کتاب العلم باب 38 حدیث نمبر 107
۱۰۷- حدثنا أبو الوليد قال حدثنا شعبة عن جامع بـن شـداد، عن عامر بن عبدالله بن الزبیر، عن أبيه قال قلت للزبير إني لا أسمعك تحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم كما يحدث فلان وفلان! قال أما إني لم أفارقه ، ولكن سمعتہ یقول من كذب على فليتبوأ مقعده من النار .
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابوالولید نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از جامع بن شداد از عامر بن عبدالله بن الزبیر از والد خود انہوں نے کہا: میں نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر احادیث نہیں سنتا، جس طرح فلاں فلاں حدیث بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا: بہرحال میں آپ سے بھی علیحدہ نہیں ہوا لیکن میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ دوزخ کی آگ میں اپنے بیٹھنے کی جگہ بنالے۔
( سنن ابوداؤد:3651، سنن ابن ماجه: 36، مصنف ابن ابی شیبہ ج ۸ ص 760، مسند البزار :۹۷۰ مسندابوداؤد الطیالسی :۱۹۱ السنن الکبری للنسائی: 5912 مسند ابویعلی : ۶۷۴ سنن دارمی : ۲۳۳ صحیح ابن حبان : 6982، مسند احمد ج ۱ ص 165، طبع قدیم مسنداحمد : ۱۳ ۱۴ – ج ۳ ص 30 مؤسسة الرسالة بیروت )
اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت واضح ہے کیونکہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کا گناہ بیان کیا گیا ہے ۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف اور حضرت ابن الزبیر اور حضرت الزبیر بن العوام کا تذکرہ
(۱) ابوالولید ہشام بن عبد الملک الطیالسی البصری.
( ۲ ) شعبہ بن الحجاج ان کا تعارف ہو چکا ہے.
(۳) جامع بن شداد المحاربی ابوصخرہ الکوفی، یہ ثقہ ہیں اور قلیل الحدیث ہیں ان کی کل ۲۰ احادیث ہیں یہ ۱۱۸ھ میں فوت ہوگئے تھے.
(۴) عامر بن عبداللہ بن الزبير بن العوام الاسدی القرشی المدنی’یہ عابد، فاضل اور ثقہ تھے ۱۲۴ھ میں فوت ہوگئے تھے.
(۵) حضرت عبداللہ بن الزبیر بن العوام رضی اللہ عنہما، یہ صحابی ابن صحابی ہیں مہاجرین میں ان کی سب سے پہلے اسلام میں پیدائش ہوئی ان کی والدہ حضرت اسماء بنت الصدیق رضی اللہ عنہا ہیں ، وہ ان کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور ان کو آپ کی گود میں رکھ دیا آپ نے ایک کھجور منگائی، اس کو چبایا، پھر اس کو اپنے لعاب دہن کے ساتھ ان کے منہ میں ڈال دیا اور ان کو گھٹی دی، پس سب سے پہلے جو چیز ان کے پیٹ میں پہنچی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن تھا پھر ان کے لیے دعا کی، یہ اطلس ( جس کی پیدائشی ڈاڑھی نہ ہو ) تھے ان کی ڈاڑھی نہیں آئی تھی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۳۳ احادیث روایت کی ہیں، امام بخاری نے ان میں سے 6 احادیث روایت کی ہیں یہ دن میں روزہ رکھتے تھے اور رات قیام اور سجود میں گزارتے تھے اور صبح تک عبادت کرتے رہتے تھے یزید بن معاویہ کی موت کے بعد ۶۴ ھ میں ان کو خلیفہ بنالیا گیا تھا اور اہل شام کے علاوہ ان کی خلافت پر اہل حجاز، اہل یمن، اہل عراق اور اہل خراسان سب متفق تھے انہوں نے کعبہ کی عمارت کی تجدید کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشاء کے مطابق حطیم کو کعبہ میں شامل کرلیا انہوں نے لوگوں کے ساتھ آٹھ حج کیئے وہ اپنی خلافت پر قائم رہے حتی کہ حجاج نے مکہ میں ان کا محاصرہ کرلیا یہ واقعہ یکم ذوالحجہ کی شب ۷۲ھ میں ہوا، ان کا محاصرہ جاری رہا حتی کہ ان پر ایک پتھر پھینکا گیا، جس سے یہ شہید ہوگئے ان کے جسم مبارک کو صلیب پر چڑھایا گیا اور ان کے سر کو خراسان میں بھیج دیا گیا (۲ ) ان کے والد حضرت الزبیر بن العوام، القرشی تھے یہ ان دس اصحاب میں سے ایک ہیں جن کو جنت کی بشارت دی گئی اور چھ اصحاب شوری میں سے ایک ہیں اور ان مہاجرین میں سے ایک ہیں جنہوں نے دو ہجرتیں کی ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری ( مددگار) ہیں، ان کی والدہ حضرت صفیہ بنت عبد المطلب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں وہ چوتھی اسلام لانے والی خاتون تھیں اور یہ حضرت ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر اسلام لاۓ یہ پانچویں مسلمان تھے، اس وقت ان کی عمر ۱۶ سال تھی یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام مغازی میں شریک رہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۳۸ احادیث روایت کی ہیں امام بخاری اور امام مسلم دو حدیثوں پر متفق ہیں، امام بخاری 17 احادیث کے ساتھ منفرد ہیں حضرت زبیر وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اسلام کی راہ میں تلوار نکالی، یوم الجمل میں یہ قتال کو ترک کر کے واپس ہوچکے تھے پھر ان کو جنگ جوؤں کی ایک جماعت نے بصرہ کی ایک جانب وادی السباع میں شہید کر دیا اور وہیں ان کو دفن کردیا گیا پھر ان کو بصرہ لایا گیا اور وہاں ان کی قبر مشہور ہے ان سے ایک بڑی جماعت نے احادیث روایت کی ہیں ان کی چار ازواج تھیں، ہر زوجہ کو بارہ بارہ لاکھ دیئے گئے ان کا تمام مال پانچ کروڑ ایک لاکھ تھا ۔ ( عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۲۸۔ ۲۲۷ دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۲۱ ھـ )
اس اعتراض کا جواب کہ حضرت زبیر نے حبشہ ہجرت کی تھی، پھر انہوں نے کیسے کہا: میں آپ سے جدا نہیں ہوا
اس حدیث میں ہے کہ حضرت زبیر نے کہا: میں کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں ہوا، یعنی سفر اور حضر میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہا’ اس پر یہ اعتراض ہے کہ انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی تو آپ سے جدا تو ہوۓ، اس کا جواب یہ ہے کہ غلبہ اسلام کے بعد یا اکثر احوال میں، میں آپ سے جدا نہیں ہوا۔
حضرت علی کی روایت میں اور حضرت زبیر کی روایت میں عمدا کی قید نہیں ہے، اس سے بعض لوگوں نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ آپ پر جھوٹ بولنا مطلقاً حرام ہے اور دخول نار کا سبب ہے خواہ عمداً جھوٹ باندھے یا بھولے سے، لیکن صحیح یہ ہے کہ بھولے سے جھوٹ بولنے پر مواخذہ نہیں ہوگا۔