لاس اینجلس کا لاس + کچھ تو سمجھو باس ؟
لاس اینجلس کا لاس + کچھ تو سمجھو باس ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیلیفورنیا کا شہر لاس اینجلس امریکی تاریخ میں آتشزدگی کے بہت سے بڑے لاس کو فیس کر رہا ہے۔
منگل سے یہ آگ شروع ہے ابھی تک تمام تر وسائل کے باوجود اس پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
ابھی تک دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں
ایک لاکھ اسی ہزار بے گھر ہو چکے
مزید دو لاکھ کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے
ابھی تک تقریبا ایک سو پچاس بلین ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے
انشورنس انڈسٹری آٹھ بلین ڈالرز کا نقصان فیس کر رہی ہے
چھتیس ہزار ایکٹر سے زائد کا رقبہ آگ کی لپیٹ میں ہے
دس ہزار بلڈنگز جل کر راکھ بن چکی ہیں
ساٹھ ہزار بلڈنگز ہائی رسک پر ہیں
امریکہ کا مہنگا ترین ایریا جہاں ہالی وڈ کا راج ہے
پچھلے چار دن سے ایسے لگ رہا ہے جیسے کوئی فلمی سین ہو
شوبز کی دنیا کے ستارے زمین پر پاجاموں میں اور ننگے پاؤں چیخ و پکار کرتے ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں
ان کی خوابوں کی دنیا شعلوں کی لپیٹ میں ہے اور وہ کچھ نہیں کر پا رہے ۔
دنیا کے امیر ترین لوگ، اور پوش ترین ایریا میں اپنے دل میں یہ درد محسوس کر رہے ہیں کہ جب اپنے گھر کو آگ لگتی ہے تو کیسا فِیل ہوتا ہے ، جب سب کچھ جل جاتا اور لٹ جاتا ہے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے ۔
ان کو تو پھر امید ہو گی کہ کہیں نہ کہیں سے کچھ نہ کچھ بندوبست ہو ہی جائے گا لیکن ان کا کیا حال ہو گا جنہیں دنیا میں کہیں بھی ایک دفعہ گھر چھن جانے کے بعد دوبارہ ملنے کی کوئی توقع نہیں ۔
اس درد کو محسوس کرو، اس تکلیف کو سمجھو، اس تپش کو فَیل کرو ، آنکھیں کھولو، کچھ بولو ان کے لئے جن پر آگ برسائی جا رہی ہے جن کے چیتھڑے اڑائے جا رہے ہیں جنہیں بے گھر کیا جا رہا ہے۔
ہر بچہ اپنی ماں کا ہیرو ہوتا ہے اور وہ اپنی فیملی کا سٹار ہوتا ہے۔ جن ماؤں نے اپنے ہیرو اور سٹارز کھو دیے ہیں انکی کسک کو محسوس کرو۔
#۔ ایک رپورٹ کے مطابق لاس اینجلس کی آگ کا آغاز شاید کسی میک ڈونلڈ کی برانچ سے ہوا ہے کیا اس کے اندر بھی سبق اور کوئی پیغام ہے ؟
محمد اقبال