کتاب العلم باب 41 حدیث نمبر 117
۱۱۷ – حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاس قَالَ بِت فِي بَيْتِ خَالَتِى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى مَنزِلِهِ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ ثُمَّ قَالَ نَامَ الْغليمُ؟ اَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا، ثُمَّ قَامَ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ، حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَه او خَطِيطَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلوةِ۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں آدم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں الحکم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے سعید بن جبیر سے سنا از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما انہوں نے کہا: میں ایک رات اپنی خالہ کے پاس رہا’ جن کا نام حضرت میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں اور اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر آپ اپنے گھر آگئے، پھر آپ نے چار رکعات نماز پڑھی، پھر آپ سو گئے، پھر آپ کھڑے ہو گئے، پھر آپ نے فرمایا: چھوٹا لڑکا سوگیا ؟ یا کوئی اور کلمہ اس کے مشابہ فرمایا، پھر آپ (نماز کے لیے ) کھڑے ہو گئے’ سو میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، پس آپ نے مجھے دائیں جانب کر دیا آپ نے پانچ رکعات نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر آپ سو گئے، حتی کہ میں نے آپ کے خراٹے لینے کی آواز سنی پھر آپ نماز کے لیے باہر آگئے۔
اطراف الحدیث : ۱۳۸ – ۱۸۳ – ۲۹۷ – ۲۹۸ – ۲۹۹ – 726،728،859،992، 1198،4569،4570،4571،4572،5919،6215،6316،7452۔
صحیح مسلم : ۷۶۳ سنن ابوداؤد : ۶۱۰ شمائل ترندی : ۵ سنن نسائی: 1620 سنن الکبری للنسائی: ۱۳۴۱ – ۱۳۳۷ سنن ابن ماجہ: ۱۳۶۳ ، مسند احمد ج ا ص ۳۴۱ طبع قدیم، مسند احمد : ۳۱۷۵- ج ۵ ص ۲۵۸)
اس حدیث کی عنوان باب کے ساتھ مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں مذکور ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کے بعد فرمایا: لڑکا سوگیا ؟ اور اس حدیث کا عنوان ہے: عشاء کی نماز کے بعد باتیں کرنا۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
اس حدیث کے تمام رجال کا پہلے تعارف ہو چکا ہے سوائے الحکم بن عتیبہ کے ان کا نام عبد الکندی ہے اور ان کی کنیت ابوعبداللہ ہے، یحییٰ بن معین، عبد الرحمان بن مہدی اور ابو حاتم نے کہا: یہ ثقہ ہیں یہ حماد کے ساتھ کوفہ کے فقیہ تھے انہوں نے حضرت ابن ابی اوفی اور حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے اور ان سے شعبہ وغیرہ نے روایت کی ہے یہ عابد اور عامل بالسنتہ تھے ۱۱۴ھ میں فوت ہو گئے تھے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۶۹)
حضرت ام المؤمنین میمونہ بنت الحارث کا تذکرہ
حضرت ام المؤمنین میمونہ بنت الحارث الہلالیۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ۶ ھ یا 7ھ میں نکاح کیا، یہ ا۵ھ میں مقام سرف میں فوت ہو گئی تھیں، ایک قول 66 ھ کا ہے، مقام سرف میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تھا، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی’ کہا گیا ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری زوجہ تھیں، کیونکہ ان کے بعد آپ نے اور کسی سے نکاح نہیں کیا یہ حضرت لبابہ بنت الحارث کی بہن ہیں، جو حضرت عباس رضی اللہ کی زوجہ تھیں اور یہ حضرت عبداللہ اور حضرت الفضل وغیر ہما کی ماں تھیں یہ پہلی خاتون ہیں، جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد اسلام لائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملاقات کیا کرتے تھے یہ لبابہ کبری ہیں ان کی بہن لبابہ صغری تھیں، جو حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص۲۷۰)
مختلف اوقات میں تہجد کی مختلف رکعات
اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعات پڑھیں۔ اس حدیث میں پہلے چار رکعات نماز پڑھنے کا ذکر ہے، پھر پانچ رکعات پڑھنے کا ذکر ہے، پھر دو رکعت پڑھنے کا ذکر ہے اس طرح آپ نے گیارہ رکعات نماز پڑھیں اور صحیح بخاری میں دوسرے مقام پر ہے کہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز تیرہ رکعات تھی ۔
(صحیح البخاری : ۱۱۳۸ صحیح مسلم : ۷۶۴ سنن ترمذی: ۴۴۲ مسند احمد ج ۱ ص ۲۲۸)
اور یہ بھی حدیث ہے کہ صبح کی دو رکعت سنت کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو تیرہ رکعات پڑھیں :
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعات نماز پڑھتے تھے پھر جب آپ صبح کی اذان سنتے تو دو خفیف رکعات پڑھتے ۔ (صحیح البخاری : ۱۱۷۰)
اس کی تفصیل اس حدیث میں ہے:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آپ نے دورکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر آپ نے وتر پڑھے پھر آپ لیٹ گئے، حتی کہ آپ کے پاس مؤذن آ گیا، پھر آپ نے دو خفیف رکعات پڑھیں، پھر آپ نے صبح کی نماز پڑھائی۔ (صحیح البخاری : ۱۸۳ صحیح مسلم : ۷۶۳ سنن ابوداؤد : ۱۳۶۷)
خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے مختلف اوقات میں تہجد کی مختلف رکعات پڑھی ہیں تا کہ امت کے لیے آسانی ہو اس کی مکمل تفصیل اور تحقیق ان شاء الله ” کتاب التهجد” میں آئے گی۔
حدیث مذکور سے مسائل کا استخراج
(1) اس حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی فضیلت ہے کہ وہ بچپن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے معمولات جاننے کے لیے ساری رات جاگتے رہے، ایک قول یہ ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو یہ وصیت کی تھی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے اعمال کا مشاہدہ کریں۔
(۲) اس حدیث میں ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو حضرت ابن عباس بھی آپ کے ساتھ نماز میں شامل ہوگئے اس میں نوافل کی جماعت کا ثبوت ہے اور چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے سے نماز پڑھ رہے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ امام کے لیے مقتدی کی نیت کرنا ضروری نہیں ہے، حضرت ابن عباس آپ کی بائیں طرف کھڑے ہوئے تھے، آپ نے ان کو کان سے پکڑ کر دائیں طرف کر دیا اس سے معلوم ہوا کہ اگر مقتدی ایک ہو تو اس کو امام کی دائیں طرف کھڑے ہونا چاہیے اور امام نماز میں بھی غلط کام کی اصلاح کر سکتا ہے اور عمل قلیل مفسد نماز نہیں ہے۔
(۳) حضرت ابن عباس ساری رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہے اس سے معلوم ہوا کہ نابالغ بچہ اپنے محارم کے ساتھ ساری رات گزار سکتا ہے، خواہ اس کی خالہ کے ساتھ اس کا شوہر بھی ہو۔
(۴) اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ کے گھر تھے اس سے معلوم ہوا کہ آپ باری باری اپنی ازواج مطہرات کے پاس جاتے تھے آپ پر یہ تقسیم واجب نہ تھی، لیکن آپ نے اپنے فضل سے اپنے اوپر یہ معمول لازم کر لیا تھا۔
(۵) آپ نے فرمایا: ” نام الغلیم ” کیا چھوٹا لڑکا سو گیا ؟ اس ارشاد میں محبت کی وجہ سے نام کے بجائے صفت کے ذکر کرنے کا ثبوت ہے اور تصغیر کا بھی ثبوت ہے۔
(6) اس حدیث میں یہ ثبوت ہے کہ نابالغ بچے کی نماز صحیح ہے اور اگر وہ اکیلا ہو تو اس کے ساتھ بھی جماعت ہو جاتی ہے۔
(۷) اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ نے کل گیارہ رکعات پڑھیں، جن میں دورکعت سنت فجر تھیں، تین رکعت وتر اور چھ رکعت آپ نے تہجد کی نماز پڑھی، تہجد کی رکعات آپ نے کم از کم چار اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعات پڑھی ہیں ۔
(۸) اس حدیث میں یہ ثبوت ہے کہ مرد اپنی بیوی کے ساتھ محرم کی موجودگی میں بغیر جماع کے سوسکتا ہے بعض روایات میں ہے کہ حضرت میمونہ اس رات حائضہ تھیں، ورنہ حضرت ابن عباس اس رات آپ کے معمولات کا مشاہدہ کرنے کے لیے جاگ کر رات نہ گزارتے.
(۹) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ کر سو جائیں تو اس سے آپ کا وضو نہیں ٹوٹتا‘ آپ کی آنکھیں سو جاتی ہیں اور آپ کا دل جاگتا رہتا ہے اور تمام انبیاء علیہم السلام کا یہی حال ہوتا ہے اور لیلتہ التعریس میں جب آپ سوئے تھے اور سورج طلوع ہوگیا تھا، تو وہ اس کے منافی نہیں ہے، کیونکہ سورج کے طلوع کو دیکھنا آنکھوں کا کام ہے اور وہ سوئی ہوئی تھیں۔
احادیث مکررہ میں ہر بار نئے نئے مسائل کا استخراج
اس حدیث کو امام بخاری نے انیس جگہ ذکر کیا ہے اور ہر جگہ اس سے ایک نیا مسئلہ مستنبط کیا ہے مثلاً یہاں اس حدیث کو عشاء کی نماز کے بعد باتیں کرنے کے ثبوت میں ذکر کیا ہے کیونکہ آپ نے فرمایا تھا: کیا چھوٹا لڑکا سوگیا ؟ حدیث: ۱۳۸ میں اس کو تخفیف في الوضو” کے باب میں ذکر کیا ہے کیونکہ اس حدیث میں ذکر ہے کہ آپ نے کم پانی کے ساتھ تخفیف سے وضو کیا، پھر نماز پڑھی حدیث: ۱۸۳ میں اس کو “باب قراءة القرآن بعد الحدث‘ میں ذکر کیا، کیونکہ اس حدیث میں ذکر ہے کہ جب آپ سو کر اٹھے تو آپ نے سورۃ آل عمران کی دس آیات تلاوت کیں اس کے بعد وضو کیا۔ حدیث: ۶۹۷ میں اس کو اس باب کے تحت ذکر کیا کہ جب ایک مقتدی ہو تو اس کو امام کی دائیں جانب کھڑا ہونا چاہیے حدیث : ۶۹۸ میں اس حدیث کو اس باب میں ذکر کیا کہ اگر مقتدی بائیں جانب کھڑا ہو جائے اور امام اس کو نماز میں دائیں جانب کھڑا کر دے تو اس سے اس کی نماز فاسد نہیں ہوتی ، حدیث : 699 میں اس حدیث کو اس باب کے تحت ذکر کیا کہ امام نے کسی کو نماز پڑھانے کی نیت نہ کی ہو پھر کوئی آ کر نماز میں شامل ہو جائے تو جماعت کی نماز صحیح ہے حدیث: ۷۲۶ میں اس حدیث کو اس باب میں ذکر کیا کہ اگر ایک آدمی امام کی بائیں طرف کھڑا ہو جائے اور امام اس کو نماز میں دائیں طرف کر دے تو اس کی نماز پوری ہو جائے گی حدیث : ۷۲۸ میں اس حدیث کو اس باب میں ذکر کیا: امام اور مسجد کی دائیں جانب اس حدیث میں ذکر ہے کہ حضرت ابن عباس بائیں جانب کھڑے ہوئے تھے آپ نے ان کو دائیں جانب کر دیا۔ حدیث: ۸۵۹ میں اس حدیث کو بچوں کے وضو کرنے کے باب میں ذکر کیا، کیونکہ اس حدیث میں حضرت ابن عباس کے وضو کرنے کا ذکر ہے۔ حدیث : ۹۹۲ میں اس حدیث کو باب الوتر ” کے تحت ذکر کیا ہے کیونکہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کا ذکر ہے۔ حدیث : ۱۱۹۸ میں اس حدیث کو نماز میں نماز کے کام میں ہاتھ سے استعانت کے باب میں ذکر کیا، کیونکہ اس حدیث میں ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بستر سے اٹھ کر ہاتھ کو آنکھوں پر ملا پھر ایک لٹکی ہوئی مشک سے پانی لے کر وضو کیا۔ حدیث : ۴۵۶۹ میں اس حدیث کو اس باب میں ذکر کیا، جس میں ” إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ . ( آل عمران: ۱۹۰) پڑھنے کا ذکر ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بستر سے اٹھ کر یہ آیت پڑھی تھی حدیث : 4570 میں اس حدیث کو بَابُ : الَّذِيْنَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيْمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ . (آل عمران : (۱۹) میں ذکر کیا ہے کیونکہ اس حدیث میں ذکر ہے آپ نے آل عمران کی دس آیتیں پڑھیں، ان میں یہ آیت بھی ہے۔حدیث : ۴۵۷۱ میں اس حدیث کو بَابُ : رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَه . ( آل عمران: ۱۹۲)‘ میں ذکر کیا ہے کیونکہ اس حدیث میں ذکر ہے کہ آپ نے بستر سے اٹھ کر آل عمران کی آخری دس آیتوں کو پڑھا ان میں یہ آیت بھی ہے۔ حدیث: ۴۵۷۲ کو ” بَابُ : رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِى لِلإيْمَانِ. ( آل عمران: ۱۹۳ میں ذکر کیا ہے کیونکہ اس میں ذکر ہے کہ آپ نے بستر سے اٹھ کر آل عمران کی آخری دس آیتوں کو پڑھا جن میں یہ آیت بھی ہے۔ حدیث: ۵۹۱۹ میں اس حدیث کو باب الذوائب ( مینڈھیاں) میں ذکر کیا ہے کیونکہ اس حدیث میں ذکر ہے کہ آپ نے میری مینڈھیوں یا میرے سر کو پکڑ کر بائیں جانب سے دائیں جانب کر دیا حدیث: ۶۲۱۵ کو اس باب میں ذکر کیا ہے جس میں آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کا ذکر ہے، کیونکہ اس حدیث میں ذکر ہے کہ تہائی رات گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر آسمان کی طرف دیکھا، پھر آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں ۔ حدیث: ۶۳۱۶ میں اس حدیث کو اس باب میں ذکر کیا ہے جس میں بیدار ہونے کے بعد دعا کرنے کا ذکر ہے کیونکہ اس حدیث میں ذکر ہے کہ تہجد کی تیرہ رکعت پڑھنے کے بعد آپ سو گئے اور جب دوبارہ بیدار ہوئے تو آپ نے یہ دعا کی: اے اللہ ! میرے دل میں نور کر دے میری آنکھ میں نور کر دے میرے کان میں نور کردے اور میرے دائیں نور کر دے اور میرے بائیں نور کر دے اور میرے نیچے نور کر دے اور میرے آگے نور کر دے اور میرے پیچھے نور کردے اور میرے لیے نور کر دے ( یعنی مجھے مجسم نور کر دے)۔ حدیث : ۷۴۵۲ کو اس باب کے تحت ذکر کیا ہے آسمانوں اور زمینوں اور دیگر مخلوقات کی تخلیق کیونکہ اس حدیث میں ذکر ہے کہ آپ نے ” إِنَّ فِي خَلْقٍ السَّمواتِ وَالأَرْضِ. ( آل عمران : ۱۹۰) پڑھی جس میں آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق کا ذکر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس حدیث کو امام بخاری نے ۱۹ بار مکرر ذکر کیا ہے اور ہر بار اس حدیث سے ایک نیا مسئلہ نکالا ہے اور جس حدیث کو بھی امام بخاری جتنی بار مکرر ذکر کرتے ہیں، اس سے امام بخاری اتنے ہی مسائل کا استنباط اور استخراج کرتے ہیں ۔
احادیث مکررہ میں سند کے تکرار کا تجزیہ
اسی طرح امام بخاری جس حدیث کو مکرر ذکر کرتے ہیں تو عموما ہر مرتبہ اس کونئی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں، مثلاً اس حدیث کو نمبر ۱۷ میں آدم سے روایت کیا، نمبر ۱۳۸ میں علی بن عبداللہ سے نمبر ۱۸۳ میں اسماعیل سے نمبر ۶۹۷ میں سلیمان بن حرب سے نمبر ۶۹۸ میں احمد سے نمبر ۶۹۹ میں مسدد سے نمبر ۷۲۶ میں قتیبہ بن سعید سے نمبر ۷۲۸ میں موسیٰ سے نمبر ۸۵۹ میں علی بن عبداللہ سے نمبر ۱۳۸ میں علی بن عبداللہ سے روایت تھی، نمبر ۹۹۲ عبداللہ بن مسلمہ سے نمبر ۱۱۹۸ میں عبداللہ بن یوسف سے نمبر ۴۵۶۹ میں سعید بن ابی مریم سے نمبر ۴۵۷۰ میں پھر علی بن عبد اللہ سے یہ ان سے تیسری بار مکرر روایت ہے نمبر ا۴۵۷ میں پھر علی بن عبداللہ سے یہ ان سے چوتھی روایت ہے نمبر ۴۵۷۲ میں قتیبہ بن سعید سے نمبر ۷۲۶ بھی ان ہی سے تھی، نمبر ۵۹۱۹ میں علی بن عبداللہ سے یہ ان سے پانچویں روایت ہے نمبر ۶۲۱۵ میں ابن ابی مریم سے نمبر ۴۵۶۹ بھی ان سے روایت تھی، نمبر ۶۳۱۶ میں پھر علی بن عبداللہ سے یہ ان سے چھٹی مکرر روایت ہے نمبر ۷۴۵۲ میں سعید بن ابی مریم سے یہ ان سے تیسری مکرر روایت ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ۱۹ احادیث میں سے علی بن عبد اللہ سے چھ مرتبہ سعید بن ابی مریم سے تین مرتبہ قتیبہ بن سعید سے دو مرتبہ مکرر روایت کی ہے اور یہ گیارہ مکرر اسانید ہیں اور آٹھ بار نئی اسانید سے روایت کی ہے۔
مکرر روایت کی یہ تفصیل اور تجزیہ صرف ہماری شرح کی خصوصیت ہے اور کسی شارح نے اس کی طرف توجہ نہیں کی ۔
شرح صحیح مسلم میں حدیث مذکور کی شرح
باب مذکور کی یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۷۰۵ – ۱۶۸۵ – ج ۲ ص ۵۱۱ پر مذکور ہے اس کی شرح میں حسب ذیل عنوانات ہیں:
حدیث ابن عباس سے مستفاد انہتر (۶۹) احکامِ شرعیہ (2) دعاء نور (3) لفظ رب کی تحقیق ۔
[…] حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری: ۱۱۷ میں گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ […]
[…] حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۱۱۷ میں مطالعہ […]