کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 35 حدیث نمبر 182
۱۸۲-حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِي قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِی سَعْدٌ بَنَّ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ نَافِعَ بَنَ جُبَيْرٍ بَنِ مُطْعِم أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ يُحَدِّثْ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، وَإِنَّهُ ذَهَبَ لِحَاجَةٍ لَهُ ، وَأَنَّ مُغِيرَةَ جَعَلَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَيْهِ وَهُوَ يَتَوَضًا فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ۔
اطراف الحدیث: ۲۰۳-۲۰۶-۳۸۸-۴۴۲۱-۵۷۹۸]
صحیح مسلم : 274، الرقم المسلسل : ۶۱۵ سنن ابوداؤد: ۱۹۱ ۱۴۹ سنن نسائی: ۸۲-۷۹ السنن الکبری للنسائی: 165، سنن ابن ماجہ: ۵۴۵ مصنف ابن ابی شیبہ ج ا ص ۱۰۷-106، المعجم الکبیر: ۹۴۴- ج۲۰، مسند ابو عوانہ ج ۱ ص ۲۵۷، مسند احمد ج 4 ص ۲۵۰ طبع قدیم مسند احمد : ۱۸۱۹۰ – ج ۳۰ ص 126)
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عمرو بن علی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبد الوہاب نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے یحیی بن سعید سے بنا انہوں نے کہا: مجھے سعد بن ابراہیم نے خبر دی’ بے شک ان کو نافع بن جبیر بن مطعم نے خبر دی کہ انہوں نے عروہ بن المغیرہ بن شعبہ سے سنا وہ حضرت المغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور بے شک آپ قضاء حاجت کے لیے گئے اور حضرت مغیرہ آپ کے اوپر پانی ڈال رہے تھے اور آپ وضوء کر رہے تھے سو آپ نے اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت بالکل ظاہر ہے کیونکہ اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضوء کرانے کا ذکر ہے۔
اس حدیث کے تمام رجال کا پہلے تذکرہ ہو چکا ہے۔
وضوء کرنے میں غیر سے مدد لینے کی اقسام اور اصاغر کا اکابر کی از خود خدمت کرنا
اس حدیث میں وضوء میں کسی کی مدد لینے کا ذکر ہے اور وضوء میں کسی کی استعانت لینے کی تین قسمیں ہیں: (۱) کوئی شخص وضوء کرنے کے لیے صرف پانی لا کر رکھ دے یہ بغیر کسی کراہت کے جائز ہے (۲) کوئی شخص وضوء کرنے والے کے اعضاء پر پانی ڈالے یہ بھی بغیر کسی کراہت کے جائز ہے، کیونکہ حضرت مغیرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعضاء پر پانی ڈال، ا جیسا کہ اس حدیث میں ہے بعض علماء نے اس کو مکروہ تنزیہی یا خلاف اولیٰ کہا ہے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ مکروہ تنزیہی یا خلاف اولیٰ اس وقت ہوتا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فعل سے منع کیا ہوتا اور علامہ ابن بطال نے نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مکہ کے راستہ میں وضوء کرایا اور شعبہ نے از ابی بشر روایت کیا ہے کہ مجاہد حضرت ابن عمر پر پانی ڈال رہے تھے اور وہ اپنے پیر دھور ہے تھے اور سلف صالحین وضوء میں اس طرح کی استعانت لیتے تھے، حسن بصری نے کہا: میں نے دیکھا کہ عبد الرحمن بن ابزی اور الضحاک بن مزاحم حضرت امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ پر لوٹے سے پانی ڈال رہے تھے اور وہ وضوء کر رہے تھے ۔ (شرح ابن بطال ج ۱ ص ۲۸۶ – ۲۸۵)
تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص وضوء کرانے میں اعضاء پر پانی بھی ڈالے اور اپنے ہاتھوں سے اعضاء وضو کو ملے بھی، یہ بیمار آدمی کے لیے عذر کی حالت میں بلا کراہت جائز ہے اور بغیر عذر کے مکروہ ہے۔
نیز اس حدیث میں سر پر مسح کرنے کا حکم ہے اور اس حدیث میں موزوں پر مسح کرنے کا ثبوت ہے اس کی تفصیل ان شاء ال”لہ باب المسح علی الخفین” میں آئے گی اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ چھوٹوں کو بڑوں کی خدمت کرنی چاہیے خواہ وہ اس کا حکم نہ دیں۔
[…] حدیث کی تخریج اور شرح کے لیے صحیح البخاری : ۱۸۲ کا مطالعہ […]