کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 56 حدیث 218
۰۰۰ – بَابٌ
باب
اس باب کا بھی امام بخاری نے کوئی عنوان ذکر نہیں کیا اور یہ باب بھی ابواب سابقہ کے ساتھ ملحق ہے۔
۲۱۸ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَتَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ بن حَازِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوسِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ إِنَّهُمَا لَيُعَذِّبَانِ وَمَا يُعَذِّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا اَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ ، وَأَمَّا الْأَخَر فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ . ثُمَّ اَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، فَغَرَزَ فِي كُلّ قَبْرٍ وَاحِدَةً . قَالُوا یا رسُوْلَ اللهِ ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ لَعَلَّهُ يُخَفَّفْ عَنْهُمَا ما لَمْ يَيْبَسا.
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں محمد بن المثنیٰ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں الاعمش نے حدیث بیان کی از مجاہد از طاؤس از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے، آپ نے فرمایا: ان دونوں کو ضرور عذاب دیا جا رہا ہے اور ان دونوں کو کسی بڑی چیز کے سبب سے عذاب نہیں دیا جارہا، رہا ان دونوں میں سے ایک شخص تو وہ پیشاب کے قطروں سے نہیں بچتا تھا اور رہا دوسرا شخص تو وہ چغلی کھاتا تھا، پھر آپ نے ایک تر شاخ کو لے کر اس کے دو آدھے آدھے ٹکڑے کیے، پھر ہر قبر میں ایک ٹکڑے کو گاڑ دیا’ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ آپ نے فرمایا: شاید جب تک یہ شاخیں خشک نہیں ہوں گی ان کے عذاب میں تخفیف ہوتی رہے گی۔
قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَاالْأَعْمَش قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهدًا مِثْلَهُ.
ابن المثنی نے کہا اور ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں الاعمش نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے مجاہد سے اس حدیث کی مثل سنا ہے ۔
اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری :۲۱۶ میں گزر چکی ہے وہاں مطالعہ فرمائیں۔
حدیث : ۲۱۶ میں شاخ کے ٹکڑوں کو قبروں پر رکھنے کا ذکر تھا اور اس حدیث میں ان کو قبروں پر گاڑنے کا ذکر ہے اس سے معلوم ہوا کہ دونوں طرح جائز ہے، قبر پر ٹہنی کو رکھنا بھی اور ٹہنی کو گاڑنا بھی۔
علماء دیوبند کا قبروں پر پھول ڈالنے کو بدعت کہنا اور اس قول کا ابطال اور ردّ
ہم علامہ شامی اور دیگر فقہاء کے حوالوں سے بیان کر چکے ہیں کہ قبر پر درخت کی شاخ رکھنا اور سبزہ اور پھول رکھنا جائز ہے کیونکہ اس کی اصل اس حدیث میں موجود ہے۔ تاہم حیرت ہوتی ہے کہ سید احمد رضا بجنوری نے لکھا ہے کہ شیخ شبیر احمد عثمانی اور شیخ انور شاہ کشمیری نے کہا ہے کہ مزارات پر پھول وغیرہ چڑھانا جو آج کل اہل بدعت نے رائج کر دیا ہے یہ بدعت ہے اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اس کے غلط ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ فساق فجار کی قبروں کے بجائے صالحین کی قبروں پر پھول چڑھائے جاتے ہیں۔
(انوار الباری ج ۸ ص ۴۳ ملخصاً اداره تالیفات اشرفيه ملتان )
فقہاء کے علاوہ شارحین حدیث نے قبروں پر پھول چڑھانے کو جائز لکھا ہے ملاعلی قاری متوفی ۱۰۱۴ ھ لکھتے ہیں:
قبروں پر پھول رکھنے کی اس حدیث میں اصل اصیل ہے اسی وجہ سے ہمارے متاخرین اصحاب نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ اس زمانہ میں قبروں پر پھول اور شاخ رکھنے کی عادت ہوگئی ہے وہ اس حدیث کی بناء پر سنت ہے۔ (مرقاۃ المفاتح ج ا ص ۵۹ مکتبہ حقانیہ پشاور )
شیخ عبد الحق محدث دہلوی متوفی ۱۲۵۲ ھ لکھتے ہیں:
ایک جماعت نے اس حدیث سے قبر پر سبزہ اور پھول اور ریحان ڈالنے پر استدلال کیا ہے۔
( اشعۃ اللمعات ج ا ص ۲۱۵ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ
غور فرمائے ! ملا علی قاری متوفی ۱۰۱۴ ھ اور علامہ طحطاوی متوفی ۱۲۳۱ھ نے اس حدیث کی بناء پر قبروں پر پھول ڈالنے کو سنت لکھا ہے اور علامہ شامی متوفی 1252ھ نے اس حدیث کی بناء پر قبروں پر پھول ڈالنے کو مستحب لکھا ہے ۔ ” فتاوی عالم گیری” میں اس کو مستحسن لکھا ہے۔ (فتاوی عالمگیری ج ۵ ص ۳۵۱ طبع مصر) علامہ شربینی شافعی من قرن العاشر نے بھی اس کو سنت لکھا ہے۔ (مغنی المحتاج ج 1 ص ۳۶۴) ڈاکٹر وہبہ زحیلی نے بھی اس کو سنت لکھا ہے ۔ (الفقہ الاسلامی وادلتہ ج ۱ ص ۵۳۰)
ان اکابر فقہاء اور محدثین کے مقابلہ میں سید احمد رضا بجنوری دیوبندی کی بات کو کون سنتا اور مانتا ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ قبروں پر پھول رکھنا بدعت ہے اور جن کو یہ بھی علم نہیں کہ جس فعل کی اصل سنت صحیحہ سے ثابت ہو وہ سنت ہوتا ہے نہ کہ بدعت ۔
باقی رہا سید احمد رضا دیوبندی کا یہ کہنا کہ فساق فجار کی قبروں پر پھول کیوں نہیں چڑھائے جاتے ؟ تو یہ بھی ان کی لاعلمی ہے عام مسلمان اپنے رشتہ داروں کی قبروں پر پھول اور سبزہ ڈالتے ہیں اور ان میں اکثر بے عمل ہوتے ہیں تاکہ ان پھولوں اور سبزہ کی تسبیح کی برکت سے ان کی مغفرت ہو جائے اور رہا ان کا یہ کہنا کہ پھر صالحین کی قبروں پر کیوں پھول چڑھائے جاتے ہیں، انہیں تو مغفرت کی ضرورت نہیں ہے یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کیوں پڑھا جاتا ہے اور آپ کے لیے رحمت کیوں طلب کی جاتی ہے آپ تو خود رحمہ العلمین ہیں اور آپ کے لیے وسیلہ اور مقام محمود کی دعا کیوں کی جاتی ہے جب کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں وعدہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر مبعوث فرمائے گا اس اعتراض کے وقت انہوں نے اس آیت پر غور نہیں کیا:
وَمَنْ يُعْظِمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَأَنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ 0(الحج 32)
جو اللہ کے شعائر ( نشانیوں ) کی تعظیم کرے تو یہ تعظیم دلوں کے تقویٰ کی وجہ سے ہے
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نشانی ہیں اور اولیاء اللہ اور ان کے مزارات بھی شعائر اللہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے ہیں اور ان کی تعظیم کرنا دلوں کے تقویٰ کی وجہ سے ہے اور مزارات پر پھول ڈالنا ان کی تعظیم کی وجہ سے ہے اور اس لیے تاکہ پھولوں کی تسبیح کی وجہ سے ان کی نیکیوں اور ان کے درجات میں اضافہ ہو یہ دیوبندی علماء جو صالحین کی قبروں پر اس لیے پھول ڈالنے سے منع کرتے ہیں کہ وہ تو خود نیک ہیں، انہیں مغفرت کی ضرورت نہیں ہے تو کیا یہ لوگ صالحین کے مزارات پر قرآن مجید کی تلاوت سے بھی منع کریں گے ! حالانکہ ہم دیکھتے ہیں یہ لوگ اپنے اکابر علماء کی یاد مناتے ہیں اور ان کے لیے اہتمام سے قرآن خوانی کرتے ہیں اور اس کے لیے باقاعدہ اخبارات میں اعلان بھی کیا جاتا ہے پس واضح ہو گیا کہ قبروں پر پھول ڈالنے کو بدعت کہنا خود بدعت ہے اور شیخ انور شاہ کشمیری شیخ شبیر احمد عثمانی اور سید احمد رضا بجنوری کے یہ اقوال قطعا باطل اور مردود ہیں۔
جزاک اللہ خیرا