کتاب العلم باب 39 حدیث نمبر 112
۱۱۲- حدثنا أبو نعيـم الـفـضـل بن دكين قال حدثنا شيبان ، عن يحيى، عن أبي سلمة ، عن ابی هريرة أن خـزاعـة قتلوا رجلا من بني ليث عام فتح مكة، بقتيل منهم قتلوه فأخبر بذلك النبي صلى الله عليه وسلم ، فركب راحلته فخطب فقال إن الله حبس عن مكة القتل أو الفيل. شک ابو عبدالله، وسلط عليهم رسول الله صلى اللہ عليه وسلم والمؤمنين، ألا وإنها لم تحل لأحد قبلى ولم تحل لأحد بعدي، الا وإنها حلت لی ساعة من نهار، الا وإنهـا سـاعتـى هـذه حرام، لا يختلى شوكها، ولا يعصد شجرها، ولا تلتقط ساقطتها الالمنشد، فمن قتل له قتيل فهو بخير النظرين إما أن يعقل، وإما أن يقاد أهل القتيل فجاء رجل من أهل اليمن، فقال أكتب لي يارسول اللہ فقال أكتبوا لابي فلان ، فقال رجل من فريش الا الإذخر يارسول الله، فإنا نجعله في بيوتنا و قبورنا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم إلا الإذخر۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابونعیم الفضل بن دکین نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شیبان نے حدیث بیان کی از یحیی از ابی سلمہ از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہ فتح مکہ کے سال خزاعہ نے اپنے ایک مقتول کے بدلہ میں جس کو بنولیث نے قتل کیا تھا ان کے ایک شخص کو قتل کردیا، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی آپ اپنی سواری پر سوار ہوۓ، پھر آپ نے خطبہ دیا آپ نے فرمایا: بے شک اللہ نے مکہ سے قتل کو یا فرمایا: فیل ‘‘ ( ہاتھی ) کو روک دیا ہے اس میں ابوعبداللہ ( امام بخاری ) کو شک ہے اور ان پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مؤمنین کو مسلط کر دیا ہے سنو! بے شک مکہ (میں قتل کرنا) مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا سنو! بے شک یہ میرے لیے دن کی ایک ساعت میں حلال کیا گیا تھا اور بے شک وہ اس ساعت میں حرام ہے اس کے کانٹے کاٹے جائیں گے نہ اس کے درخت کاٹے جائیں گے اور نہ اس کی گری ہوئی کوئی چیز اٹھائی جاۓ گی، اعلان کرنے والے کے سوا اور کسی کے لیے اٹھانا جائز نہیں ہے پس جس شخص کا کوئی مقتول قتل کیا گیا ہے، اس کو دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار ہے یا تو اس کو دیت دی جاۓ یا مقتول کے اہل قصاص لے لیں پھر اہل یمن سے ایک شخص آیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ میرے لیے لکھ دیں، آپ نے فرمایا: یہ ابوفلاں کے لیے لکھ دو پھر قریش کے ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! ماسوا اذخر کے، کیونکہ ہم اس کو اپنے گھروں اور اپنی قبروں میں رکھتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ماسوا اذخر کے ۔
قال أبو عبدالله يقال يقاد بالقاف، فقيل لابي عبد الله أي شيء كتب له؟ قال كتب له هذہ الخطبة.[ اطراف الحدیث: ۲۴۳۴-6880]
امام ابوعبداللہ ( بخاری ) نے کہا:’’یـقـاد‘‘ قاف کے ساتھ پڑھا جاتا ہے پھر ابوعبداللہ سے پوچھا گیا: کیا چیز لکھی گئی تھی؟ انہوں نے کہا: یہ خطبہ لکھا گیا تھا۔
صحیح مسلم : ۱۳۵۵ سنن ابوداؤد : ۲۰۱۷، سنن ترمذی:۱۴۰۵، سنن نسائی : 4799، سنن ابن ماجه : ۲۶۲۴، مسند ابوعوانہ ج ۴ ص ۴۴۔ ۴۳، صحیح ابن حبان:3715، سنن دارقطنی ج ۳ ص 96۔97 سنن بیہقی ج ۸ ص ۵۳ السنن الکبری للنسائی : ۵۸۵۵ سنن داری : 2600 مسند احمد ج ۲ ص ۲۳۸ طبع قدیم مسند احمد : ۷۲۴۲ ۔ ج ۱۲ ص ۱۸۳ مؤسسة الرسالۃ بیروت )
عنوان باب کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں سے اس ( خطبہ ) کو ابوفلاں کے لیے لکھ دو۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) ابونعیم الفضل بن دکین، ان کا تعارف ہو چکا ہے۔
(۲) شیبان بن عبدالرحمان ابومعاویہ النحوی، انہوں نے الحسن البصری سے سماع کیا ہے اور ان سے ابن مہدی وغیرہ نے سماع کیا ہے ان سے امام ابوحنیفہ نے بھی روایت کی ہے یہ ۱۲۴ھ میں بغداد میں فوت ہو گئے تھے۔
(۳) یحی بن ابی کثیر صالح بن المتوکل، انہوں نے حضرت انس اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے مرسلا روایت کی ہے اور ابن ابی سلمہ وغیرہ سے روایت کی ہے ایوب نے کہا: روۓ زمین پر ان کی کوئی مثل نہیں ہے یہ ۱۲۹ھ میں فوت ہو گئے تھے۔
(۴) ابوسلمہ عبداللہ بن عبدالرحمان بن عوف ان کا تعارف ہو چکا ہے ۔
(۵) حضرت ابو ہریرہ عبدالرحمان بن صخر ان کا تعارف بھی ہو چکا ہے۔
(عمدۃ القاری ج ۲ ص۲۴۶-۲۴۵)
بنو خزاعة، بنوليث، راحلة، يختلی‘‘’’يعضد ‘‘اور’’منشد ‘‘ وغیرہ کے معانی
اس حدیث میں’’ خزاعة ‘‘اور’’ بنولیث ‘‘ کے الفاظ ہیں’’ خزاعۃ‘‘ازد کا قبیلہ ہے ان کو خزاعہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جب ازد مکہ سے نکلے اور مختلف شہروں میں پھیل گئے، تو خزاعہ ان سے پیچھے رہ گئے اور وہیں مکہ میں رہ گئے، اور خزاعہ کا معنی پیچھے رہنا ہے، اور بنو لیث بھی قبیلہ ہے۔
اور اس میں’راحلۃ‘‘ کا لفظ ہے’’راحلۃ‘‘اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس پر سفر کیا جا سکے اور راحلہ‘‘مطلقا سواری کو بھی کہتے ہیں خواہ اونٹ ہو یا اونٹنی ۔
اس حدیث میں’’ لا یختلی ‘‘اور’ لا یعضد ‘‘ کے الفاظ ہیں ان کے معنی ہیں : نہ کاٹے جائیں ۔
اس میں ’’منشد ‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے :معرف، اعلان کرنے والا یعنی جو حکومت کی طرف سے اعلان کرنے کے لیے مقرر ہو۔
اس میں’’ اما ان يعقل ‘‘ کے الفاظ ہیں، یہ عقل سے مشتق ہے اس کا معنی ہے : دیت اور’’اما ان يقاد‘‘ کے الفاظ میں یہ ’’قود‘‘ سے بنا ہے اس کا معنی ہے: قصاص
اور اس میں الاذخر ‘‘ کا لفظ ہے یہ ایک خوشبو دار گھاس ہے اس کا واحد” اذخرہ ‘‘ ہے ۔
احادیث اور علم کی باتوں کو لکھنے کی تحقیق
اس حدیث کے بعض مسائل اور فوائد صحیح البخاری: ۱۰۴ میں گزر چکے ہیں اور باقی پر ہم یہاں گفتگو کر رہے ہیں:
اس حدیث میں علم کی باتوں کے لکھنے کا جواز ہے کیونکہ اہل یمن کے ایک شخص نے کہا: یارسول اللہ! یہ ( خطبہ ) میرے لیے لکھ دیں تو آپ نے فرمایا: اس کو ابوفلاں کے لیے لکھ دو بعض علماء نے لکھنے کو مکروہ کہا ہے، کیونکہ لکھنے سے حفظ کرنے کی عادت نہیں رہتی، اور یہ حدیث ان کے خلاف حجت ہے، نیز سب سے بڑی حجت اور دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید کو لکھا گیا ہے جو تمام علوم کی اصل ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وحی نازل ہونے کے بعد اس کو خود لکھواتے تھے، شعبی نے کہا: جب تم کوئی علم کی بات سنو تو اس کو لکھ لیا کرو، خواہ تم کو دیوار پر لکھنا پڑے، میں کہتا ہوں کہ اختلاف کا محل مصحف کے ماسوا میں ہے، سو مصحف کے لکھنے سے ان کے خلاف دلیل قائم نہیں ہوگی ۔
قاضی عیاض نے کہا ہے کہ متقدمین صحابہ اور تابعین مصحف میں علم کی باتوں کے لکھنے کو ناپسند کرتے تھے، اسی طرح تدوین سنت کے لیے احادیث کو لکھنے کے بھی خلاف تھے۔(عمدۃ القاری ج ۲ ص۲۵۱)
احادیث اور علم کی باتوں کو لکھنے کی ممانعت میں احادیث اور آثار
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی احادیث لکھنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے اجازت نہیں دی ۔ ( سنن دارمی: ۴۵۵ دار المعرفہ بیروت،۱۴۲۱ھ )
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کے علاوہ مجھ سے اور کوئی چیز نہ لکھو سو جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے کوئی اور چیز لکھی ہو تو وہ اس کو مٹادے ۔ ( سنن دارمی : 468، صحیح مسلم : ۳۰۰۴ مسند احمد ج۱ ص۲۱)
ابراہیم کاپیوں میں حدیث لکھنے کومکروہ کہتے تھے وہ کہتے تھے ان کو مصحف کے مشابہ کیا جارہا ہے ۔
( سنن دارمی: ۶۸ ۴ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۹ ص ۱۸)
ابراہیم تیمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود کو یہ خبر پہنچی کہ کچھ لوگوں کے پاس کچھ لکھی ہوئی چیزیں ہیں، جن سے وہ خوش ہوتے ہیں حضرت ابن مسعود ان کو ملامت کرتے رہے، پھر ان کے پاس جا کر ان کو مٹادیا پھر کہا: تم سے پہلے اہل کتاب ہلاک ہوگئے وہ اپنے علماء کی کتابوں کو ترجیح دیتے تھے اور انہوں نے اپنے رب کی کتاب کو چھوڑ دیا تھا ۔
( سنن دارمی: ۷۱ ۴ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۹ ص ۱۷)
ابونضرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری سے کہا: آپ ہمیں کچھ لکھواتے نہیں کیونکہ ہم یاد نہیں رکھ سکتے انہوں نے کہا: ہم تم کو ہرگز نہیں لکھوائیں گے اور ہم اس لکھے ہوۓ کو قرآن نہیں بنائیں گے، لیکن تم ہم سے سن کر یاد رکھو جیسے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد رکھتے تھے ۔ ( سنن داری:۴۷۵)
ابتداء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن اور حدیث کے خلط ملط ہونے کے اندیشہ سے احادیث کو لکھنے سے منع فرمایا تھا لیکن جب قرآن مجید کے بہت زیادہ یاد کرلینے کی وجہ سے یہ خطرہ نہیں رہا تو پھر آپ نے احادیث کو لکھنے کی اجازت دے دی جیسا کہ درج ذیل احادیث سے ظاہر ہوتا ہے۔ لکھنے سے ممانعت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ پھر لوگ لکھنے پر اعتماد کرلیں گے اور یاد کرنا چھوڑ دیں گے ۔
احادیث اور علم کو لکھنے کے جواز کے ثبوت میں احادیث اور آثار
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو جاننے والا اور کوئی نہ تھا ماسوا حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے اور دل سے یاد رکھتے تھے اور میں دل سے یاد رکھتا تھا اور ہاتھ سے لکھتا نہ تھا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکھنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے ان کو اجازت دے دی ۔
( مسند احمد ج ۲ ص ۰۳ ۴ طبع قدیم مسند احمد :۱ ۹۲۳ – ج ۱۵ ص ۷ ۱۲ مؤسسة الرسالة بیروت)
شعیب الارنؤط نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند حسن ہے، محمد بن اسحاق اور عمرو بن شعیب صدوق ہیں اور اس سند کے باقی رجال ثقہ ہیں ۔
یہ حدیث اختصار کے ساتھ درج ذیل کتب میں ہے، جس میں مذکور ہے:
مجھ سے زیادہ کسی کے پاس رسول اللہ ﷺ کی احادیث نہیں تھیں، سوا حضرت عبداللہ بن عمرو کے، وہ لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔ ( صحیح البخاری: ۱۱۳، سنن ترمذی: 2668-۳۸۴۱،سنن دارمی : ۴۸۳، السنن الکبری للنسائی: ۵۸۵۳، صحیح ابن حبان : ۷۱۵۲ مصنف عبد الرزاق:۲۰۴۸۹ مسند احمد ج ۲ ص ۲۴۹ طبع قدیم مسند احمد :۷۳۸۹ ۔ ج۱۲ص۳۵۱)
درج ذیل حدیث میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کو حدیث لکھنے کی اجازت دی ہے :
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں ہر اس حدیث کو لکھ لیتا تھا، جس کو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا تھا۔ میرا ارادہ اس کو محفوظ کرنے کا تھا، پھر مجھے قریش نے منع کیا انہوں نے کہا: تم ہر وہ چیز جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے ہو اس کو لکھ لیتے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں، کبھی غضب سے بات کرتے ہیں اور کبھی خوشی سے پھر میں نے لکھنا چھوڑ دیا اور میں نے اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ نے فرمایا: تم لکھا کرو پس اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! مجھ سے حق کے سوا کوئی چیز نہیں نکلتی ۔
شعیب الارنؤط نے کہا: اس حدیث کی سند صحیح ہے اس حدیث کے رجال ثقہ ہیں ۔
( سنن ابوداؤد :3646، مصنف ابن ابی شیبہ ج۹ ص۵۰ – ۴۹ جامع بیان العلم ص ۹۰-۸۹ المستدرک ج ۱ ص ۱۰۶ – ۱۰۵ سنن داری:٬۴۸۹ مسند احمد ج ۲ ص ۱۶۲ طبع قدیم، مسند احمد :۶۵۰۱ ۔ ج۱۱ ص ۵۸۔۵۷ مؤسسة الرسالة بیروت )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقات، دیات، فرائض اور سنن کے متعلق عمرو بن حزم وغیرہ کے لیے مکتوب لکھا۔ ( سنن نسائی ج ۸ ص۵۹ مراسیل ابوداؤد : ۹۴- ۹۳ – ۹۲ مصنف عبدالرزاق: ۱۳۲۲ صحیح ابن حبان: ۹۳ ۷ سنن بیہقی ج ۴ ص۹۰-۸۹ المستد رک ج۱ ص۳۹۶۔ ۳۹۵)
محمد بن علی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے میان میں ایک صحیفہ تھا، جس میں لکھا ہوا تھا: جس شخص نے اپنے باپ کو گالی دی وہ ملعون ہے، جس نے اپنی ماں کو گالی دی وہ ملعون ہے جو جانور غیراللہ کے نام پر ذبح کیا گیا وہ ملعون ہے ۔جامع البیان العلم ج 1 ص 305)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم کو لکھنے کے ساتھ مقید کرو۔( الناسخ و منسوخ : 264، تاریخ بغداد ج ۱۰ ص۴۶
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا علم کو لکھنے کے ساتھ مقید کرو۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ج ۹ ص 49، سنن دارمی : ۴۹۵ المستدرک ج ۱ ص ۱۰۶)
بشیر بن نہیک بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے احادیث سن کر لکھتا تھا اور جب ان سے جدا ہونے کا ارادہ کرتا تو ان کے پاس اپنی لکھی ہوئی احادیث لاتا اور بتاتا کہ یہ وہ احادیث ہیں جو میں نے آپ سے سنی ہیں حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں: ہاں ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج۹ ص۵۰ سنن دارمی : ۴۹۸)
ابوالملیح نے کہا: تم ہمارے لکھنے کی مذمت کرتے ہو، حالانکہ قرآن مجید میں ہے: ” علمها عند ربي في كتب‘‘ (طہ : ۵۴) اس کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے، یعنی لکھا ہوا ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۹ ص ۵۱ سنن دارمی: ۴۹۳ )
ثمامہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ اپنے بیٹوں سے کہتے تھے :اے بیٹو! علم کو لکھ کر مقید کرلو۔( المعجم الکبیر :۲۴۶ المستدرک ج ۱ ص ۱۰۶ سنن دارمی: ۴۹۵ )
عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز نے ابوبکر بن محمد بن حزم کو لکھا: تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو احادیث ثابت ہیں وہ مجھےلکھ بھیجو کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ علم چلا جاۓ گا اور مٹ جاۓ گا۔ ( سنن دارمی :۴۹۱)
عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز نے اہل مدینہ کی طرف لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو تلاش کرکے لکھ لو، کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ علم مٹ جاۓ گا اور علماء دنیا سے چلے جائیں گے ۔ ( سنن دارمی : ۴۹۲)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا: اس علم کو لکھ کر مقید کرلو ۔ ( سنن داری: 502 )
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد کی تحقیق
اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت عباس نے آپ سے کہا: یارسول اللہ ! ماسوا اذخر کے کیونکہ ہم اس کو اپنے گھروں اور اپنی قبروں میں رکھتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ماسوا اذخر کے ۔
اس کی شرح میں علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
اس حدیث اور اس کی مشابہ دیگر احادیث سے علماء اصول نے یہ استدلال کیا ہے کہ جن مسائل میں قرآن مجید کا صریح حکم نہیں ہوتا تھا، ان میں آپ اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرتے تھے اور یہی ان کے نزدیک زیادہ صحیح ہے اور بعض نے منع کیا ہے، امام شافعی، امام احمد اور امام ابویوسف آپ کے اجتہاد کے قائل ہیں اور آمدی کا بھی یہی مختار ہے امام غزالی نے کہا: آپ کا اجتہاد کرنا جائز ہے اور اس کے وقوع میں توقف کیا ہے، اکثر محققین نے تمام امور میں توقف کیا ہے اور بعض علماء نے صرف جنگ کے امور میں اجتہاد کو جائز کہا ہے ۔
جن علماء نے کہا ہے کہ آپ نے اجتہاد کیا ہے، ان کا استدلال اس حدیث سے ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! تم پر حج فرض کردیا گیا۔ سوحج کرو، ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا ہر سال حج کریں؟ آپ خاموش رہے، حتی کہ اس نے تین بار یہ سوال کیا۔ پھر آپ نے فرمایا: اگر میں ہاں کہ دیتا تو تم پر (ہر سال حج کرنا واجب ہوجاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے، میں تم کو جس کام میں چھوڑ دوں اس میں تم مجھ کو چھوڑ دو تم سے پہلی امتیں زیادہ سوال کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئیں، پس جب میں تم کو کسی کام کا حکم دوں تو تم اس کو اپنی طاقت کے مطابق ادا کرو اور جب میں تم کو کسی کام سے منع کروں تو اس کو چھوڑ دو۔ (صحیح مسلم : ۱۳۳۷ ، سنن نسائی : 2619 )
اور ان کا استدلال ان آیات سے بھی ہے:
وشاورهم في الأمر فإذا عزمت فتوكل على الله . ( آل عمران:۱۵۹)
اور ان سے کام کا مشورہ کیا کریں، پھر جب آپ کا پختہ ارادہ ہوجاۓ تو اللہ پر توکل کریں ۔
وما كان لنبي أن يغل. ( آل عمران : 161)
نبی کے لیے خیانت کرنا ممکن نہیں ہے ۔
ما كان لنبي أن يكون له أسرى حتى يثخن في الأرض تـريـدون عرض الدنيا والله يريد الأخرة والله عزيز حكيم لولا كتب من الله سبق لمسكم فيما أخذتم عذاب عظيم ( الانقال : 68 – 67 )
نبی کے لیے ( کافروں کو) قیدی بنانا جائز نہیں ہے حتی کہ زمین میں (ان کا) خون بہادیا جاۓ، تم لوگ متاع دنیا کا ارادہ کرتے ہو اور اللہ آخرت کا ارادہ کرتا ہے اور اللہ بہت غالب بے حد، حکمت والا ہے اور اگر اللہ کے پاس پہلے سے ہی لکھا ہوا نہ ہوتا (کہ اجتہادی خطاء پر گرفت نہیں ہوتی) تو تم نے جو (فدیہ) لیا تھا تو اس پر تمہیں سخت عذاب پہنچتا۔
اور اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں سے اللہ کے حکم سے فدیہ لیا ہوتا تو یہ عتاب نہ کیا جاتا ۔
جو علماء نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اجتہاد کو جائز نہیں قرار دیتے، انہوں نے ان تمام دلائل کا یہ جواب دیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ان کاموں سے پہلے اللہ کا حکم مقارن ہو، یا ان کاموں سے پہلے آپ پر وحی کی گئی ہو کہ اس صورت میں آپ اس طرح کرلیں، مثلا جب آپ نے اذخر کا استثنا نہیں کیا تھا اور حضرت عباس نے آپ سے سوال کیا تھا کہ آپ اذخر کا استثناء کرلیں اس وقت حضرت جبریل علیہ السلام حاضر ہوۓ ہوں اور آپ کو استثناء کرنے کا اشارہ کیا ہو، لہذا آپ کا استثناء کرنا وحی سے ہوگا نہ کہ اجتہاد سے اور :وشاورهم في الامر ‘‘ کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ جنگ کے معاملات کے ساتھ مخصوص ہے۔(عمدۃ القاری ج ۲ ص۲۵۲)
* نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد کے متعلق ہم نے تفسیر تبیان القرآن سورۃ الانعام :۵۰ کی تفسیر میں بہت تفصیل سے گفتگو کی ہے اس بحث کے عنوانات حسب ذیل ہیں:
کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع وحی کرنا اجتہاد کے منافی ہے
نبی ﷺ کے اجتہاد پر دلائل
صحابہ کرام کے اجتہاد پر دلائل
آپ کا اتباع وحی کرنا اجتہاد کے منافی نہیں ہے
اجتہاد کی تعریف
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد کے متعلق علماء اسلام کے مذاہب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد میں توقف کے قائلین
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد کے وقوع سے متعلق مذاہب علماء
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد کے وقوع کے ثبوت میں احادیث ۔ ( تبیان القرآن ج ۳ ص ۴۸۳-۴۷۶ فرید بک سٹال لاہور )
نیز الاحقاف:9 کی تفسیر میں بھی ہم نے اس مسئلہ پر بحث کی ہے ۔ ( تبیان القرآن ج ۱ ص ۶۹ )
التوبہ:۴۳ میں بھی ہم نے آپ کے اجتہاد پر بحث کی ہے ۔ ( تبیان القرآن ج ۵ ص ۱۴۸-۱۴۲)
النجم : ۴ میں بھی ہم نے آپ کے اجتہاد پر مفصل بحث کی ہے اس کے عنوانات حسب ذیل ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد کی تحقیق
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نام کے اجتہاد میں مذاہب فقہاء
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد میں فقہاء احناف کا نظریہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خطاء اجتہادی میں مصنف کی تحقیق
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد کے وقوع کے ثبوت میں احادیث ۔ ( تبیان القرآن ج ۱۱ ص ۴۸۷-۴۸۵)
شرح صحیح مسلم :۵۸۔ ج۱ ص۴۱۰ اور نمبر :2756۔ ج ۳ ص۳۲۸۔۳۱۸ میں بھی اجتہاد کی بحث لائق مطالعہ ہے ۔
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم:۳۲۰۱۔ ج ۷۰۶۳ پر ہے اس کی شرح کے عنوانات ہیں :
مکہ ابتداء آفرینش سے حرم ہے یا بعثت ابراہیم کے بعد
حرم میں حدود جاری کر نے کے مذاہب
مکہ بذریعہ جنگ فتح ہونے پر دلائل
احادیث لکھنے پر دلیل ۔
[…] حدیث میں بھی لکھنے کا ثبوت ہے اس کی تفصیل اور تحقیق حدیث : ۱۱۲ میں گزرچکی ہے […]