٢٣٦- حَدَّثَنَا عَلِيٌّ بَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنْ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِاللهِ بنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ، عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ فَارَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ ، فَقَالَ خُدُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوْهُ. قَالَ مَعَنْ حَدَّثَنَا مَالِكُ مَا لَا أَحْصِيهِ يَقُولُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةٌ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عنهم.

 

      امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں علی بن عبد اللہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں معن نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے حدیث بیان کی از ابن شہاب از عبیدالله بن عبدالله بن عقبہ بن مسعود از حضرت ابن عباس می رضی اللہ عنہما از حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چوہیا کے متعلق سوال کیا گیا، جو گھی میں گرگئی، آپ نے فرمایا: اس چوہیا کو اور اس کے گرد گھی کو نکال کر پھینک دو۔ معن نے کہا: ہمیں امام مالک نے ان گنت مرتبہ یہ حدیث بیان کی از حضرت ابن عباس از حضرت میمونہ رضی اللہ عنہم۔

 

اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری: ۲۳۵ میں مطالعہ فرمائیں۔

 

 

شہید کے خون کے مشک کی طرح خوشبودار ہونے کے فوائد

 

قیامت کے دن شہید اپنے زخم کے ساتھ اسی حالت میں آئے گا جس حالت میں اس کو زخم لگا تھا، تا کہ اس کا بہتا ہوا خون شہید کی فضیلت پر گواہی دے اور ظالم کے ظلم پر گواہی دے اور اس سے قیامت کے دن اہل محشر کے سامنے شہید کی فضیلت ظاہر ہوگی اس وجہ سے شہید کے خون کو دھویا نہیں جاتا اور نہ شہید کو غسل دیا جاتا ہے اور اس میں اس زخم کی فضیلت ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں لگتا ہے۔

 

اس حدیث میں فرمایا ہے : اس کے خون کا رنگ خون کی طرح ہوگا اور اس سے مشک کی خوشبو آرہی ہوگی، اس کا معنی یہ ہے کہ وہ خون نجس نہیں ہوگا اور اس کو مشک کے مشابہ فرمایا ہے وہ حقیقت میں مشک نہیں ہوگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالٰی اس کو مشک بنادے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بنو آدم کے نیک اعمال کو حسین اجسام میں اور بُرے اعمال کو قبیح اجسام میں منتقل کردے گا تا کہ میزان میں ان کا وزن کیا جاسکے اور نیک اعمال حسین اجسام میں متشکل ہو کر قبر میں مؤمن کا دل بہلائیں گے اور بُرے اعمال قبیح اجسام میں متشکل ہو کر کافر کوڈرائیں گے۔

 

اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم : 4747 – ج ۵ ص ۸۸۱ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی ۔