٦٠ – بَابُ الْبَوْلِ قَائِمًا وَقَاعِدًا

کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پیشاب کرنا

یعنی اس باب میں کھڑے ہوکر اور بیٹھ کر پیشاب کرنے کا شرعی حکم بیان کیا گیا ہے اس پر یہ اعتراض ہے کہ اس باب میں صرف کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کے متعلق احادیث ہیں، پھر باب کے عنوان میں بیٹھ کر پیشاب کرنے کا کیوں ذکر کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ یہ کثرت احادیث میں بیٹھ کر پیشاب کرنے کا ذکر ہے اس لیے امام بخاری نے اس کا بھی ذکر کر دیا اور اس کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ یہ دونوں باب پیشاب کے حکم سے متعلق ہیں۔

٢٢٤- حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ،عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبَاطَةَ قَوْمٍ ، فَبَالَ قَائِمًا ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَجِئْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّاً. (اطراف الحديث : ۲۲۵ ۲۲۶-۲۴۷۱]

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں آدم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از الاعمش از ابی وائل از حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قوم کے کچرا گھر ( گھورے) پر آئے پھر آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا پھر آپ نے پانی منگایا سو میں آپ کے پاس پانی لے کر آیا پھر آپ نے وضوء کیا۔

(صحیح مسلم : 273، الرقم المسلسل : ۶۱۳ ، سنن ابوداؤد : ۲۳ سنن ترمذی: ۱۳ سنن نسائی: ۲۸ – ۲۷-26-۱۸ سنن ابن ماجہ :306-305 مسند ابوداؤد الطیاسی : 406،  مصنف عبد الرزاق : ۷۵۱ ‘ مصنف ابن ابی شیبه ج ۱ ص ۲۳ سنن دارمی: ۶۶۸ مسند البزار: 2863، المنتقی :36 صحیح ابن خزیمہ: 61، صحیح ابن حبان : ۱۴۲۵ – ۱۴۲۴ حلیة الاولیاء ج 4 ص ۱۱۱ سنن بیہقی ج ا ص ۱۰۰ شرح السنة: ۱۹۳ مسند احمد ج ۵ ص ۳۸۲ طبع قدیم مسند احمد : ۲۳۲۴۱ج 38  ص ۲۷۷ مؤسسة الرسالة بیروت)

اس حدیث کے پانچ رجال میں ان سب کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔

باب کے عنوان سے اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچرا خانہ پر آئے، پھر آپ نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔

غیر مملوک جگہ پر پیشاب کرنے کی توجیہات

اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قوم کے کچرا گھر پر آئے اور وہاں پیشاب کیا اس پر یہ سوال ہوتا ہے کہ کسی کی مملوکہ جگہ پر آپ کا پیشاب کرنا کس طرح جائز ہوگا ؟ اس سوال کے متعدد جواب ہیں:

(۱) یہ جگہ قوم کی ملکیت نہ تھی اور چونکہ قوم کے لوگ وہاں پر کچرا ڈالتے تھے، اس لیے اس کی اضافت قوم کی طرف کر دی۔

(۲) نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کو علم تھا کہ قوم کے لوگ آپ کے اس تصرف کو ناپسند نہیں کریں گے اور ایسی صورت میں تصرف جائز ہوتا ہے۔

(۳) جس چیز کی آپ کی امت مالک ہو، اس چیز پر آپ کا تصرف کرنا جائز ہے کیونکہ آپ تمام مؤمنین کی جانوں اور اُن کے مالوں پر اقرب بالتصرف ہیں اور زیادہ ظاہر یہ ہے کہ لوگ اپنی املاک میں آپ کے تصرف سے خوش ہوتے تھے۔

کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کے حکم میں مذاہب

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنا جائز ہے اور جب کھڑے ہوکر پیشاب کرنا جائز ہے تو بیٹھ کر پیشاب کرنا به طریق اولی جائز ہے امام مالک نے کہا ہے : اگر وہ ایسی جگہ ہے جہاں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے چھینٹیں نہیں اڑتیں تو کوئی حرج نہیں ہے ورنہ مکروہ ہے اور عام علماء نے یہ کہا ہے کہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا مکروہ تنزیہی ہے اور اگر کوئی عذر ہو تو پھر مکروہ نہیں ہے۔ حضرت انس، حضرت علی اور حضرت ابوہریرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے،  حضرت ابن مسعود اور ابراہیم بن سعد نے اس کو مکروہ کہا ہے، ابراہیم کھڑے ہو کر پیشاب کرنے والے کی شہادت کو جائز نہیں کہتے تھے اور ابن المنذر نے کہا: بیٹھ کر پیشاب کرنا مستحب ہے اور کھڑے ہو کر پیشاب کرنا مباح ہے اور ان میں سے ہر طریقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔

کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کی حدیث کی معارض احادیث کی توجیہات

باب مذکور کی حدیث کے معارض حسب ذیل احادیث ہیں:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جس نے تم کو یہ حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے،  اس کی تصدیق نہ کرو’ آپ صرف بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے ۔ (سنن الترمذی: ۱۲ سنن نسائی : ۲۹ سنن ابن ماجه: 307،  مسند احمد ج 6 ص ۱۳۶)

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : اے عمر ! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا کرو اس کے بعد میں نے کبھی کھڑے ہوکر پیشاب نہیں کیا۔

( سنن ترمذی ج ۱ص ۱۲ سنن ابن ماجه : ۳۰۸)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کا جواب یہ ہے کہ وہ صرف گھر کے احوال پر مطلع تھیں اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے گھر کے باہر کے حال کا ذکر کیا ہے، اور حضرت عمر کی حدیث کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کو امام ترمذی نے ضعیف قرار دیا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی توجیہات

(1) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کھڑے ہو کر پیشاب کیا تھا، اس کی توجیہ میں امام شافعی نے یہ کہا ہے کہ عرب یہ کہتے تھے کہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے کمر کے درد میں شفاء ہوتی ہے تو یہ گویا علاج کا ایک طریقہ ہے گھٹنوں میں درد کی شفاء کی بھی ایک روایت ہے۔

(۲) قاضی عیاض نے یہ کہا ہے کہ آپ مسلمانوں کے امور میں مشغول تھے اور اس میں بہت دیر ہوگئی، حتی کہ آپ کو زور سے پیشاب آنے لگا اس لیے آپ اپنی عادت کے مطابق زیادہ دور نہیں جاسکے اس لیے آپ نے کچرا گھر کا ارادہ کیا کیونکہ وہ نرم اور ریتیلی جگہ تھی اور حضرت حذیفہ آپ کے ستر کے لیے کھڑے ہوگئے تھے گویا وہاں بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی ۔

(۳) علامہ المازری نے کہا کہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے مقعد سے کچھ نکلنے کا خطرہ نہیں ہوتا جب کہ بیٹھ کر پیشاب کرنے سے یہ خطرہ ہوتا ہے۔

(۴) کچرا گھر کے قریب جو جگہ تھی وہ بلند تھی اور آپ ڈھلان کی جانب تھے اس لیے وہاں بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی ۔

(۵) علامہ منذری نے کہا: اس کچرا گھر میں ترنجاسات تھیں، آپ کو خطرہ تھا کہ اگر آپ نے بیٹھ کر پیشاب کیا تو آپ کے اوپر چھینٹیں اُڑیں گی ۔

(6) امام طحاوی نے کہا: وہ ایسی جگہ تھی کہ بیٹھ کر پیشاب کرنے سے پیشاب کرنے والے کی طرف پیشاب بہ کر آتا ہے اس لیے آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔

(۷) بعض علماء نے کہا: بی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان جواز کے لیے اس مرتبہ کھڑے ہو کر پیشاب کیا ورنہ آپ کی عادت مبارکہ بیٹھ کر پیشاب کرنے کی تھی ۔

حدیث مذکور کے دیگر فوائد

اس حدیث کے دیگر فوائد یہ ہیں:

(۱) قریب ترین جگہ پر جا کر پیشاب کرنا چاہیے۔

(۲) پیشاب کو زیادہ دیر تک روکنا مکروہ ہے کیونکہ اس میں ضرر اور بیماری کا خطرہ ہے۔

(۳) پیشاب کرنے والے کے لیے اپنے خادم سے وضوء کے لیے پانی منگانا جائز ہے کیونکہ آپ نے حضرت حذیفہ سے پانی منگایا تھا۔

(۴) تلامذہ اور مریدین کو اساتذہ اور مشائخ کی اور اصاغر کوا کا بر کی خدمت کرنی چاہیے۔

عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۰۳-۲۰۱ ملخصاً دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ )