٦٧ – بَابُ مَا يَقَعُ مِنَ النَّجَاسَاتِ في السَّمْنِ وَالْمَاءِ

گھی اور پانی میں نجاستوں کا واقع ہونا

یعنی گھی اور پانی میں اگر کوئی نجس چیز گر جائے تو اس کا کیا شرعی حکم ہے؟ باب سابق کے ساتھ اس باب کی مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں ان جانوروں کے پیشاب کا حکم بیان کیا تھا، جن کا گوشت کھایا جاتا ہے اور پیشاب فی نفسہ نجس ہے اور اس باب میں  چوہیا کا ذکر ہے اور وہ فی نفسہ نجس ہے اور خون کا ذکر ہے وہ بھی فی نفسہ نجس ہے امام بخاری فرماتے ہیں:

وَقَالَ الزُّهْرِئُ لَا بَأْسَ بِالْمَاءِ مَا لَمْ يُغَيرَهُ طَعْمُ أوْ رِيحٌ أَوْ لَوْن.

 اور زہری نے کہا: اس وقت تک پانی میں کوئی حرج نہیں ہے جب تک اس کے ذائقہ یا بو یا رنگ کو نجاست متغیر نہ کر دے۔

زہری سے مراد محمد بن مسلم بن شہاب زہری فقیہ مدنی ہیں امام بخاری نے جو تعلیق ذکر کی ہے اس کی اصل اس حدیث میں ہے:

فقہاء احناف کے نزدیک قلیل اور کثیر پانی کے طاہر اور نجس ہونے کا معیار

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی مگر وہ چیز جو اس کی بو اور اس کے ذائقہ اور اس کے رنگ پر غالب آجائے ۔ (سنن ابن ماجہ (521)

اس سلسلہ میں یہ حدیث بھی ہے:

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ہم بضاعہ کے کنویں سے وضوء کرتے ہیں یہ وہ کنواں تھا، جس میں حیض آلودہ کپڑے ڈالے جاتے تھے اور کتوں کا گوشت اور بد بودار چیزیں ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک کرنے والا ہے اس کوئی چیز نجس نہیں کرتی (اس کنویں کا پانی جاری تھا اور اس سے باغات میں پانی دیا جاتا تھا)۔

(سنن ابوداؤد : ۶۹ ، سنن ترمذی: ۶۶ ، سنن نسائی : 325، مسند احمد ج ۳ ص ۸۶-۳۱)

فقہاء احناف کا مذہب یہ ہے کہ پانی یا جاری ہوگا یا ٹھہرا ہوا ہوگا، اگر پانی جاری ہو تو وہ اس وقت تک نجس نہیں ہوگا جب تک کہ نجاست سے اس کا رنگ بو اور ذائقہ متغیر نہ ہوجائے اور اگر وہ پانی ٹھہرا ہوا ہو، جیسے تالاب یا حوض تو اگر اس کی ایک طرف ہلانے سے دوسری طرف ہل جاتی ہے تو وہ پانی قلیل ہے اور اگر اس کی ایک طرف ہلانے سے دوسری طرف نہیں ہلتی تو وہ پانی کثیر ہے امام محمد نے کہا: اگر میری مسجد کے برابر پانی ہوتو وہ کثیر ہے ورنہ قلیل ہے بعد میں ان کی مسجد کی پیمائش کی گئی تو وہ دہ دردہ تھی یعنی دس ذراع لمبی اور دس ذراع چوڑی ( ایک ذراع ڈیڑھ فٹ کا ہے ) پس جو پانی کثیر ہے اس میں نجاست کے گرنے سے وہ پانی نجس نہیں ہوگا تا وقتیکہ نجاست سے اس کا رنگ بو یا ذائقہ تبدیل ہو جائے اور جو پانی قلیل ہے اس میں ایک قطرہ نجاست بھی گرے تو وہ نجس ہو جائے گا۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۳۸ ۲۳۷ ملخصاً).

اس کے بعد امام بخاری نے دوسری تعلیق ذکر کی:

وَقَالَ حَمَّادٌ لَا بَأْسَ بِرِيْشِ الْمَيِّتَةِ.

اور حماد نے کہا: مردار پرندے کے پر میں کوئی حرج نہیں ہے۔

یہ امام ابن ابی سلیمان حماد ہیں جو امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے استاذ ہیں یہ تعلیق ایک مکمل حدیث کا قطعہ ہے وہ حدیث یہ ہے:

عبدالرزاق از معمر از حماد: مردار کی اون گرنے سے کوئی حرج نہیں، لیکن اس کو دھویا جائے گا اور مردار کے پر سے کوئی حرج نہیں ۔ (مصنف عبد الرزاق : 206،  دار الکتب العلمیة بیروت 1421ھ)

امام شافعی کے نزدیک بال جسم سے الگ ہوجائے تو نجس ہو جاتا ہے امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کے نزدیک وہ پاک ہے۔ اس کے بعد امام بخاری تیسری تعلیق ذکر کرتے ہیں:

وَقَالَ الزُّهْرِيُّ فِي عِظَامِ الْمَوْتَى نَحْوَ الْفِيلِ وَغَيْرِهِ. أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ سَلَفِ الْعُلَمَاءِ ، يَمْتَشِطُونَ بِهَا وَيَدَّهِنُونَ فِيْهَا، لَا يَرَوْنَ بِهِ بَأْسًا .

اور زہری نے مردار مثلا ہاتھی وغیرہ کی ہڈیوں کے متعلق کہا: میں نے متقدمین علماء کو پایا وہ اس سے کنگھی کرتے تھے اور اس میں تیل رکھتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے ۔

مردہ جانور کی ہڈیوں کی طہارت میں مذاہب فقہاء

زہری سے مراد محمد بن مسلم ابن شہاب زہری ہے، اور وغیرہ سے مراد ہاتھی کے علاوہ دوسرے جانور ہیں، جن کا گوشت نہ کھایا جاتا ہو فقہاء احناف کے نزدیک مردہ جانور کے تمام اجزاء جن میں خون نہیں ہوتا وہ پاک ہیں مثلاً سینگ، دانت کھر، اون اور بال ۔ عمر بن عبدالعزیز، حسن بصری، امام مالک، امام احمد، المزنی یہ کہتے ہیں کہ بال، اون اور پر پاک ہیں، موت سے نجس نہیں ہوتے، جیسا کہ ہمارا مذہب ہے اور ہڈی، سینگ، کھر اور دانت نجس ہیں اور امام شافعی کے نزدیک بال کے علاوہ سب نجس ہیں اور اس میں اختلاف ہے اور ہاتھی کے متعلق ہمارے فقہاء میں اختلاف ہے امام محمد کے نزدیک وہ نجس العین ہے، حتی کہ اس کی ہڈیوں کو بیچنا جائز نہیں ہے اور اس کی کھال رنگنے سے پاک نہیں ہوتی اور نہ وہ ذبح کرنے سے پاک ہوتی ہے اور امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک وہ باقی درندوں کی طرح ہے اس کی ہڈیوں سے اور رنگنے کے بعد اس کی کھال سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔

عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۳۹ – ۲۳۵ ملخصا’ دار الکتب العلمیہ، بیروت )

اس کے بعد امام بخاری ایک اور تعلیق ذکر کرتے ہیں:

وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ وَإِبْرَاهِيمُ لَا بَأْسَ بِتِجَارَةِ العاج۔

اور ابن سیرین اور ابراہیم نے کہا: ہاتھی کے دانت کی تجارت میں کوئی حرج نہیں ہے۔

یہ تعلیق مصنف عبدالرزاق سے لی گئی ہے وہاں اس طرح مذکور ہے:

عبد الرزاق از ثوری از ہشام از ابن سیرین وہ ہاتھی کے دانت کی تجارت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے ۔

(مصنف عبد الرزاق : ۲۱۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )

٢٣٥- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ، عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ فَارَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ، فَقَالَ الْقُوْهَا وَمَا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوْهُ ، وَكُلُوا سَمْنَكُمْ.

اطراف الحدیث:۲۳۶ – ۵۵۳۸-۵۵۳۹ – ۵۵۴۰ ]

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسماعیل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے امام مالک نے حدیث بیان کی از ابن شہاب از عبيدالله بن عبدالله بن عتبہ بن مسعود از حضرت ابن عباس رضی الله عنہما از حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چوہیا کے متعلق پوچھا گیا، جو گھی میں گرجائے آپ نے فرمایا: اس چوہیا کو نکال کر پھینک دو اور جو اس کے اردگرد گھی ہے اس کو بھی پھینک دو اور اپنا گھی کھالو۔

(سنن ابوداؤد: ۳۸۴۱ سنن ترمذی: ۱۷۹۸ سنن نسائی: ۴۲۶۵ مصنف عبد الرزاق : ۲۷۹ مسند الحمیدی: 312،  مصنف ابن ابي شيبه ج ۸ ص ۲۸۰ السنن الكبرى للنسائی: ۴۵۸۴ سنن دارمی: ۷۳۸ الاحاد والمثانی ۳۰۹۹ المنتقی : ۸۷۲ مسند ابویعلی : ۷۰۷۸، صحیح ابن حبان : ۱۳۹۲ المعجم الکبیر، ۱۰۴۳۔ ج ۲۳ سن بیہقی ج 9 ص 353،  معرفته السنن والآثار: ۱۹۳۵۸ مسند احمد ج ۶ ص ۳۲۹ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۶۷۹۶ – ج ۲۴ ص 379،  مؤسسة الرساله بیروت)

باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت حدیث کے اس جملہ میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چوہیا کے متعلق پوچھا گیا جو گھی میں گرجائے۔

اس حدیث کے چھ رجال ہیں، ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔

جمے ہوئے گھی اور پگھلے ہوئے گھی کا فرق

اس حدیث میں مذکور ہے : چوہیا گھی میں گرجائے اور دوسری روایت میں ہے : وہ گھی میں گرکر مر جائے۔ (صحیح البخاری:۵۵۳۹) اور ” سنن نسائی میں ہے: وہ جامد گھی میں گر کر مر جائے ۔ (سنن نسائی: ۴۲۶۵) اس صورت میں اس کے ارد گرد گھی کو نکال کر پھینکنا ہوگا اور اگر وہ گھی مائع ہو تو اس صورت میں اس سارے گھی کو نکال کر پھینکنا ہوگا۔

شہد اور شیرہ بھی اسی قیاس پر ہے اور جو گھی مائع ہوتو جمہور کا مذہب یہ ہے کہ وہ تمام گھی نجس ہوگا، قلیل ہو یا کثیر ہو اور ایک قوم کا شاذ قول یہ ہے کہ پگھلا ہوا گھی پانی کی طرح ہے، لیکن یہ غیر معتبر قول ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۴۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )

اعلیٰ حضرت کے نزدیک ناپاک گھی کو پاک کرنے کے تین طریقے

مسئلہ : از موضع بھوٹا بھوٹی بسوٹولانڈ ملک افریقہ، مرسلہ حاجی اسماعیل میاں صاحب صدیقی حنفی قادری ابن امیر میاں ۲۳ صفر ۱۳۳۶ھ گھی گرم تھا، اس میں مرغی کا بچہ گرا اور فور مرگیا یہ گھی کھانا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب: گھی ناپاک ہوگیا’ بے پاک کئے اُس کا کھانا حرام ہے۔ پاک کرنے کے تین طریقے ہیں: ایک یہ کہ اتناہی پانی اُس میں ملا کر جنبش دیتے رہیں یہاں تک کہ سب گھی اوپر آجائے اُسے اتار لیں اور دوسرا پانی اُسی قدر ملا کر یوہیں کریں، پھر اتار کر تیسرے پانی سے اسی طرح دھوئیں اور اگر گھی سرد ہو کر جم گیا ہوتو تینوں بار اس کے برابر پانی ملا کر جوش دیں یہاں تک کہ گھی اوپر آجائے، اُتار لیں ۔ اقول : جوش دینے کی پہلی ہی بار حاجت ہے، پھر تو گھی رقیق ہوجائے گا اور پانی ملا کر جنبش دینا کفایت کرے گا۔ ردالمختار میں ہے:

دوم: ناپاک گھی جس برتن میں ہے اگر جمنے کی طرف مائل ہوگیا ہو’ آگ پر پگھلالیں اور ویسا ہی پگھلا ہوا پاک گھی، اس برتن میں ڈالتے جائیں، یہاں تک کہ گھی سے بھر کر ابل جائے، سب گھی پاک ہوجائے گا۔ ” جامع الرموز میں ہے: الـمـائـع كالماء والدبس وغيرهما طهارته باجرائه مع جنسه مختلطا به۔

سوم : دوسرا گھی پاک لیں اور مثلا تخت پر بیٹھ کر نیچے ایک خالی برتن رکھیں اور پرنالے کی مثل کسی چیز میں وہ پاک گھی ڈالیں اس کے بعد یہ ناپاک گھی اُسی پر نالے میں ڈالیں، یوں کہ دونوں کی دھاریں ایک ہو کر پرنالے سے برتن میں گریں، اسی طرح پاک و ناپاک دونوں گھی ملا کر ڈالیں، یہاں تک کہ سب ناپاک گھی پاک گھی سے ایک دھار ہو کر برتن میں پہنچ جائے سب پاک ہو گیا۔ “خزانہ” میں ہے: ” اناء ان ماء احدهما طاهر والاخر نجس فصبا من مكان عال فاختلطا في الهواء ثم نزلا طهر كله” پہلے طریقہ میں پانی سے گھی کو تین بار دھونے میں گھی خراب ہونے کا اندیشہ ہے اور دوسرے طریقہ میں ابل کر تھوڑا گھی ضائع جائے گا۔ تیسرا طریقہ بالکل صاف ہے مگر اس میں احتیاط بہت درکار ہے کہ برتن میں ناپاک گھی کی کوئی بوند نہ پاک سے پہلے پہنچے نہ بعد کو گرے نہ پرنالے میں بہاتے وقت اس کی کوئی چھینٹ اڑکر پاک گھی سے جدا برتن میں، ورنہ جتنا برتن میں پہنچایا، اب پہنچے گا، سب ناپاک ہو جائے گا۔ واللہ اعلم (فتاوی رضویہ ج ۲ ص ۱۳۴ – ۱۳۳ دار العلوم امجدیہ مکتبہ رضویہ کراچی)