وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 12
sulemansubhani نے Thursday، 17 October 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا ۞
ترجمہ:
اور ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط ( آسمان) بنائے.
النبا : ١٢ میں فرمایا : اور ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے۔
لفظ ” بنینا “ لانے کی حکمت
” شداد “ کا لفظ ” شدیدۃ “ کی جمع ہے یعنی جس کی تخلیق مضبوط اور محکم ہو اور وقت کے گزرنے سے اس میں کوئی تغیر نہ ہو سکے اور اس میں نہ کوئی ٹوٹ پھوٹ ہو سکے اور نہ اس میں کوئی شکایت پڑ سکے، اس کی نظریہ آیت ہے :
وَجَعَلْنَا السَّمَآئَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا (الانبیائ : ٣٢) اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنادیا ہے۔
اس آیت میں ” بنینا “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : ہم نے بنیاد رکھی اور بنیاد مکان کے نیچے ہوتی ہے اور چھت اوپر ہوتی ہے تو چھت بنانے کے لیے لفظ ” بنینا “ کو لانے کی کیا حکمت ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بنیاد ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ ہوتی ہے، جب کہ چھت میں ٹوٹ پھوٹ کا خطرہ ہوتا ہے، تو ” بنینا “ کا لفظ لا کر یہ ظاہر فرمایا ہے کہ یہ چھت کی بنیاد کی طرح مضبوط ہے اور ٹوٹ پھوٹ کے خطرہ سے محفوظ ہے۔
بعض صوفیاء نے کہا ہے کہ جس طرح آسمان سات ہیں، اسی طرح قلب کے بھی سات طبقات ہیں : (١) طبقۃ الصدور اور یہ جوہر اسلام کا معدن ہے (٢) طبقۃ القلب اور یہ جوہر ایمان کا محل ہے (٣) الشفاف، یہ عشق، محبت اور شفقت کا معدن ہے (٤) الفواد، یہ مکاشفہ اور مشاہدہ کا معدن ہے (٥) حبۃ القلب، یہ صرف اللہ تعالیٰ کی محبت کے ساتھ مخصوص ہے، اس طبقہ میں دونوں جہان میں سے کسی کی محبت ہیں ہوتی (٦) السویدا، یہ علم لدنی کا معدن ہے اور بیت الحکمۃ ہے (٧) بت المعزۃ، یہ اکملین کا قلب ہے، اس بیت میں اسرارِ الٰہیہ ہیں، یہ باطن سے ظاہر کی طرف بالکل نہیں نکلتے اور نہ کبھی ان کا کوئی اثر ظاہرہوتا ہے۔ ( روح البیان ج ١٠ ص ٣٤٩، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)
القرآن – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 12