وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِۙ سورۃ نمبر 85 البروج آیت نمبر 8
sulemansubhani نے Wednesday، 16 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِۙ ۞
ترجمہ:
اور ان کو ان مومنوں کی صرف یہ بات ناگوار گزری کہ وہ اللہ پر ایمان لائے، جو غالب، حمد کیا ہوا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان کو ان مؤمنوں کی صرف یہ بات ناگوار گزری کہ وہ اللہ پر ایمان لائے جو غالب، حمد کیا ہوا ہے۔ جس کی آسمانوں اور زمینوں میں حکومت ہے، اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ بیشک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ( آگ کی) مصیبت میں ڈالا، پھر انہوں نے توبہ نہیں کی ان کے لیے دوزخ کا ( عام) عذاب ہے اور ( خصوصاً ) جلنے کا عذاب ہے۔ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے انکے لیے ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا جاری ہیں اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ( البروج : ١١۔ ٨)
خندق میں ڈالنے والے کافروں کے لیے دوزخ کے عذاب اور جلنے کی وعید اور مؤمنوں۔۔ کے لیے جنت اور اللہ کی رضا کی بشارت
نجران کے بادشاہ اور اس کے جن کارندوں نے مؤمنوں کو جلایا تھا، ان کو صرف یہ بات بری لگی کہ ان کے ملک کے مؤمنین اللہ تعالیٰ کی توحید کی تصدیق پر قائم رہے اور ان کو ڈرانے اور دھمکانے سے توحید کی تصدیق سے دست کش نہیں ہوئے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت ” العزیز “ ذکر فرمائی ہے، ” العزیز “ کا معنی ہے : ایسا غالب جو کبھی مغلوب نہہو اور ایسا قاہر جس کے قہر کو ٹالا نہ جاسکے اور دوسری صفت ’ ’ الحمید “ ذکر کی ہے ” حمید “ کا معنی ہے : جو اپنے مومن بندوں کی زبانوں سے حمد اور ثناء کا مستحق ہو، ہرچند کہ بعض چیزوں کو تسبیح عام لوگوں کو سنائی نہیں دیتی لیکن اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے ان چیزوں کی تسبیح بھی سنتے ہیں، قرآن مجید میں ہے :
وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ (بنی اسرائیل : ٤٤) ہر چیز اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 85 البروج آیت نمبر 8