۳۳- باب الحرص على الحديث

حدیث کی حرص

یہ باب حدیث کی تحصیل کی حرص کے بیان میں ہے، لغت میں حدیث کا معنی قدیم کے مقابلہ میں ہے یعنی جدید اور نئی چیز، اور عرف میں حدیث کا معنی کلام ہے اور عرف شرع میں حدیث کا معنی ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال،  آپ کے افعال، آپ کی صفات اور آپ کے احوال، اور آپ کی تقریرات یعنی آپ کے سامنے کوئی کام کیا جاۓ اور آپ اس کو رد نہ فرمائیں بلکہ اس کو مقرر اور ثابت رکھیں ۔

باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں عورتوں کو تعلیم دینے کا بیان تھا اور وہ بھی تعلیم خاص ہے اور اس باب میں حضرت ابوہریرہ کے ایک سوال کا جواب ہے اور یہ بھی تعلیم خاص ہے۔

۹۹- حدثنا عبد العزيز بن عبد الله قال حدثني  سليمان، عن عمرو بن أبي عمرو، عن سعید بن ابی سـعـيـد الـمـقـبـري عن أبي هريرة أنه قال قيل يارسول الله من أسعد الناس بشفاعتك يوم القيامة؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لقد ظننت یااباهريرة أن لا يسالني عن هذا الحديث أحد أول منك لما رأيت من حرصك على الحديث، اسعد النّاس بشفاعتي يوم القيامة من قال لا إله إلا اللہ خالصا من قلبه أو نفسه. [ طرف الحديث :6570]

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبد العزیز بن عبداللہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے سلیمان نے حدیث بیان کی از عمرو بن ابی عمرو از سعید بن ابی سعید المقمری از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ انہوں نے بیان کیا: یارسول اللہ! یہ کہا گیا ہے کہ قیامت کے دن آپ کی شفاعت کے حصول میں کون زیادہ کامیاب ہوگا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! بے شک میرا یہ گمان تھا کہ اس حدیث کے متعلق تم سے پہلے مجھ سے کوئی سوال نہیں کرے گا، کیونکہ حدیث کے اوپر تمہاری حرص مجھے معلوم ہے قیامت کے دن میری شفاعت کے حصول میں سب سے زیادہ وہ شخص کامیاب ہوگا، جس نے خلوص قلب یا اخلاص نفس کے ساتھ لا الہ الا اللہ پڑھا۔

(السنن الکبری للنسائی: 5842، صحیح ابن خزیمہ ج ۲ ص 699 الشریعہ للآجری ص 340،  شرح السنتہ : ۴۳۳۶ السنه لا بن ابی عاصم : ۸۲۵ مسند احمد ج ۲ ص ۷۳ ۳ طبع قدیم، مسند احمد : ۸۸۵۸ – ج ۱۴ ص 446،  مؤسسة الرسالة بيروت )

باب کے عنوان سے اس حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت ابو ہریرہ سے یہ ارشاد ہے کہ مجھے تمہاری حدیث پر حرص کا علم ہے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) عبدالعزیز بن عبدالله القرشی العامری الاویسی المدنی الفقیہ، ان سے امام بخاری امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے روایت کی ہے ابوحاتم نے کہا: یہ مدنی صدوق ہیں ۔

(۲) سلیمان بن بلال، ان کا تعارف ہوچکا ہے۔

(۳) عمرو بن ابی عمرو میسرہ المخزومی القرشی المدنی، انہوں نے حضرت انس بن مالک وغیرہ سے روایت کی ہے اور ان سے امام مالک اور الدراوردی نے روایت کی ہے امام ابوزرعہ نے کہا: یہ ثقہ ہیں، ابوحاتم نے کہا: ان کی روایت میں کوئی حرج نہیں اور یحیی بن معین نے کہا: یہ ضعیف ہے، قوی نہیں ہے اور حجت نہیں ہے، یہ 136 ھ میں فوت ہوگئے تھے۔

(۴) سعید بن ابی سعید المقبری۔

(۵) حضرت ابوہریرہ عبدالرحمان بن صخر رضی اللہ عنہ ۔

)عمدة القاری ج ۲ ص ۱۸۹)

سعادت کا معنی اور آپ کی شفاعت کی سب سے زیادہ سعادت حاصل کرنے کی تفصیل

اس حدیث میں’’ اسعد ‘‘ کا لفظ ہے یہ “سعد‘‘ کا اسم تفضیل ہے’سعد‘‘ کا معنی ہے: مبارک، یہ منحوس کی ضد ہے، بہت سارے لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کی سعادت اور برکت حاصل ہوگی، لیکن مخلص مومن کو سب سے زیادہ سعادت حاصل ہوگی ۔(۱) نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدان محشر کی ہولناکی سے چھٹرانے کے لیے تمام مخلوق کی شفاعت کریں گے (۲) بعض کفار کے لیے تخفیف عذاب کی شفاعت کریں گے جیسے ابوطالب کے لیے (۳) بعض مؤمنین کو دوزخ میں داخل کردیا جاۓ گا آپ ان کو دوزخ سے نکالنے کی شفاعت کریں گے (۴) بعض مؤمنین دوزخ میں دخول کے مستحق ہوں گے، ان کو دوزخ میں داخل نہ کرنے کی شفاعت کریں گے (۵) بعض مؤمنین کو جنت میں بغیر حساب کے داخل کرنے کی شفاعت کریں گے (۲) بعض کے لیے درجات میں بلندی کی شفاعت کریں گے ( ۷ ) جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی ان کو جنت میں داخل کرنے کی سفارش کریں گے ۔ یہ سب لوگ آپ کی شفاعت کی سعادت حاصل کریں گے لیکن سب سے زیادہ آپ کی شفاعت وہ حاصل کرے گا جو خلوص قلب سے ایمان لایا ہو۔

شفاعت کا لغوی اور اصطلاحی معنی، شفاعت میں مذاہب اور شفاعت میں اہل سنت کے مؤقف پر ۔۔۔۔ قرآن مجید اور احادیث سے دلائل

شفاعت کا لفظ شفع سے بنا ہے، اس کا معنی ہے: ایک چیز کے ساتھ اس کی مثل ملانا، جیسے ایک رکعت کے ساتھ اس کی مثل ملائی جاۓ تو اس کو شفع ( دوگانہ ) کہتے ہیں کوئی شخص کسی مکان کے ساتھ اس کی مثل ملاۓ تو اس کو شفعہ‘‘ کہتے ہیں اور جب مجرم اپنے ساتھ کسی معاون کو ملائے تو اس کو شفاعت کہتے ہیں اکثر شفاعت کا اطلاق اس پر ہوتا ہے جب ادنی شخص کسی اعلی شخص کو اپنے ساتھ ملاۓ ۔

اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے کہ گناہ کبیرہ کے مرتکبین کو دوزخ سے بچانے اور ان کو دوزخ سے نکالنے کے لیے شفاعت ہوگی اور خوارج اور معتزلہ کبیرہ گناہ کے مرتکبین کے لیے شفاعت کے قائل نہیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ صرف صغائر کے لیے اور نیک لوگوں کے درجات میں بلندی کے لیے شفاعت ہوگی ان کی دلیل اس قسم کی آیات ہیں :

نما تنفعهم شفاعة الشفعين (المدثر:۴۸)

ان کو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت نفع نہیں دے گی۔

ما للظلمين من حميم ولا شفيع يطاء(المومن 18)

ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا نہ شفاعت کر نے والا، جس کی شفاعت قبول کی جاۓ

ہم کہتے ہیں کہ اس قسم کی آیات کفار کے حق میں وارد ہیں اور یہ آیات مؤمنین مرتکبین کبائر کے لیے نہیں ہیں اور مؤمنین مرتکبین کبائر کی شفاعت کا ثبوت اس قسم کی آیات سے ہے: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اصحاب کبائر کی شفاعت کر تے ہوۓ فرمایا: 

فمن تبعني فإنه مني ومن عصاني فإنك غفور رحیم (ابراہیم: 36)

جس نے میری پیروی کی وہ میرے طریقہ پر ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو بے شک تو بہت بخشنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہے

ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاءوك فاستغفرواالله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيما0۔

 اگر یہ لوگ گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوں اپنے گناہوں پر اللہ تعالی سے مغفرت طلب کریں اور رسول ان کی شفاعت کریں تو یہ اللہ کو بہت توبہ قبول کرنےطوالا بے حد رحم فرمانے والا پائیں گے ۔

اور درج ذیل احادیث میں بھی شفاعت کی تصریح ہے:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کی ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے اور ہر نبی نے اس دعا کو دنیا میں خرچ کرلیا اور میں نے اس دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے بچا کر رکھا ہے اور یہ ان شاء اللہ میری امت کے ہر اس فرد کو حاصل ہو گی جو اللہ کے ساتھ بالکل شرک نہیں کرے گا۔

( صحیح مسلم :۱۹۹، سنن ترمذی: 3602  سنن ابن ماجہ: ۴۳۰۷ مسند احمد ج ۲ ص۴۲۶)

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے ۔(سنن ابوداؤد : ۴۷۳۹، سنن ترمذی:۲۴۳۶، سنن بیہقی ج ۸ ص ۱۹۰۔ ۱۷۔۱۰ مشکوۃ: ٬۵۵۹۸ کامل ابن عدی ج۱ ص ۳۴۲- ج ۲ ص ۵۱۲ ۔ ج ۳ ص ۱۰۰۳ المعجم الکبیر: ۵۴ ۱۱۴ السنتہ لابی عاصم ج ۲ ص ۳۹۹، الترغیب والترہیب ج ۴ص۴۴۶، صحیح ابن حبان :2596، کنز العمال:٬۳۹۰۵۵ مسنداحمد ج ۳ ص ۲۱۳)

شرح صحیح مسلم میں شفاعت کی بحث

شرح صحیح مسلم :1066 ۔ ج ۲ ص 61 – ۳۸ میں ہم نے شفاعت پر بہت طویل بحث کی ہے اس کے حسب ذیل عنوان ہیں:

شفاعت کا لغوی معنی

(۲) شفاعت کا اصطلاحی معنی

(۳) اہل قبلہ کے شفاعت میں نظریات ( وہابیہ، دیابنہ، اہل سنت )

(۴) خوارج کے شبہ کا ازالہ

(۵) بعض مخالفین کے شبہ کا ازالہ

(6) انبیاء علیہم السلام کی حضور الوہیت میں وجاہت

(7) حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی حضور الوہیت میں وجاہت قرآن سے (۸ آیات )

(1) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وجاہت احادیث سے ۱۰ احادیث

(0) شفاعت پر قرآن کریم سے دلائل ۵۱ آیات (۰) شفاعت پر احادیث سے دلائل ۴۰ احادیث

(۱) اقسام شفاعت ۴۹ اقسام

(۴) نظریہ کفارہ مسیح اور شفاعت میں فرق۔

تبیان القرآن میں بھی ہم نے شفاعت کے موضوع پر بہت تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔(دیکھئے: ج ۷ ص۴۸۱۔۴۳۸ :طہ  ۱۱۲۔۱۰۹)