کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 36 حدیث نمبر 183
٣٦- بَابٌ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ بَعْدَ الْحَدَثِ وَغَيْرِه
حدث ( وضوء ٹوٹنے) کے بعد قرآن مجید وغیرہ پڑھنا
قرآن مجید کے غیر سے مراد ہے اذکار و اوراد پڑھنا مثلا یہ پڑھے: ” الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى أَحْيَا نَفْسِى بَعْدَ أَنْ اَمَاتَهَا وَإِلَيْهِ النشور (سنن ترمذی:۳۴۱۷) اللہ کی حمد ہے، جس نے مجھ پر موت ڈالنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف دوبارہ اٹھنا ہے۔ باب سابق میں مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں وضوء کرانے کا ذکر تھا اور اس باب میں وضوء کرنے کا ذکر ہے۔
وَقَالَ مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ لَا بَأْسَ بِالْقِرَاءَةِ فِي الْحَمَّامِ، وَبِكَتُبِ الرِّسَالَةِ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ.
منصور نے ابراہیم سے روایت کی ہے کہ حمام میں قراءت کرنے سے اور بے وضوء رسالہ لکھنے سے کوئی حرج نہیں ہے۔
منصور سے مراد منصور بن المعتمر الکوفی ہیں اور ابراہیم سے مراد ابراہیم بن یزید النخعی الکوفی ہیں، امام بخاری نے مکمل حدیث کا ایک ٹکڑ ا ذکر کیا ہے مکمل حدیث اس طرح ہے:
عبد الرزاق از ثوری از حماد انہوں نے کہا: میں نے ابراہیم سے حمام میں قرآن مجید پڑھنے کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: حمام قرآن مجید پڑھنے کے لیے نہیں بنائے گئے ۔ (مصنف عبدالرزاق : ۱۴۹ طبع جدید دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )
حمام میں قرآن مجید پڑھنے کے متعلق اختلاف ہے، امام ابوحنیفہ سے روایت ہے کہ یہ مکروہ ہے اور امام محمد بن حسن سے روایت ہے کہ یہ مکروہ نہیں ہے امام مالک کا بھی یہی قول ہے امام ابوحنیفہ نے حمام میں قرآن کریم پڑھنے سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ حمام کا حکم بیت الخلاء کا حکم ہے، کیونکہ وہ نجاست کی جگہ ہے اور ان کے نزدیک حمام میں مستعمل پانی نجس ہے اور امام محمد کے نزدیک یہ پانی طاہر ہے اس لیے انہوں نے قراءت کو مکروہ نہیں کہا۔ (میں کہتا ہوں کہ مروجہ اٹیچ ہاتھ میں لیٹرین اور باتھ کے درمیان کوئی آڑ اور حجاب نہیں ہوتا اس لیے اس میں قرآن مجید اور دیگر اذکار پڑھنا جائز نہیں ہیں۔ سعیدی غفرلہ )
اور ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ جنبی یا حائض کے لیے ایسا مکتوب لکھنا مکروہ ہے، جس میں قرآن مجید کی آیت ہو اگرچہ ان کے لیے قرآن مجید پڑھنا جائز نہیں ہے اور جب وہ قرآن مجید لکھیں گے تو ان کے ہاتھوں سے قلم کے واسطے سے قرآن مجید کو مس کرنا لازم آئے گا اور جنبی اور حائض کے لیے قرآن مجید کو مس کرنا جائز نہیں ہے۔
امام ابو یوسف کے نزدیک جب صحیفہ زمین پر ہو تو اس پر مصحف کو لکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے قرآن مجید کو مس نہیں کر رہا اور وہ ایک ایک حرف لکھ رہا ہے اور ایک حرف قرآن نہیں ہے اور امام محمد نے کہا: میرے نزدیک مستحب یہ ہے کہ وہ نہ لکھے کیونکہ وہ قلم کے واسطے سے قرآن مجید کو مس کر رہا ہے اور حروف بکلیتھا قرآن ہیں اور مشائخ بخاری نے امام محمد کے قول پر فتویٰ دیا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۹۴ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1421ھ )
وَقَالَ حَمَّادٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ إِنْ كَانَ عَلَيْهِمْ إِزَارٌ فَسَلَّمَ، وَإِلَّا فَلَا تُسَلَّم.
اور حماد نے ابراہیم سے روایت کیا ہے: اگر ان پر تہبند ہو تو ان کو سلام کرو ورنہ ان کو سلام نہ کرو۔
حماد سے مراد حماد بن ابی سلیمان فقیہ کوفہ ہیں، جو امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے استاذ ہیں، یعنی اگر اہل حمام برہنہ غسل کر رہے ہوں تو ان کو سلام نہ کرو اور اگر وہ تہبند باندھ کر غسل کر رہے ہوں تو پھر ان کو سلام کرنے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
نوٹ: پہلے زمانہ میں آج کل کی طرح غسل خانے نہیں ہوتے تھے کہ ہر غسل خانہ میں دروازہ ہو بلکہ ایک بڑے ھال میں پانی کے نل لگے ہوتے تھے اور درمیان میں کوئی دروازہ اور حجاب نہیں ہوتا تھا اور بہ یک وقت متعدد لوگ غسل کرتے تھے ۔
۱۸۳ – حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاس اَنَّ عَبْدَاللهِ بن عَبَّاس أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَاتَ لَيْلَةٌ عِندَ ميمونة زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ خَالَتُهُ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاهْلُهُ فِي طُولِهَا ، فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انتصف اللَّيْلُ اَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيْل ، أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيل، استيقظ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ يَمْسَحُ لنومَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَرَاَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُوْرَةِ الِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّا مِنْهَا فَاحْسَنَ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلَّی قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ ثُمّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَوَضَعَ يَدَهُ اليمنى على رَأْسِي وَأَخَذَ بِاذْنِي الْيُمْنَى يَفْتِلْهَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ،ثم رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكَعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكَعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكَعَتَيْنِ ثم رَكَعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اصْطَجَعَ حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤَذِنَ،فقام فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خفیفَتيْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الصبح۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسماعیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے امام مالک نے حدیث بیان کی از مخرمہ بن سلیمان از کریب، جو حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام ہیں که حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری اور وہ ان کی خالہ تھیں، انہوں نے کہا: پس میں بستر کے عرض میں لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ بستر کے طول میں لیٹ گئے، پھر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے، حتی کہ جب آدھی رات ہوگئی یا اس سے کچھ پہلے یا کچھ بعد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے آپ بیٹھ گئے اور اپنے ہاتھوں سے اپنے چہرے پر نیند(آنکھوں) کو ملنے لگے پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں، پھر ایک لٹکی ہوئی مشک کے پاس گئے پھر اس سے وضوء کیا، پس اچھی طرح وضوء کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگئے حضرت ابن عباس نے کہا: پس میں کھڑا ہوا اور میں نے بھی اسی طرح کیا، جس طرح آپ نے کیا تھا، پھر میں جا کر آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا، آپ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے سیدھے کان کو پکڑ کر مروڑا ( اور کان سے پکڑ کر مجھے بائیں جانب سے دائیں جانب کر دیا ) پس آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر آپ نے وتر پڑھے پھر آپ لیٹ گئے، حتی کہ آپ کے پاس مؤذن آیا پھر آپ نے کھڑے ہو کر دو خفیف ( مختصر ) رکعت نماز پڑھی پھر آپ حجرہ سے نکل گئے اور فجر کی نماز پڑھائی ۔
اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۱۱۷ میں مطالعہ فرمائیں۔
بے وضو، قرآن مجید پڑھنے کی تحقیق
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :
اس حدیث کی فقہ یہ ہے کہ اس میں ان علماء کا رد ہے، جنہوں نے کہا ہے کہ بغیر وضوء کے قرآن مجید پڑھنا جائز نہیں ہے بہ شرطیکہ وہ جنبی نہ ہو، اور اس حدیث میں یہ کافی حجت ہے، کیونکہ آپ نے نیند سے اٹھ کر وضوء کرنے سے پہلے سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں اس کے بعد وضوء کیا۔ ابو مریم حنفی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : اے امیر المؤمنین! کیا آپ بغیر وضوء کے قرآن مجید پڑھتے ہیں؟ حضرت عمر نے کہا: تم کو یہ فتویٰ کس نے دیا ہے کیا مسلیمہ نے ؟ نیز اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو صرف نماز پڑھنے کے لیے وضوء کرنے کا حکم دیا ہے اور حدیث صحیح میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے آئے تو آپ کے پاس طعام لایا گیا’ آپ سے کہا گیا: کیا آپ وضوء نہیں کریں گے؟ تو آپ نے فرمایا: میں نماز پڑھنے کا ارادہ کر رہا ہوں کہ وضوء کروں؟ (المطالب العالیہ ۲۳۶۷) اسی معنی میں درج ذیل حدیث ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا تو حضرت عمر آپ کے پیچھے کوزے میں پانی لے گئے آپ نے پوچھا: اے عمر! یہ کیا ہے؟ حضرت عمر نے کہا: یہ پانی ہے، جس سے آپ وضوء کریں گئے، آپ نے فرمایا: مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں جب پیشاب کروں تو وضوء کروں اور اگر میں نے ایسا کیا تو یہ سنت ہو جائے گا۔
( سنن ابوداود : ۴۲، سنن ابن ماجہ : ۱۳۲۷ مسند احمد : ۲۴۶۹۷)
پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بے وضوء ہونے کے بعد نماز پڑھنے کے ارادہ تک طہارت کو مؤخر کر دیا۔
اور جمہور علماء نے بغیر وضوء کے قرآن مجید کے چھونے کو مکروہ کہا ہے اور شعبی اور محمد بن سیرین نے اس کی اجازت دی ہے۔ اسی طرح جمہور علماء کے نزدیک جنبی کا قرآن مجید کی تلاوت کرنا جائز نہیں ہے۔
( شرح ابن بطال ج ۱ ص ۲۸۷ – ۲۸۶ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ)
علامہ ابن بطال کے اس کلام کی متانت میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ جب آپ نیند سے اٹھے تھے تو آپ کا وضوء نہ تھا، ہوسکتا ہے کہ آپ وضوء کر کے سوئے ہوں اور آپ کی شان کے یہی لائق ہے کیونکہ آپ نے باوضو سونے کی تلقین فرمائی ہے۔
حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو وضو کرو جیسے نماز کا وضو، ہے ۔ (صحیح البخاری: 247)
اور نیند سے آپ کا وضو نہیں ٹوٹتا، سو آپ نے باوضو ء ہی قرآن مجید کی آیات پڑھی تھیں اور بعد میں آپ کا وضوء کرنا نور علی نور کے حصول کے لیے تھا، تاہم دیگر دلائل سے یہ ثابت ہے کہ بے وضو ، قرآن مجید کی تلاوت کرنا جائز ہے جیسا کہ علامہ ابن بطال نے تحقیق سے ثابت کیا ہے۔