے چاندی کی ایک انگوٹی بنوائی، جس کا نقش محمد رسول اللہ‘‘ تھا گویا میں آپ کے ہاتھ میں اس کی سفیدی دیکھ رہا تھا۔ شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے پوچھا: یہ کس نے کہا کہ اس کا نقش’’ محمد رسول اللہ” تھا انہوں نے بتایا حضرت انس نے ۔
( صحیح مسلم : ۲۰۹۲، سنن ترمذی : ۱۸ ۲۷، سنن نسائی : ۵۲۹۳ – ٬۵۲۱۶ سنن ابن ماجه : ۶۴۰ ۳ مسند ابوعوانہ ج ۴ ص ۱۹۷، الطبقات الکبری ج ص ٬۴۷۱ مسند ابو یعلی :۱ ۳۲۷، سنن بیہقی ج۱۰ ص ۱۲۸ شرح السنۃ:۱ ۱۳ ۳ المعجم الاوسط : 6524، مسند احمد ج ۳ ص ۱۶۹ طبع قدیم، مسند احمد 12720ج 20 ص 139) ۔
اس حدیث کی عنوان باب کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ اس باب کے عنوان کا دوسرا جز ہے : شہر والوں کی طرف علم کو لکھنا اور اس حدیث میں ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسری کی طرف مکتوب لکھ کر بھیجا۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) ابوالحسن محمدبن مقاتل المروزی، یہ امام بخاری کے شیخ ہیں، امام بخاری ان سے روایت میں منفرد ہیں، یہ ابن المبارک اور وکیع سے روایت کرتے ہیں اور ان سے امام احمد بن حنبل روایت کرتے ہیں، خطیب نے کہا: یہ ثقہ ہیں ابوحاتم نے کہا: صدوق ہیں، یہ 226ھ کے آخر میں فوت ہو گئے تھے.
(۲) عبداللہ بن المبارک.
(۳) شعبہ بن الحجاج.
( ۴) قتادہ بن دعامه السدوی.
( ۵ ) حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ ان سب کا تعارف ہو چکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۳)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لکھنے کا ثبوت اور کفار کے مخصوص طریقہ کو اپنانے کا جواز، بہ شرطیکہ وہ ان کی بدعقیدگی پر مبنی نہ ہو
اس حدیث میں مذکور ہے: حضرت انس نے انگوٹھی کی صفت میں کہا: میں آپ کے ہاتھ میں انگوٹھی کی صفت دیکھ رہا تھا۔ حالانکہ انگوٹھی ہاتھ میں نہیں، انگلی میں پہنی جاتی ہے ۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں ہاتھ سے مراد انگلی ہے اور حدیث میں جز پر کل کا اطلاق ہے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم قیصر اور کسری کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کر رہے تھے، اس پر یہ اعتراض ہے کہ آپ تو امی تھے، لکھتے نہ تھے، علامہ بدرالدین عینی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا ہے اور ان شاء اللہ’’ کتاب الجہاد میں اس کا ذکر آۓ گا اور اگر یہ ثابت ہو کہ آپ نے بالکل نہیں لکھا تو پھر آپ کی طرف لکھنے کا اسناد مجاز عقلی ہوگا۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۴)
* ہم نے اپنی تفسیر تبیان القرآن الاعراف: ۱۵۷ کی تفسیر میں بہت دلائل سے ثابت کیا ہے کہ آپ کی طرف لکھنے کا اسناد حقیقت عقلی ہے۔
اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ مکتوب کے آخر میں مہر لگانا کفار کا طریقہ تھا اس کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکتوب پر مہر لگانے کے لیے مہر بنوائی، اس سے معلوم ہوا کہ کسی کام میں کفار کی مشابہت مطلقا ممنوع نہیں ہے، صرف وہی مشابہت ممنوع ہے جو ان کی کسی بدعقیدگی پر مبنی ہو، اس کی مفصل اور مکمل تحقیق ہم نے شرح صحیح مسلم ج 6 ص ۳۸۳۔ ۳۷۴ میں کی ہے، وہاں ملاحظہ فرمائیں ۔
* یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۵۳۶۸ – 5367 ۔ ج 6 ص ۳۹۹ پر مذکور ہے، وہاں اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں:
) چاندی کی انگوٹھی پہننے اور اس پر نقش کندہ کرانے کا بیان
(۲) دائیں یا بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننے کے متعلق فقہاء ، شافعیہ اورفقہاء مالکیہ کے نظریات ۔