أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّ جَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا ۞

ترجمہ:

اور ہم نے سورج کو چمکتا ہوا چراغ بنایا۔

النبا : ١٣ میں فرمایا : اور ہم نے سورج کو چمکتا ہوا چراغ بنایا۔

” وھاج “ اور ” نجاج “ کے معانی

اس آیت میں ” وھاج “ کا لفظ ہے، یہ مبالغہ کا صیغہ ہے اور یہ ” وھج “ سے بنا ہے ” وھج “ کا معنی ہے : روشن ہونا، چمکنا اور بھڑکنا، سو اس کا معنی ہے : بہت زیادہ روشن۔

بعض علماء نے کہا : الوھج “ کا معنی ہے :” مجمع النور والحرارۃ “ گویا اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ سورج انتہائی درجہ کا روشن اور انتہائی درجہ کا گرم ہے، کلبی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ” الوھاج “ صرف نور کا مبالغہ ہے، اور الخلیل کی کتاب میں لکھا ہے کہ ” الوھج “ آگ اور سورج کی گرمی ہے۔

اس کا تقاضا ہے کہ ” الوھاج “ حرارت کا مبالغہ ہو یعنی انتہائی گرم اور روشن۔

القرآن – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 13