۱۷۹ – حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْص قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ  عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ اخبره أَنَّ زَيدَ بْن خَالِدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَالَ عُثْمَانَ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قُلْتُ اَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ فَلَمْ يُمْنِ؟ قَالَ عُثْمَانُ يَتَوَضَّاً كَمَا يَتَوَضَّا لِلصَّلوةِ ، وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ.

قَالَ عُثْمَانُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم فَسَأَلْتُ عَنْ ذلِكَ عَلِيًّا، وَالزُّبَيْرَ ، وَطَلْحَةَ، وابی بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَاَمَرُوْهُ بِذَلِكَ.

طرف الحديث : ۲۹۲ ) ( صحیح مسلم: 347،  الرقم المسلسل : ۷۶۵ صحیح ابن خزیمہ: ۲۲۴ صحیح ابن حبان : ۱۲۷ سنن بیہقی ج ا ص 164،  شرح معانی الآثار : ۲۹۳ – ج ۱ ص ۶۸ ، مسند احمد ج ۱ ص ۶۳ طبع قدیم، مسند احمد : ۴۴۸- ج اص ۵۰۰ مؤسسة الرسالة بیروت)

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں سعد بن حفص نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شیبان نے حدیث بیان کی از یحیی از ابی سلمہ کہ عطاء بن یسار نے ان کو خبر دی کہ زید بن خالد نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا میں نے کہا: یہ بتائیے کہ جب کوئی شخص جماع کرے اور اس کی منی نہ نکلے( تو کیا حکم ہے؟)، حضرت عثمان نے کہا: وہ اس طرح وضوء کرے، جس طرح نماز کے لیے وضوء کرتا ہے اور اپنے آلہ کو دھولے حضرت عثمان نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ( زید بن خالد نے کہا: ) پھر میں نے حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت طلحہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے اس کا سوال کیا تو ان سب نے مجھے اسی طرح کرنے کا حکم دیا۔

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مناسبت اس وجہ سے ہے کہ اس حدیث میں آلہ سے منی نہ نکلنے کا ذکر ہے، جب کہ عادتا ایسی صورت میں منی نکل آتی ہے اور باب کے عنوان میں یہی ذکر تھا کہ دو راستوں میں سے کسی ایک راستہ سے کوئی چیز نکل آئے تو وضوٹوٹ جاتا ہے اور یہاں مناسبت اس راستہ سے کوئی چیز نہ نکلنے میں ہے اور اس سے بھی وضوء ٹوٹ جاتا ہے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

اس حدیث میں کل گیارہ رجال ہیں، پانچ حدیث کے راوی ہیں :

(1) سعد بن حفص کوفی

(۲) شیبان بن عبد الرحمان النحوی

(۳) یحیی بن ابی کثیر بصری تابعی

(۴) ابوسلمہ عبد الله بن عبد الرحمان تابعی

(۵) عطاء بن ابی بسیار المدنی ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔

ان کے بعد چھ مشہور صحابہ کا ذکر ہے جن کا تعارف پہلے ہو چکا ہے:

(۱) حضرت زید بن خالد الجنی

(۲) حضرت عثمان بن عفان

(۳) حضرت علی

(۴) حضرت زبیر

(۵) حضرت طلحہ

(1) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہم ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۸۲)

اس حدیث میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی سے جماع کرے اور انزال ہونے سے پہلے اپنا آلہ باہر نکال لے تو اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے آلہ کو دھوئے اور وضوء کرے اور اس پر غسل واجب نہیں ہے لیکن ” کتاب الغسل‘ کے آخر میں آئے گا کہ یہ حکم بعد میں منسوخ ہو گیا اور اس پر غسل کرنا فرض ہے۔ (فتح الباری ج ا ص ۷۲۰ دار المعرفہ بیروت 1426ھ )

اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۸۸ – ج ۱ ص ۱۰۳۶ پر ہے۔ وہاں اس کی شرح میں غسل جنابت کے سبب پر بحث کی گئی ہے۔