٥- بَابُ التَّخْفِيفِ فِي الْوُضُوءِ

وضوء میں تخفیف

باب سابق کے ساتھ اس باب کی مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں شک کی صورت میں وضوء کو برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا اور یہ وضوء کے معاملہ میں مشقت سے بچانا ہے اور اس باب میں وضوء میں تخفیف کا بیان ہے اور یہ بھی وضوء میں مشقت سے بچانا ہے۔

۱۳۸ – حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ  عَنْ عَمْرٍو قَالَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاس ان النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى نَفَخَ ، ثُمَّ صَلَّی وَرُبَّمَا قَالَ اِضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى.

 امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں علی بن عبد اللہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی از عمرو انہوں نے کہا: مجھے کریب نے خبر دی از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے، حتی کہ آپ نے خراٹے لیے، پھر آپ نے نماز پڑھی اور بعض دفعہ یہ کہا کہ آپ لیٹ گئے، حتی کہ آپ نے خراٹے لیے پھر آپ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔

ثُمَّ حَدَّثَنَا بِهِ سُفْيَانُ مَرَّةٌ بَعْدَ مَرَّةٍ، عَنْ عَمْرٍو عنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ بِت عِندَ خَالَتِی ميْمُونَةَ لَيْلَةٌ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّاَ مِنْ شَنِ مُعَلَّقِ وَضَوءا خَفِيفًا يُخَفِّفُهُ عَمْرُو وَيُقلّلهُ. وَقَامَ يُصَلّى، فَتَوَضَّاتُ نَحوا مِمَّا تَوَضَّاَ، ثمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ عَنْ شِمَالِهِ فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِى عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى مَا شَاءَ اللهُ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ آتَاهُ الْمُنَادِى فَاذَنَهُ بِالصَّلَوةِ فَقَامَ مَعَهُ إِلَى الصَّلوة فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّاً. قُلْنَا لِعَمْرِو إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ؟ قَالَ عَمْرُو سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ ثُمَّ قَرَا( إِنِّي أَرى فِی الْمَنَامِ انِّی اذْبَحَكَ ﴾ (الصافات: ۱۰۲).

پھر ہمیں سفیان نے ایک مرتبہ کے بعد دوسری بار حدیث بیان کی از عمرو از کریب از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما انہوں نے کہا: میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گزاری پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے پھر جب رات کا کچھ حصہ گزر گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر مشک سے پانی لے کر وضوء کیا عمرو نے کہا: خفیف اور قلیل وضوء کیا اور آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، پھر میں نے بھی اسی طرح وضوء کیا، جس طرح آپ نے وضوء کیا تھا، پھر میں آکر آپ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا اور کبھی سفیان نے” یسار” کے بجائے ” شمال “ کا لفظ استعمال کیا دونوں کا معنی بائیں جانب ہے پھر آپ نے مجھے پھیر کر اپنی دائیں جانب کر لیا پھر جتنی اللہ نے چاہا آپ نے نماز پڑھی، پھر آپ لیٹ کر سوگئے حتی کہ آپ خراٹے لینے لگے پھر مؤذن آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ کو نماز کی اطلاع دی، آپ اس کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز کی طرف گئے، پھر آپ نے نماز پڑھائی اور آپ نے وضو نہیں کیا ہم نے عمرو سے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھیں اور آپ کا دل نہیں سوتا تھا، عمرو نے کہا: میں نے عبید بن عمیر کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا خواب وحی ہوتا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ” میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تم کو ذبح کر رہا ہوں ( الصافات : ۱۰۲)۔

اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری: ۱۱۷ میں گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔

حدیث مذکور کے بعض اہم مسائل اور فوائد

(1) اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ کر سوگئے اور آپ کا وضو نہیں ٹوٹا’ اسی طرح باقی انبیا علیہم السلام کا بھی حکم ہے اسی وجہ سے عبید بن عمیر نے کہا کہ انبیاء علیہم السلام کا خواب وحی ہوتا ہے،  علامہ خطابی نے کہا ہے کہ نیند آپ کے قلب کو اس لیے بیدار رکھتی ہے کہ آپ خواب میں ہونے والی وحی کو محفوظ رکھ سکیں ۔

(۲) اس حدیث میں نابالغ لڑکے کا اپنے محرم کے گھر میں رات کو رہنے کا ثبوت ہے، خواہ اس کی اہلیہ بھی ساتھ ہو۔

(۳) اس میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی فضیلت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شب کے معمولات کو دیکھنے کے لیے جاگتے رہے اور آپ کے افعال کی اقتداء کی، نیز اس حدیث میں ذکر ہے کہ آپ نے تخفیف سے وضوء کیا، یعنی ایک ایک بار اعضاء وضوء کو دھویا اور باب کا عنوان بھی یہی ہے۔

(۴) اس میں نفل کی جماعت کا ثبوت ہے اور یہ کہ ایک فرد کے ساتھ بھی جماعت ہوجاتی ہے خواہ اس کو نماز پڑھانے کی پہلے نیت نہ کی ہو اور اگر ایک مقتدی ہو تو اس کو امام کی دائیں طرف کھڑا ہونا چاہیے اور امام نماز میں عمل قلیل سے کسی غلطی کی اصلاح کر سکتا ہے جیسے آپ نے حضرت ابن عباس کو بائیں جانب سے دائیں جانب پھیر دیا اور مؤذن کو چاہیے کہ امام کو نماز کی اطلاع دے اور اس میں یہ ثبوت بھی ہے کہ چھوٹے بچے کے کان کو مروڑنا جائز ہے۔