۱۱ – بَاب لَا تُسْتَقْبَلُ الْقِبْلَةُ بِغَائِطِ  أوْ بَوْلٍ إِلَّا عِنْدَ الْبَنَاءِ جِدَارٍأَوْ نَحوه

پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کیا جائے

لیکن جب عمارت میں ہو یا کسی دیوار یا اس طرح کی کسی چیز کی آڑ ہو تو کوئی حرج نہیں بعض علماء نے کہا ہے کہ قبلہ کی طرف منہ کرنا اس وقت متحقق ہوگا جب کھلے میدان یا جنگل میں قضاء حاجت کی جائے، لیکن جب انسان کسی عمارت مثلاً بیت الخلاء میں ہو یا کسی دیوار کی آڑ میں بیٹھا ہو تو پھر یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس کا قبلہ کی طرف منہ ہے، لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ جب انسان کا قبلہ کی طرف منہ ہوگا تو یہی صادق آئے گا کہ اس کا قبلہ کی طرف منہ ہے خواہ وہ صحراء میں ہو یا میدان میں یا کسی عمارت میں ہو یا کسی دیوار کے پیچھے ہو، اور جس طرح بیت الخلاء میں اس کے اور قبلہ کے درمیان بیت الخلاء کی دیوار حائل ہوتی ہے اسی طرح کھلے میدان اور صحراء کے آگے بھی پہاڑ اور ٹیلے اور شہر کی عمارتیں حائل ہوتی ہیں اس لیے ان میں شرعی حکم کے لحاظ سے فرق کرنا صحیح نہیں ہے۔

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ دونوں باب قضاء حاجت اور بیت الخلاء کے ذکر میں مشترک ہیں۔

١٤٤ – حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِنْبِ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثي عَنْ أَبِی أَيُّوبَ الْأَنْصَارِي قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى اَحَدُكُمُ الْغَائِط، فَلا يَسْتَقْبل الْقِبْلَةَ وَلَا يُوَلَّهَا ظَهْرَهُ شَرِقُوا أَوْ غَرِبُوا. طرف الحدیث: ۳۹۴)

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں آدم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابن ابی ذئب نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے زہری نے حدیث بیان کی از عطاء بن یزید اللیثی از حضرت ابی ایوب انصاری رضی اللہ عنہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص پاخانہ کرنے جائے تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرے اور نہ اس کی طرف پیٹھ کرے، مشرق کی طرف منہ کرو یا مغرب کی طرف منہ کرو۔

(صحیح مسلم : ۲۶۴ الرقم لمسلسل : ۵۹۸ سنن ابوداؤد: 38،  سنن نسائی: ۲۲-۲۱، سنن ابن ماجه: 318،  موطا امام مالک:  463،  مصنف ابن ابی شیبه ج ۱ ص ۱۵۰ المعجم الکبیر: 3931،  مسند احمد ج ۵ ص ۴۱۴ طبع قدیم مسند احمد : ۲۳۵۱۴ – ج ۳۸ ص۴۹۶ مؤسسة الرسالة بیروت)

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: جب تم میں سے کوئی شخص پاخانہ کرنے جائے تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرے اور نہ اس کی طرف پیٹھ کرے لیکن امام بخاری نے عنوان میں عمارت یا دیوار وغیرہ کی آڑ کا جو استثناء ذکر کیا ہے اس کا اس حدیث میں بالکل ذکر نہیں ہے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف اور حضرت ایوب انصاری کا تذکرہ اور ان کی قبر کے پاس دعا کا قبول ہونا

(۱) آدم بن ابی ایاس

(۲) محمد بن عبد الرحمن بن مغیرہ بن الحارث بن ابی ذئب

(۳) محمد بن مسلم بن شہاب الزہری، ان سب کا تعارف ہو چکا ہے

(۴) ابو یزید عطاء بن یزید اللیثی ، یہ تابعی ہیں، ۱۸۲ ھ یا ۱۸۵ ھ میں فوت ہو گئے تھے

(۵) حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ ان کا نام خالد بن زید بن کلیب بن ثعلبہ الانصاری البخاری ہے یہ غزوہ بدر اور عقبہ ثانیہ میں حاضر تھے،  جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ آئے تو ان کے پاس ایک مہینہ ٹہرے تھے، یہ معزز صحابہ رضی اللہ عنہم سے ہیں، انہوں نے ۱۵۰ احادیث روایت کی ہیں ان میں سے سات احادیث پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں، امام بخاری ایک حدیث کے ساتھ منفرد ہیں، یہ جنگوں میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ تھے ۵۰ھ میں قسطنطنیہ میں جہاد کرتے ہوئے فوت ہو گئے، اس جہاد میں یہ یزید بن معاویہ کے ساتھ تھے،  یہ اس کے ساتھ نکلے، پھر بیمار ہو گئے، جب ان کا مرض زیادہ ہوگیا تو انہوں نے اپنے اصحاب سے کہا: جب میں فوت ہوجاؤں تو مجھے اٹھالینا اور جب تمہارا دشمن سے مقابلہ ہو تو مجھے تم اپنے قدموں کے نیچے دفن کردینا، سو انہوں نے ایسا ہی کیا ان کی قبر قسطنطنیہ کی سرحد کے قریب معروف ہے، اس کی آج تک تعظیم کی جاتی ہے، لوگ وہاں بارش کی طلب کے لیے دعا کرتے ہیں تو وہاں بارش ہو جاتی ہے۔(عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۲۰)

حافظ جمال الدین ابو الحجاج يوسف المزی المتوفی 742ھ  لکھتے ہیں :

یہ عقبہ میں حاضر ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کرکے مدینہ آئے، تو ان کے پاس ٹھہرے تھے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر احد اور تمام مشاہد میں حاضر تھے ان کا گھر مدینہ میں تھا، خوارج کے ساتھ جنگ نہروان میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور ان کے بعد ایک لمبے عرصہ تک زندہ رہے اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان کی خلافت میں روم کے شہر میں جہاد کرتے ہوئے فوت ہوئے، القسطنطنیہ کی سرحد میں ان کی قبر ہے۔

سعید بن المسیب نے روایت کیا ہے کہ حضرت ابوایوب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک میں کوئی مکروہ چیز لگی دیکھی انہوں نے اس کو نکال کر آپ کو دکھائی، آپ نے ان کو دعا دی کہ ابوایوب میں جو مکروہ چیز ہو اللہ اس کو نکال لے ۔ (مجمع الزوائد ج 4 ص ۳۲۳)

حضرت ابوایوب کے آزاد کردہ غلام افلح بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت ام ایوب نے حضرت ابوایوب سے کہا: کیا آپ سن رہے ہیں کہ لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق کیا کہہ رہے ہیں؟ حضرت ابوایوب نے کہا: کیوں نہیں! یہ جھوٹ ہے اے ام ایوب! کیا تم ایسا کرسکتی ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں! اللہ کی قسم! حضرت ابوایوب نے کہا: اللہ کی قسم ! حضرت عائشہ تم سے بہت افضل ہیں،پھر جب قرآن نازل ہوا اور اس میں تہمت لگانے والوں کا ذکر ہوا اور اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی:

لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ ( النور :۱۲)

 ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اس بات کو سنا تو وہ ان کے متعلق نیک گمان کرتے اور کہتے : یہ صریح بہتان ہے۔

یعنی جس طرح حضرت ابو ایوب نے حضرت ام ایوب سے بات کی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق نیک گمان کیا۔

ابوز بید بیان کرتے ہیں کہ میں اور نوف بکائی حضرت ابوایوب کی عیادت کے لیے گئے نوف نے کہا: اے اللہ ! ان کو عافیت میں رکھ اور شفا دے حضرت ابوایوب نے کہا: یہ نہ کہو بلکہ یہ کہو: اے اللہ! اگر اس کی زندگی پوری ہوگئی ہے تو اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما اور اگر اس کی زندگی باقی ہے تو اس کو شفا دے اور اجر عطا فرما۔

حضرت ابوایوب ۵۰ھ میں فوت ہو گئے تھے ۵۱ھ اور ۵۲ ھ کے بھی قول ہیں۔

تہذیب الکمال ج ۵ ص ۳۵۳ – 352 دار الفکر بیروت، ۱۴۱۴ھ )

علامہ ابن الاثیر علی بن محمد الجزری المتوفی ۶۳۰ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابوایوب جس لشکر کے ساتھ قسطنطنیہ جہاد کے لیے گئے تھے اس کا امیر یزید بن معاویہ تھا، حضرت ابوایوب بیمار ہو گئے تو یزید عیادت کے لیے آیا اور پوچھا: آپ کی کوئی خواہش ہو تو بتائیں حضرت ابوایوب نے بتایا کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے دشمن کے علاقہ میں دور تک لے جانا، پھر مجھے وہاں دفن کر کے لوٹ آنا جب حضرت ابوایوب فوت ہو گئے تو ان کو القسطنطنیہ کے قریب دفن کر دیا وہاں ان کی قبر ہے اور لوگ ان کی قبر کے پاس بارش کی طلب کے لیے دعا کرتے ہیں ۔

(اسد الغابہ ج ۲ ص ۱۲۳ دار الکتب العلمیہ بیروت)

حافظ ابوالقاسم علی بن حسن ابن عساکر متوفی ۷۱ ۵ ھ لکھتے ہیں:

حضرت ابوایوب اس سال فوت ہوئے جب یزید بن معاویہ نے القسطنطنیہ پر حملہ کیا یہ ۵۲ ھ کا واقع ہے یزید بن معاویہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ان کی قبر سرزمین روم میں قسطنطنیہ کے قلعہ کی بنیاد کے پاس ہے اور مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ اہل روم ان کی قبر کی حفاظت کرتے ہیں اور اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جب ان پر قحط آئے تو ان کی قبر کے پاس بارش کے لیے دعا کرتے ہیں۔

نیز لکھا ہے : جب بارش نہ ہو تو اہل روم ان کی قبر کو کھول دیتے ہیں، پھر ان پر بارش ہوتی ہے۔

نیز لکھا ہے کہ ابو سعید المعیطی نے کہا ہے کہ اہل روم نے ان کی قبر پر سفید گنبد بنادیا ہے اور اس پر قندیل روشن کرتے ہیں۔

( تاریخ دمشق الکبیر ج ۱۸ ص ۴۵ – ۴۴ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۲۱ھ)

حافظ شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان الذہبی متوفی ۷۴۸ ھ لکھتے ہیں:

الواقدی نے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ اہل روم ان کی قبر کی حفاظت کرتے ہیں اور وہاں بارش کے حصول کی دعا کرتے ہیں۔

(سیر اعلام النبلاء، ج 4 ص ۶۵ – ۶۴ دار الفکر بیروت ۱۴۱۷ھ )

قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے میں امام ابوحنیفہ کا مذہب

حافظ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

اس حدیث سے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نے اس پر استدلال کیا ہے کہ قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا جائز نہیں ہے خواہ صحراء میں قضاء حاجت کی جائے یا کسی عمارت میں انہوں نے اس حدیث کے عموم سے استدلال کیا ہے اور مجاہد، ابراہیم، نخعی، سفیان ثوری، ابوثور اور ایک روایت کے مطابق امام احمد کا بھی یہی مسلک ہے اور حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ جو اس حدیث کے راوی ہیں، ان کا بھی یہی مسلک ہے نیز اس ممانعت کی وجہ قبلہ کی تعظیم ہے اور وہ صحرا اور عمارت دونوں میں موجود ہے اگر عمارت میں قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا اس لیے جائز ہو کہ اس کے اور قبلہ کے درمیان عمارت کی دیوار میں حائل ہیں تو صحرا میں بھی اس کے اور قبلہ کے درمیان ٹیلے اور پہاڑ اور دوسرے شہروں کی عمارتیں حائل ہوتی ہیں اور اس سلسلہ میں اور بھی احادیث ہیں۔

(عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۲۲)

امام ابوحنیفہ کے مذہب کی تائید میں احادیث

حضرت ابوایوب الانصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کے لیے جائے تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرے نہ پیٹھ کرے خواہ پیشاب کرے یا پاخانہ، لیکن مشرق کی طرف منہ کرے یا مغرب کی طرف حضرت ابوایوب نے کہا: جب ہم شام گئے تو وہاں کے بیت الخلاء قبلہ کی طرف بنے ہوئے تھے تو ہم منحرف ہو کر بیٹھتے تھے اور اللہ سے استغفار کرتے تھے۔ (سنن ابوداؤد : ۹ سنن ترمذی: ۸ مسند احمد ج ۵ ص ۴۱۷-۴۱۲ ‘مسند الحمیدی : 378،  المعجم الکبیر: 3937،  سنن بیہقی ج ۱ ص ۹۱ شرح السنته : ۱۷۴ صحیح ابن حبان : ۱۴۱۶)

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ ان سے کہا گیا کہ تمہارے نبی تمہیں ہر چیز کی تعلیم دیتے ہیں، حتی کہ قضاء حاجت کی بھی تعلیم دیتے ہیں، حضرت سلمان نے کہا: ہاں! آپ نے ہمیں پاخانہ یا پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے منع کیا ہے اور دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع کیا ہے اور تین پتھروں سے کم سے استنجاء کرنے سے منع کیا ہے اور لید یا ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع کیا ہے۔ (صحیح مسلم : ۲۶۲ ‘ سنن ابوداؤد : ۷ سنن ترمذی :16،  سنن ابن ماجہ (316(

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہارے لیے باپ کی جگہ ہوں، تمہیں تعلیم دیتا ہوں پس جب تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کے لیے جائے تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرے نہ قبلہ کی طرف پیٹھ کرے اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجاء کرے اور آپ تین پتھروں کا حکم دیتے تھے اور لید اور ہڈی سے منع کرتے تھے۔

( صحیح مسلم : ۲۶۵ سنن ابوداؤ : ۸ سنن نسائی: ۴۰ سنن ابن ماجہ : ۳۱۳)

حضرت معقل بن ابی مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت ہمیں دونوں قبلوں کی طرف منہ کرنے سے منع کیا۔ (سنن ابو داؤد: ۱۰ سنن ابن ماجہ :۳۱۹ مسند احمد : ۱۷۸۵۵ دار الفکر )

قضاء حاجت کے وقت داؤد ظاہری کے نزدیک مطلقاً قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کا جواز

داؤد ظاہری کا مذہب یہ ہے کہ قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا یا بیٹھ کرنا مطلقاً جائز ہے اور حضرت ابو ایوب انصاری کی حدیث منسوخ ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۲۳)

داؤد ظاہری کا استدلال اس حدیث سے ہے:

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے منع کیا، پھر میں نے آپ کی وفات سے ایک سال پہلے دیکھا،  آپ قبلہ کی طرف منہ کر رہے تھے۔

(سنن ابوداؤد : ۱۳ سنن ترمذی:9 سنن ابن ماجہ : 325، مسند احمد ج ۳ ص ۳۶۰)

داؤد ظاہری کی دلیل کا رد

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں:

اس حدیث سے استدلال کرنا ضعیف ہے، کیونکہ یہ آپ کے فعل کی حکایت ہے ،اس میں عموم نہیں ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کا یہ فعل کسی عذر کی وجہ سے ہو اور یا آپ کا یہ فعل کسی عمارت یا بیت الخلاء میں ہو۔

تلخیص الحبیر ج ۱ص ۱۵۲ مکتب نزار مصطفی الباز مکه مکرمه 1417ھ)

میں کہتا ہوں کہ اگر آپ کا یہ فعل کسی عمارت میں یا بیت الخلاء میں ہوتا تو حضرت جابر اس کو کیسے دیکھ سکتے تھے، اس کا صحیح جواب یہ ہے کہ پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے آپ کا منع فرمانا’ آپ کا قول ہے اور اس حدیث میں آپ کا فعل ہے اور قول اور فعل میں جب تعارض ہو تو آپ کا قول آپ کے فعل پر راجح ہوتا ہے اور دوسرا جواب یہ ہے کہ قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ممانعت تحریم پر دلالت کرتی ہے اور اس حدیث سے اس کی اباحت ثابت ہوتی ہے اور جب تحریم اور اباحت میں تعارض ہو تو تحریم کو ترجیح ہوتی ہے اور تیسرا جواب یہ ہے کہ ممانعت میں عموم کا صیغہ ہے اور اس حدیث میں تخصیص ہے اور عام حکم، خاص فعل پر راجح ہوتا ہے۔

حضرت جابر کی اس حدیث پر شیخ علی بن احمد بن سعید بن حزم اندلسی متوفی ۴۵۶ ھ نے جرح کی ہے وہ لکھتے ہیں:

رہی حضرت جابر کی حدیث تو وہ ابان بن صالح کی روایت ہے اور وہ مشہور نہیں ہے اور نیز اس حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کرنے کے بعد قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کیا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو حضرت جابر اس کو بتاتے اور اگر یہ استدلال صحیح ہو تو اس میں صرف قبلہ کی طرف منہ کرنے کا جواز ہے اور قبلہ کی طرف پیٹھ کرنے کا جواز بالکل نہیں ہے اور یہ جائز نہیں ہے کہ جس بات کا حدیث میں ذکر نہ ہو اس کا از خود اضافہ کیا جائے اور یہ بات نہیں ہے کہ آپ نے دو چیزوں سے منع کیا ہو اور ایک کی ممانعت منسوخ ہوجائے تو اس سے دوسری ممانعت بھی منسوخ ہو جائے لہذا اس حدیث سے ان کا یہ ثابت کرنا باطل ہوگیا کہ قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ اور  پیٹھ کرنے کی ممانعت منسوخ ہو گئی ہے۔ (المحلی بالآثار ج ا ص ۱۹۲ دار الکتب اعلامیه، بیروت ۱۴۲۴ھ )

مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرنے کی توجیہ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں آپ کا یہ ارشاد ہے کہ مشرق کی طرف منہ کرو یا مغرب کی طرف منہ کرو یہ خطاب اہل مدینہ کے لیے ہے یا ان لوگوں کے لیے ہے، جن کا قبلہ مدینہ کی سمت پر ہے اور جن کا قبلہ مشرق یا مغرب کی سمت پر ہو وہ قضاء حاجت کے وقت مشرق یا مغرب کی طرف منہ نہیں کریں گے، بلکہ وہ مشرق یا مغرب کی دائیں یا بائیں جانب منہ کریں گے۔

شرح صحیح مسلم میں باب مذکور کی حدیث کی شرح

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم: ۵۱۷ – ج ۱ ص ۹۳۵ پر ہے اور اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں:

قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے میں فقہاء شافعیہ کا نظریہ

قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے میں فقہاء مالکیہ کا نظریہ

قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھے کرنے میں فقہاء حنبلیہ کا نظریہ

قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے میں فقہاء احناف کا نظریہ۔