١٦ – بَاب مَنْ حُمِلَ مَعَهُ الْمَاءُ لِطُهُورِه

جس شخص کی طہارت کے لیے پانی لے جایا گیا

 

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت ظاہر ہے کہ دونوں بابوں میں پانی سے استنجاء کرنے کا ذکر ہے ۔ امام بخاری نے کہا:

وقال أبو الدَّرْدَاءِ اليْسَ فِيكُمْ صَاحِبٌ لنعلَيْنِ وَالطَّهُوْرِ وَالْوِسَادِ؟

اور حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم میں جوتے اٹھانے والے اور وضوء کرانے والے اور تکیہ اٹھانے والے نہیں ہیں؟

حضرت ابو الدرداء کا نام عویمر بن مالک بن عبداللہ بن قیس ہے، یہ افاضل صحابہ میں سے ہیں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں یہ دمشق کے قاضی تھے ۳۲ھ میں فوت ہو گئے تھے ان کی قبر دمشق میں ہے۔

امام بخاری نے جو حضرت ابوالدرداء کے قول کا ذکر کیا ہے یہ ایک حدیث کا قطعہ ہے پوری حدیث اس طرح ہے:

علقمہ بیان کرتے ہیں کہ میں شام میں داخل ہوا، پس میں نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر میں نے دعا کی : اے اللہ! مجھے کوئی ہم نشین میسر کر ! پس میں نے ایک بوڑھے شخص کو آتے ہوئے دیکھا، جب وہ قریب ہوا تو میں نے دل میں کہا: مجھے امید ہے کہ میری دعا قبول ہوگئی اس نے مجھ سے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ میں نے کہا: میں اہل کوفہ سے ہوں اس نے کہا: کیا تم میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے جوتے اٹھانے والے اور تکیہ اٹھانے والے اور پانی کا برتن لانے والے نہیں ہیں؟ کیا تم میں وہ نہیں ہیں، جن کو شیطان سے پناہ دی گئی ہے، کیا تم میں وہ نہیں ہیں، جو راز رکھنے والے ہیں، جن کے سوا اس راز کو کوئی نہیں جانتا؟ ابن ام عبد نے ” واللیل “ کی کیسے قراءت کی ہے؟ میں نے کہا: ” وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى0 وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى0 وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالانثی “ (الیل : ۳-۱ ) اس نے کہا: مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت پڑھائی ہے اور آپ کا منہ میرے منہ کی طرف تھا اب شام کے لوگ مجھے اس قراءت سے ہٹانا چاہتے ہیں۔

(صحیح البخاری : 3761،  سنن ترمذی : ۲۹۳۹ صحیح مسلم : ۸۲۴ الرقم المسلسل : ۱۹۱۳)

١٥١ – حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْب قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ،عَنْ أَبِي مُعَاذ هُوَ عَطَاءُ بْنُ اَبى مَيْمُونَةَ قَالَ سَمِعْتُ انا يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ ، تَبَعْتُهُ آنَا وَغُلَامٌ مِنَّا مَعَنَا إِدَاوَةٌ  مِّنْ مَّاءٍ۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں سلیمان بن حرب نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از ابي معاذ اور وہ عطاء بن ابی میمونہ ہیں، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضاء حاجت کے لیے نکلتے تو میں اور ہم میں سے ایک اور لڑکا آپ کے پیچھے جاتا اور ہمارے ساتھ پانی کا مشکیزہ ہوتا تھا۔

اس حدیث کی تخریج اور شرح کے لیے صحیح البخاری : ۱۵۰ کا مطالعہ کریں۔

باب کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے کہ ہمارے ساتھ پانی کا مشکیزہ ہوتا تھا۔

اس حدیث کے تمام رجال کا پہلے تعارف ہو چکا ہے۔