کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 55 حدیث 216
٥٥ – باب
باب
امام بخاری نے اس باب کا عنوان قائم نہیں کیا اور امام بخاری جس باب کا عنوان قائم نہ کریں وہ باب ابواب سابقہ کے ساتھ ملحق ہوتا ہے اس باب کی باب سابق کے ساتھ یہ مناسبت ہے کہ باب سابق میں یہ بتایا تھا کہ وضو، پر وضوء کرنے سے بہت اجر ہوتا ہے اور اس باب میں یہ بتایا ہے کہ پیشاب کے قطرات سے بدن اور کپڑوں کو بچانے سے بہت اجر ہوتا ہے اور نہ بچانے سے سخت عذاب ہوتا ہے۔ امام بخاری نے فرمایا:
مِنَ الْكَبَائِرِ أَنْ لَّا يَسْتَيْرَ مِنْ بَوْلِهِ.
کبیرہ گناہوں میں سے یہ ہے کہ انسان پیشاب سے نہ بچے۔
گناہ کبیرہ کی تعریف صغیرہ اور کبیرہ میں فرق اور کبائر کے متعلق حدیث
الكبائر ، کبیرہ کی جمع ہے اور کبیرہ وہ قبیح اور مذموم کام ہے، جس سے شریعت میں سختی سے منع کیا گیا ہے مثلا قتل کرنا، زنا کرنا اور جہاد سے پیٹھ موڑ کر بھاگنا کبائر کی تعداد میں اختلاف ہے، ایک صحیح حدیث میں مذکور ہے کہ کبائر سات ہیں:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات ہلاک کرنے والے کاموں سے بچو، صحابہ نے کہا: یارسول اللہ ! وہ کون سے کام ہیں؟ آپ نے فرمایا: (۱) اللہ کے ساتھ شرک کرنا (۲) جادو کرنا (۳) اس نفس کو قتل کرنا جس کے ناحق قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا ہے (۴) سود کھانا (۵) یتیم کا مال کھانا (۶) میدان جہاد سے پیٹھ موڑنا (۷) پاک دامن بے خبر عورتوں کو زنا کی تہمت لگانا ۔ ( صحیح البخاری : ۲۷۶۶ صحیح مسلم : ۸۹ سنن ابوداؤد : ۲۸۷۴ سنن نسائی: ۳۶۷۳)
بعض احادیث میں ماں باپ کی نافرمانی اور بیت اللہ میں معصیت کو کبائر میں شمار کیا ہے۔
ہم نے تبیان القرآن میں ۱۱۸ کبائر کی دلائل کے ساتھ مثالیں دی ہیں ۔ ( تبیان القرآن ج ۱۰ ص ۱۱۵ – ۶۱۲ الشوری: ۳۷)
کبیرہ کی ایک یہ تعریف ہے: جس معصیت کے ساتھ دوزخ کی آگ کا ذکر ہو ی لعنت کا ذکر ہو یا غضب کا ذکر ہو یا عذاب کا ذکر ہو وہ کبیرہ ہے۔ ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا : کبائر سات ہیں؟ انہوں نے فرمایا: بلکہ وہ سات سو تک ہیں، ایک تعریف یہ ہے کہ کبیرہ اضافی امر ہے ہر گناہ اپنے سے بڑے گناہ کی بہ نسبت صغیرہ ہے اور اپنے سے چھوٹے گناہ کی بہ نسبت کبیرہ ہے اور ایک تعریف یہ ہے کہ واجب کا ترک اور مکروہ تحریمی کا ارتکاب صغیرہ گناہ ہے اور فرض کا ترک اور حرام کا ارتکاب کبیرہ گناہ ہے۔
٢١٦ – حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاس قَالَ مَرَّ النَّبِی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِط مِنْ حَيْطَانِ الْمَدِينَةِ أَوْمَكَةَ ، فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذِّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَذَّبَانِ ، وَمَا يُعَذِّبَانِ فِي كَبِيرٍ ثُمَّ قَالَ بَلَى كَانَ أَحَدُهُمَا لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ ، وَكَانَ الْأَخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ، ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا كِسْرَتَيْنِ فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْر منْهُمَا كِسْرَةٌ، فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهُ أَنْ تُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسًا أَوْ إِلَى أَنْ يَّيْبَسًا.
اطراف الحدیث : ۲۱۸-1361 – ۱۳۷۸ – 6052 – 6055)
صحیح مسلم : ۲۹۲ سنن ابوداؤد :۲۰ سنن ترمذی : ۷۰ سنن نسائی: ۳۱ سنن ابن ماجہ : 347، السنن الکبری للنسائی: ۲۱۹۶’ مصنف ابن ابی شیبہ ج1 ص ۱۲۲ – ج ۳ ص 375، سنن دارمی :۷۳۹ سنن بیہقی ج ۲ ص ۴۱۲، صحیح ابن خزیمہ: 56، المنتقی : ۱۳۰ شرح السنة: ۱۸۳ مساوی الاخلاق للحرائطی : ۲۳۶ مسند احمد ج ا ص ۲۲۵ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۹۸۰ – ج ۳ ص 441، مؤسسة الرسالة بیروت)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عثمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں جریر نے حدیث بیان کی از منصور از مجاہد از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ یا مکہ کے باغات میں سے کسی باغ کے پاس سے گزرے تو آپ نے دو انسانوں کی آوازیں سنیں، جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جارہا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور ان کو کسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیا جا رہا تھا، پھر فرمایا: کیوں نہیں ! ان میں سے ایک پیشاب کے قطروں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کھاتا تھا، پھر آپ نے درخت کی ایک شاخ منگائی پھر اس کے دو ٹکڑے کیئے پھر ہر قبر کے اوپر ان میں کا ایک ٹکڑا رکھ دیا’ آپ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ آپ نے فرمایا: جب تک یہ خشک نہیں ہوں گے ان کے عذاب میں تخفیف کر دی جائے گی۔
حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: ان میں سے ایک شخص پیشاب کے قطرات سے نہیں بچتا تھا۔
اس حدیث کے پانچ رجال ہیں ان سب کا پہلے تعارف ہوچکا ہے۔
حائط اور نمیمہ “ کا معنی
اس حدیث میں ” حائط کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: ایسا باغ جس کے چاروں طرف دیوار بنی ہوئی ہو اور جس باغ کی چار دیواری نہ ہو اس کو حدیقہ “ کہتے ہیں۔
اس میں ” لا يستتر “ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: وہ اپنے جسم اور اپنے کپڑوں کو پیشاب کے قطروں سے مس ہونے سے مستور اور محفوظ نہیں رکھتا تھا، یعنی ان کو بچاتا نہیں تھا، پیشاب کے قطروں سے نہ بچنا بھی گناہ کبیرہ ہے کیونکہ اس کی وجہ سے حضرت سعد بن معاذ کو عذاب قبر ہوا تھا۔ (مسند احمد ج ۳ ص ۳۶۰)
اس حدیث میں ” النمیمه ” کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: دو آدمیوں کو لڑانے کے لیے ایک کی بات دوسرے کو پہنچانا کہ فلاں شخص تمہارے متعلق یہ کہتا تھا، اس کو اُردو میں چغلی کہتے ہیں حدیث میں ہے: چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
(صحیح البخاری: 6050، صحیح مسلم :۱۰۵ سنن ابوداد :4871، سنن ترمذی: ۲۰۲۶ الترغیب والترہیب ج ۳ ص 497، طبع قدیم)
اس اعتراض کا جواب کہ آپ نے فرمایا: ان کو کسی کبیرہ چیز کے سبب عذاب نہیں ہورہا۔۔۔۔۔حالانکہ ان کو گناہ کبیرہ کے سبب سے عذاب ہو رہا تھا
اس حدیث میں ہے: آپ نے فرمایا: ان کو کسی بڑی چیز میں عذاب نہیں ہو رہا، اس پر یہ اعتراض ہے کہ ان میں سے ایک پیشاب کے قطرات سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا اور یہ گناہ کبیرہ ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ واقع میں یہ گناہ کبیرہ تھے لیکن ان کے نزدیک یہ کوئی بڑے گناہ نہیں تھے جیسے قرآن مجید میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں کے متعلق فرمایا:
وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِنْدَ اللهِ عَظِيمٌ ( النور : ۱۵)
تم اس تہمت کو معمولی بات سمجھ رہے تھے حالانکہ یہ اللہ کے نزدیک بہت سنگین بات ہے
اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ آپ کے ارشاد کا یہ مطلب ہے کہ ان کو کسی ایسی چیز میں عذاب نہیں ہورہا تھا، جس سے بچنا ان کے لیے بہت مشکل اور دشوار ہو بلکہ اس سے بچنا ان کے لیے بہت آسان تھا۔
حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس کے جواب میں یہ لکھا ہے کہ پہلے آپ نے یہ فرمایا کہ ان کو کسی کبیرہ چیز کے سبب سے عذاب نہیں ہورہا تھا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کی کہ ان کو گناہ کبیرہ کے سبب سے عذاب ہو رہا تھا تو آپ نے پہلے کلام سے اضراب کرکے فرمایا: کیوں نہیں! ان میں سے ایک پیشاب کے قطرات سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا۔ گویا اس بعد والے کلام سے پہلے کلام منسوخ ہوگیا۔ (فتح الباری ج ۱ ص ۷۴۸)
حافظ ابن حجر کا یہ کلام صحیح نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی تھی کہ انکو کسی کبیرہ چیز کے سبب سے عذاب نہیں ہورہا اور خبر میں نسخ نہیں ہوتا۔ نسخ ، حکم میں ہوتا ہے اور یہاں کوئی حکم نہیں ہے اور جب اس اعتراض کے دو قوی جواب ہیں، جن کا ہم نے ذکر کیا ہے تو پھر اس فضول جواب کی کیا ضرورت ہے؟ نیز اس اعتراض کا یہ جواب بھی ہو سکتا ہے کہ ان کو کسی بہت بڑے کبیرہ میں عذاب نہیں ہورہا تھا، اگر چہ وہ فی نفسہ کبیرہ تھا۔
جن دو قبر والوں کو عذاب ہو رہا تھا، آیا وہ کافر تھے یا مسلمان تھے؟
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی لکھتے ہیں:
اس میں اختلاف ہے کہ جن دو آدمیوں کو قبروں میں عذاب ہو رہا تھا آیا وہ کافر تھے یا مسلمان تھے؟
ابو موسیٰ المدینی نے کہا: وہ کافر تھے اور ان کا استدلال اس حدیث سے ہے:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو النجار کی دو قبروں کے پاس سے گزرے، جو زمانہ جاہلیت میں فوت ہوگئے تھے آپ نے ان کی آوازیں سنیں ان کو پیشاب اور چغلی کی وجہ سے عذاب ہور ہا تھا، اس حدیث کو انہوں نے ابن البیعہ از اسامہ بن زید اپنی کتاب “الترغیب والترہیب: میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے: یہ حدیث حسن ہے۔
بعض علماء نے کہا: وہ مسلمان تھے اور انہوں نے کہا: اس حدیث کی بعض سندوں سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی بعض نئی قبروں کے پاس سے گزرے۔ الحدیث
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ وہ قبر والے مسلمان تھے۔
عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۷۹ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ )
جب تک درخت کی شاخ خشک نہ ہو اس وقت تک عذاب میں تخفیف ہونے کی توجیہ
اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ نے درخت کی شاخ منگائی پھر اس کے دو ٹکڑے کیئے پھر ان میں سے ہر ایک کی قبر پر ایک ٹکڑا رکھ دیا اور فرمایا: جب تک یہ خشک نہیں ہوں گے، شاید ان کے عذاب میں تخفیف ہوتی رہے گی۔
علامہ حمد بن محمد الخطابی المتوفی ۳۸۸ھ لکھتے ہیں:
عذاب میں یہ تخفیف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کے اثر کی وجہ سے تھی یا آپ نے ان کے عذاب میں تخفیف کی دعا کی تھی اور جب تک ان شاخوں میں نمی رہے گی ان کے عذاب میں تخفیف ہوتی رہے گی اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ تر شاخ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے اور خشک شاخ تسبیح نہیں کرتی کیونکہ قرآن مجید میں ہے:
وَإِن مِّنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ . (بنی اسرائیل: ۴۴)
اور ہر چیز اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے۔
پس خشک شاخ بھی اللہ کی حمد اور اس کی تسبیح کرتی ہے پھر تخفیف عذاب کی مدت شاخوں کے تر ہونے تک کیوں رکھی گئی ؟ اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کو یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو معلوم ہے، جیسے دوزخ کے محافظ فرشتوں کی تعداد انیس ہے، اس کی وجہ اللہ تعالی ہی کو معلوم ہے۔ ( معالم السنن مع المنذری ج ۱ ص ۲۷ دار المعرفة بیروت)
تلاوت قرآن اور دیگر عبادات کے ایصال ثواب کا ثبوت
علامہ عینی نے علامہ خطابی کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس حدیث میں قبروں پر قرآن مجید کی تلاوت کرنے کے استحباب کی دلیل ہے کیونکہ جب درخت کی تسبیح سے میت کے عذاب میں تخفیف کی امید ہے تو قرآن مجید کی تلاوت سے میت کے عذاب میں تخفیف کی زیادہ امید ہے امام ابو حنیفہ اور امام احمد کا یہ مسلک ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کا ثواب میت کو پہنچتا ہے کیونکہ حدیث میں ہے:
امام ابوبکر النجار نے ” کتاب السنن میں روایت کیا ہے:
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قبرستان کے درمیان سے گزرا اور اس نے گیارہ مرتبہ (سوره)” قل هو الله احد” کو پڑھا پھر اس کا ثواب اس قبرستان کے مُردوں کو بخش دیا تو اس شخص کو بھی اتنا اجر دیا جائے گا جتنا اجر ان مردوں کو دیا جائے گا۔ (جمع الجوامع : ۲۳۱۵۲)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قبرستان میں گیا اور اس نے سورۃ یس تلاوت کی تو اللہ تعالیٰ اس دن ان مردوں کے عذاب میں تخفیف کر دیتا ہے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنے والدین کی یا ان میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کی اور ان کے پاس یس کی تلاوت کی اس کی مغفرت کردی جائے گی ۔ (کنز العمال : 45486)
(الدر المنثور ج ۷ ص ۳۷ دار احیاء التراث العربی بیروت ) ( عمدة القاری ج ۳ ص ۱۷۶ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )
ایصال ثواب کے متعلق دلائل اور احادیث حسب ذیل ہیں:
شیخ ابن تیمیہ متوفی ۷۲۸ ھ نے “ليس لِلإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى ” سے ایصالِ ثواب پر اعتراض کے جواب میں لکھا ہے کہ اس
آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ میت کے لیے جو دعائیں کی جائیں یا ان کی طرف سے جو نیک اعمال کیے جائیں، ان سے میت کو نفع نہیں پہنچنا۔
حضرت ابراہیم علیہ سلام نے دعا کی:
رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ ( ابراہیم : ۴۱)
اے میرے رب! میرے لیے مغفرت فرما اور میرے اور والدین کے لیے اور مؤمنوں کے لیے جس دن حساب ہوگا۔
اور حضرت نوح علیہ السلام نے دعا کی:
رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا
ولِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ. (نوح: ۲۸)
اے میرے رب ! میرے لیے مغفرت فرما اور میرے والدین کے لیے اور جو مومن میرے گھر داخل ہوا اور مومن مردوں اور مؤمن عورتوں کے لیے۔
یہ نبیوں اور رسولوں کی دعائیں اپنی امتوں اور مؤمنوں کے لیے ہیں اور ان کی یہ دعائیں انسان کے اعمال کا غیر ہیں اور ان کی دعاؤں کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے قبول فرمائے گا اور ان سے انسان کو نفع ہوگا اور اس کی مغفرت ہوگی۔
سنن متواترہ سے دوسروں کے اعمال کا نفع آور ہونا ثابت ہے جن کا انکار کفر ہے، مثلاً مسلمانوں کا میت کی نماز جنازہ پڑھنا اور نماز میں ان کے لیے دعا کرنا، اسی طرح قیامت کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شفاعت کرنا کیونکہ ان کے ثبوت میں احادیث متواترہ ہیں، بلکہ مرتکب کبائر کی شفاعت کا اہل بدعت کے سوا کوئی انکار نہیں کرتا اور یہ ثابت ہے کہ آپ اہل کبائر کی شفاعت کریں گے اور آپ کی شفاعت اللہ تعالی سے دعا اور اس سے سوال کرنا ہے پس یہ امور اور ان کی امثال قرآن اور سنن متواترہ سے ثابت ہیں اور ایسی چیزوں کا منکر کافر ہے اور ایسی چیزیں احادیث صحیحہ سے بہ کثرت ثابت ہیں:
(۱) حضرت ابن عباس رضی اللہ بعنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میری ماں کا انتقال ہو گیا، اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اس کو نفع ہوگا ؟ آپ نے فرمایا: ہاں ! اس نے کہا: میرا ایک باغ ہے اور میں آپ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے اس باغ کو اپنی ماں کی طرف سے صدقہ کر دیا۔ (سنن ابوداؤد: ۲۸۸۲ سنن ترمذی: ۶۶۹ سنن نسائی : ۳۶۵۵)
(۲) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہوگیا اور انہوں نے کوئی وصیت نہیں کی اور میرا گمان ہے کہ اگر وہ بات کرتیں تو کچھ صدقہ کرتیں، پس اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کردوں تو کیا اس سے ان کو نفع ہو گا ؟ آپ نے فرمایا: ہاں! (صحیح البخاری : ۱۳۸۸ صحیح مسلم : ۱۰۰۴)
(۳) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرا باپ فوت ہو گیا اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی اگر میں اس کی طرف سے کچھ صدقہ کروں تو کیا اس کو فائدہ ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ! ( صحیح مسلم:۱۶۳۰)
مجموع الفتاوی ج ۲۴ ص۱۷۰ دار الجیل ریاض 1418ھ)
تبیان القرآن میں ہم نے اس مبحث کو زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے دیکھئے تبیان القرآن ج ۱ ص ۵۶۸ – ۵۳۰ النجم :۴۱–۳۸
قبروں پر شاخ اور پھول وغیرہ رکھنے کا ثبوت
اس حدیث میں دونوں قبروں پر درخت کی شاخ کے ٹکڑوں کے رکھنے کا ثبوت ہے، فقہاء نے اس حدیث سے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ قبر پر درخت کی شاخ سبزہ اور پھول وغیرہ رکھنا جائز ہیں۔
علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ ھ لکھتے ہیں:
قبرستان سے سرسبز گھاس کاٹنا مکروہ ہے اور سوکھی ہوئی گھاس کو کانٹے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ ” البحر الرائق، دررغر اور شرح المنیہ میں ہے” امداد” میں اس کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ تر و تازہ گھاس اللہ تعالی کی حمد اور تسبیح کرتی ہے جس سے میت کو تسکین ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے رحمت نازل ہوتی ہے۔ قاضی خان میں بھی اسی طرح لکھا ہے ( علامہ شامی فرماتے ہیں: ) میں کہتا ہوں : اس کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز شاخ کو توڑ کر اس کے دو ٹکڑے کیے اور وہ ان دو قبروں پر رکھ دیئے جن میں قبر والوں کو عذاب ہو رہا تھا اور اس کی علت ان شاخوں کا خشک نہ ہونا قرار دیا یعنی ان شاخوں کی تسبیح کی برکت سے ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی اور سبز گھاس کی تسبیح خشک گھاس کی تسبیح سے اکمل ہے کیونکہ سبز میں ایک قسم کی حیات ہوتی ہے اور اس عبارت اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی وجہ سے سبز شاخ کو قبر پر رکھنا مستحب ہے ہمارے زمانہ میں آس کے پھولوں کی شاخیں جو قبر پر رکھی جاتی ہیں، وہ اسی قیاس پر میں ‘فقہاء شافعیہ کی ایک جماعت نے بھی اس کی تصریح کی ہے اور یہ بعض مالکیہ کے اس قول سے اولی ہے کہ عذاب میں تخفیف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت اور آپ کی دعا سے حاصل ہوئی ( یہ علامہ خطابی کا قول ہے ) اس لیے دوسروں کا آپ پر قیاس نہیں ہوگا’ حالانکہ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ نے یہ وصیت کی تھی کہ ان کی قبر پر دو شاخیں رکھی جائیں۔ (ردالختار ج ۳ ص ۱۴۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۹ھ )
علامہ طحطاوی اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
درخت کی شاخ کے معنی میں ہر وہ چیز داخل ہے جس میں کسی بھی درخت کی رطوبت ہو ( الی قولہ) مشکوۃ کی شرح میں لکھا ہے: ہمارے متاخرین اصحاب میں سے بعض ائمہ نے فتویٰ دیا ہے کہ پھولوں اور درخت کی شاخوں کو رکھنے کا جو معمول ہے، وہ اس حدیث کی وجہ سے سنت ہے اور جب درخت کی شاخ کی تسبیح کی وجہ سے تخفیف کی امید کی جاتی ہے تو قرآن مجید کی تلاوت کی برکت تو بہت عظیم ہے۔ ( حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح ص 378، مطبع مصطفی البابی واولاده مصر 1356ھ)
یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۵۸۵ – ج اص ۹۷۹ پر مذکور ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں:
گناہ صغیرہ اور کبیرہ کی تحقیق
قبر پر سبز شاخ اور پھول رکھنے کے متعلق فقہاء اربعہ کے نظریات اور بحث ونظر
ایصال ثواب میں مذاہب فقہاء اور بحث و نظر
باب مذکور کی حدیث کے دیگر مسائل
برزخ اور دنیا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہ یک وقت رابطہ ۔
شرح صحیح مسلم میں یہ شرح ۸۷۹ سے ۸۸۹ تک دس صفحات پر پھیلی ہوئی ہے اس لیے شرح صحیح مسلم میں ان مباحث کو ضرور پڑھنا چاہیے البتہ نعمۃ الباری میں بعض جزوی مباحث زیادہ ہیں۔
جزاک اللہ خیرا
[…] حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری :۲۱۶ میں گزر چکی ہے وہاں مطالعہ […]