۲۷ – بَابُ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ ولَا يَمْسَحُ عَلَى الْقَدَمَيْنِ

پیروں کو دھویا جائے اور قدموں پر مسح نہ کیا جائے

یعنی جب قدموں پر چمڑے کے موزے پہنے ہوئے نہ ہوں تو ان پر مسح نہیں کیا جائے گا’ اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ دونوں باب احکام وضوء پر مشتمل ہیں۔

١٦٣ – حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُوعوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشَرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ عَمْرو قال تَخَلَّفَ النّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنا فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا، فادْرَكَنَا وَقَدْ اَرْهَقَنَا الْعَصْرُ، فَجَعَلْنَا نَتَوَضا وَنَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا فَنَادَى بِأعْلَی صَوْتِهِ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا.

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں موسیٰ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابوعوانہ نے حدیث بیان کی از ابی بشر از یوسف بن ماهک از حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے ایک سفر کیا تھا، اس سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے تھے پس آپ نے ہم کو پالیا’ اس وقت ہم عصر کی نماز میں تاخیر کر چکے تھے، پس ہم وضوء کرنے لگے اور ہم اپنے پیروں پر مسح کر رہے تھے پس آپ نے بہ آواز بلند دو یا تین بار فرمایا: (بے دھلی ) ایڑیوں کے لیے دوزخ کی آگ کا عذاب ہو۔

اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۶۰ میں گزر چکی ہے۔