کتاب العلم باب 37 حدیث نمبر 104
۳۷- باب ليبلغ العلم الشاهد الغائب
شاہد ( حاضر ) غائب کو علم پہنچا دے
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ باب سابق میں متعلم کی عالم کی طرف مراجعت کا بیان ہے اوراس باب میں غائب تک علم پہنچانے کا ذکر ہے اور جو غائب تک علم پہنچائے گا وہ اس کی طرف مراجعت کرے گا تو نفس مراجعت میں یہ دونوں باب متناسب ہیں ۔ اس کے بعد امام بخاری نے فرمایا:
قاله ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم۔
اس کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد شاہد غائب کو پہنچا دے یہ حدیث معلق ہے’’ کتاب الحج ‘‘ میں امام بخاری نے اس کو موصولا روایت کیا ہے اور وہ حدیث یہ ہے:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر ( دس ذوالحج ) کولوگوں کو خطبہ دیا پس فر مایا : اے لوگو! یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ یوم حرام ہے، پھر فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ شہر حرام ہے، پھر فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ مہینہ حرام ہے (یعنی احترام والا مہینہ ہے ) آپ نے فرمایا: تمہاری جانیں اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اس طرح حرام ہیں، جس طرح تمہارے اس دن میں تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینہ میں حرمت ہے پھر آپ نے ان کلمات کو بار بار دہرایا پھر اپنا سر بلند کر کے فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے تبلیغ کر دی! اے اللہ ! کیا میں نے تبلیغ کر دی! حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! یہ ضرور آپ کی اپنی امت کے لیے وصیت تھی شاہد غائب کو پہنچا دے۔( صحیح البخاری:739، سنن ابن ماجہ : ۲۳۳، مسند احمد :۲۰۵۳۰۔۲۰۴۲۹۔ ج۵، ص۳۹)
١٠٤- حدثنا عبدالله بن يوسف قال حدثني الليث قال حدثني سعيد، عن ابي شريح انه قال لعمرو بن سعيد. وهو يبعث البعوث إلى مكة، ائذن لي أيها الأمير أحدثك قولاً قام به النبي صلّی الله عليه وسلم الغد من يوم الفتح ، سمعته اذنای، ووعـاه قلبي وأبصرته عيناى حين تكلم به حمدالله وأثنى عليه ثم قال إن مكة حرمها الله ،ولم یحرمها الناس، فلا يحل لامرىء يؤمن بالله واليوم الأخـر أن يسفك بهـا دمـا ولا يعضد بها شجرة فإن أحد ترخص لقتال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فيها فقولوا ان الله قد اذن لرسوله ، ولم يأذن لكم وإنـمـا أذن لي فيها ساعة من نهار ثم عادت حرمتهـا اليـوم كـحـرمتها بالأمس ، وليبلغ الشاهد الغائب۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے لیث نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے سعید نے حدیث بیان کی از ابی شریح انہوں نے عمرو بن سعید سے اس وقت کہا جب وہ مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا: اے امیر ! میں آپ سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں، جس کو کل نبی ﷺ نے فتح مکہ کے دن کھڑے ہو کر فرمایا تھا، اس حدیث کو میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اس کو یاد رکھا اورکو جس وقت آپ نے وہ حدیث فرمائی‘ میری دونوں آنکھوں نے آپ کو دیکھا آپ نے اللہ تعالی کی حمد وثنا کی، پھر فرمایا: بے شک مکہ کو اللہ نے حرم قرار دیا ہے، اس کو لوگوں نے حرام قرارنہیں دیا، سو جو شخص بھی اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہو اس کے لیے مکہ میں خون بہانا جائز نہیں ہے اور نہ مکہ کے درخت کو کاٹنا جائز ہے پس اگر کوئی شخص مکہ میں رسول اللہ ﷺ کے قتال کر نے سے قتال کی رخصت پر استدلال کرے تو اس سے کہو: بے شک اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں اجازت نہیں دی ہے اور مجھے اس میں صرف دن کی ایک ساعت میں اجازت دی تھی، آج اس کی حرمت پھر لوٹ آئی ہے جیسا کہ کل اس کی حرمت تھی اور شاہد( حاضر ) کو چاہیے، غائب کو( یہ حدیث ) پہنچا دے۔
فقيل لابي شريح ما قال عمرو؟ قال أنا أعلم منك يا أبا شريح إن مكة لا تعيذ عاصيا ولا فارا بدم ولا قارا بخربة۔اطراف الحدیث: ۱۸۳۲۔ ۴۲۹۵
پھر ابوشریح سے پوچھا گیا کہ ( اس کے جواب میں ) عمرو بن سعید نے کیا کہا؟ اس نے کہا: اے ابوشریح! میں اس مسئلہ کوتم سے زیادہ جانتا ہوں بے شک ملکہ کسی نافرمان کو پناہ نہیں دیتا اور قتل کر کے بھاگنے والے کو اور نہ کسی کی چوری کر کے بھاگنے والے کو۔
صحیح مسلم : 1354، سنن ترمذی:809، سنن نسائی:2876، سنن کبری: 5846، اخبار مکہ : ۹۳ ۱۴ المعجم الکبیر : ۴۸۴ – ج 22 دلائل النبوة للبیہقی ج ۵ ص ۸۳ – ۸۲ مسند احمد ج ۴ ص ۱ ۳ طبع قدیم مسند احمد : 16373،۔ ج۲۶ ص ۲۹۳ مؤسسة الرسالة بیروت۔
باب کے عنوان کے ساتھ حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: شاہد غائب کو حدیث پہنچا دے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) عبداللہ بن یوسف التنیسی۔
(۲) لیث بن سعد مصری۔
(۳) سعید بن ابی سعید المقبری، ان سب کا تعارف گزر چکا ہے۔
(۴) ابوشریح خویلد بن صخر الخزاعی الکعبی، یہ فتح مکہ کے بعد اسلام لائے تھے اس دن انہوں نے بنوکعب بن خزاعہ کے جھنڈے اٹھاۓ ہوۓ تھے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ۲۰ احادیث روایت کی ہیں امام بخاری اور امام مسلم ۲ حدیثوں پر متفق ہیں امام بخاری ایک حدیث کے ساتھ منفرد ہیں الواقدی نے کہا ہے کہ حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ عقلاء اہل مدینہ سے تھے، 68ھ میں فوت ہوگئے ۔( عمدة القاری ج ۲ ص۲۰۹)
بعض مشکل الفاظ کے معانی
’’البعوث ‘‘ کا معنی ہے :لشکر ’’ ان يسفك ‘‘خون بہانا۔’’ولا يعضد‘‘’’عضد‘‘ کا معنی ہے: درخت کاٹنا ۔ لاتعيذ عاصيا ‘‘ مکہ کسی عاصی پر حد جاری کرنے سے منع نہیں کرتا ۔’’ولا فارا بدم ‘‘ جو کسی کو قتل کر کے قصاص کے خوف سے حرم میں پناہ لے اس کو مکہ پناہ نہیں دیتا۔’’بخربة‘‘’ خربة‘‘ کامعنی ہے: چوری، فساد، عیب، زیادہ تر اونٹوں کی چوری کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔
عبدالملک بن مروان اور حجاج بن یوسف کا حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کرنا
اس حدیث میں عمرو بن سعید کا نام ہے یہ ابن امیہ القرشی الاموی ہے ، یہ صحابی تھا نہ اخیار تابعین سے تھا اس کے والد کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے، علامہ ابن الاثیر نے کہا: اس کی کنیت ابوامیہ ہے، یہ مدینہ کا امیر تھا اور حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہما سے جنگ کرنے کے لیے جار ہا تھا۔ پھر 70 ھ( صحیح ۷۳ھ ہے ۔سعیدی غفرلہ ) میں حضرت ابن الزبیر کوعبدالملک بن مروان نے قتل کر دیا تھا۔ عمرو بن سعید، حضرت ابن الزبیر سے قتال کے لیے مکہ کی طرف لشکر روانہ کر رہا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ جب حضرت معاویہ فوت ہوگئے، تو یزید نے حضرت ابن الزبیر سے اپنی بیعت کو طلب کیا، حضرت ابن الزبیر اس کی بیعت سے انکار کرتے ہوئے مکہ مکرمہ چلے گئے اس پر یزید غضب ناک ہوا اور مکہ کے والی یحیی بن حکیم کو پیغام بھیجا کہ وہ حضرت عبداللہ بن الزبیر سے بیعت لے اس نے حضرت ابن الزبیر سے بیعت لے کر یزید کے پاس پیغام بھیج دیا، یزید نے کہا: میں اس کی بیعت کو قبول نہیں کروں گا حتی کہ اس کو زنجیروں میں جکڑکر میرے پاس بھیجو وہ حضرت ابن الزبیر کے پاس گیا حضرت ابن الزبیر نے کہا: میں بیت اللہ کی پناہ میں ہوں، یزید نے انکار کیا اور عمرو بن سعید کولکھا کہ وہ مکہ کی طرف لشکر روانہ کرے، سو عمرو بن سعید اس لشکر کوبھیج رہا تھا۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۱۲)
علامہ ابوالحسن علی بن ابی الکرم المعروف بابن الاثیر المتوفی 630ھ لکھتے ہیں:
عبدالملک بن مروان نے تین ہزار شامیوں کے لشکر کا حجاج بن یوسف کو امیر بنایا اور اس کو حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہما سے قتال کے لیے روانہ کیا ( الی قولہ ) اس سال جب لوگ حج سے فارغ ہوگئے تو حجاج کے منادی نے اعلان کیا کہ تم لوگ اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ کیونکہ ہم ابن الزبیر ملحد پرمنجنیق سے سنگ باری کر رہے ہیں، پھر انہوں نے منجنیق سے کعبہ پر پتھر برسانے شروع کر دیے (الی قولہ ) انہوں نے حضرت ابن الزبیر سے بہت زبردست قتال کیا، حتی کہ منگل کے دن جمادی الاخرۃ ۷۳ ھ کو حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہما شہید کر دیے گئے (الی قولہ ) جس وقت حضرت ابن الزبیر کو شہید کیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر ۷۲ سال تھی ان کی خلافت نو سال رہی کیونکہ 64ھ میں ان کی بیعت کی گئی تھی اور ۷۳ ھ میں وہ شہید کر دیے گئے ۔
(الکامل فی التاریخ ج ۴ ص ۷ ۲- ۲۴ ملخصا وملتقطا دارالكتاب العربي بیروت ۱۴۰۰ ھ )
حضرت ابوشریح نے عمرو بن سعید کو مکہ پر لشکرکشی سے منع کرکے علماء کی ذمہ داری کو پورا کیا
علامہ ابوالحسن علی بن خلف بن عبدالملک ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :
اللہ تعالی نے انبیاء علیہم السلام سے یہ میثاق لیا تھا کہ وہ دین کی تبلیغ کریں گے اور اپنی امتوں کو بیان کر یں گے اور اللہ تعالی نے علماء کو انبیاء کا وارث بنایا اس لیے ان پر بھی دین کی تبلیغ کرنا اور اس کو بیان کرنا اور اس کو تمام روۓ زمین پر پھیلانا واجب ہے حتی کہ اسلام تمام ادیان پر غالب ہوجاۓ اور نبی ﷺ نے اپنے زمانہ میں جس کو بھی دین کی تبلیغ کا حکم دیا۔ اس پر دین کی تبلیغ کرنا فرض عین ہوگی لیکن ہمارے دور میں دین کی تبلیغ کرنا فرض کفایہ ہے کیونکہ اب دین ہر طرف پھیل چکا ہے ۔
حضرت ابوشریح نے عمرو بن سعید کو مکہ پر حملہ کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کی کیونکہ جب امیر مملکت شریعت کے خلاف کوئی کام کرے تو عالم پر اس کو منع کرنا واجب ہے خواہ اس نے عالم سے سوال نہ کیا ہو۔
باب کی مذکور حدیث کی تاویل میں حضرت ابوشریح اور عمرو بن سعید میں اختلاف ہوا حضرت ابو شریح نے اس حدیث کو عموم پر محمول کیا کہ مکہ کی حرمت دائما ثابت ہے اور کسی فتنہ کی وجہ سے مکہ کو قتال کے لیے مباح کر لینا جائز نہیں ہے اور اس میں کسی کوقتل کرنے کے لیے بھی قتال کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آپ سے پہلے کسی کے لیے مکہ میں قتال کرنا جائز تھا اور نہ آپ کے بعد کسی کے لیے اس میں قتال کرنا جائز ہے اس میں صرف ایک ساعت کے لیے آپ کا قتال کرنا جائز ہوا تھا اس کے بعد اس کی حرمت پھر اسی طرح لوٹ آئی، عمرو بن سعید نے اس حدیث کی یہ تاویل کی کہ مکہ کسی نافرمان کو پناہ نہیں دیتا اور حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہما کو نافرمان اور باغی قراردیا کیونکہ انہوں نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اپنی حکومت قائم کر لی تھی ۔
عمرو بن سعید کے مقابلہ میں حضرت ابوشریح کی تصریح اولی ہے کیونکہ وہ صحابی ہیں اور اس حدیث کے راوی ہیں وہ اس حدیث کے مخرج اور اس کے سبب کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے ۔
علماء اہل سنت کے نزدیک حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہما یزید اور عبد الملک بن مروان کی بہ نسبت خلافت کے زیادہ لائق اور حق دار تھے کیونکہ ان دونوں سے پہلے حضرت ابن الزبیر کی بیعت کرلی گئی تھی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور امام مالک نے کہا ہے کہ حضرت ابن الزبیر، عبدالملک بن مروان سے اولی تھے ۔ (شرح ابن بطال ج ا ص ۱۷۱ ۱۷۰ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ )
علامہ بدرالدین عینی حنفی نے بھی دیکھا ہے کہ حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہما یزید کی بہ نسبت خلافت کے زیادہ حق دار تھے اور ابن بطال کی یہ عبارت نقل کی ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۱۴)
عمرو بن سعید کے قول پر ابن حزم کا تبصرہ
اس حدیث میں فتح مکہ کا ذکر ہے بیس رمضان آ ٹھ ہجری کو مکہ فتح ہوا تھا۔
عمرو بن سعید نے جو حضرت ابن الزبیر سے متعلق کہا تھا کہ حرم عاصی کو پناہ نہیں دیتا، اس پر تبصرہ کرتے ہوۓ شیخ علی بن احمد بن سعید بن حزم اندلسی متوفی 456ھ نے کہا ہے: اس لئیم شیطان شرطی فاسق کی کوئی کرامت نہیں ہے، اس کا ارادہ یہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سے زیادہ جاننے والا ہے اور یہ فاسق ہی اللہ اور اس کے رسول اور ان کے خلفاء کا عاصی اور نافرمان تھا۔ (المجلی بہ حوالہ عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۱۴)
صحابی نے بھی اپنی روایت میں تاویل کی ہو اور بعد کے فقہاء نے بھی تو کس کی تاویل کا اعتبار کیا جاۓ گا ؟
علامہ بن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ھ نے کہا ہے کہ اس میں اختلاف ہے کہ جب صحابی کسی حدیث کو روایت کرے اور اس حدیث کی تاویل اس صحابی نے بھی کی ہو اور بعد کے علماء نے بھی کی ہو تو کس کی تاویل کو ترجیح دی جاۓ گی؟
علماء کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ اس صحابی کی تاویل کو ترجیح دی جاۓ گی کیونکہ وہ اس حدیث کا راوی ہے وہ اس حدیث کے مخرج اور اس کے سبب کو دوسروں سے زیادہ جانے والا ہے دوسروں نے یہ کہا ہے کہ اگر اس کی تاویل صحیح نہ ہو تو پھر اس کی تاویل لازم نہیں ہے ۔ علامہ المازری نے’’ کتاب البرھان‘‘ کی شرح میں کہا ہے کہ راوی کی مخالفت کی کئی اقسام میں : (۱) مخالفت بالکلیہ (۲) مخالفت ظاہره به طور تخصیص (۳) تاویل محتمل یا مجمل اور ان تمام اقسام میں اختلاف ہے ۔
امام الحرمین نے کہا ہے: امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ راوی کی روایت پر عمل کیا جاۓ گا اور اس کے عمل کی اتباع نہیں کی جاۓ گی، امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ اس کے عمل کی اتباع کی جاۓ گی اس کی روایت کی اتباع نہیں کی جاۓ گی، پس جب حدیث عام ہو تو کیا راوی کے عمل کی وجہ سے اس میں تخصیص کی جاۓ گی؟ اسی طرح جب حدیث کا لفظ مجمل ہو اور راوی اس حدیث کو اس کے کسی ایک احتمال پر محمول کرے تو کیا اس کے مذہب پر عمل کیا جاۓ گا؟ الخطیب نے کہا ہے کہ مذہب شافعی کا ظاہر یہ ہے کہ اگر راوی کی تاویل ظاہر حدیث کے خلاف ہو تو حدیث کی طرف رجوع کیا جاۓ گا اور اگر اس کے احتمالات میں سے کوئی ایک احتمال راجح ہو تو اس کی طرف رجوع کیا جاۓ امام الحرمین نے اس کی مثال میں یہ حدیث ذکر کی ہے: سونے کی بیع، سونے کے عوض سود ہے مگر جو دست به دست ہو ۔ ( صحیح البخاری: ۲۱۷۴ سنن ابوداؤد:٬۳۳۴۸ سنن ترمذی: ۱۲۴۳ سنن نسائی :۴۵۵۹، سنن ابن ماجه : ۲۲۵۳)
حضرت ابن عمر نے اس حدیث کو اس پر محمول کیا ہے کہ اسی مجلس میں قبضہ ہونا چاہیے اسی طرح حضرت ابن عمر سے حدیث مروی ہے کہ بائع اور مشتری کو اختیار ہوتا ہے، جب تک وہ متفرق نہ ہوں، حضرت ابن عمر نے اس حدیث کو تفرق بالا بدان پر محمول کیا ہے ۔
فقہاء احناف نے کتے کے جھوٹے میں حضرت ابوہریرہ کی حدیث ذکر کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن سے کتا پی لے تو اس برتن کو سات مرتبہ دھوؤ ۔ (صحیح بخاری: ۱۷۲ صحیح مسلم :۲۷۹ سنن نسائی:66 سنن ابن ماجہ : 363) اور حضرت ابوہریرہ کا مذہب یہ تھا کہ تین دفعہ دھونے پر اقتصار کرنا جائز ہے اور سات مرتبہ دھونا مستحب ہے ۔
علامہ المازری وغیرہ نے کہا ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی اس حدیث کو باب مخالفت سے شمار کرنا چاہیے جو بہ معنی نسخ ہے نہ بہ معنی تخصیص کیونکہ تین دفعہ دھونے پر اقتصار کرنا سات دفعہ دھونے کے عدد محدود کے خلاف ہے، میں کہتا ہوں کہ حضرت ابوہریرہ نے سات کے عدد کی مخالفت اس لیے کی کہ ان کے نزدیک سات دفعہ دھونا منسوخ ہو چکا تھا اور نسخ پر محمول کرنا صحابی کے حق میں حسن ظن ہے۔
اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث روایت کی ہے کہ جب اللہ عزوجل نے نماز کو فرض کیا تو دو، دو رکعت فرض کی تھیں۔ حضر میں اور سفر میں، پھر سفر کی نماز تو برقرار رہی البتہ حضر کی نماز میں دورکعت زیادہ کر دی گئیں ۔ (صحیح البخاری:350 صحیح مسلم : ۶۸۵ سنن ابوداؤد : ۱۱۹۸، سنن نسائی: ۵۳ ۴ )
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سفر میں بھی پوری نماز پڑھتی تھیں، چنانچہ کوفیوں نے ان کے عمل کو ترک کر دیا اور ان کی حدیث پر عمل کیا اور کہا کہ سفر میں نماز کو قصر کرنا فرض ہے ۔ اس کو اشہب نے امام مالک سے روایت کیا ہے اور امام شافعی کے نزدیک قصر کرنے میں اور پوری نماز پڑھنے میں اختیار ہے ۔(شرح ابن بطال ج ۱ ص ۱۷۱ عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۱۵ ملخصاً )
حرم میں حدود اور قصاص نافذ کرنے کے متعلق مذاہب ائمہ
علامہ جمال الدین ابوالفرج عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ۵۹۷ھ لکھتے ہیں :
اس پر اجماع ہے کہ جو شخص حرم میں کوئی جرم کرے، اس کو امان نہیں دی جائے گی کیونکہ اس نے حرم کی بے حرمتی کی ہے اور امان کو رد کردیا ہے ۔ اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ جس نے حرم سے باہر کوئی جرم کیا پھر اس نے حرم میں پناہ لے لی اس کے متعلق ابوبکر المروزی نے امام احمد بن حنبل سے روایت کیا ہے کہ جب اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا کسی کا ہاتھ کاٹا ہو یا غیرحرم میں کوئی اور جرم کیا ہو، جو حد لگانے کا موجب ہو پھر وہ حرم میں داخل ہوگیا ہو تو اس پر حد نہیں لگائی جائے گی اور نہ اس سے قصاص لیا جاۓ گا، لیکن اس کو کوئی چیز فروخت کی جاۓ گی نہ اس سے خریدی جاۓ گی اور نہ اس کو کھانا دیا جاۓ گا حتی کہ وہ حرم سے باہر نکل آۓ اور اگر اس نے حرم کے اندر کوئی جرم کیا ہے تو اس کو سزا دی جاۓ گی اور حنبل سے روایت ہے کہ اس نے حرم سے باہر قتل کیا، پھر حرم میں داخل ہو گیا تو اس کوقتل نہیں کیا جائے گا اور اگر اس کا جرم قتل سے کم ہو تو اس پر حد قائم کی جائے گی، امام ابوحنیفہ اوران کے اصحاب کا بھی یہی قول ہے اور امام مالک اور امام شافعی نے کہا ہے کہ خواہ اس نے قتل کیا ہو یاقتل سے کم جرم کیا ہو تمام صورتوں میں اس پر ( حرم میں ) حد قائم کی جاۓ گی ۔( کشف المشکل ج۱ ص ۱۰۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ )
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں :
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے: جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہو اس کے لیے حرم میں خون بہانا جائز نہیں ہے، اس حدیث سے امام ابوحنیفہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ جو شخص حرم میں پناہ لے لے، اس کو قتل نہیں کیا جاۓ گا کیونکہ حدیث کے الفاظ عام ہیں اور اس میں یہ صورت بھی داخل ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص۲۱۶)
امام مالک اور امام شافعی حرم میں حد جاری کر نے کے قائل ہیں اور ان کا استدلال حسب ذیل احادیث سے ہے:
ابن خطل اور دیگر افراد کو کعبہ میں قتل کرنے کے متعلق احادیث
مصعب بن سعد اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مردوں اور دوعورتوں کے سوا تمام لوگوں کو امان دے دی آپ نے فرمایا: ان کو قتل کردو خواہ تم ان کو کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا دیکھو (۱) عکرمہ بن ابی جہل (۲) عبداللہ بن خطل (۳) مقیس بن صبابہ (۴) عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، رہا عبداللہ بن خطل تو وہ کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا تھا، اس کو پکڑ لیا گیا۔ حضرت سعید بن حریث اور حضرت عمار بن یاسر ہم دونوں اس پر جھپٹے حضرت سعید نے حضرت عمار پر سبقت کی، وہ دو آدمیوں سے زیادہ طاقت ور تھے سو انہوں نے اس کو قتل کر دیا اور رہا مقیس بن صبابہ تو اس کو لوگوں نے مکہ کے بازار میں پکڑکر قتل کر دیا اور رہے عکرمہ تو وہ سمندر میں سوار ہو گئے اور ان کو آندھی اور طوفان نے آلیا کشتی والوں نے کہا: اپنے خداؤں سے خلوص کے ساتھ دعا کرو آج تمہیں کوئی چیز بچا نہیں سکتی، عکرمہ نے کہا: آج مجھے سمندر سے صرف اخلاص بچا سکتا ہے اور نہ خشکی میں مجھے اس کے سوا کوئی بچا سکتا ہے اے اللہ ! میں تجھ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے اس طوفان سے بچالیا جس میں میں مبتلا ہوں تو میں ( سیدنا ) محمد ( صلی اللہ علیہوسلم) کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور آپ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ رکھ دوں گا سو میں ان کو ضرور معاف کرنے والا کرم کرنے والا پاؤں گا سو وہ آ کر اسلام لے آئے اور رہا عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تو وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا تھا، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو وہ اس کو لے کر آئے اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا کر دیا اور کہا: یا رسول اللہ ! عبداللہ کو بیعت کرلیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نظر اٹھا کر تین بار دیکھا اور ہر مرتبہ اس کو بیعت کرنے سے انکار کیا، پھر تین بار کے بعد اس کو بیعت کر لیا، پھر اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: کیا تم میں کوئی سمجھ دار آدمی نہیں تھا کہ جب اس نے دیکھا کہ میں اس کو بیعت کرنے سے ہاتھ روک رہا ہوں تو وہ اس کوقتل کر دیتا! صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم نہیں جانتے کہ آپ کے دل میں کیا ہے آپ نے ہمیں آنکھ سے اشارہ کیوں نہ کر دیا! آپ نے فرمایا: نبی کے لیے خیانت کرنے والی آنکھ نہیں ہونی چاہیے ۔ ( سنن نسائی : ٬۴۰۷۳ سنن ابوداؤد : 2683)
علامہ محمد بن یوسف الصالحی الشامی المتوفی ۹۴۲ ھ لکھتے ہیں:
عبداللہ بن خطل کا نام عبدالعزی ابن خطل تھا۔ یہ اسلام لے آیا اور اس کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ رکھا اس نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور اس کو رسول اللہ ﷺ نے صدقات وصول کرنے کے لیے بنوخزاعہ کے ایک شخص کے ساتھ بھیجا وہ اس کے لیے کھانا تیار کرتا تھا اور اس کی خدمت کرتا تھا یہ دونوں مجمع نامی جگہ میں ٹھہرے، اس نے خزاعی کو کھانا پکانے کے لیے کہا اور دوپہر کوسو گیا۔ جب بیدار ہوا تو خزاعی سویا ہوا تھا اور اس نے کھانا نہیں پکایا تھا اس نے اس پر حملہ کر کے اس کوقتل کردیا اور اسلام سے مرتد ہو کر مکہ بھاگ گیا عبداللہ بن خطل اشعار میں رسول اللہ ﷺ کی ہجو کرتا تھا، اس کی دو فاسقہ باندیاں تھیں ایک کا نام فرتنی تھا اور دوسری کا نام قریبہ تھا۔ یہ دونوں ابن خطل کے حکم سے اس کے بناۓ ہوۓ ہجو کے اشعار کو گاتی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن دو عورتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا خواہ وہ کعبہ کے پردوں سے لپٹی ہوئی ہوں وہ یہی تھیں ۔
( سبل الهدى والرشاد ج ۵ ص ۲۲۵۔ ۲۲۳ ملخصا دار الکتب العلمیہ بیروت 1414ھ فتح الباری ج ۳ ص ۳۴۸)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال کعبہ میں داخل ہوۓ آپ کے سر پر خود تھا جب آپ نے اس کو اتارا تو ایک شخص نے آ کر کہا: بے شک ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے آپ نے فرمایا: اس کو قتل کر دو ۔ ( صحیح البخاری:۶ ۱۸۴ – ۳۰۴۴-4286- ۵۸۰۸، صحیح مسلم : ۱۳۵۷ سنن ابوداؤد : ۲۶۸۵ سنن ترمذی: ۱۶۹۳، سنن نسائی : ۲۷ ۲۸، السنن الکبری للنسائی: ۸۵۸۴)
حرم میں حدود اور قصاص قائم کرنے کے جواز پر ابن خطل کی حدیث کے علامہ عسقلانی کی طرف سے جوابات
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
ابن خطل کے قصہ سے حرم مکہ میں حدود اور قصاص کے قائم کرنے کے جواز پر استدلال کیا گیا ہے علامہ ابن عبد البر مالکی نے کہا ہے کہ چونکہ ابن خطل نے اس خزاعی انصاری کوقتل کر دیا تھا اس لیے اس مسلمان کے قصاص میں ابن خطل کو قتل کردیا گیا، علامہ سہیلی نے کہا کہ کعبہ کسی عاسی ( نافرمان) کو پناہ نہیں دیتا اور نہ کسی واجب حد کو قائم کرنے سے منع کرتا ہے علامہ نووی نے کہا: جوفقہاء کعبہ میں قصاص لینے سے منع کرتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ابن خطل کو اس ساعت میں قتل کیا گیا تھا، جس ساعت میں آپ کے لیے مکہ میں قتال کو حلال کر دیا گیا تھا اور ہمارے اصحاب شافعیہ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ جس ساعت میں آپ مکہ میں داخل ہوئے تھے اس ساعت سے لے کر مکہ میں آپ کے غلبہ تک کی ساعت میں آپ کے لیے قبال کو مباح کیا گیا تھا اور ابن خطل کو اس کے بعد قتل کیا گیا تھا، علامہ نووی کے اس جواب کو رد کیا گیا ہے کہ حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ مذکور ہے کہ اس ساعت سے مراد دن کے اول وقت سے لے کر دخول عصر تک کا وقت ہے اور ابن خطل کوقطعی طور پر اس سے پہلے قتل کیا گیا تھا۔ کیونکہ حدیث میں یہ قید ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب آپ نے اپنے سر سے خودا تارا اور یہ اس وقت کی بات ہے، جب آپ مکہ میں ٹھہر گئے تھے۔ امام ابن خزیمہ نے کہا ہے: آپ نے جو فرمایا ہے: اللہ تعالی نے میرے سوا کسی کے لیے حرم میں قتال کو حلال نہیں فرمایا اس سے مراد ان لوگوں کو قتل کرتا ہے جو اس دن ابن خطل کے ساتھ قتل کیے گئے تھے، اور اللہ تعالی نے اس ساعت میں آپ کے لیے قتال اور قتل دونوں کو حلال کردیا تھا اور ابن خطل وغیرہ کو قتال ختم ہونے کے بعد قتل کیا گیا۔ بعض علماء نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی ذمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہے تو اس کو بھی قتل کر دیا جاۓ گا، علامہ ابن عبدالبر نے اس استدلال کو رد کر دیا ہے، کیونکہ ابن خطل می نہیں حربی تھا اور رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ کو جوامان دی تھی وہ اس میں داخل نہیں تھا، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ چار مردوں اور دو عورتوں کوقتل کرنے کا حکم دے کر ان کو امان سے مستثنی کرلیا تھا ( جیسا کہ ہم سنن نسائی کی حدیث سے بیان کرچکے ہیں اور ابن خطل نے ایسے متعدد کام کیے تھے، جو اس کو قتل کرنے کے موجب تھے، مثلا اس کا نبی ﷺ کی ہجو کرنا، مسلمان خزاعی انصاری کو قتل کرنا ، اسلام کے بعد اس کا مرتد ہونا اور اپنی فاسقہ باندیوں کو حکم دینا کہ اس کی کہی ہوئی نبی ﷺ کی ہجو اسے گا کر سنائیں ۔سعیدی غفرلہ ) ۔ علامہ خطابی نے کہا: چونکہ اس نے اسلام میں جرائم کا ارتکاب کیا، اس لیے اس کو قتل کردیا گیا اور علامہ ابن عبد البر نے کہا: اس کو مسلمان کے قصاص میں قتل کیا گیا اور اس حدیث سے یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ کافر قیدی پر اسلام پیش کیے بغیر بھی اس کو قتل کرنا جائز ہے ۔
(فتح الباری ج ۳ ص ۳۴۹ دار المعرفة بیروت 1426ھ )
ابن خطل کو کعبہ میں قتل کر نے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم دیا تھا، اس سے امام مالک اور امام شافعی نے یہ استدلال کیا ہے کہ کعبہ میں بھی حدود اور قصاص کو قائم کرنا جائز ہے، لیکن ان کا یہ استدلال اس لیے صحیح نہیں ہے کہ آپ نے اس کو کعبہ میں قتل کرنے کا حکم اس وقت دیا تھا، جس وقت آپ کے لیے کعبہ میں قتال کرنا اور قتل کرنا حلال کردیا گیا تھا، جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے وضاحت سے ثابت کردیا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ابن خطل عام مجرم یا عام قاتل یا عام مرتد نہیں تھا بلکہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرکے اور اپنی باندیوں کو ہجو کے اشعار گا کر پڑھنے کا حکم دے کر آپ کی شدید گستاخی کی تھی اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے سنگین سزا سنائی اور فرمایا: اگر ابن خطل کعبہ کے پردوں میں لپٹا ہوا ہو پھر بھی اس کوقتل کردو ۔
حافظ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی نے بھی اس حدیث سے امام شافعی کے استدلال کے متعدد جوابات دیئے ہیں ۔
حرم میں حدود اور قصاص قائم کرنے کے جواز پر ابن خطل کی حدیث کے علامہ عینی کی طرف سے جوابات
علامہ عینی لکھتے ہیں:
اس حدیث کے متعدد جوابات دیئے گئے ہیں جو حسب ذیل ہیں:
(۱) وہ مرتد ہو گیا تھا اس نے ایک مسلمان کو قتل کیا تھا اور وہ نبی ﷺ کی ہجو کرتا تھا۔
(۲) وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی امان میں داخل نہیں تھا، کیونکہ آپ نے اس کو امان سے استثناء کرلیا تھا اور اس کو قتل کر نے کا حکم دیا تھا خواہ وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ہو۔
(۳) وہ اس ساعت میں قتل کیا گیا تھا، جس ساعت میں آپ کے لیے قتال کرنا اورقتل کرنا مباح تھا، علامہ عینی نے اس جواب پر یہ اعتراض کیا ہے کہ وہ ساعت آپ کے مکہ میں داخل ہونے سے لے کر مکہ پر آپ کے غلبہ تک تھی اور اس کو اس کے بعد قتل کیا گیا تھا اور آپ نے فرمایا تھا: جومسجد میں داخل ہوگیا اس کو امان ہے اور اسے اس کے بعد قتل کیا گیا تھا نیز علامہ عینی نے یہ جواب دیا ہے کہ ابن خطل ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے آپ سے قتال کیا تھا ۔ ( عمدة القاری ج ۲ ص ۲۱۷۔216)
مکہ مکرمہ کے جنگ سے فتح ہونے پر دلائل
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ اگر کوئی شخص مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتال کرنے کی وجہ سے مکہ میں قتال کی رخصت پر استدلال کرے ۔ (الحدیث ) اس ارشاد میں یہ دلیل ہے کہ مکہ جنگ سے فتح ہوا ہے، صلح سے فتح نہیں ہوا، یہی اکثر علماء کا مذہب ہے ۔ قاضی عیاض نے کہا: یہ امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام اوزاعی کا مذہب ہے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ پر احسان فرمایا اور ان کے گھروں کو اور ان کے اموال کو ان کے پاس رہنے دیا اور ان کے اموال کوفے نہیں قرار دیا، امام شافعی نے کہا ہے کہ مکہ صلح سے فتح ہوا ہے اور اس حدیث کا یہ جواب دیا ہے کہ اس کا محمل یہ ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں قتال کرنے کی ضرورت پیش آتی تو آپ کے لیے مکہ میں ڈال کرنا جائز تھا، لیکن اس حدیث کے الفاظ امام شافعی کی تاویل کے خلاف ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: پس اگر کوئی شخص مکہ میں رسول اللہ ﷺ کے قتال کرنے سے ( مکہ میں ) قتال کی رخصت پر استدلال کرے تو اس سے کہو: بے شک اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں اجازت نہیں دی ۔ آپ کے اس ارشاد میں صاف تصریح ہے کہ آپ نے مکہ میں قتال کیا تھا اور مکہ قتال سے فتح ہوا ہے ۔
حدیث مذکور کے دیگر مسائل اور فوائد
آپ نے فرمایا ہے : مکہ کے کسی درخت کو کاٹا نہیں جاۓ گا اس پر علماء کا اتفاق ہے کہ جن درختوں کو آدمیوں نے نہیں اگایا ان کو کاٹنا حرام ہے اور جن درختوں کو آدمیوں نے گایا ہے ان میں اختلاف ہے ۔
آپ نے فرمایا: شاہد ( حاضر ) غائب کو پہنچا دے اس حدیث میں علم کونقل کر نے اورسنن اور احکام کی تبلیغ اور اشاعت کا ثبوت ہے۔
اس حدیث میں حکام کو نرمی کے ساتھ نصیحت کرنے اور ان کے غلط کاموں کی اصلاح کرنے کی کوشش کا ثبوت ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اپنے مقصود پر گفتگو کرنے سے پہلے اللہ تعالی کی حمد وثنا کر نی چاہیے۔
اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ ایک تابعی نے صحابی سے اپنے اجتہاد سے اختلاف کیا اگرچہ صحابی کا موقف صحیح تھا۔
اس حدیث میں حضرت ابوشریح رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کے حکم پر عمل کیا اور آپ کی حدیث پہنچائی ۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب عالم دین یہ دیکھے کہ حکام وقت دین میں تغیر کر رہے ہیں تو وہ ان کو برملا ٹوکے اور ان کو صحیح مسئلہ بتائے خواہ حکام نے اس سے سوال نہ کیا ہو ۔
اس حدیث میں آپ نے فرمایا: مکہ کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو لوگوں نے حرم نہیں بنایا حالانکہ اس کے خلاف یہ حدیث ہے۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت ابراہیم نے مکہ کو حرم بنایا اور اہل مکہ کے لے دعا کی اور میں مدینہ کو اس طرح حرم بناتا ہوں، جس طرح حضرت ابراہیم نے مکہ کو حرم بنایا تھا۔ الحدیث
( صحیح البخاری:۲۱۲۹ صحیح مسلم : 1360، السنن الکبری للنسائی: ۴۲۸۴)
اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے اللہ تعالی کے حکم سے مکہ کو حرم بنایا تھا’ ازخود نہیں بنایا تھا اس لیے فرمایا ہے : اس کو لوگوں نے حرم نہیں بنایا لہذا مکہ کوحرم بنانے کی اللہ تعالی کی طرف نسبت حقیقی ہے اور حضرت ابراہیم کی طرف یہ نسبت تاویل سے ہے اور مجاز عقلی ہے ( یعنی انہوں نے اس کا حرم ہونا ظاہر فرمایا ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مدینہ کوحرم بنایا ہے وہ بھی اللہ تعالی کے حکم سے بنایا ہے۔
شرح صحیح مسلم میں باب مذکور کی حدیث کی شرح
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم:۳۲۰۰۔ ج ۳ص۷۰۶ پر ہے اس حدیث کی شرح کے عنوانات حسب ذیل ہیں :
مکہ ابتداء آفرینش سے حرم ہے یا بعثت ابراہیم کے بعد
حرم میں حدود جاری کر نے میں مذاہب
مکہ بذریعہ جنگ فتح ہونے پر دلائل ۔
[…] حدیث کے بعض مسائل اور فوائد صحیح البخاری: ۱۰۴ میں گزر چکے ہیں اور باقی پر ہم یہاں گفتگو کر رہے […]