۲۹ – بَابٌ غَسْلِ مَا يُصِيبُ منْ رُطُوبَةِ فَرْجِ الْمَرْأَةِ

جسم پر جو رطوبت فرج لگ جائے، اس کا دھونا

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جماع کرنے سے جسم پر جو عورت کی فرج کی رطوبت لگ جائے اس کے دھونے کا کیا حکم ہے؟ اس سے پہلے باب میں دو شرم گاہوں کے ملنے کا حکم بیان کیا تھا اور اس باب میں اس ملاپ سے جو فرج کی رطوبت جسم پر لگ جاتی ہے اس کا حکم بیان کیا ہے یہ ان دونوں بابوں میں مناسبت ہے۔

۲۹۲- حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ الحُسَيْنِ، قَالَ يَحْيِي وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ عَطَاءَ بنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدِ الْجُهَنِى أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَالَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَلَمْ يُمْنِ؟ قَالَ عُثْمَانُ يَتَوَضَّاً كَمَا يَتَوَضَّا لِلصَّلوة ، وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ. قَالَ عُثْمَانُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ ، وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِاللهِ ، وَأَبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ،فَامَرُوهُ بِذلِكَ ، قَالَ يَحْيَى وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ذلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔

جامع المسانيد لابن الجوزى مكتبة الرشید ریاض 1426ھ، مسند احمد ج اس ۴۹۹، صحیح مسلم : ۳۴۷

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابو معمر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالوارث نے حدیث بیان کی از الحسین، یحیی نے کہا: اور مجھے ابو سلمہ نے خبر دی کہ ان کو عطاء بن یسار نے خبر دی کہ حضرت زید بن خالد جہنی نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان سے سوال کیا کہ یہ بتائیں کہ جب مرد اپنی عورت کے ساتھ جماع کرے اور اس کی منی نہ نکلے تو حضرت عثمان نے کہا: وہ اس طرح وضوء کرے جس طرح نماز کے لیے وضوء کرتا ہے اور اپنے آلہ کو دھولے، حضرت عثمان نے کہا: میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے،  میں نے اس کا حضرت علی بن ابی طالب، حضرت الزبير بن العوام، حضرت طلحہ بن عبید اللہ، اور حضرت ابي بن كعب رضی اللہ عنہم سے سوال کیا تو ان سب نے یہی حکم دیا اور یحیی نے کہا: اور مجھے ابوسلمہ نے خبر دی کہ عروہ بن الزبیر نے ان کو خبر دی کہ حضرت ابو ایوب نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے اس کو رسول الل صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔

یہ حدیث صحیح البخاری : ۱۷۹ میں گزر چکی ہے، اس کی مزید تخریج اور شرح وہاں ملاحظہ فرمائیں، وہاں اس کا عنوان تھا: جس کے نزدیک صرف آگے اور پیچھے کے راستے سے کسی چیز کے نکلنے سے وضو ٹوٹتا ہے اور یہاں اس کا عنوان ہے: جسم پر لگی ہوئی رطوبت فرج کو دھونے کا حکم اس کی وضاحت اس باب کی دوسری حدیث کی تشریح میں آئے گی ۔