کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 62 حدیث 226
٦٢ – بَابُ الْبَوْلِ عِنْدَ سُبَاطَةِ قَوْمٍ
قوم کے کچرا گھر کے پاس پیشاب کرنا
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت ظاہر ہے کیونکہ دونوں بابوں کا تعلق پیشاب کے حکم سے ہے۔
٢٢٦ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةٌ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِى وَائِلٍ قَالَ كَانَ أَبُو مُوسَی الْأَشْعَرِيٌّ يُشَدِدُ فِي الْبَوْلِ، وَيَقُولُ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا أَصَابَ ثَوْبَ أَحَدِهِمْ فَرَضَهُ ، فَقَالَ حُذَيْفَةٌ لَيْتَهُ أَمْسَكَ ، أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبَاطَة قَوْمٍ ، قَبَالَ قَائِمًا.
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں محمد بن عرعرہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از منصور از ابى وائل، انہوں نے کہا : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پیشاب کے معاملہ میں بہت سختی کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ بنی اسرائیل میں جب کسی کے کپڑے پر پیشاب لگ جاتا تو وہ اس کپڑے کو کاٹ دیتا تھا، پس حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کاش ! وہ یہ کہنے سے رُک جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قوم کے کچرا گھر پر آئے اور آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
اس حدیث کی تخریج اور شرح کے لیے صحیح البخاری : ۲۲۴ کا مطالعہ فرمائیں۔
کپڑوں پر پیشاب لگنے سے کپڑے کو کاٹ دینے کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد
اس حدیث میں حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے کہ بنی اسرائیل میں سے جب کسی ایک کے کپڑے پر پیشاب لگ جاتا تو وہ اس کپڑے کو کاٹ دیتا تھا، اس کی تائید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے:
حضرت عبد الرحمان بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے، آپ گھر سے نکلے اور آپ کے ساتھ ایک ڈھال تھی، آپ نے اس کے ساتھ پردہ کیا پھر پیشاب کیا، پس ہم نے کہا: آپ کی طرف دیکھو، آپ ایسے پیشاب کر رہے ہیں، جیسے عورت پیشاب کرتی ہے۔ آپ نے اس بات کو سن لیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ بنی اسرائیل کے صاحب کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ جب ان کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو کاٹ دیتے تھے جہاں ان کا پیشاب لگا ہوتا تھا، اس صاحب نے ان کو منع کیا تو ان کو قبر میں عذاب دیا گیا۔ امام ابوداؤد نے کہا: منصور نے بیان کیا از ابو وائل از حضرت ابوموسی، اس حدیث میں یہ مراد ہے: وہ اپنی کھال کو کاٹ دیتا تھا اور عاصم کی سند سے بیان کیا از ابوموسی از نبی صلی اللہعلیہوسلم، آپ نے فرمایا : وہ اپنے جسم کو کاٹ دیتا تھا۔ (سنن ابوداؤد : ۲۲ سنن نسائی: ۳۰، سنن ابن ماجہ: ۳۴۶)
اس حدیث میں صاحب سے مراد حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں اور جن کو عذاب دیا گیا وہ بنی اسرائیل تھے اور یہاں کچھ عبارت مقدر ہے یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو اس سے منع کیا کہ ان کے جسم یا کپڑوں پر پیشاب لگے، وہ اس سے باز نہ آئے تو ان کو قبر میں عذاب دیا گیا۔
پیشاب کی چھینٹوں کے متعلق ہماری شریعت میں سختی نہیں ہے
حضرت حذیفہ نے کہا: کاش ! حضرت ابو موسیٰ اشعری پیشاب کے معاملہ میں اتنی سختی کرنے سے رک جاتے، ان کا مقصود یہ تھا کہ پیشاب کے معاملہ میں اتنی سختی کرنا سنت کے خلاف ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جب کوئی شخص کھڑے ہو کر پیشاب کرے گا تو وہ پیشاب کی چھینٹوں کے لگنے کا محل بنے گا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس احتمال سے بچنے کی طرف توجہ نہیں کی ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۰۷)
علامہ ابن بطال لکھتے ہیں: حضرت حذیفہ کا یہ قول ان علماء کے لیے حجت ہے جو پیشاب کے معاملہ میں رخصت دیتے ہیں
کیونکہ یہ معلوم ہے کہ جو شخص کھڑے ہو کر پیشاب کرے گا اس کے اوپر سوئی کی نوک کے برابر پیشاب کے قطرات اڑ کر لگیں گے اور اس حدیث میں ہمارے لیے آسانی اور نرمی ہے، کیونکہ ہم سے پہلی امت اپنے کپڑوں میں اس جگہ کو کاٹ دیتی تھی، جہاں پیشاب لگتا تھا اور حضرت حذیفہ کی حدیث فقہاء احناف کے مذہب کے موافق ہے۔ (شرح ابن بطال ج ۱ ص ۳۴۲)
علامہ بدرالدین عینی فرماتے ہیں:
سوئی کی نوک کے برابر پیشاب کی چھینٹوں کے حکم میں اختلاف ہے امام مالک فرماتے ہیں: ان کو دھونا مستحب ہے امام شافعی فرماتے ہیں: ان کو دھونا واجب ہے امام ابوحنیفہ نے اس میں آسانی دی ہے، جس طرح انہوں نے باقی معمولی نجاستوں میں آسانی دی ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۰۷-۲۰۶ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1421ھ )
صحیح البخاری کی حدیث:۲۲۶-۲۲۵ شرح صحیح مسلم : ۵۳۳ – ۵۳۲ – ج ۱ ص ۹۴۴ – ۹۴۳ پر مذکور ہے وہاں ان حدیثوں کی شرح نہیں کی گئی۔