کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 32 حدیث نمبر 169
sulemansubhani نے Friday، 11 July 2025 کو شائع کیا.
۳۲- بَابُ الْتِمَاسِ الْوَضْوْءِ إِذَا حَانَتِ الصَّلَوةُ
جب نماز کا وقت آئے تو پانی کو طلب کرنا
باب سابق میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ وضوء میں دائیں جانب سے ابتداء کرنا اور اس باب میں وضوء کے لیے پانی طلب کرنے کا بیان ہے اور دونوں بابوں میں قدر مشترک وضوء ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں:
وَقَالَتْ عَائِشَةُ حَضَرَتِ الصُّبْحُ ، فَالْتُمِسَ الْمَاء فَلَمْ يُوْجَدْ ، فَنَزَلَ التَّيَمُّمُ۔
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: صبح ہوگئی، پانی کو طلب کیا گیا تو پانی نہیں ملا پھر تیمم کی آیت نازل ہوئی۔
یہ تعلیق صحیح ہے اور یہ ایک حدیث کا قطعہ ہے، جس کو امام بخاری نے ” کتاب التیمم ” میں آیت تیم کے نزول کے قصہ میں بیان کیا ہے اس کا مفصل ذکر صحیح البخاری : ۳۳۴ میں ہے۔
١٦٩- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ انس بن مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ صَلوةُ الْعَصْرِ فَالْتَمْسَ النَّاسُ
الْوَضُوْءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ ، فَأَوْتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ بِوَضُوْءٍ فَوَضَعَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله علیہ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ يَدَهُ ، وَاَمَرَ النَّاسَ أَن یتوضووا مِنْهُ قَالَ فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبعُ مِنْ تَحْتِ اصابعہ حَتَّى تَوَضَّرُّوا مِنْ عِنْدِ اخر هم اطراف
الحدیث: ۱۹۵ – ۲۰۰- ۳۵۷۲، ۳۵۷۳-۳۵۷۴-۱۳۵۷۵
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبردی از اسحاق بن عبدالله بن ابی طلحہ از حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھا کہ عصر کی نماز کا وقت آگیا، پس لوگوں نے وضوء کے لیے پانی کو طلب کیا تو ان کو پانی نہیں ملا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس برتن میں پانی لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ اس برتن کے پانی سے وضوء کریں، حضرت انس نے کہا: میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ابل رہا تھا، حتیٰ کہ تمام لوگوں نے وضوء کر لیا۔
(صحیح مسلم :۰۲۲۷۹ الرقم المسلسل : ۵۸۳۲ سنن ترمذی : 3631، سنن نسائی:۷۶، مسند الشافعی ج ۲ ص ۱۸۶، صحیح ابن حبان : ۶۵۳۹‘ مسند احمد ج ۳ ص ۱۳۲ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۲۳۴۸ – ج ۱۹ ص ۱۳۵۲ مؤسسة الرسالة بیروت)
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: پس لوگوں نے وضوء کے لیے پانی طلب کیا۔
اس حدیث کے رجال کا پہلے تعارف ہو چکا ہے۔
آپ کی انگلیوں سے پانی جاری ہونے کے متعدد واقعات
اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ کے پاس برتن میں پانی لایا گیا، بعض احادیث میں ہے: وسیع پیالہ لایا گیا۔ (صحیح البخاری :3574) بعض احادیث میں ہے : شیشہ کا برتن لایا گیا، بعض احادیث میں ہے: آپ کے پاس ٹب لایا گیا۔(صحیح البخاری : ۳۵۷۵)
اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ نے لوگوں کو وضوء کرنے کا حکم دیا، بعض روایات میں ہے کہ اس پانی سے ۷۰ صحابہ نے وضوء کیا ۔ ( صحیح البخاری : 3574) بعض روایات میں ہے: ۸۰ صحابہ نے وضوء کیا۔ (صحیح البخاری : ۳۵۷۵) بعض روایات میں ہے: پندرہ سو اصحاب نے وضوء کیا۔ (صحیح ابخاری : ۳۵۷۶) بعض روایات میں ہے : تین سو اصحاب نے وضوء کیا۔ (صحیح البخاری: ۳۵۷۲) صحابہ کی تعداد میں اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ کئی مواقع پر وضوء کے لیے پانی کم تھا اور آپ نے برتن میں اپنا ہاتھ رکھا تو آپ کی انگلیوں سے چشمے کی طرح پانی ابلنے لگا، کسی موقع پر ستر صحابہ تھے کسی موقع پر اسی صحابہ تھے کسی موقع پر پندرہ سوصحابہ تھے حضرت انس نے کہا: اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی ہو جاتا۔ (صحیح البخاری:3576) اور کسی موقع پر تین سوصحابہ تھے ۔ (صحیح البخاری : ۳۵۷۲)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا تمام انبیاء علیہم السلام کے معجزات سے زیادہ عظیم ہونا
حضرت موسی علیہ اسلام نے پتھر پر لاٹھی ماری تو اس کی ضرب سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے وہ بھی بہت عظیم معجزہ تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ سب سے عظیم ہے کیونکہ پتھر اور زمین کی تہہ میں عادۃ پانی موجود ہوتا ہے اور اگر معروف آلات سے زمین کو پانی تک کھودا جائے تو وہاں پانی نکل آتا ہے، حضرت موسی علیہ السلام کا معجزہ یہ تھا کہ آپ نے معروف آلات کے بغیر محض لاٹھی کی ضرب سے پانی نکال لیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں سے پانی نکالا جہاں پر پانی عادۃ ہوتا نہیں ہے۔
نیز اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ وضوء کے لیے پانی کو طلب کرنا، اس وقت واجب ہے، جب نماز کا وقت آجائے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس پر ملامت نہیں کی کہ تم نے پہلے پانی کو کیوں تلاش نہیں کیا، اور اس حدیث میں معجزہ کا ثبوت ہے اور اس پر دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر معجزہ ہر نبی کے معجزہ کی جنس سے افضل ہوتا ہے حضرت داؤد علیہ السلام کے ہاتھ پر لوہا نرم ہو جاتا تھا اور وہ اس سے زرہ بنالیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پتھروں کو نرم کر دیا گیا احد پہاڑ آپ سے محبت کرتا تھا’ آپ نے فرمایا: احد پہاڑ ہے، یہ ہم سے محبت کرتا ہے ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ابخاری: ۱۴۸۲) جب کہ لوہا تو معروف اسباب سے پگھل کر نرم ہو جاتا ہے اور پتھر ٹوٹ تو جاتا ہے نرم نہیں ہوتا’ سو جس کی طبیعت میں نرمی نہیں ہوتی وہ بھی آپ کے لیے نرم ہو گیا، حضرت سلیمان علیہ السلام سے پرندے کلام کرتے تھے تو آپ سے پتھروں نے کلام کیا اور پرندوں کا کلام کرنا اتنا باعث حیرت نہیں کیونکہ ان کی زبان ہوتی ہے اور وہ بولتے ہیں، کمال تو آپ کا ہے کہ آپ سے پتھروں نے کلام کیا جن کی زبان نہیں ہوتی۔
آپ نے فرمایا: بعثت کی راتوں میں مکہ کا ایک پتھر مجھ کو سلام کرتا تھا، میں اس کو اب بھی پہچانتا ہوں۔
( صحیح مسلم : ۲۲۷۷ سنن ترمذی : 3624، مسند احمد ج ۵ ص ۸۹)
حضرت عیسی علیہ السلام نے چار مردوں کو زندہ کیا یہ بھی اتنا باعث حیرت نہیں، کیونکہ وہ مردے انسان تھے اور ان میں پہلے حیات تھی، لیکن آپ سے آپ کے منہ میں رکھے ہوئے گوشت کے ٹکڑے نے کلام کیا اور اس میں حیات آگئی اور علم آ گیا’ اس نے آپ سے کہا: مجھ میں زہر ملا ہوا ہے ۔ (سنن ابوداؤد: ۴۵۱۲) درختوں میں حیات آگئی جن میں عادۃ حیات نہیں ہوتی اور وہ آپ کے بلانے پر اپنی جڑوں کو کھینچتے ہوئے چلے آئے، بلکہ کوئی ان کو پیغام دیتا کہ تم کو (سیدنا) محمد صلی اللہ علیہ وسلم بلاتے ہیں تو وہ السلام علیک یا رسول اللہ کہتے ہوئے چلے آتے ۔ (سنن ترمذی: ۳۶۲۸ مسند احمد ج اص (۲۲۳) ان میں حیات آگئی قوت سماع آگئی قوت کلام آگئی۔ حضرت علی بیان کرتے ہیں : آپ کے سامنے مکہ کا جو پہاڑ آتا یا درخت آتا وہ کہتا: السلام علیک یارسول اللہ ۔ ( سنن ترمذی : ۳۶۲۶)
غور کیجئے ! درختوں کو آپ کا پیغام ملے تو وہ آپ کی اطاعت کرتے ہیں اگر ہم کو آپ کا پیغام ملے اور ہم آپ کی اطاعت نہ کریں تو ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن درخت آگے ہوں اور ہم پیچھے ہوں، پتھر اور درخت بھی آپ پر سلام پڑھتے ہیں تو جو اپنے آپ کو مسلمان کہلا کر آپ پر سلام نہ پڑھے وہ پتھروں اور درختوں سے بھی گیا گزرا ہے!
شرح صحیح مسلم میں باب مذکور کی حدیث کی شرح
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۵۸۲۴ – ج ۶ ص ۷۰۶ پر مذکور ہے اس کی شرح میں حسب ذیل عنوانات ہیں:
(1)معجزہ کی تعریف
(۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزہ سے کم چیز زیادہ ہوئی معدوم چیز موجود کیوں نہ ہوئی ؟
(۳) جس چیز میں برکت ہو، اس کا حساب کرنے سے اس کی برکت کیوں ختم ہو جاتی ہے ؟
(۴) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا غیب کی خبر میں دینا۔
ٹیگز:-
Allama Ghulam Rasool Saeedi , صحیح البخاری , شرح صحیح البخاری , نعمۃ الباری فی شرح صحیح البخاری , کتاب الوضو , کتاب الطہارہ
[…] حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۱۶۹ میں گزر چکی ہے وہاں مطالعہ […]
[…] حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری: 169 میں ملاحظہ […]