۲۹ – بَابُ قِبْلَةِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، وَاهْلِ  الشَّامِ، وَالْمَشْرِقِ لَيْسَ فِي الْمَشْرِقِ ولَا فِي الْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ

اہل مدینہ، اہل شام اور مشرق کا قبلہ اور مشرق اور مغرب میں کوئی قبلہ نہیں ہے

اہل مدینہ اور اہل شام کے بعد اہل مشرق کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ اہل اسلام کے اکثر شہر مشرق میں ہیں، عنوان میں جو کہا ہے کہ اہل مدینہ اہل شام اور مشرق کا قبلہ یہ مبتداء ہے اور اس کی خبر یہ ہے: مشرق اور مغرب میں قبلہ نہیں ہے اور مشرق اور مغرب میں قبلہ نہ ہونا یہ تمام شہروں کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ صرف مدینہ منورہ اور ان شہروں کے اعتبار سے ہے، جن کا قبلہ مدینہ منورہ کے موافق ہے اور مدینہ منورہ کا قبلہ مدینہ منورہ کے شمال میں ہے۔ اس کے بعد امام بخاری نے یہ تعلیق ذکر کی :

لقول النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطِ أَوْ بَوْلِ، وَلَكِنْ شَرِقُوا أَوْ غَرِبوا۔

کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: پاخانہ یا پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو لیکن مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرو۔

اس تعلیق کی اصل یہ حدیث ہے:

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاخانہ یا پیشاب کرتے وقت تم نہ قبلہ کی طرف منہ کرو نہ قبلہ کی طرف پیٹھے کرو لیکن مشرق کی طرف منہ کرو یا مغرب کی طرف منہ کرو۔

(سنن نسائی: ۲۱ صحیح البخاری: ۱۴۴ صحیح مسلم : ۲۶۴ سنن ابوداؤد : ۹ سنن ترمذی : 8،  سنن ابن ماجه: ۱۸ مسند احمد ج ۵ ص۴۲۱)

اس حدیث کی مکمل شرح صحیح البخاری: ۱۴۴ میں گزر چکی ہے۔

٣٩٤ – حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَان قَالَ حَدَّثنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ابی أَيُّوبَ الْأَنْصَارِي أَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطِ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَة ولا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِبُوا قَالَ ابو ایوب فَقَدِمْنَا الشَّامَ ، فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ بُنِيَتْ قبل الْقِبْلَةِ فَتَنْحَرِفُ وَنسْتَغْفِرُ اللهَ تَعَالَى وَعَنِ الزُّھری عَنْ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مثلہ۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں علی بن عبد اللہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں الزہری نے حدیث بیان کی از عطاء بن یزید از حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم قضاء حاجت کے لیے جاؤ تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرو نہ قبلہ کی طرف پیٹھ کرو لیکن مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرو۔ حضرت ابوایوب نے کہا: پس ہم شام میں گئے وہاں ہم نے دیکھا بیت الخلاء، قبلہ کی جانب بنے ہوئے تھے تو ہم قبلہ سے منحرف ہوکر بیٹھتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے تھے اور از الزہری از عطاء انہوں نے کہا: میں نے اس حدیث کی مثل ابوایوب سے سنی از نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔

قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف مطلقا منہ یا پیٹھ نہ کرنے کا ثبوت

اس حدیث کی مکمل اور مفصل شرح صحیح البخاری: ۱۴۴ میں گزر چکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کیا جائے مگر جب کسی عمارت میں قضاء حاجت کی جائے۔ مگر وہاں اس حدیث کے آخر میں حضرت ایوب انصاری کے اس قول کا اضافہ نہیں تھا کہ جب ہم شام میں گئے تو وہاں جو بیت الخلاء بنے ہوئے تھے وہ قبلہ کی جانب تھے ہم قبلہ سے منحرف ہوکر بیٹھتے تھے اور کسی تقصیر پر اللہ تعالٰی سے مغفرت طلب کرتے تھے۔ حضرت ابوایوب انصاری کے اس قول سے امام شافعی اور امام بخاری کے اس نظریہ کا رد ہوجاتا ہے کہ جب بیت الخلاء یا دیوار کی آڑ میں قضاء حاجت کی جائے تو پھر قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کی جاسکتی ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے کہ قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا مطلقا ممنوع ہے خواہ کھلے میدان میں قضاء حاجت کی جائے یا بیت الخلاء میں اور یہی نظریہ صریح حدیث کے بھی مطابق ہے اور قبلہ کی تعظیم کے بھی مناسب ہے اور اس باب کی حدیث اس باب کے عنوان کے بھی مطابق ہے کہ اہل مدینہ اور اہل شام کے مشرق اور مغرب میں قبلہ نہیں ہے۔