أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نَحۡنُ خَلَقۡنٰهُمۡ وَشَدَدۡنَاۤ اَسۡرَهُمۡ‌ۚ وَاِذَا شِئۡنَا بَدَّلۡنَاۤ اَمۡثَالَهُمۡ تَبۡدِيۡلًا ۞

ترجمہ:

ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ مضبوط بنائے ہیں، اور ہم جب چاہیں گے ان کے بدلے میں اور لوگ لے آئیں گے.

الدھر : ٢٨ میں فرمایا : ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ مضبوط بنائے ہیں، اور ہم جب چاہیں گے ان کے بدلہ میں اور لوگ لے آئیں گے۔

دنیا کی جلد ملنے والی چیزوں کی محبت کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ کفار دنیا میں جلد ملنے والی نعمتوں سے محبت کرتے ہیں، سو دنیاوی نعمتوں سے محبت کرنے کا تقاضا بھی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو مانیں اور اس کی اطاعت کریں کیونکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا اور ان کا مضبوط جسم بنایا، ان کے جوڑ بند پختہ کیے اور انکے جوڑوں کو رگوں اور پٹھوں کے ساتھ مضبوطی سے باندھا۔ اس کے علاوہ ان کو دنیا میں زندہ رہنے کے تمام اسباب عطا کیے، سو اگر وہ ان دنیاوی نعمتوں سے محبت کرتے ہیں تو اس کا تقاضا بھی یہ ہے کہ وہ ان نعمتوں کے عطاء کرنے والے سے محبت کریں، اس کا شکر ادا کریں اور اس کی اطاعت و عبادت کریں، نیز ان کو اس سے بھی ڈرنا چاہیے، جو ان نعمتوں کو عطاء کرسکتا ہے وہ ان نعمتوں کو چھین بھی سکتا ہے، تو ان نعمتوں کے زائل ہوجانے کے خوف کا بھی یہ تقاضا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی عبادت کریں، خلاصہ یہ ہے کہ اول تو ان لوگوں کو آخرت کی دائمی نعمتوں سے محبت کرنی چاہیے اور ان نعمتوں کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانا چاہیے اور اس کی اطاعت اور عبادت کرنی چاہیے اور اگر وہ دنیا کی جلد ملنے والی عارضی نعمتوں سے محبت کرتے ہیں تو ان نعمتوں کے زوال کے خطرہ سے بچنے کے لیے اور ان نعمتوں کی بقاء کے لیے اور ان نعمتوں کے پیدا کرنے اور عطاء کرنے والے کا شکر ادا کرنے کے لیے ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانا چاہیے اور اس کی اطاعت اور عبادت کرنی چاہیے۔

” اسر “ کا معنی اور کافروں کو فنا کر کے دوسری قوم کو پیدا کرنے کی قدرت

اس آیت میں ’ ’ اسر “ کال فظ ہے، اس کا معنی ہے : انسان کے جوڑوں کی بندش، امام رازی نے لکھا ہے : ” اسر “ کا معنی ہے : کسی چیز کو رسی سے باندھنا، کسی قیدی کو یاگھوڑے کو مضبوطی سے باندھنا اور اسی آیت میں یہ معنی ہے کہ ہمنے ان کے اعضاء کو ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے باندھا ہوا ہے اور ان کے جوڑوں کو رگوں اور پٹھوں کے ساتھ پختگی کے ساتھ باندھا ہوا ہے۔

نیز اس آیت میں فرمایا ہے : اور ہم جب چاہیں گے ان کے بدلہ میں اور لوگ لے آئیں گے۔

اس کا معنی یہ ہے کہ جب ہم چاہیں گے ان لوگوں کو ہلاک کردیں گے اور ان کے بدلہ میں اور لوگ پیدا کردیں گے، اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے متعدد آیات میں بیان فرمایا ہے :

اِنْ یَّشَاْ یُذْھِبْکُمْ اَیُّھَا النَّاسُ وَیَاْتِ بِاٰخَرِیْنَط وَکَانَ اللہ ُ عَلٰی ذٰلِکَ قَدِیْراً ۔ (النسائ : ١٣٣)

اگر وہ چاہے تو اے لوگو ! تم وہ تم سب کو لے جائے اور دوسروں کو لے آئے اور اللہ اس پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّط اِنْ یَّشَاْ یُذْہِبْکُمْ وَیَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ ۔ (ابراہیم : ١٩)

( اے مخاطب ! ) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، اگر وہ چاہے تو تم سب کو لے جائے گ اور ایک نئی مخلوق لے آئے۔

وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ثُمَّ لَا یَکُوْنُوْٓا اَمْثَالَکُمْ ۔ (محمد : ٣٨)

اگر تم نے روگردانی کی تو وہ تمہارے بدلہ میں اور لوگوں کو لے آئے گا، جو تمہاری طرح نہ ہوں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 28