۳۰- باب من أعاد الحديث ثلاثا ليفهم عنه

جس شخص نے حدیث کو تین بار دہرایا تا کہ اس کو سمجھ لیا جاۓ

یعنی جس شخص نے دین سے متعلق کلام کو تین بار دہرایا، تاکہ اس کو سمجھ لیا جاۓ، اس باب کی باب سابق کے ساتھ یہ مناسبت ہے کہ باب سابق میں سائل اور متعلم کا حال تھا اور اس باب میں تعلیم کے طریقہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات حدیث کو تین بار دہراتے تھے تاکہ اس کو اچھی طرح سمجھ لیا جاۓ ۔

عنوان باب کی وضاحت کے لیے امام بخاری نے ایک حدیث کا یہ قطعہ ذکر کیا:

فقال الا وقول الزور فما زال يكررها .

پس آپ نے فرمایا: سنو ! اور جھوٹی بات پھر آپ مسلسل اس کی تکرار کرتے رہے ۔

جس حدیث کا یہ قطعہ ہے وہ مکمل حدیث اس طرح ہے:

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین بارفرمایا: کیا میں تم کو سب سے بڑے گناہ( کبیرہ) کی خبر نہ دوں! مسلمانوں نے کہا: کیوں نہیں! یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا: اللہ کا شریک بنانا اور والدین کی نافرمانی کرنا آپ ٹیک لگاۓ ہوۓ تھے کہ اٹھ کر بیٹھ گئے، پھر فرمایا: سنو! اور جھوٹی بات! آپ مسلسل اس کی تکرار کرتے رہے حتی کہ ہم نے کہا: کاش! آپ خاموش ہوجاتے ۔ ( صحیح البخاری:5976، – 2654 صحیح مسلم : ۷ ۸ سنن ترمذی :۱۹۰۱ مسند احمد ج ۵ ص 36)

اس کے بعد امام بخاری نے ایک حدیث کا یہ قطعہ ذکر کیا:

وقال ابن عمر قال النبي صلى الله عليه وسلم هل بلغت؟ ثلاثا۔

   حضرت ابن عمر نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے؟

جس حدیث کا یہ ایک قطعہ ہے وہ مکمل حدیث یہ ہے:

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا: سنو! تمہارے علم میں وہ کون سا مہینہ ہے جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے؟ مسلمانوں نے کہا: کیا وہ ہمارا یہ مہینہ نہیں ہے! آپ نے فرمایا: سنو! تمہارے علم میں وہ کون سا شہر ہے جس کی سب سے زیادہ حرمت ہے؟ مسلمانوں نے کہا: کیا وہ ہمارا یہ شہر نہیں ہے! آپ نے فرمایا: سنو! تمہارے علم میں وہ کون سا دن ہے جس کی سب سے زیادہ حرمت ہے؟ مسلمانوں نے کہا: کیا وہ ہمارا یہ دن نہیں ہے! آپ نے فرمایا: بے شک اللہ تبارک و تعالی نے تمہاری جانوں کو اور تمہارے مالوں کو اور تمہاری عزتوں کو ایک دوسرے پر اس طرح حرام کر دیا ہے جس طرح آج کے دن، اس شہر میں اور اس مہینہ کی حرمت ہے یہ حرمت حقوق کے ماسوا ہے، آپ نے تین بار فرمایا : سنو! کیا میں نے تبلیغ کردی ہے؟ اور ہر بار مسلمان کہتے تھے: کیوں نہیں ! ہاں! آپ نے فرمایا: تم پر افسوس ہے! تم میرے بعد کافر ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں مارنا نہ شروع کردینا۔ (صحیح البخاری: ۶۷۸۵ کتاب الحدود باب ظهر المومن حمى الا في حد اوحق )

٩٤- حدثنا عبدة قال حدثنا عبدالصمد قال حدثنا عبدالله بن المثنى قال حدثنا ثمامة بن عبداللہ عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان إذا سلم سلم ثلاثا، وإذا تكلم بكلمة أعادها ثلاثا.

اطراف الحدیث: ۹۵ – ۶۲۴۴

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبدہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبد الصمد نے حدیث بیان کی انہوں نےکہا: ہمیں عبداللہ بن مثنی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ثمامہ بن عبداللہ نے حدیث بیان کی از حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم بے شک جب آپ سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے اور جب بات کرتے تو کسی ( اہم) بات کو تین بار دہراتے ۔ 

سنن ترمذی: ۲۷۲۳،3640، شمائل ترمذی: ٬۲۲۴سنن ابوداؤد:۵۱۸۵ المستدرک ج ۴ ص ۷۳ ۲ تاریخ بغداد ج ۳ ص ۴۱۶ معجم الکبیر 8095،مسند احمد ج ۳ ص ۲۱۳ طبع قدیم مسند احمد :۱۳۲۲۱۔ ج20 ص ۴۳۸ مؤسسة الرسالة بيروت 

اس حدیث کی عنوان باب کے ساتھ مطابقت واضح ہے کیونکہ اس میں تین مرتبہ بات کو دہرانے کا ذکر ہے۔