95- حدثنا عبدة بن عبد الله ، حدثنا عبد الصمدقال حدثنا عبد الله بن المثنى قال حدثنا ثمامة بن عبد الله ، عن أنس، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان إذا تكلم بكلمة أعادها ثلاثا حتى تفهم عنه، وإذا أتى على قوم فسلم عليهم سلم عليهم ثلاثا۔

 

 

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عہدہ بن عبد اللہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبد الصمد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ بن المثنی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ثمامہ بن عبداللہ نے حدیث بیان کی از حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ بات کرتے تو کسی ( اہم) بات کو تین بار دہراتے تاکہ اسے سمجھ لیا جاۓ اور جب آپ کسی قوم کے پاس جاتے اور انہیں سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے ۔

اس حدیث کے اطراف اور تخریج وہی ہیں جوحدیث سابق ( : ۹۴ ) کی ہیں ۔

 

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

 

(۱) عبدہ بن عبداللہ الخزاعی البصری،  ان سے امام مسلم کے علاوہ باقی ائمہ نے احادیث روایت کی ہیں، امام نسائی نے کہا: یہ ثقہ ہیں یہ ۲۵۸ھ میں فوت ہو گئے تھے۔

(۲) عبدالصمد بن عبد الوارث البصری، یہ ۲۰۷ھ میں فوت ہوگئے تھے۔

( ۳) عبداللہ بن المثنی یہ حسن بصری اور ان کے بیٹے سے روایت کرتے ہیں، ابوحاتم نے کہا: یہ صالح الحدیث ہیں امام ابوداؤد نے کہا: میں ان کی احادیث روایت نہیں کرتا امام بخاری، امام ترمذی،  اور امام ابن ماجہ نے ان کی احادیث روایت کی ہیں۔

( ۴ ) ثمامہ بن عبداللہ بن انس بن مالک الانصاری البصری یہ اپنے دادا حضرت انس اور حضرت البراء رضی اللہ تعالی عنہم  سے روایت کرتے ہیں اور ان سے عبد اللہ بن المثنی اور معمر وغیرہ روایت کرتے ہیں، امام احمد اور امام نسائی وغیرہ نے ان کی توثیق کی ہے ابن معین نے ان کی تضعیف کی طرف اشارہ کیا ہے۔

(۵) پانچویں راوی حضرت انس  رضی اللہ تعالی عنہ  ہیں، ان کا تعارف ہوچکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۱۷۵ – ۱۷۴)

 

تین بار سلام کرنے کی دیگر احادیث

 

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں انصار کی مجالس میں سے ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ناگاہ حضرت ابوموسیٰ اشعری آۓ گویا کہ وہ خوف زدہ تھے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر سے تین بار اجازت طلب کی، مجھے اجازت نہیں ملی تو میں لوٹ آیا حضرت عمر نے کہا: تم کو آنے سے کس چیز نے منع کیا؟ میں نے کہا: میں نے تین بار اجازت طلب کی مجھے اجازت نہیں ملی تو میں لوٹ آیا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جب تم میں سے کوئی اجازت طلب کرے تو تین بار اجازت طلب کرے، اس کو اجازت نہ دی جاۓ تو وہ لوٹ جاۓ، حضرت عمر نے کہا: اللہ کی قسم ! تم اس حدیث پر ضرور کوئی گواہ پیش کرو گے حضرت ابوموسی نے کہا: کیا تم میں سے کسی ایک نے اس حدیث کو نبی ﷺ سے سنا ہے؟ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! اس کی شہادت وہ دے گا جو لوگوں میں سب سے کم عمر ہے، حضرت ابوسعید نے کہا: پس میں لوگوں میں سب سے کم عمر تھا’ میں ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمایا ہے ۔

( صحیح البخاری:6245، صحیح مسلم : ۲۱۵۳، سنن ابوداؤد :٬۵۱۸۰ سنن ترمذی: ۲۶۹۰، سنن ابن ماجه :3706، مصنف عبد الرزاق : ۱۹۴۲۳، سنن  داری: ۲۶۳۲ صحیح ابن حبان : ۵۸۱۰ مسند احمد ج ۴ ص ۴۰۴)

 

حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر میں ہم سے ملاقات کے لیے تشریف لاۓ پس فرمایا: السلام عليكم ورحمة الله‘‘ تو حضرت سعد نے بہت آہستہ آواز سے جواب دیا، قیس نے کہا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آنے کی اجازت نہیں دے رہے؟ حضرت سعد نے کہا: چھوڑو، ان کو ہمیں زیادہ سلام کرنے دو، رسول اللہ ﷺ نے پھر فرمایا: السلام عليكم ورحمة اللہ‘‘حضرت سعد نے پھر آہستہ سے جواب دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: “السلام عليكم ورحمة اللہ “ پھر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ کر چلے گئے اور حضرت سعد آپ کے پیچھے گئے پھر انہوں نے کہا: یارسول اللہ! میں آپ کے سلام کرنے کو سن رہا تھا اور آپ کو جواب بھی دے رہا تھا اور میں ( عمدا ) پست آواز سے جواب دے رہا تھا تا کہ آپ ہمیں کثرت سے سلام کریں قیس نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ واپس آگئے۔ حضرت سعد نے آپ سے عرض کیا: آپ غسل کرلیں، سو آپ نے غسل کیا، پھر انہوں نے آپ کو زعفران یا عنابی رنگ میں رنگی ہوئی چادر پیش کی، آپ نے وہ چادر اوڑھ لی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی : اے اللہ! سعد بن عبادہ کی آل پر اپنی صلوات اور رحمتیں نازل فرما پھر رسول اللہ ﷺ نے کھانا تناول فرمایا، جب آپ نے واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت سعد نے آپ کے قریب ایک دراز گوش لا کھڑا کیا جس کے اوپر ایک چادر ڈالی ہوئی تھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوگئے پھر حضرت سعد نے کہا: اے قیس ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاؤ حضرت قیس نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: سوار ہو جاؤ میں نے (ادبا ) انکار کیا پھر آپ نے فرمایا: یا سوار ہو یا لوٹ جاؤ انہوں نے بتایا: میں لوٹ گیا۔

امام ابوداؤد نے کہا: اس حدیث کو عمر بن عبدالواحد اور ابن سماعہ نے امام اوزاعی سے مرسلا روایت کیا ہے اور حضرت قیس بن سعد کا ذکر نہیں کیا ۔ (سنن ابوداؤد:۵۱۸۵)

امام ابوداؤد نے اس حدیث کو متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اگرچہ یہ حدیث بعض طرق سے مرسلا مروی ہے، تاہم کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ فقہاءاحناف اور مالکیہ کے نزدیک حدیث مرسل مطلقا حجت ہوتی ہے ۔

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ کسی کام کے تکرار کی انتہاء تین کے عدد پر ہوتی ہے ۔