کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 65 حدیث 232
۲۳۲- حَدَّثَنَا عَمْرُو بنْ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْن مَيْمُونِ بنِ مِهْرَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُ الْمَنِي مِنْ ثوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اَرَاهُ فِيهِ بُقْعَةً أَوْ بُقَعًا.
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عمرو بن خالد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں زہیر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا : ہمیں عمرو بن میمون بن مہران نے حدیث بیان کی از سلیمان بن یسار از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی دھوتی تھیں، پھر میں اس کپڑے میں پانی کا نشان یا پانی کے نشانات دیکھتی تھی۔
اس حدیث کی تخریج اور شرح کے لیے حدیث : ۲۲۹ کا مطالعہ کریں۔
صحیح ابن خزیمہ کی ایک حدیث سے حافظ ابن حجر کا منی کی طہارت پر استدلال ۔۔۔۔ اور مصنف کی طرف سے اس کے جوابات
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ نے منی کی طہارت پر حسب ذیل حدیث سے استدلال کیا ہے:
امام ابن خزیمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچ رہی ہوتی تھیں، جس وقت آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ (صحیح ابن خزیمہ : 290، مکتب اسلامی بیروت ) ( فتح الباری ج۱ ص 760 دار المعرفة بیروت 1426ھ )
اس حدیث سے حافظ ابن حجر نے اس پر استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منی کو کھرچے یا دھوئے بغیر منی آلود کپڑے سے نماز پڑھی لہذا ثابت ہو گیا کہ منی طاہر اور پاک ہے۔
میں کہتا ہوں کہ امام ابن خزیمہ متوفی ۳۱۱ھ اس روایت میں منفرد ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حالت نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچ رہی تھیں ‘باقی تمام محدثین نے اس حدیث کو اس اضافہ کے بغیر روایت کیا ہے لہذا حافظ ابن حجر کا منی کی طہارت پر استدلال ساقط ہوگیا۔
امام احمد نے حضرت عائشہ کی اس حدیث کو اپنی مسند میں پچیس جگہ روایت کیا ہے اور کسی روایت میں یہ مذکور نہیں ہے کہ آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے امام احمد کی روایت اس طرح ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بان کرتی ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں جب منی دیکھتی تو میں اس کو کھرچ دیتی، پس جب میں اس کو دیکھتی تو فوراً دھودیتی یا بھگودیتی ۔ (مسند احمد : ۲۴۰۶۴- ج۶ ص ۱۳۵ مؤسسة الرسالۃ’ بیروت ۔ اس حدیث کے دیگر ارقام یہ ہیں:
-24158 -24378-24659-24702-24935-24949-25008-25034-25035-25098-25293-25612-25614-25778-25985-26024-26059-260186-26264-26265-26266-26395- مؤسسة الرسالة بیروت)
امام ابن خزیمہ نے اس حدیث کو مختصراً اور مجملاً روایت کیا ہے دیگر روایت میں اس کی تفصیل ہے جس سے حافظ ابن حجر کا طہارت منی کا دعوی بالکلیہ ساقط ہو جاتا ہے ملاحظہ فرمائیں:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچتی تھی’ پھر آپ جاتے اور اس کپڑے میں نماز پڑھتے ۔ ( مسند احمد :۲۴۹۳۶ – ج ۶ ص ۱۲۵ مؤسسة الرسالة بیروت)
حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچتی، پھر آپ جاتے اور اس میں نماز پڑھتے ۔
( مسند احمد : ۲۵۰۰۸ – ج 6 ص ۱۳۲ مؤسسة الرسالة بیروت)
حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچتی، پھر آپ اس میں نماز پڑھتے ۔
( مسند احمد : ۲۵۷۷۸- ج ۶ ص ۱۳)
حضرت عائشہ فرماتی ہیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر منی لگ جاتی تو میں اس کو دھوتی ، پھر آپ نماز کے لیے جاتے اور میں اس کپڑے پر دھونے کا نشان دیکھتی ۔ ( مسند احمد : ۲۵۹۸۵ – ج 6 ص ۲۳۵)
حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کپڑے سے منی کو اذخر کی جڑ سے کھرچ کر صاف کرتے، پھر اس میں نماز پڑھتے ۔ ( مسند احمد : ۲۶۰۵۹ – ج ۶ ص ۲۴۳ مؤسسة الرسالة بیروت)
خلاصہ یہ ہے کہ اوّل تو امام ابن خزیمہ اپنی روایت کے اس اضافہ میں منفرد ہیں، ثانیا مفصل روایت اس اضافہ کے خلاف ہے، ثالثا اگر ہم اس اضافہ کو مان بھی لیں کہ حضرت
عائشہ حضور کی نماز کی حالت میں آپ کے کپڑے سے منی کھرچتی تھیں تو حافظ ابن حجر کا استدلال تب صحیح ہو گا جب یہ بات ثابت ہو کہ نماز سے پہلے آپ کی اس طرف توجہ تھی کہ اس کپڑے پر منی لگی ہوئی ہے اور پھر آپ
نے نماز پڑھی اور قوی احتمال یہ ہے کہ آپ نے بے توجہی میں منی آلود کپڑے سے نماز پڑھنی شروع کی حضرت عائشہ نے منی لگی دیکھ کر اس کو کھرچنا شروع کردیا ، پس واضح ہو گیا کہ منی طاہر نہیں ہے ۔ وللہ الحمد