کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 45 حدیث 195
٤٥ – بَابُ الْغُسْلِ وَالْوُضُوءِ فِي الْمِخضَبِ وَالْقَدَحِ وَالْخَشَبِ وَالْحِجَارَةِ
مخضب اور پیالے اور لکڑی اور پتھر کے برتن میں غسل اور وضوء کرنا
مخضب ” کپڑے دھونے اور رنگنے کے برتن کو کہتے ہیں، اُردو میں اس کو ٹب یا لگن کہا جاتا ہے، علامہ عینی نے اس کا معنی” مرکن “لکھا ہے اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ دونوں میں وضوء کا ذکر ہے۔
١٩٥ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ سَمِعَ عَبْدَاللَّهِ بْنَ بَكْر قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ قَالَ حَضَرَتِ الصَّلُوةُ ، فَقَامَ مَنْ كَانَ قَرِيْبَ الدَّارِ إِلَى اَهْلِهِ وَبَقِيَ قَوْم ، فَاتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمخضَبِ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَصَغَرَ الْمِحْضَبُ اَن یبْسُطُ فِيهِ كَفهُ، فَتَوَضَّاَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ قُلْنَاكُمُ کنتُمْ؟ قَالَ ثَمَانِينَ وَزِيَادَةً.
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن منیر نے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن بکر سے سنا انہوں نے کہا: ہمیں حمید نے حدیث بیان کی از حضرت انس رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا کہ نماز کا وقت آ گیا تو جس کے اہل کا گھر قریب تھا وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور باقی لوگ وہیں رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پتھر کا مخضب لایا گیا، جس میں پانی تھا وہ مخضب اتنا چھوٹا تھا کہ آپ اس میں اپنی ہتھیلی نہیں پھیلا سکتے تھے، پھر تمام لوگوں نے اس سے وضوء کرلیا’ ہم نے پوچھا: تم لوگ کتنے تھے ؟ انہوں نے کہا: اسی سے زیادہ تھے۔
اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۱۶۹ میں گزر چکی ہے وہاں مطالعہ فرمائیں۔
ہر قسم کے مادے کے برتن میں وضوء کرنے کا جواز
امام بخاری نے اس باب کے عنوان سے یہ بتایا ہے کہ ہر قسم کے مادے کے برتن سے وضوء کرنا جائز ہے خواہ وہ برتن پتھر کا ہو یا لکڑی کا یا مٹی کا یا تانبے اور پیتل کا ہو اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ مخضب پتھر کا تھا، جس کے پانی سے آپ نے وضوء کیا تھا اور بعض احادیث میں یہ تصریح بھی ہے کہ آپ نے پیتل کے برتن سے پانی لے کر وضوء فرمایا۔
حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ہم نے آپ کے لیے پیتل کے طشت میں پانی نکالا تو آپ نے اس سے وضوء کیا۔ (سنن ابوداؤد: ۱۰۰ سنن ابن ماجہ: ۴۷۱ المستدرک : ۲۰۰ – ج ا ص ۱۶۸)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیتل کے ایک طشت سے پانی لے کر غسل کرتے تھے ۔
(المستدرک : 601 – ج ا ص ۱۶۹)