٦٤ – بَابُ غَسْلِ الْمَنِي وَفَرْكِهِ، وَغَسْلِ مَا يُصِيبُ مِنَ الْمَرْأَةِ

منی کو دھونا اور اس کو کھرچنا اور عورت سے جو چیز بدن پر لگے اس کو دھونا

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر منی تر ہو تو اس کو دھو دیا جائے اور اگر منی خشک ہو تو اس کو کھرچ دیا جائے ۔ اس عنوان میں “فرك ” کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: کسی چیز کو اتنا رگڑنا کہ اس کا اثر زائل ہوجائے اور منی کا معنی ہے: وہ سفید اور گاڑھا پانی، جس سے بچہ پیدا ہوتا ہے اور جس کے خروج کے بعد مرد کا آلہ ڈھیلا پڑجاتا ہے اور اس کی بو گوندھے ہوئے آٹے کی مثل ہوتی ہے اور اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب مرد عورت سے مقاربت کرتا ہے تو اس کے اندام نہانی سے جو رطوبت نکلتی ہے، اگر وہ مرد کے بدن یا اس کے کپڑوں پر لگ جائے تو اس کو بھی دھویا جائے گا اس کو رطوبت فرج کہتے ہیں، اس عنوان میں یہ تین چیزیں بیان کی ہیں، لیکن اس باب میں جو حدیث بیان کی ہے اس میں صرف منی آلودہ کپڑوں کو دھونے کا ذکر ہے۔

اس باب کی سابق باب کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں خون آلودہ کپڑے کو دھونے کا ذکر تھا اور اس باب میں منی آلودہ کپڑے کو دھونے کا ذکر ہے اور خون اور منی دونوں نجس ہیں۔

۲۲۹ – حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ  الْمُبَارَكِ قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ الْجَزرِی ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنتُ أَغْسِلُ الْجَنابتہ مِنْ ثوبِ النبي صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَوةِ ، وَإِنَّ بُقَعَ الْمَاءِ فِي ثَوْبِهِ.

اطراف الحدیث : ۲۳۰-۲۳۱ ۲۳۲]

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبدان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا : ہمیں عبداللہ بن المبارک نے خبر دی انہوں نے کہا: ہمیں عمرو بن میمون الجزری نے خبر دی از سلیمان بن یسار از حضرت عائشه رضی اللہ عنہا، وہ بیان کرتی ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے جنابت ( کے اثر یعنی منی ) کو دھوتی تھی، آپ نماز پڑھنے کے لیے نکلتے اور پانی کے نشانات آپ کے کپڑوں میں ہوتے تھے۔

(صحیح مسلم: 289،  الرقم المسلسل : ۶۵۸ سنن ابوداؤد: 373،  سنن ترمذی: ۱۱۷ سنن نسائی: 295،  سنن ابن ماجہ: ۵۳۶ ‘ مسند احمد ج 6 ص 47 طبع قدیم مسند احمد : ۲۴۲۰۷- ج 40 ص ۲۵۳ مؤسسة الرسالة بیروت، مسند اسحاق بن راھویہ: ۱۱۳۴ شرح معانی الآثار : 267،  سنن بیہقی ج ۲ ص ۴۱۹ – ۴۱۸)

اس باب کے عنوان کے تین اجزاء تھے : منی کو دھونا، منی کو کھرچنا اور رطوبت فرج کو دھونا اور حدیث میں صرف منی آلودہ کپڑوں کو دھونے کا ذکر ہے بقیہ دو اجزاء کا ذکر نہیں ہے سو اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت دلالت تضمنی کے اعتبار سے ہے، دلالت مطابقی کے اعتبار سے نہیں ہے۔

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں، جن کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔

منی کے طاہر یا نجس ہونے میں مذاہب فقہاء

علامہ ابوالحسن علی بن خلف بن عبد الملک ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں:

علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا منی طاہر ہے یا نجس ہے امام مالک ‘لیث ، اوزاعی، ثوری اور امام ابوحنیفہ کا یہ مذہب ہے کہ منی نجس ہے مگر امام مالک کے نزدیک منی تر ہو یا خشک اس کو دھونا ضروری ہے اور ان کے نزدیک خشک منی کو کھرچنا جائز نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک تر منی کو دھویا جائے گا اور خشک منی کو کھرچ دینا کافی ہے اور امام شافعی، امام احمد، اسحاق اور ابو ثور نے یہ کہا کہ منی طاہر ہے اس کو کپڑے سے کھرچ دیا جائے اور اگر نہ کھرچے تب بھی کوئی حرج نہیں ہے، صحابہ میں سے حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم کے نزدیک منی کو کھرچنا جائز ہے، حضرت ابن عباس فرماتے تھے : تم منی کو کسی کپڑے سے یا کسی تنکے سے کھرچ دو اور اگر اس کو نہ دھوؤ تو کوئی حرج نہیں ہے۔ (شرح ابن بطال ج ا ص ۳۵۰ 249 دار الکتب العلمیہ بیروت 1424ھ)

علامہ موافق الدین عبد اللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں: منی طاہر ہے اور امام احمد سے دوسری روایت یہ ہے کہ یہ خون کی مثل نجس ہے اور مذہب میں پہلی روایت مشہور ہے اور یہی امام شافعی کا مذہب ہے۔ (المغنی ج ۲ ص ۲۸۷ دارالحدیث قابر 1425ھ )

فقہاء مالکیہ اور فقہاء احناف کا استدلال باب مذکور کی حدیث سے ہے اور فقہاء شافعیہ اور فقہاء حنبلیہ کا استدلال درج ذیل احادیث سے ہے۔

منی کی طہارت پر امام شافعی اور امام احمد کے دلائل

همام بن الحارث بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں بہ طور مہمان ٹھہرے ان کو احتلام ہوگیا، حضرت عائشہ کی باندی نے دیکھا کہ وہ اپنے کپڑے سے منی کو دھو رہے تھے یا اس کپڑے کو دھو رہے تھے، اس باندی نے حضرت عائشہ کو اس کی خبر دی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے یاد ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتی تھی (یعنی دھوتی نہیں تھی ) ۔ ( صحیح مسلم : 105-106 الرقم السلسل : ۶۶۹ – ۶۶۷، سنن ابوداؤد : 371، سنن نسائی: 294،  سنن ترمذی : ۱۱۷ سنن ابن ماجہ: ۵۳۶ مسند احمد  ج 6 ص ۱۳۵ – ۹۷ – 35 سنن دار قطنی ج ۱ ص ۱۲۵)

عروہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر سے منی کھرچ دیتی تھی اور ہمارے پاس ان دنوں اونی چادر تھی ۔ (مسند احمد ج ۶ ص ۲۶۳)

علماء احناف کی طرف سے مذکورہ دلائل کے جوابات

امام ابو جعفر احمد بن محمد طحاوی حنفی متوفی ۳۲۱ ھ فرماتے ہیں:

منی نجس ہے اور ان آثار سے امام شافعی اور امام احمد کا استدلال درست نہیں ہے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم  کی جس چادر اور جس کپڑے سے منی کھرچنے کا ذکر کیا ہے وہ آپ کے سونے کے کپڑے تھے نماز پڑھنے کے کپڑے نہیں تھے نماز پڑھنے کے کپڑوں کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دھوتی تھیں (جیسا کہ اس باب کی حدیث میں ہے ) اور ہم دیکھتے ہیں کہ جن کپڑوں میں پاخانہ اور پیشاب کی نجاست ہو ان کو پہن کر سونے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے تو منی آلودہ کپڑوں کو پہن کر سونے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ (شرح معانی الآثار ج ۱ ص ۶۲ قدیمی کتب خانہ کراچی)

مصنف کے نزدیک یہ آثار امام ابوحنیفہ کے خلاف نہیں ہیں کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے: میں ان کپڑوں سے منی کھرچ دیتی تھی اور گیلی منی کو نہیں کھرچا جاتا، خشک منی کو ہی کھرچا جاسکتا ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک خشک منی کو کپڑے سے کھرچ دینا کافی ہے سو یہ آثار امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب کے خلاف نہیں ہیں، البتہ امام مالک کے خلاف ہیں، کیونکہ وہ خشک منی کو کھرچنے کے قائل نہیں ہیں۔ امام شافعی اور امام احمد جو کہتے ہیں کہ منی پاک ہے ان کا مدعا تب ثابت ہوگا جب یہ ثابت ہو کہ کپڑے سے منی کو دھوئے یا کھرچے بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منی آلودہ کپڑے کے ساتھ نماز پڑھی ہو اور یہ ثابت نہیں ہے بلکہ اس کا خلاف ثابت ہے۔

حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن، نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، جن کپڑوں کے ساتھ تم سے مجامعت کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا: ہاں ! جب ان کپڑوں پر نجاست نہ لگی ہو ۔ (سنن ابوداؤد : 366،  سنن نسائی: 293،  سنن ابن ماجہ :۵۴۰)

حضرت ام حبیبہ نے فرمایا: ہاں ! جب ان کپڑوں پر نجاست نہ لگی ہو اس سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک منی نجس ہے۔

صحابہ کرام کا منی آلودہ کپڑے کو دھونا یا اس سے منی کھرچنا

بہ کثرت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت ہے کہ وہ منی آلودہ کپڑوں سے منی کو دھوتے تھے اور اگر منی خشک ہو تو اس کو کھرچتے تھے:

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنے کپڑے میں جنبی ہوجائے، پھر وہ اس میں (منی کا ) نشان دیکھے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو دھولے اور اگر اس کو اس کپڑے پر نشان نہ دکھائی دے تو وہ اس کپڑے کو بھگو کر دھوئے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۸۹۷ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1416ھ )

عبد اللہ بن عوف بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ جنابت سے آلودہ کپڑوں کے متعلق کہتے تھے : اگر تم منی کا نشان دیکھو تو اس کو دھولو اور اگر تم کو معلوم ہو کہ اس پر منی لگی ہے پھر تم کو نظر نہیں آئی تو پورے کپڑے کو دھولو اور اگر تم کو شک ہو کہ کپڑے پر منی لگی ہے یا نہیں تو اس کپڑے کو پانی میں بھگولو ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۸۹۹)

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر تم سے منی لگنے کی جگہ چھپ جائے اور تم کو یقین ہو کہ منی لگی تھی تو تم پورے کپڑے کو دھوؤ ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ :۹۰۰)

عبدالکریم بن رشید بیان کرتے ہیں کہ جو شخص اپنے کپڑے میں جنبی ہو گیا اور اس کو منی کا نشان نظر نہیں آیا’ اس کے متعلق حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ پورے کپڑے کو دھوئے گا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۹۰۲)

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! میرے کپڑے میں منی لگی ہو تو میں اس کو کس طرح (پاک) کروں؟ آپ نے فرمایا: تمہارے لیے یہ کافی ہے کہ تم ہاتھ سے پانی لے کر اس جگہ کو دھوؤ جہاں تم دیکھو کہ (منی) لگی تھی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۹۰۹) اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منی کو دھونے کا حکم دیا ہے اور اس سے حافظ ابن حجر کا یہ اعتراض ساقط ہوگیا کہ حدیث میں منی کو دھونے کا فعل ہے اور اس سے وجوب ثابت نہیں ہوتا۔ (فتح الباری ج ا ص ۷۶۰ ) کیونکہ اس حدیث میں منی کو دھونے کا حکم ہے اور اس سے وجوب ثابت ہوتا ہے۔

الحکم بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے سے احتلام کے نشان کو دھوتے تھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۹۱۴)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچتی تھی ۔(مصنف ابن ابی شیبہ : ۹۱۷)

ہم نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب کے موافق بہ کثرت احادیث اور آثار ذکر کیے ہیں کہ منی آلودہ کپڑے کو دھویا جاتا تھا یا خشک منی کو اس سے کھرچ دیا جاتا تھا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ منی نجس ہے اور جو لوگ منی کو طاہر کہتے ہیں، وہ کوئی ایک حدیث بھی نہیں پیش کرسکتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تر منی کو دھوئے بغیر یا خشک منی کو کھرچے بغیر اس منی آلود کپڑے کے ساتھ نماز پڑھی ہو۔

منی کے نجس ہونے پر عقلی دلیل

امام ابو جعفر احمد بن محمد طحاوی حنفی مصری متوفی ۳۲۱ھ فرماتے ہیں:

جو چیز وضو توڑنے کا سبب ہوتی ہے وہ نجس ہوتی ہے جیسے پیشاب، پاخانہ اور استحاضہ کا خون اور منی کا خروج بھی وضوء توڑنے کا سبب ہے اس لیے ضروری ہے کہ منی کا خروج بھی فی نفسہ نجس ہو۔ (شرح معانی الآثار ج ا ص ۶۷ قدیمی کتب خانہ کراچی)

منی کے طاہر ہونے پر فقہاء شافعیہ کے عقلی دلائل اور ان کے جوابات

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :

وہ کہتے ہیں کہ منی سے طاہر جان دار پیدا ہوتا ہے، اس لیے اس کو طاہر ہونا چاہیے ہم کہتے ہیں کہ بعض اوقات طاہر چیز نجس چیز سے پیدا ہوتی ہے جیسے دودھ خون سے پیدا ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ معنی انبیاء علیہم السلام کا مبدء ولادت ہے اس لیے اس کو طاہر ہونا چاہیئے ہم کہتے ہیں کہ پھر علقہ ( جما ہوا خون ) کو بھی طاہر کہیں، کیونکہ وہ اقرب مبدا ولادت ہے کیونکہ منی جما ہوا خون بنتی ہے پھر وہ گوشت بنتی ہے، پھر اس میں ہڈیاں بنتی ہیں پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے نیز جس طرح منی انبیاء علیہم السلام کا مبدء ولادت ہے، اس طرح وہ کافروں، مشرکوں، منافقوں اور اللہ کے دشمنوں فراعنہ اور ابوجہل وغیرہ کا بھی مبداً ولادت ہے لہذا اس کو نجس کہنا واجب ہے نیز شہوت سے منی کا خروج ہوتا ہے، جس کے بعد غسل واجب ہوتا ہے اس لحاظ سے بھی منی کو نجس ہونا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ انڈا مرغ کا مادہ منویہ ہے اور وہ پاک ہے، اس لیے منی کو پاک ہونا چاہیے ہم کہتے ہیں کہ یہ قیاس صحیح نہیں ہے کیونکہ انڈا حلال ہے اور کھایا جاتا ہے، تو کیا یہ لوگ منی کو بھی حلال سمجھ کر کھائیں گے نیز ہم کہتے ہیں کہ کبھی پاک چیز متغیر ہوکر نجس ہوجاتی ہے جیسے غذا اور پانی پیٹ میں جاکر جب پاخانے اور پیشاب کی صورت میں متغیر ہوجائے تو وہ نجس ہوجاتی ہے اور کبھی نجس چیز متغیر ہوکر پاک ہوجاتی ہے جیسے خون متغیر ہو کر دودھ بن جاتا ہے اور مرغ کا مادہ منویہ متغیر ہو کر انڈا بن جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ حضرت آدم مٹی اور پانی سے پیدا کیے گئے اور مٹی اور پانی طاہر ہیں، لہذا حضرت آدم بھی طاہر ہیں، ہم کہتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کو کون نجس کہتا ہے، لیکن عام انسان مٹی اور پانی سے نہیں پیدا ہوتے اور انسان بھی پاک ہے، لیکن اس سے کچھ پاک چیزیں نکلتی ہیں، جن سے وضوء نہیں ٹوٹتا جیسے دودھ، پسینہ، آنسو، تھوک، رینٹ اور بلغم اور کچھ ناپاک چیزیں نکلتی ہیں، جن سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے جیسے پیشاب، پاخانہ، حیض کا خون مذی اور منی ہے اور اس سے واضح ہوا کہ منی ناپاک اور نجس ہے۔

( شرح ابن بطال ج ۱ ص ۳۵۱)

قرآن مجید میں منی کو “ماء مهین “ (السجدہ:۸) فرمایا یعنی انسان کو حقیر پانی کے نچوڑ سے پیدا کیا اور منی کو حقیر فرمانا بھی اس کی نجاست کی طرف اشارہ ہے، چونکہ اس باب کے عنوان میں رطوبت فرج کا بھی ذکر کیا گیا ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ رطوبت فرج کا بھی شرعی حکم بیان کر دیں:

رطوبت فرج کا شرعی حکم

درج ذیل حدیث میں رطوبت فرج کا ذکر اور اس کا حکم ہے:

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! جب مرد عورت کے ساتھ جماع کرے اور اس کو انزال نہ ہو؟ آپ نے فرمایا: عورت سے جو چیز اس کے جسم پر لگی ہے، اس کو دھوئے، پھر وضوء کر کے نماز پڑھے امام بخاری نے کہا: غسل کرکے نماز پڑھنے میں زیادہ احتیاط ہے اور یہی آخری حکم ہے۔ ( صحیح البخاری: 293 صحیح مسلم:346 مسند احمد ج ۵ ص ۱۱۳)

علامہ عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ۶۲۰ ھ لکھتے ہیں:

فرج کی رطوبت نجس ہے، کیونکہ یہ فرج کے اندر ہوتی ہے اور اس سے بچہ پیدا نہیں ہوتا یہ مذی کے مشابہ ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ یہ طاہر ہے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچتی تھیں اور وہ منی جماع سے تھی کیونکہ آپ کو کبھی احتلام نہیں ہوا اور وہ منی فرج کی رطوبت سے ملی ہوتی تھی، پس اگر ہم رطوبت فرج کو نجس کہیں تو منی کو بھی نجس کہنا پڑے گا کیونکہ وہ منی عورت کی فرج سے نکلی تھی، پھر رطوبت فرج سے مل کر وہ منی بھی نجس ہو جائے گی۔ (المغنی ج ۲ ص ۲۸۴ ۲۸۳ دارالحدیث قاہرہ 1425ھ )

ظاہر ہے علامہ ابن قدامہ نے منی کا یہ حکم اپنے مذہب پر بیان کیا ہے کہ ان کے نزدیک منی طاہر ہے، اس لیے انہوں نے رطوبت فرج کو بھی طاہر قرار دیا ہے، جب کہ صحیح یہ ہے کہ منی نجس ہے، اس لیے رطوبت فرج بھی نجس ہوگی۔

علامه سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ ھ لکھتے ہیں:

فرج خارج کی رطوبت طاہر ہوتی ہے، کیونکہ وضوء میں فرج خارج کو دھونا سنت ہے اگر وہ نجس ہوتی تو اس کو دھونا فرض ہوتا؟ فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ فرج خارج، خارج بدن کے حکم میں ہے، پس فرج خارج کی رطوبت اس طرح ہے، جس طرح منہ اور ناک کی رطوبت ہوتی ہے اور جس طرح بدن سے نکلنے والے پسینہ کی رطوبت ہوتی ہے۔

(ردالمختار ج ۱ ص ۲۷۳ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۹ھ )

علامہ حصکفی نے لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک فرج داخل کی رطوبت پاک ہے اور امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک فرج داخل کی رطوبت نجس ہے لیکن جب جماع کے وقت مرد کے انزال کے بعد فرج سے رطوبت نکلے گی تو وہ منی سے مختلط ہوگی اور منی نجس ہے اس لیے وہ رطوبت بھی نجس ہوجائے گی اور اس صورت میں وہ رطوبت بالا تفاق نجس ہوگی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منی اور تمام فضلات امت کے حق میں طاہر ہیں، لیکن آپ کے حق میں موجب حدث ہیں اسی لیے آپ پیشاب اور پاخانے کے بعد استنجاء کرتے تھے اور آپ کے منی آلود کپڑے اگر تر ہوں تو ان کو حضرت عائشہ دھوتی تھیں اور اگر خشک ہوں تو ان کو ناخنوں سے کھرچ دیتی تھیں۔

باب مذکور کی حدیث، شرح صحیح مسلم : ۵۸۰ – ج اص ۹۶۹ پر مذکور ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں:

منی کی طہارت یا عدم طہارت میں مذاہب فقہاء

(2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کی طہارت کا بیان

(3) رطوبت فرج کی طہارت یا عدم طہارت کی تحقیق ۔