کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 34 حدیث نمبر 180
۱۸۰- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ هُوَ ابْنُ مَنْصُورٍ قَالَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ابِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَجَاءَ وَرَاسُهُ يَقْطُرُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ ؟ فَقَالَ نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أعْجَلْتَ اَوْ قحِطْتَ فَعَلَيْكَ الْوُضُوء۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسحاق نے حدیث بیان کی جو ابن منصور ہیں انہوں نے کہا: ہمیں النضر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از حکم از ذكوان ابى صالح از حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک شخص کو بلایا وہ اس حال میں آیا کہ اس کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید ہم نے تم کو جلدی بلا لیا’ اس نے کہا: جی ہاں! تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم کو جلدی بلالیا جائے یا تمہاری منی نہ نکلی ہو ( انزال نہ ہوا ہو ) تو پھر تم پر وضوء لازم ہے۔
تَابَعَهُ وَهُبٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ أَبُو عَبْدِاللهِ وَلَمْ يَقُلْ غُنْدَرٌ وَيُحْيِي عَنْ شُعْبَةَ الْوُضُوءُ ۔
اس حدیث میں النضر کی وہب نے متابعت کی ہے انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، امام ابوعبد اللہ بخاری نے کہا: غندر اور یحیی نے شعبہ کی روایت سے وضوء کا لفظ نہیں کہا۔
( صحیح مسلم : 345، الرقم المسلسل : ۷۶۲ ، سنن ابن ماجہ : ۶۰۶، مصنف ابن ابی شیبہ ج اص 89 مسند ابوداؤد الطیالسی : ۲۱۸۵، مسند ابوعوانہ ج۱ ص ۲۸۶ شرح معانی الآثار :۶۹ ، صحیح ابن حبان : ۱۱۷۱‘ سنن بیہقی ج ا ص ۱۶۵ مسند احمد ج ۳ ص ۲۱ طبع قدیم مسند احمد : ۱۱۱۶۲ – ج ۱۷ ص ۲۵۳ مؤسسته الرسالة بیروت)
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت بھی حدیث سابق کی مثل ہے کیونکہ باب کا عنوان تھا کہ دو راستوں میں سے کسی ایک راستہ سے کسی چیز کا نکلنا، اور جب جماع کیا جائے اور انزال سے پہلے آلہ کو نکال لیا جائے تو منی تو نہیں نکلتی لیکن مذی وغیرہ نکلتی ہے، اس لیے اس حدیث میں اس صورت میں وضوء کو واجب فرمایا ہے، لیکن جیسا کہ ہم نے حدیث :۱۷۹ میں لکھا تھا کہ یہ حدیث منسوخ ہے اور اس صورت میں غسل واجب ہوجاتا ہے جس کو ہم ابھی ان شاء اللہ تفصیل سے بیان کریں گے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) اسحاق بن منصور بن بہرام
(۲) النضر بن شميل ابوالحسن المازنی البصری
(۳) شعبہ بن الحجاج
(۴) الحکم بن عتیبہ
(۵) ابوصالح ذکوان الزيات
(۶) حضرت ابوسعید الخدری سعد بن مالك الانصاری رضی اللہ عنہ ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔
(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۰۱)
قرائن اور قیافہ سے کوئی حکم لگانا
اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انصاری کو دیکھ کر فرمایا: شاید ہم نے تم کو جلدی بلالیا، یعنی تم انزال سے پہلے اپنی بیوی سے الگ ہوگئے اور غسل کر کے فوراً آ گئے، اس حدیث میں قرائن اور قیافہ سے کوئی خبر دینے کا ثبوت ہے، کیونکہ اس انصاری نے جب آنے میں اتنی دیر کردی، جتنی دیر میں غسل کیا جا سکتا ہے اور جب وہ آیا تو اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے پر صحابہ اتنی دیر نہیں کرتے تھے تو آپ نے ان قرائن سے سمجھا کہ وہ اپنی بیوی سے جماع میں مشغول تھا۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان کو ہمیشہ طہارت پر رہنا چاہیے کیونکہ آپ نے اس صحابی کو اس پر ملامت نہیں کی کہ اس نے غسل کرنے کی وجہ سے آنے میں دیر کیوں لگائی۔
اس حدیث میں فرمایا ہے : جب تمہیں انزال نہ ہوا ہو تو پھر تم پر وضوء کرنا لازم ہے یعنی غسل کی ضرورت نہیں ہے قاضی عیاض نے کہا ہے کہ صحابہ کے اختلاف کے بعد صرف الاعمش اور داؤد ظاہری کا یہ موقف ہے، ورنہ سب کے نزدیک یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص 87، دار الکتب العلمیہ، بیروت 1421ھ )
جماع کے دوران انزال سے پہلے الگ ہونے پر صرف وضوء کرنے کا منسوخ ہونا۔۔۔ اور وجوب غسل کے متعلق احادیث
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا: ایک شخص جماع کرتا ہے اور اس کو انزال نہیں ہوا حضرت عائشہ نے کہا: میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا، پھر ہم دونوں نے اس جماع کے سبب سے غسل کیا۔
(سنن ترمذی: 108، سنن ابن ماجہ : 608، مسند احمد ج 6 ص ۱۳۵ – ۱۱۲ – ۱۱۰ – 68- ۴۷ مصنف ابن ابی شیبہ ج ا ص ۸۵ سنن بیہقی ج ا ص ۱۶۴)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:( جب مرد عورت کی) چار شاخوں کے درمیان بیٹھ گیا، پھر اس کو تھکا دیا تو غسل واجب ہو گیا۔ مسلم کی ایک روایت میں ہے: خواہ انزال نہ ہو۔ (صحیح البخاری : 291، صحیح مسلم : 348، سنن نسائی : ۱۹۱ سنن ابن ماجہ : ۶۱۰ امام ابوداؤد کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ختنہ کی جگہ کوختنہ کی جگہ کے ساتھ چپکا دیا تو تحقیق یہ ہے کہ غسل واجب ہوگیا۔ سنن ابوداؤد :۲۱۶، مسند احمد
ج ۶ ص ۴۷-۹۷ – ۱۱۲ – ۱۲۳ – ۱۳۵-161 – ۲۲۷ – ۲۳۹ – ۶۲۵ موطا امام مالک : ۱۰۶ – ۱۰۷ – ۱۰۸ – ۱۱۰)
محمود بن لبید انصاری نے حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: ایک شخص اپنی بیوی سے جماع کرے پھر اس کو تھکا دے اور اس کو انزال نہ ہو؟ حضرت زید نے کہا: وہ غسل کرے گا محمود نے کہا : حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ یہ کہتے تھے کہ وہ غسل نہیں کرے گا حضرت زید بن ثابت نے ان سے کہا: بے شک حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے موت سے پہلے اس قول سے رجوع کر لیا تھا۔ (موطا امام مالک : ۱۰۹ معرفة السنن والآثار : ۲۴۷)
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں یہ بحث ہوئی کہ جب دو ختنے کی جگہیں مل جائیں تو آیا غسل واجب ہوگا یا نہیں؟ حضرت ابو موسیٰ نے کہا: میں ابھی تمہارے پاس اس کا جواب لاتا ہوں وہ اٹھے اور میں بھی ان کے پیچھے گیا حتی کہ وہ حضرت عائشہ کے پاس آئے اور کہا : اے ام المؤمنین ! میں آپ سے ایک چیز کا سوال کرنا چاہتا ہوں اور مجھے سوال کرنے سے حیاء آرہی ہے حضرت عائشہ نے فرمایا: سوال کرو میں تمہاری ماں ہوں ! حضرت ابو موسیٰ نے کہا: جب دو ختنے کی جگہیں مل جائیں تو کیا غسل واجب ہوتا ہے؟ حضرت عائشہ نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ختنہ کی جگہ، میری ختنہ کی جگہ سے مل جاتی تھی تو آپ غسل کرتے تھے ۔ ( معرفة السنن والآثار : ۲۵۰ سنن بیہقی ج اص ۱۶۴ شرح معانی الآثار : ۳۰۷ نخب الافکار فی تنقیح مبانی الاخبار ج ۱ ص ۳۴۶- ۳۴۵)
ایک روایت میں ہے: حضرت ابو موسیٰ نے کہا : آپ کے بعد میں یہ مسئلہ کسی اور سے دریافت نہیں کروں گا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کرتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے پھر اس کو تھکا دیتا ہے کیا اس کے اوپر غسل ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں یہ کام کرتا ہوں میں اور یہ پھر ہم غسل کرتے ہیں ۔ ( صحیح مسلم:۳۵۰ شرح معانی الآثار :۳۰۹)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب مرد عورت کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھ جائے اور اپنے آپ کو تھکائے تو اس پر غسل واجب ہوگیا، خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔ (مسند احمد ج ۲ ص ۳۴۷ طبع قدیم مسند احمد : ۸۵۴۷ – ج ۱۴ ص ۲۴۰ شرح معانی الآثار :۳۱۱، سنن دار قطنی ج ۱ ص ۱۱۳ – ۱۱۲ سنن بیہقی ج ۱ ص ۱۶۳ مسند ابو عوانہ ج ۱ ص ۲۸۸ – ۲۸۷)
ان احادیث اور آثار سے یہ واضح ہو گیا کہ جب مرد اپنی عورت سے جماع کرے اور انزال سے پہلے الگ ہو جائے تو مرد اور عورت دونوں پر غسل واجب ہو جاتا ہے اور صرف وضوء کرنے کا حکم منسوخ ہو چکا ہے اور حضرت ابی بن کعب جنہوں نے وضو کرنے کی حدیث روایت کی تھی، انہوں نے موت سے پہلے اس مسئلہ سے رجوع کر لیا تھا۔
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۸۶ ۔ ج ا ص ۱۰۳۶ پر ہے وہاں اس کی شرح کا عنوان ہے ، غسل جنابت کا سبب ۔