أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰٮهَا ۞

ترجمہ:

اور رات کی قسم ! جب وہ اس کو چھپائے۔

الشمس : ٤ میں فرمایا : اور رات کی قسم ! جب وہ اس کو چھپائے۔۔

رات اور دن کی سلطنت کا سورج اور چاند سے زیادہ ہونا

اس کا محمل یہ ہے کہ رات دنیا کو چھپا لیتی ہے، یا روئے زمین کو چھپا لیتی ہے یا سورج کو چھپا لیتی ہے یا اپنی ظلمت سے مخلوق کو آنکھوں سے چھپا لیتی ہے، سورج اور چاند کی بہ نسبت رات اور دن کے توارد میں زیادہ سلطنت اور زیادہ تصرف ہے، کیونکہ رات اور دن کے تعاقب اور آنے جانے سے مدتیں پوری ہوتی ہیں اور عمریں تمام ہوتی ہیں اور کوئی شخص اپنے آپ کو ان کی زد سے بچا نہیں سکتا، سورج کی حدت اور تیز روشنی کی زد سے انسان خود کو بچا سکتا ہے کہ وہ ایسے حجاب میں چلا جائے جہاں سے سورج نظر نہ آئے، اسی طرح اگر کسی انسان کو چاند کو روشنی اچھی نہ لگے تو وہ کسی اوٹ میں رہ کر چاند سے چھپ سکتا ہے لیکن دن اور رات کی گردش کی زد سے کوئی شخص بچ نہیں سکتا۔

دن کا فائدہ یہ ہے کہ دن میں جب خوب روشنی پھیل جاتی ہے تو انسان اور حیوان سب اپنے معاش اور روزی کے حصول کے لیے نکلتے ہیں اور جدوجہد کرتے ہیں اور رات کا فائدہ یہ ہے کہ دن میں کی ہوئی جدوجہد سے اعصاب تھک جاتے ہیں تو رات کی نیند اس تھکاوٹ کو اتارتی ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 91 الشمس آیت نمبر 4